سجدہ سہو_(صوفیہ کاشف (

                                                                                                      ….

سعدیہ پانچوں نمازیں پڑھتی اور پانچوں وقت سجدہ
سہو کرتی.انتہای توجہ سےنماز کا آغاز کرتی.رکوع سجود میں آہستگی برتتی، الگ الگ لفظ
ادا کرتی مگر نہ جانے لڑی کہاں سے ٹوٹتی، موتی کدھر سے بکھرتے کہ آخیر تک پہنچتے
پہنچتے گمشدہ ہو جاتی.کتنی رکعت ہو گییں اور کتنے سجود کچھ حساب نہ رہتا.فقط رہ
جاتی اک نارسای. ایسی ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو جوڑ لگانے کا ایک ہی طریقہ تھا اسکے
پاس، سجدہ سہو! تین رکعتوں کو چار  کرنے کا ،سجود ورکوع کی گنتی پوری کرنے کا
اسیر نسخہ.سجدہ سہو سعدیہ کی عادت ثانیہ بن چکا تھا اور شاید اسکے پھٹے چیتھڑے
لگے  کپڑوں جیسی نمازیں لے جانے والے نورانی فرشتوں کی بھی ،اگر کبھی جو سجدہ
سہو کے بغیر انکے پاس نماز پہبچ جاے تو شاید وہ بھی بیچ رستےمیں چکرا کر  واپس
آ جائیں کہ آج غلطی ہوگی.غلط بندے کی نماز پکڑی گئی..اس عورت کی نماز کا سجدہ سہو
تو رہ
گیا.

وہ عورت جو ہر شے کو اسکے ٹھکانے پر رکھنے کی کوشش کرتی پر نہ رکھ پاتی.کوی غلط بنت
پڑ گیی تھی اسکی زندگی کے سویٹر میں ، کوی ٹانکا جو غلط لگ گیا تھا.یا پھر وہ کسی
آسیب زدہ راستے پر بھٹک کر رہ گیی تھی کہ کھو کھو جاتی.ڈھونڈنے کی کوشش کرتی اور
پھر گما جاتی.سنبھلتے سنبھلتے پھر پھسل جاتی.ایسی ہو کر ری گیی تھی اسکی
زندگی.
سعدیہ کی زندگی ہمیشہ سے ایسی نہ تھی.اسمیں نظم
تھا ضبط تھا،آگہی تھی ،اختیار تھا! کبھی اسکی زندگی کے آسماں پر صبح میں سورج نکلتا
تھا اور رات میں چاند، اپنے وقت پر تاریکیاں ہوتیں اپنے وقت پرچاند راتیں.یہ بے
ربطگی، یہ گھمسان کارن تو شادی کے بعد پڑا تھا زندگی میں. قیامتیں ساری جگمگاہٹوں
،قمقموں اور جشن کے بعد ٹوٹی تھیں اسکی زندگی میں مگر بجلیاں اسکے ظاہر میں نہیں
کہیں اندر ہی اندر گری تھیں. چلتا پھرتا اٹھتا بیٹھتا وجود ایک ریت کے بھربھرے وجود
میں بدل گیا تھا.لاکھ مٹھی میں سنبھالنے کی کوشش کرتی ، کوزہ بنانے کی جوڑنے کی
کوشش کرتی،پر ریت بکھر بکھر جاتی، اسکی پکڑ میں  نہ آتی.

“نکاح کے لفظوں میں جادو ہوتا ہے.”
یہ اسکی پھپھی نے کہا تھا۔ قاسم
سے نکاح پر دستخط کرواتے وقت.وہ نہ بھی کہتیں تو دستخط تو وہ کر ہی دیتی.جادو چلے
یا نہیں. منتر اپنا کام کریں یا آسیب.سر ہی جھکا دیا تو کیا فرق پڑتا تھا جادو چلیں
یا بجلیاں گریں، طوفان آییں یا بہاریں ، نغمیں پھوٹیں یا نوحے، کیا فرق پڑتا تھا
اسکو.اور کیا فرق پڑتا تھا دستخط کروانے والوں کو.فرق تو تب پڑتا جب اس نکاح نامے
پر نام کسی اور کا ہوتا.دستاریں گر جاتیں، عزتیں نیلام ہو جاتیں، بال نوچ لیے جاتے
،گردنیں کٹ جاتیں،خاندان اجڑ جاتے.اس نے سب کچھ بچا لیا بس اپنا آپ ہار دیا.
“تم
سے بہت پیار کرتا ہے، بہت خیال رکھے گا!”
سہیلیاں خاص طور پر بار بار
جتاتیں.انہوں نے یاد کروایا گیا سبق منہ زبانی رٹ لیا تھا.اس لیے بغیر
کوئی  لفظ بدلے ایک ہی فقرے کی بار بار تکرار کرتیں.
“اچھا!……..ہاں
مجھے صرف خیال ہی تو چاہیے، ”
وہ بھی دن میں کیی کیی بار اپنے دل میں یہ فقرے
انڈیلتی.اپنے دماغ کو جتاتی کانوں میں گونجتی آوازوں کو چپ کرواتی.بھٹکتی آنکھوں کو
پکڑتی، روکتی اور  انکو بتاتی.
“تمھیں خوش رکھے گا! تمھیں خوش رکھے
گا!”
اور آنکھوں میں جلتی آگ اور بھڑکنے لگتی.بھانبڑ جہنم میں بدل جاتے.ہواییں
بپھڑ کر طوفان بننے لگتیں.
مجھے جنگل جنگل بھٹکا دو
مجھے سولی سولی لٹکا
دو
جو جی سے چاہو یار کرو
ہم بڑھ جو گیے تیری راہ پیا!

