پنچایت 

ویلیم گولڈنگ نے اپنے ایک عالمی شہرت یافتہ ناول لارڈ آف دی فلایز میں کچھ ایسے بچوں کے گروپ کی کہانی بیان کی ہے جو ایک بیابان میں اپنے کارواں سے بچھڑ جاتے ہیں اور ایک جزیرے پر  صرف بچوں کی حکومت قایم کر لیتے ہیں ۔کم عمر بچے جب باشعور بڑوں سے پرے اپنے شعور اور نفس کے ہاتھوں میں تنہا رہ جاتے ہیں تو حکومت کے نام پر وہ ایسا  ہولناک ظلم برپا کرتے ہیں کہ انسانی عقل حیران  و ششدر ہو جاتی ہے۔انسان کو جب اسکے نفس کے بغیر کسی تمیز اور تعلیم کے حوالے کر دیا جاے تو پھر انسان دنیا میں ایسا ظلم برپا کر دیتا ہے کہ جانور اور درندے بھی انگلیاں منہ میں دبا لیں۔
کچھ سال پہلے مختاراں مائی کے واقعہ سے سارے پاکستان نے نہیں بلکہ دنیا بھر نے جانا کہ پاکستان کے اندر انصاف کا نظام کس قدر عمدہ اور جاندار ہے۔سوموٹو ہوے، میڈیا نے خوب شور مچایا این جی اوز بھی جاگیں,مقدمے بھی چلے اور پھر انصاف کا شور مچانے والے انصاف اوڑھ کر سو گیے ۔مجرم ملزم بنے اور بالاآخر رہا ہوے۔مگر میرا مقصد انصاف کے اداروں سے سوال کرنا نہیں ۔میں ان سے پہلے والیان ریاست سے سوال کرنا چاہتی ہوں۔
ہمارے معاشرے کا اک ان کہا ،ان لکھا اصول ہے ،ہر بات ہر عمل میں کسی بڑے کی صلاح لے لو۔کسی عمر ،عقل ،علم اور تجربے میں بڑے سے! گھروں کے اندر ،گھروں سے باہر کے ہزاروں فیصلے انہیں بڑوں کے کیے اور چُنے ہوتے ہیں ۔کبھی گھر کا بڑا ،کبھی خاندان کا بڑا، کبھی علاقے کا بڑا کبھی کسی قبیلے کا بڑا کوی سردار، کوی عزت دار جسکی بات سے کوئی اختلاف نہ کرے یا نہ کر سکتا ہو۔۔۔۔۔ایک پنچایت کا مطلب ہے کہ اس علاقے اور لوگوں کے سب سے معزز، صاحب عزت صاحب قدر لوگ!!!  اور پنچایت کے ایک فیصلہ پر عمل ہونے کا مطلب ہے کہ کم سے کم اس علاقے کے دور و نزدیک کے لوگوں کو وہ فیصلہ پسند نہیں  تو قبول ہے۔اب ایک ایسے صاحب عزت ،صاحب قدرافراد پر مشتمل پنچایت فیصلہ کرتی ہے کہ ایک شخص کے کیے گیے ریپ کی سزا یہ ہے کہ ایک اور ریپ اسکی بیٹی یا بہن کا کیا جاے۔اب اس پر دونوں طرافین سمیت اس سارے علاقے کے کسی جوان، بوڑھے، مرد اور عورت کو اعتراض نہیں ۔تو یہ ایک دو اشخاص کا فیصلہ نہیں ،یہ اس پورے علاقے اور انکے شعور کا فیصلہ ہے۔اسکا قصوروار وہ سارا معاشرہ ہے جسکے اندر یہ فیصلے نہ صرف کیے جاتے ہیں بلکہ پایہ تکمیل تک بھی پہنچتے ہیں۔ہزاروں لاکھوں زرایع ابلاغ، ہزاروں دن رات کے چیختے چنگھاڑتے ٹی وی بھی ملتان، راجن پور، خان پور  اور ڈہرکی یا لاڑکانہ میں ہونے والے فیصلے کی بروقت خبر  نہیں لا پاتے۔واقعہ  ہو جانے پر سب میزبان بیٹھ کر ماتم کرتے ہیں۔بتاییے قصور کس کے نام ہو۔ کیا ظلم کے ان اندھے قانونوں سے بھرا  یہ بے بس  تماش بین معاشرہ محض چند خبروں اور تجزیوں سے بدل جاے گا؟ اسطرح کے فیصلے دینے والی پنچایتیں ان سارے علاقوں کی جہالت کفر اور ظلمت کو ظاہر کرتی ہے جو ان علاقوں میں پھیلا ہے۔یہ آج کے بڑے بوڑھے، “عزت ماب” پنچایت کے رکن پچھلے ستر سالوں میں اس عہدے کے قابل ہوے .پچھلے ستر سالوں میں کسی بھی حکومت کسی بھی فرد ،کسی بھی پارٹی نے بھیڑیوں کے اس ہجوم کو عقل و شعور دے کر انسان کیوں نہیں بنایا۔کیوں پاکستان کے آٹھ کروڑ لوگوں کو ستر سال میں تعلیم ،تہزیب تربیت دے کر ایک صاف سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہیں کی گیی۔کیوں اس قوم کو اپنی اغراض اور مقاصد کی خاطر ریوڑ بنا کر رکھا گیا، قوم بنانے کی کوشش نہ کی گیی۔۔کوی دینی ،کوی دنیاوی ،کوی اخلاقی ،کوی انسانی ،کسی علم ،کسی شعور کی رمق تک ان تک نہ پہنچی، نہ پہنچای گیی۔اس پورے علاقے کے ہزاروں لوگوں کے دماغوں میں آخر کسی بھی وجہ سے کوئی سوال کیوں نہیں اٹھتا۔کوی عزت کوی غیرت کا متوالا، کوی مزہبی ٹھیکے دار کوی آزادی اظہار کا دیوانہ کیوں ان رویوں کے بیچ کی دیوار  نہیں بنتا جبکہ آج کے پاکستان کی ہر چھوٹی سے چھوٹی گلی کے ہر مفلس سے مفلس شخص کے پاس بھی جدید ترین زرایع ابلاغ، تیز تریں فون اور کیمرے اور ہاتھ کی ہتھیلیوں پر انٹر نیٹ کی سہولت موجود ہے۔آخر کیوں کوی چینل معاشرے کی نگرانی کے لیے رپورٹر تیار نہیں کرتا۔ارباب اختیار کی سانس تک کی خبر دینے والوں کی ناک کے نیچے انسانیت اخلاقیات اور مزہب سب کا گلا گھونٹا جاتا ہے اور کسی کو سن گن تک نہیں ملتی۔ہزاروں لاکھوں ڈگری یافتہ ہنر مند لوگ ملکر بھی اس ظالمانہ نظام کو چیلنج نہیں کر سکتے کیا؟ہزاروں لاکھوں ادارے،قانون اور انصاف کے علمبردار،تعلیم اور ہنر کے ہزاروں لاکھوں ادارے ملکر بھی پچھلے ستر سال میں اس جانوروں کے ریوڑ پر مبنی معاشرے  کو انسان کیوں نہ بنا سکے؟ کسی وزیراعظم ،کسی ڈکٹیٹر، کسی پارٹی یا حکومت نے اس قوم کے ہاتھوں میں شعور دینے کی کوشش کیوں نہ کی؟ غضب تو یہ کہ آج بھی انسانی تعلیم و تربیت سے کسی کوغرض نہیں ۔یعنی اسکے بعد آنے والے اشرافیہ کے ریوڑ بھی اپنی اپنی وسیع جاگیروں میں اتنے ہی ظالم اتنے ہی کالے اور اخلاق سوز ہونگے۔تو کچھ ادارے کچھ لوگ بچھے کچھے قانون سے اس ریوڑ کو کیا باندھ سکیں گے۔انسانوں کو باندھنے کے لیے خدا نے علم اتارا تھا مگر انفرادی مفادات میں آنے والے سب رہبروں نے اس علم کا راستہ اندھا کر کے اندھیرے پھیلاے۔آج تبھی تعلیمی اداروں میں ہزاروں کا ہجوم کسی ایک پر فتویٰ کفر لگا کر ٹوٹ پڑتا ہے ،کبھی چوری کا نام دے کر اینٹیں مار مار کر لاشیں بنا کر درختوں سے ٹانک دیتا ہے۔ پھر جب اپنے اندر کے کتوں اور بھیڑیوں سے تھک جاتا ہے تو سور کی کھال اوڑھ کر قندیل بلوچییں دیکھنے لگتا ہے۔یہ چند لوگوں کا رویہ نہیں یہ پورے پورے علاقے اور قبیلے کی سوچ اور طور طریقہ ہے ۔ یہ معاشرے کے رویے ہیں جو انسانوں کی پہچان ہوتے ہیں اس ظلمت کے نظام کو ہزاروں نہیں لاکھوں کروڑوں نے سنبھال رکھا ہے۔اس معاشرے کو شعور دینے کے لیے کون اترے گا۔۔چند لوگوں کی تلاشی سے، چند لوگوں کی نااہلی اس معاشرے کا تریاق نہیں ۔
سرکاری تعلیم، اسلامی مدرسے، انگریزی سکول ہر موڑ پر کھلے ہیں مگر قوم  بحثیت مجموعی بے شعور ہے۔آج قوم کو صرف قاید اعظم کی نہیں اقبال اور سرسید احمد خان کی مولانا اشرف علی تھانوی کی سید سلمان ندوی کی بھی ضروت ہے۔اس قوم کو صرف حکمران نہیں اب رہبر چاہیں اگر اسکو زندگی چاہیے تو ورنہ مردہ قومیں بھی کیا خاک جیا کرتی ہیں۔
اگر مختاراں مای کے کیس پر ایک سفاک فیصلہ آ جاتا تو شاید کافی پنچایتوں کے لیے اک سبق ہوتا۔مگر ہمارے ہاں کا ظالم سفاک اور بے دید ہے اور منصف نرم دل اور بامروت!!! اگراس واقعہ سے سبق سیکھ کر کچھ قواںین بناے جاتے، پاکستان میں ہزاروں نہیں لاکھوں پڑھے لکھے صاحب شعور قانون دان کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پروفیسر میڈیا کے دماغ ہیں کیا چند لاکھ کو بٹھا کر کسی نے کوی ایسا طریقہ  وضع کرنے ،کوی قانوں  بنانے، کوی روایت ایسی ڈالنے کی کوشش کی گیی جو دوبارہ کروڑوں کے اس ہجوم میں ایسے واقعات کو جنم نہ دے؟  کیا پاکستان کے زرخیز دماغ ان مسائل کا کوئی حل تجویز نہیں کرتے ؟کیا ٹی وی اخبارات میڈیا پر کسی نے زاتی یا اجتماعی حیثیت سے اسکے لیے کچھ قدم اٹھانے کی کوشش کی ماسواے مختاراں مای کے نام پر ایک این جی او بنا کر اسے کچھ لاکھ دینے کے۔؟ اگر ان سب کا جواب ایک صفر ہے تو آپ آیندہ بھی ایسی خبریں خدانخواستہ رپورٹ  کرتے رہیں گے۔کہ خدا ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جسکو اپنی حالت سے غرض ہی نہ ہو! 