اور وہ شام سلونا چمکتے سورج کی طرح صبح صبح اسکی منڈیر سے جھانکنے
لگتا، شام ہونے پر سورج کے ساتھ غروب ہو جاتا اور چاند بنکر پھر نکل آتا! وہ پردے
تانتی،دروازے بھیڑتی، کھڑکیوں کو کنڈیاں لگاتی مگر سورج کی کرنیں اور چاند کی
چاندنی نہ پکڑ پاتی.نکلتے دن کو روکنا اسکے اختیار سے باہر تھا. ہ پاگل تھی عشق کے
راستے کی دھول چاٹنے نکلی تھی.اور اب دیواروں میں سر پھوڑ نے سے بھی گیی تھی.باہر
موت تھی تو اندر زلزلے، کس کو پکڑتی، کس کو چھوڑتی.کسی کا  چہرہ تھا جو اسکے
اندر باہر گونجتا تھا.کچھ الفاظ تھے جو اسکےد ل کی دیواروں پر سر مارتے پھرتے.کچھ
زخم تھے دل میں جو سل کر نہ دیتے.واحد! واحد!واحد! .اسکے دل میں  ،دماغ کی
تہوں میں، آنکھوں کی چلمنوں پر، سانس کی ڈوری میں، دل کی دھمال پر، لہو کی حرارت
میں، اسکے جسم اور  روح کی لہروں پر ایک ہی نام تیرتا پھرتا. ایک نام کا آسیب
اسکے وجود سے لپٹ گیا تھاجو وہ چاہ کر بھی اتار نہ پاتی.آنکھیں بند کرنے سے اسکا
چہرہ گم جاتا تو وہ اپنے ہاتھ سے آنکھیں پھوڑ لیتی.کانوں میں زہر انڈیل لیتی اگر
اسکی صداییں روک پاتی.لہو نچوڑ کر رکھ لیتی جسم کا اگر اس  سے واحد کا نقش مٹ
سکتا.سانسیں روک لیتی اگر جو کچھ مرہم بنتا.مگر وہ تو عشق کا جوگ لگا بیٹھی تھی.اور
اب طوفانوں کے بیچ معلق تھی.اندر باہر کے طوفان اسکو لڑکھڑاے پھرتے تھے.
ابا کے
الٹے ہاتھ کی مار نے ایسا پٹخا تھا کہ دیوار میں جا لگی تھی.بھای نے مار مار کر
ہڈیاں ہی توڑ دی تھیں. تب اس نے جانا باپ بھایوں کے ہاتھ کتنے سخت اور بھاری
ہوتے ہیں۔ صرف چوٹ ہی نہیں لگاتے ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں. پہاڑوں کو توڑ دیتے ہیں۔
زندوں کو مار دیتے ہیں۔ اعتماد توڑنے کی سزا دیوار میں چنوا کر نہیں دیتے پتھروں سے
سنگسار کر کے دیتے ہیں۔ اور یہ اعتبار کا پل صراط جس سے دل گر گر جاتے ہیں۔ اور
سنگساری مقدر ٹھرتی ہے.

“اب ہماری بیٹیاں عشق فرماییں گی!”…………
“. مار کر کھیتوں میں
پھینک دو! “

باجیاں چنگاڑی تھیں. بھای لپک لپک پڑتے.کسی نے جھانپڑ مارے کسی نے ٹانگیں. سعدیہ
خاموشی سے کھاتی رہی.وہ پیار سے بھی کہ دیتے تو ہونی تو انہی کی مرضی تھی.پر باپ
اور بھائیو ں کو دھونس اور رعب عزیز تھا.سعدیہ نے سہہ لیا.اپنے چہرے بال اور جسم کو
سہلاتی، چوٹوں کو دیکھتی.
چلو تم کو لے چلوں! یہ مار دییں گے تم کو!”
” اپنے
باپ کو مار کر نہیں جا سکتی!”
باپ اسکے دکھ میں مر جاتا تو وہ مر بھی نہ پاتی.وہ
پیروں میں پڑ گیی.” “آپ جو چاہے کریں! جیسے چاہے کریں! ”

لب دم  یہی اسکی زبان پر تھا. یہی دل میں تھا.یہ اور بات وہ دل
زلزلوں کی زدمیں تھا نزع کا عالم تھا اور اسکے دل کی فکر بھی کس کو تھی.