Published in ARY NEWS. check link! 

https://arynews.tv/ud/blogs/archives/69928

Studio Masr, Dalma Mall, Abu dhabi

 

This slideshow requires JavaScript.


Studio Masr is a Middle Eastern Egyptian restaurant, having a Huge variety of grill. This is the attraction convinced me to lead to the couch from the menu on reception. I am looking for some healthy options now days, to consume fewer fats and have a watch on my weight. Studio Masr is added as my first for healthy eating days. I have decided to choose a healthy option for me every fortnight.(don’t be shocked for “once in a fortnight!!!” 😲😲as I do healthy eating in my regular life. It’s just out dinners that exceed my calories consumption! 😊)

As an Asian, we always crave for spice and herbs in our foods. So mostly Middle eastern cuisine give us a bit tough time for being low in spices. Studio Last is among those that will not disappoint an Asian.you can order a spicy or extra spicy grill and Viola! Huge variety of chicken, beef, mutton grill, and kababs are on the menu. Add on spice and addition of some hot sauce give their grills a delish taste and aroma. Ample platter of grill meat served with the grill vegetables and fries( definitely I left for my kids as my healthy eating plan) is enough for a power meal.I selected four different platters for four of us and none of them was less in taste.

  1. Bent .El Akabar (shish tawook)
  2. Kashkhash kofta
  3. Ameer Al Inteqam( mix grill)
  4. Leabet El Set(boneless grilled chicken): This was the best chicken, so soft and juicy and delicious.

All these items were served with grill tomatoes.🍅🍅, grill onions and green chillies🌶🌶🌶🌶.

Somebody told me that the plates are named after famous Egyptian movies of their time. That’s another interesting fact.You can see the photos of the movies on the walls around,representing their theme cleverly.

Before the order, they served their complimentary bread. OMG! that’s so amazing little fluffy soft bread; a mix combination of chappati+khubazh+ bread! It was so soft and fluffy as it sustained its shape for long. That gave us a very good start with pickles and sauces!

Why should you visit STUDIO MASR?

1.perfect in taste and aroma even for Asians.

2.huge middle eastern grill menu.

3.their complimentary fluffy bread is amazing. 👌👌👌👌👌

Sitting Area is huge and services are good!!!! They have also a big variety of middle eastern desserts and drinks.

Some official information :
“A tribute to Egypt’s magnificent movie-production studio in the golden era of Egyptian cinema, Studio Masr is a unique themed restaurant. The restaurant specializes in charcoal grill entrees and authentic Egyptian and Middle Eastern cuisine.Studio Masr delivers the epitome of family entertainment with an all-time classic twist, an authentic Middle Eastern experisence that is casually elegant yet infectiously fun.”(thanks to Studio Masr website) 

 

For their Official website plz check!

“www.cdlc.ae”

Nailstation

IMG_20170711_144749_803Sale alert!!! 50%off at nailstation #debanhamnme @yasmallad .😱😱means it’s around 25aed rather than 49add!!!

Nail station is my personal favorite ! I have dry nails that easily chip after a few continuous use of nail color. I have been trying many brands but Only nailstation works nicely with my nails.it retains the natural moisture of my nails so I am not in a hurry to remove the nail color. Now I wear their colors all the year without any damage to my nails.it’s my tried and tested observation.👍👍💪💪!!!!give it a try,you will never disappoint!!!!!! Every shade of every color on a quite corner of Debnhamns.👍👍👍they are offering  the BIO, a fully organic based Polish, and BREATH, with an advanced oxygen technology. You can’t resist the Alluring colors in SPARKLES as well.

Sale is on  in Debenham stores. For more details you can check their official website link ⤵⤵

http://nailstation.com/

Shake shack, Yas Mall, Abudhabi

Shake Shack is a famous chain of burger distinguished for its organic ingredients and pickle taste. In Yas Mall,abudhabi, its located adjacent to the food court and is always rushed with the people. The rush is not for the food court only but also for the shake burger .It is always a  popular place with foodies and families including My family that loves the BBQ Shake burgers .

you come in the Que for order and wait for your turn with the latest menu in your hands.You must decide what you want before going to the counter :look  around at the menu engrossed on the side wall and choose your flavours, spice ,drinks, with lettuce , extra cheese or extra salad.keep in mind every adds on charges.

The famous Shake burgers are in two sizes. First is single patty and other is double. Single is good for kids or dieters and double is enough for someone needs a meal. Don’t forget they do not offer meal or combo option,.you have to spend separately for a yummy fries or for the most delicious fries with cheese.A fountain drink or lemonade needs another fortune.my personal favourite burger is BBQ beef shake .It is their signature one.

The BBQ beef patty is juicy ,tangy with particular  divine taste of pickles. It’s crunch, soft and gives you an unmistakable delish taste.I still can feel the flavour in my mouth.  you can spend a few more pennies for the crunchy onion shackles or some extra tomatoes.

The pickle taste makes this food chain different to other Burger stations and their particular claim for everything organic and produced on their personal farms is really appealing.  It might be the reason behind the high price. It’s triple in price than MacDonald and KFC and for a full meal including fountain drink, mouthwatering fries and a dessert you must bring a lot of money along..

The shake burgers are mouthwatering and for me, after tasting them i simply say adieou to MacDonald ,KFC or even Max burger that has been one of our favourite for its grill options.Shakeshack claims for everything organic but don’t claim for weight loss products.So no doubt it is a fast food restaurant . it needs a little control of your consumption .A glass of lemon mint lemonade might be a help to digest it easily but still, A regular dose can boost your weight so you need to have it once in a while to have health, shape and taste.

(For shake shack website, check link)

https://www.shakeshack.com/location/abu-dhabi-yas-island-mall/

کتاب تبصرہ.

               The girl on the train by

 Paula Hawkins                         

گلیوں کے ,گھروں کے اور گھر کے پیچھے بنے باغیچوں کے قریب سے گزرتی ٹرین کی آواز کے ساتھ ،بھاگتے دوڑتے رستوں اور بے نیاز مسافروں کے بیچ بیٹھی ایک لڑکی…..ایک  بدصورت پسینے کی بو سے بھری, الکوحل کے نشے سے لتھڑی, ایک بھدی بدصورت لڑکی ! یہ ناول ہے اس بدصورت لڑکی کی کہانی۔دو ہزار پندرہ کا پاولہ ہاکنز کے قلم سے لکھا  یہ بیسٹ سیلر ناول تھرل،  سسپنس اور کھوج کے ساتھ ساتھ نسوانی پیمانوں پر ممتا،  وفا اور بے وفای،  رشتوں اور محبتوں کی تزلیل اور کیی معاشرتی برایوں کا احاطہ کرتی ہے.اسی لیے مرد اور عورتوں میں برابر کی مقبولیت کی حامل رہی. 

کبھی ٹرین پر سفر کرتے آپ کھڑکی والی نشست پر بیٹھ کر باہر کا نظارہ کرتے ہیں؟ پیچھے کی طرف بھاگتے نظاروں گھروں اور لوگوں کوکس حوالے سے پہچانتے ہیں؟ایک ہی رستے کی ٹرین پر روزانہ ایک ہی سفر  کرنا پڑے اور کچھ مخصوس راستے، کچھ مخصوص جگہیں اور  خاص لوگ روزانہ چند لمحوں کے لیے آپکی نظروں سے گزریں اور کھو جائیں!ایک ہی منظر ایک ہی پس منظر کے ساتھ روزانہ دیکھنا پڑےتو کیا آپکو ان رستوں سےان جگہوں سے اور ان لوگوں سے اپناییت محسوس ہونے لگے گی؟. اور اگر جو کہیں آپکا خوبصورت اور تلخ ماضی بھی انہی راستوں کے بیچ کہیں دفن ہو، تو ؟ وہی جو ریشل کے ساتھ ہوا. یکطرفہ تعلق، یکطرفہ رشتے، ظاہریت اور اصلیت میں فرق،جیس اور جیسن کے دور کے سہانے ڈھول قریب آنے پر ریشل کے کان کے پردے پھاڑنے لگتے ہیں۔ ریشل وہ بدصورت بدھی لڑکی ہے جو اپنی ملازمت کے سلسلے میں روزانہ صبح کی ٹرین پر نکلتی ہے اور شام کو ٹرین سےانہی پٹریوں اور راستوں پرواپس لوٹتی ہے.  ریشل کی زندگی پنڈولم کی طرح ایک ہی نقطے کے گرد گول گول گھوم رہی ہے. ایک سے دوسرے سرے اور دوسرے سے پہلے کی جانب جبکہ حقیقتا اسکا مرکز دونوں سروں کے درمیان وٹنی میں ہے جہاں اسکا بے وفا شوہر ریشل کے اجڑے خوابوں اور اور اپنی نیی بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہتا ہے.