عزتوں کا بھرم رکھنے کو بڑی عجلت ميں خاندان کا لڑکا پکڑا گیا تھا.لڑکی
باغی ہو گیی ہے کہیں بھاگ نہ جاے.کہیں مونہوں پر کالک نہ مل جاے ، دنوں، میں بات طے
ہوئی اور ہفتوں میں نکاح.نہ مہندی ہوی نہ گانے بجے، نہ سہیلیوں نے ڈھولک پیٹی نہ
شادمانے بجے اور نکاح ایسے ہو گیا کہ جیسے جنازہ ادا ہوا.اعتبار توڑنے والوں کے لیے
شادمانے کوں بجاتا ہے.عشق محبت کرنے والی لڑکیوں کے لیے کہاں آتش بازیاں ہوتی ہیں۔
چاہے عزت بچے، دستار سجے ،غرور بڑھے پر یہ شادمانی کی نعمت پھر تابعداری سے بھی
نہیں ملتی.عشق کے رستے پر ہر طرف خواری ہے ، ہار کر بھی جیت کر بھی.لڑ کر بھی جھک
کر بھی، قربانی دے کر بھی اور لے کر بھی.یہ دیس نکالا کسی صورت نہیں ٹلتا.
باپ
نے نکاح کے وقت سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ نہ جانے خوشقسمتی کی دعا دی یا نہیں پر شکر
ضرور  ادا کیا دل میں کہ عزت بچ گیی.گھر سے جنازہ بڑی دھوم سے نکلا.ماں رونے
کی بجاے رخصتی پر ہنستی رہی.اسکی بھی عزت رہی، گھر بھی بچا اور سہاگ بھی.سب کچھ بچ
گیا صرف لٹا تو سسی کا شہر بھنبھور.رومانوی فقرے ، تحفے تحایف، دعوتیں ،رنگ برنگے
کپڑے، جھلمل کرتے زیور ،سب لوٹ آیا اسکی زندگی میں مگر ایسے کہ جیسے انٹینا ہل جانے
سے رنگین ٹی وی کالا ہو جاے.تصویر ہلتی رہے چکراتی ہے.سعدیہ ایک بار بھٹکی تھی مگر
اب قدم سنبھال  کر رکھتی زندگی کے ساتھ چلتی رہی.گھر بنانے میاں کو اپنانے
کی  کوششوں میں جت گیی.سسرال کی خدمتوں میں مصروف رہنے کی کوششوں میں خود کو
بگاڑتی  گیی.اپنوں نے جن پھولوں پر رخصت کیا تھا تو غیروں سے تو توقع ہی نہ
تھی.قبولیت ہی قبولیت تھی ہر طرف.جھولی میں پھول ییں یا کنکر، روڑے  گریں، یا
شبنم ،کس کو فکر!جب پتھروں پہ چلنا مقدر ٹھرا تو تلووں کی کیا فکر.
نہ فلک ٹوٹے
نہ زمینیں پھٹیں.خدمتیں ہمیشہ کامیاب ٹھرتی ہیں. اسکی بھی ٹھر گیی تھیں۔ کیا فرق
پڑتا ہے کہ دل مر جاے ،کیا فرق پڑتا ہے اگر وہ سجدہ سہو کرتی ر ہے.زندگی کی ایک بنت
ڈھیلی رہ گیی تھی کوی ٹانکا غلط جا لگا تھا کہ لباس تنگ پڑ جاتا، سانس پھنسنے
لگتا،دودھ ابلتا، سالن جلتا اور راتیں جاگتی رہتیں.نعمتوں میں سے لزت روٹھ گئی،
خوبصورتیوں کے رنگ بکھر گیے.زندگی ادھوری ،اسطرف پوری  نہ اس اسطرف
پوری.
ماں باپ کے گھر لڑکیوں کی زندگیوں کے کچھ ٹانکے اڈھیر دو.ساری عمر سسرال
کو چاٹتی انکی ٹھوکروں کو سہتی رہیں گی.میاں پر آمین پڑھتی رہیں گی.گھروں سے ایسے
رخصت کرو کہ ڈولی کی بجاے جنازہ لگے پھر  جنازہ بھی واپس نہ آے گا.جو بیٹیاں
باپ کے گھر لہولہان ہو جایین انکو رستوں کے آسیب  پھر ڈراتے نہیں. راضی باضی
سسرال، خوش اور مطمین شوہر.نقصان صرف ایک زات کا…..اک بے نشاں بیکار وجود کا جسکے
ہونے نہ ہونے سے کاینات میں کسی کو  فرق نہیں پڑتا.زند گی کی بنت میں اس سے
بھی کچھ بگڑ گیا تھا کوی ٹانکا ادھڑ گیا تھا پر اسکو سدھارنے کا اب کوی چارہ نہ
تھا.اس نے عشق کی نماز پڑھی تھی جسمیں سجدہ سہو نہ تھا!

Photo courtesy :Kurama Magazine

One thought on “سجدہ سہو_(صوفیہ کاشف (

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s