صفحات الٹتے شرابی اور بدصورت ریشل سے تعارف ہونے لگتا ہے تو اسکی شخصیت کا ایک اور بدصورت پہلو دکھای دیتا ہے. ایک مطلقہ ؛ محبوب کی بے وفای کی ڈسی ہوی ، اسکی محبت اور توجہ کے لیے ترسی ہوئی……. مزید صفحات  الٹنے پر وہ بدصورت اور شرابی مطلقہ عورت ایک بانجھ بیوی کا روپ دھار لیتی ہے.خود کو ماں کہلانے کی چیختی ہوئ خواہش جب اختیارات کی بے بسی کے سامنے ٹوٹ بکھر کر اسے ایک نامکمل وجود میں بدل دیتی ہے ،اسے دامن کی خوشیاں کانٹے لگنے لگتے ہیں. بچوں کے پھولے گالوں اور میٹھے لمس کی ترسی  عورت ریشل کے دوست احباب ، دوستوں کے دوست سب بچوں والے ہو چکے. بچوں کی سالگرہ ،پارٹیاں، انکی معصوم باتوں کے قصے، باغوں میں بچوں کے ساتھ کھیلنا، بگھی میں بٹھا کر سڑکوں اور بازاروں میں پھرانا یہ سب  ریشل کی  حسرت بن چکا تھا. بچوں کی قلقاریوں پر آنکھوں پر ہاتھ رکھتی  اور ماوں کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھ کر راستہ بدل دینے والی ریشل اور دوسری طرف شراب کے نشے میں دھت ہو کر سڑکوں پر دھکے کھاتی جگہ جگہ الٹیاں کرتی گرتی پڑتی بدصورت اور بدھی ریشل. دونوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ بدصورتیاں اصلیت نہیں ہوتیں بدصورتیاں معانی خیز ہوتی ہیں. ایک بدصورتی کے پیچھے ہزار کہانیاں ہوتی ہیں اور  ایک  کہانی کے پیچھے صدیوں کا کٹھن سفر ہوتا ہے .  ایک بدصورت فرد کے پیچھے اسکی راہ کے پتھر اور آسمانوں سے گری بجلیاں ہوتی ہیں. ریشل کی بدصورتی کے پیچھے بھی ایسے ہی راز ہیں. جو ورق ورق جلوہ دکھاتے  جاتے ہیں  ۔ جیسے کالے بادلوں سے خوبصورت چمکتا سورج چھپ جاتا ہے ایسے ہی شرابی اور بدصورت عورت کے اندر ایک عورت کا کمزور بےبس وجود اپنی حسرتوں اور آرزوں کے مقبرے میں دفن  ہو جاتا ہے.

                                                   یکے بعد دیگرے دو سہارے چھن جانے سے بکھر جانے والی ، ریزہ ریزہ ہو کر کرچی کرچی ہو کر ٹوٹ جانے والی میگن اس کتاب کا دوسرا اہم کردار ، جو اپنےبھای کے مضبوط سہارے میں اسکے ساتھ دنیایں گھومنے کے خواب دیکھتی ہے مگر وہ خواب انکے گھر سے کچھ کلو میٹر کے فاصلے پر مضبوط سہارے سمیت خون میں لت پت ہو جاتے ہیں. سکاٹ جیسے  شوہر کا سہارا اسکے ٹوٹے وجود کو یکجا کر کے اسکے راہ کے پتھر اور پیروں کے شیشے چننے لگتا ہے. میگن کا کردار آغاز سے ایک پیچیدہ  اور پراسرار کردار دکھای دیتا ہے. ناول کے وسط تک جاتے وہ ایک ایسی بے راہرو عورت کا روپ دھارلیتی ہے جسکی سرشت میں وفا نہیں.کچھ عرصے بعد ایک نیے مرد کا سہارا اسکے لیے آکسیجن کی مانند تھآ۔ایک ناپسندیدہ رخ اختیار کرتا کرتا یہ کردار مظلوم ہو کر بھی ہماری ہمدردی کا حقدار نہیں ہوتا۔کچھ اور صفحات الٹنے تک اسکی شخصیت کی گرہیں کھلنے لگتی ہیں اور قاری ایک لاپتہ ہونے والی ،گھر سے بھاگ جانے والی عورت کے ساتھ انکھیں بگھونے لگتا ہے۔libbi کا وجود،میک کے ساتھ گھریلو جھگڑے،یخ بستہ موسم میں خود کو گرم رکھنے کی کوشش اور پھر وہ ہو جانا جو اسکی زندگی کو جہنم بنانے  اور آپکی پلکوں سے شبنم گرانے کا باعث بن چکا تھا ،کہانی کی گتھیاں سلجھانے کے لیے کافی ہے.

           تیسرا کردار اینا ،جو ٹام کی دوسری بیوی اور ایک چھوٹی سی بچی کی ماں ہے۔اینا ریشل سے شدید نفرت کرتی ہے او ر اسے  ٹام اور اپنی بیٹی کے لیے مستقل خطرہ سمجھتی ہے۔ اینا اپنی نفرت سے ریشل کی مشکلوں میں اضافہ کرتی جاتی ہے یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑی ہوتی ہیں جہاں انکے سامنے انکی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کھڑا ہے.

تینوں الجھے کردار باری باری بیانیہ کی صورت میں اپنی روداد بیان کرتے ہیں اور تینوں کرداروں کے ہر لمحہ بدلتے رخ  اور زاویے ہمارا تسلسل بگڑنے نہیں دیتے اور مضبوطی سے ناول کے صفحات کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں.

کچھ کردار ان مرکزی کرداروں کی زبانی متعارف ہوتے ہیں جو آخرکار چونکا دینے والی حقیقتوں کو جنم دیتے ہیں.ٹام کا کردار  اپنی جگہ گھمن گھیریوں سے گزرتا آپکی ہمدردیاں سمیٹتا چلا جاتا ہے.. شروع میں ایک بےوفا اور سنگدل محبوب کی طرح دکھای دینے والا ٹام جو ریشل کی بےعزتی کرنے کے مواقع ڈھونڈتا نظر آتا ہےصفحات الٹتے الٹتے محبت کرنے والے مخلص شوہر کی صورت لینے لگتا ہے. ایک ایسے شوہر کا جو طلاق کے بعد بھی ایکس بیوی کی پرواہ کرتا ہے. اسے برے لوگوں سے اور برے حالات سے بچانا چاہتا ہے. جو سڑکوں پر گرتی پڑتی بدبودار اور نشہ زدہ حالت میں ریشل کو سنبھالتا اور بچاتا ہے. ٹام بہت محبت کرنے والا شوہر تھا مگر تمامتر خلوص اور محبت کے باوجود اس رشتے کو نبھا نہ سکا کیوں؟  یہ گورکھ دھندہ بھی اگلے صفحات پر آشکار ہونگے۔ یہاں ریشل ایک ایسی خاتون کی مانند دکھای دیتی ہے جو اپنی ازیتوں اور حسرتوں سے لپٹ کر گھمبیر غلطیوں کے سبب اپنے محبوب شوہر سے نانصافی کرتی اس پر چیختی چلاتی اور بے تحاشا شراب نوشی کی وجہ سے اس کے لیے زلت کا باعث بنتی ہے. اور اسے گنوا بیٹھتی ہے. مگر سچ اور حقیقت کیا ہے. یہ تصور کتنی دیر تک ٹھرتا ہے. ناول کے دھیمے لہجے میں بہتے تھرل میں آپ اگلے صفحات پر کچھ بھی توقع کر سکتے ہیں. آپکی راے یکسر بدل کر محبوب لگنے والے کردار آپکے جزبات کو ایک سو اسی ڈگری کے زاویے پر بدل سکتے ہیں.

                  جیس اور جیسن دو محبت کرنے والے. میاں بیوی  جنکی محبت کی گواہ ریشل ہے. جو ٹرین میں صبح شام سفر کرتی انکی محبت کے میٹھے سروں اور پرخلوص جزبوں کو دیکھتی اور پرکھتی رہی ہے. جان نثار کرنے والی بیوی جیس اور پھولوں کی طرح سنبھال سنبھال رکھنے والا جیسن جب ایک مشکل میں پھنستے ہیں تو انکی مدد کے لیےٹرین چھوڑ کر پریشان اور فکرمند ریشل سی بدصورت اور بھدی عورت کو آنا پڑتا ہے جسکی گواہی پر  پولیس یقین کرتی ہے نہ  اسکی روم میٹ کیتھی،  ٹام نہ سکاٹ اور نہ جیسن. ایک معمہ جسکے ساتھ ریشل کا کوئی تعلق نہیں مگر انجان جزبہ اور ایک نامحسوس قسم کا کرب ریشل کو ان مسایل میں بری طرح الجھا دیتا ہے.  لوگوں،جگہوں ،حالات اور واقعات سے مکمل طور پر ناواقف  ریشل خود کو جیس اور جیسن کی پراسراریت  کے جالوں میں پھنسا محسوس کرتی ہے.

مردانہ قسم کا تجسس زنانہ  دھیرے لہجے سے چلتا پڑھنے والے عورت اور مرد دونوں کو کتاب کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے اور قاری کتاب ختم کیے بغیر اسے رکھنا محال سمجھتا ہے. ممتا کے مختلف روپ ناول میں جگہ جگہ ڈوبتے اور ابھرتے ہیں تو مرد کے ہاتھوں ہر جگہ اور ہر معاشرے میں ہونے والا استحصال بھی اپنی کرواہٹ کے ساتھ عیاں ہے. اگرچہ اس ناول کی تھرل برقی ٹرین کی رفتار سے نہیں بلکہ بہت دھیمے اور نامحسوس انداز میں چلتی ہے لیکن ستمبر کے آخر میں آپ یقینا اسے تیز  رفتار سے بھاگتی فلم کی صورت دیکھ سکیں گے. اگر آپ اچھی فکشن کے مطالعہ کے شوقین ہیں اور تھرل یا سسپنس یا نسوانی موضوعات کے شوقین ہیں تو یہ کتاب یقینا آپکی منتظر ہے.  فلم سے پہلے اپنے اس شوق کی تسکین کر لیجیے کہیں فلم ریلیز ہونے کے بعد آپ اس کتاب کی  خوبصورتی سے محروم نہ رہ جاییں.

 

(یہ تبصرہ ایک اردو میگزین کے لیے کیا گیا)

 

سجدہ سہو

                                                                                                      ….

سعدیہ پانچوں نمازیں پڑھتی اور پانچوں وقت سجدہ
سہو کرتی.انتہای توجہ سےنماز کا آغاز کرتی.رکوع سجود میں آہستگی برتتی، الگ الگ لفظ
ادا کرتی مگر نہ جانے لڑی کہاں سے ٹوٹتی، موتی کدھر سے بکھرتے کہ آخیر تک پہنچتے
پہنچتے گمشدہ ہو جاتی.کتنی رکعت ہو گییں اور کتنے سجود کچھ حساب نہ رہتا.فقط رہ
جاتی اک نارسای. ایسی ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو جوڑ لگانے کا ایک ہی طریقہ تھا اسکے
پاس، سجدہ سہو! تین رکعتوں کو چار  کرنے کا ،سجود ورکوع کی گنتی پوری کرنے کا
اسیر نسخہ.سجدہ سہو سعدیہ کی عادت ثانیہ بن چکا تھا اور شاید اسکے پھٹے چیتھڑے
لگے  کپڑوں جیسی نمازیں لے جانے والے نورانی فرشتوں کی بھی ،اگر کبھی جو سجدہ
سہو کے بغیر انکے پاس نماز پہبچ جاے تو شاید وہ بھی بیچ رستےمیں چکرا کر  واپس
آ جائیں کہ آج غلطی ہوگی.غلط بندے کی نماز پکڑی گئی..اس عورت کی نماز کا سجدہ سہو
تو رہ
گیا.

وہ عورت جو ہر شے کو اسکے ٹھکانے پر رکھنے کی کوشش کرتی پر نہ رکھ پاتی.کوی غلط بنت
پڑ گیی تھی اسکی زندگی کے سویٹر میں ، کوی ٹانکا جو غلط لگ گیا تھا.یا پھر وہ کسی
آسیب زدہ راستے پر بھٹک کر رہ گیی تھی کہ کھو کھو جاتی.ڈھونڈنے کی کوشش کرتی اور
پھر گما جاتی.سنبھلتے سنبھلتے پھر پھسل جاتی.ایسی ہو کر ری گیی تھی اسکی
زندگی.
سعدیہ کی زندگی ہمیشہ سے ایسی نہ تھی.اسمیں نظم
تھا ضبط تھا،آگہی تھی ،اختیار تھا! کبھی اسکی زندگی کے آسماں پر صبح میں سورج نکلتا
تھا اور رات میں چاند، اپنے وقت پر تاریکیاں ہوتیں اپنے وقت پرچاند راتیں.یہ بے
ربطگی، یہ گھمسان کارن تو شادی کے بعد پڑا تھا زندگی میں. قیامتیں ساری جگمگاہٹوں
،قمقموں اور جشن کے بعد ٹوٹی تھیں اسکی زندگی میں مگر بجلیاں اسکے ظاہر میں نہیں
کہیں اندر ہی اندر گری تھیں. چلتا پھرتا اٹھتا بیٹھتا وجود ایک ریت کے بھربھرے وجود
میں بدل گیا تھا.لاکھ مٹھی میں سنبھالنے کی کوشش کرتی ، کوزہ بنانے کی جوڑنے کی
کوشش کرتی،پر ریت بکھر بکھر جاتی، اسکی پکڑ میں  نہ آتی.

“نکاح کے لفظوں میں جادو ہوتا ہے.”
یہ اسکی پھپھی نے کہا تھا۔ قاسم
سے نکاح پر دستخط کرواتے وقت.وہ نہ بھی کہتیں تو دستخط تو وہ کر ہی دیتی.جادو چلے
یا نہیں. منتر اپنا کام کریں یا آسیب.سر ہی جھکا دیا تو کیا فرق پڑتا تھا جادو چلیں
یا بجلیاں گریں، طوفان آییں یا بہاریں ، نغمیں پھوٹیں یا نوحے، کیا فرق پڑتا تھا
اسکو.اور کیا فرق پڑتا تھا دستخط کروانے والوں کو.فرق تو تب پڑتا جب اس نکاح نامے
پر نام کسی اور کا ہوتا.دستاریں گر جاتیں، عزتیں نیلام ہو جاتیں، بال نوچ لیے جاتے
،گردنیں کٹ جاتیں،خاندان اجڑ جاتے.اس نے سب کچھ بچا لیا بس اپنا آپ ہار دیا.
“تم
سے بہت پیار کرتا ہے، بہت خیال رکھے گا!”
سہیلیاں خاص طور پر بار بار
جتاتیں.انہوں نے یاد کروایا گیا سبق منہ زبانی رٹ لیا تھا.اس لیے بغیر
کوئی  لفظ بدلے ایک ہی فقرے کی بار بار تکرار کرتیں.
“اچھا!……..ہاں
مجھے صرف خیال ہی تو چاہیے، ”
وہ بھی دن میں کیی کیی بار اپنے دل میں یہ فقرے
انڈیلتی.اپنے دماغ کو جتاتی کانوں میں گونجتی آوازوں کو چپ کرواتی.بھٹکتی آنکھوں کو
پکڑتی، روکتی اور  انکو بتاتی.
“تمھیں خوش رکھے گا! تمھیں خوش رکھے
گا!”
اور آنکھوں میں جلتی آگ اور بھڑکنے لگتی.بھانبڑ جہنم میں بدل جاتے.ہواییں
بپھڑ کر طوفان بننے لگتیں.
مجھے جنگل جنگل بھٹکا دو
مجھے سولی سولی لٹکا
دو
جو جی سے چاہو یار کرو
ہم بڑھ جو گیے تیری راہ پیا!

اور وہ شام سلونا چمکتے سورج کی طرح صبح صبح اسکی منڈیر سے جھانکنے
لگتا، شام ہونے پر سورج کے ساتھ غروب ہو جاتا اور چاند بنکر پھر نکل آتا! وہ پردے
تانتی،دروازے بھیڑتی، کھڑکیوں کو کنڈیاں لگاتی مگر سورج کی کرنیں اور چاند کی
چاندنی نہ پکڑ پاتی.نکلتے دن کو روکنا اسکے اختیار سے باہر تھا. ہ پاگل تھی عشق کے
راستے کی دھول چاٹنے نکلی تھی.اور اب دیواروں میں سر پھوڑ نے سے بھی گیی تھی.باہر
موت تھی تو اندر زلزلے، کس کو پکڑتی، کس کو چھوڑتی.کسی کا  چہرہ تھا جو اسکے
اندر باہر گونجتا تھا.کچھ الفاظ تھے جو اسکےد ل کی دیواروں پر سر مارتے پھرتے.کچھ
زخم تھے دل میں جو سل کر نہ دیتے.واحد! واحد!واحد! .اسکے دل میں  ،دماغ کی
تہوں میں، آنکھوں کی چلمنوں پر، سانس کی ڈوری میں، دل کی دھمال پر، لہو کی حرارت
میں، اسکے جسم اور  روح کی لہروں پر ایک ہی نام تیرتا پھرتا. ایک نام کا آسیب
اسکے وجود سے لپٹ گیا تھاجو وہ چاہ کر بھی اتار نہ پاتی.آنکھیں بند کرنے سے اسکا
چہرہ گم جاتا تو وہ اپنے ہاتھ سے آنکھیں پھوڑ لیتی.کانوں میں زہر انڈیل لیتی اگر
اسکی صداییں روک پاتی.لہو نچوڑ کر رکھ لیتی جسم کا اگر اس  سے واحد کا نقش مٹ
سکتا.سانسیں روک لیتی اگر جو کچھ مرہم بنتا.مگر وہ تو عشق کا جوگ لگا بیٹھی تھی.اور
اب طوفانوں کے بیچ معلق تھی.اندر باہر کے طوفان اسکو لڑکھڑاے پھرتے تھے.
ابا کے
الٹے ہاتھ کی مار نے ایسا پٹخا تھا کہ دیوار میں جا لگی تھی.بھای نے مار مار کر
ہڈیاں ہی توڑ دی تھیں. تب اس نے جانا باپ بھایوں کے ہاتھ کتنے سخت اور بھاری
ہوتے ہیں۔ صرف چوٹ ہی نہیں لگاتے ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں. پہاڑوں کو توڑ دیتے ہیں۔
زندوں کو مار دیتے ہیں۔ اعتماد توڑنے کی سزا دیوار میں چنوا کر نہیں دیتے پتھروں سے
سنگسار کر کے دیتے ہیں۔ اور یہ اعتبار کا پل صراط جس سے دل گر گر جاتے ہیں۔ اور
سنگساری مقدر ٹھرتی ہے.

“اب ہماری بیٹیاں عشق فرماییں گی!”…………
“. مار کر کھیتوں میں
پھینک دو! ”

باجیاں چنگاڑی تھیں. بھای لپک لپک پڑتے.کسی نے جھانپڑ مارے کسی نے ٹانگیں. سعدیہ
خاموشی سے کھاتی رہی.وہ پیار سے بھی کہ دیتے تو ہونی تو انہی کی مرضی تھی.پر باپ
اور بھائیو ں کو دھونس اور رعب عزیز تھا.سعدیہ نے سہہ لیا.اپنے چہرے بال اور جسم کو
سہلاتی، چوٹوں کو دیکھتی.
چلو تم کو لے چلوں! یہ مار دییں گے تم کو!”
” اپنے
باپ کو مار کر نہیں جا سکتی!”
باپ اسکے دکھ میں مر جاتا تو وہ مر بھی نہ پاتی.وہ
پیروں میں پڑ گیی.” “آپ جو چاہے کریں! جیسے چاہے کریں! “

لب دم  یہی اسکی زبان پر تھا. یہی دل میں تھا.یہ اور بات وہ دل
زلزلوں کی زدمیں تھا نزع کا عالم تھا اور اسکے دل کی فکر بھی کس کو تھی.

عزتوں کا بھرم رکھنے کو بڑی عجلت ميں خاندان کا لڑکا پکڑا گیا تھا.لڑکی
باغی ہو گیی ہے کہیں بھاگ نہ جاے.کہیں مونہوں پر کالک نہ مل جاے ، دنوں، میں بات طے
ہوئی اور ہفتوں میں نکاح.نہ مہندی ہوی نہ گانے بجے، نہ سہیلیوں نے ڈھولک پیٹی نہ
شادمانے بجے اور نکاح ایسے ہو گیا کہ جیسے جنازہ ادا ہوا.اعتبار توڑنے والوں کے لیے
شادمانے کوں بجاتا ہے.عشق محبت کرنے والی لڑکیوں کے لیے کہاں آتش بازیاں ہوتی ہیں۔
چاہے عزت بچے، دستار سجے ،غرور بڑھے پر یہ شادمانی کی نعمت پھر تابعداری سے بھی
نہیں ملتی.عشق کے رستے پر ہر طرف خواری ہے ، ہار کر بھی جیت کر بھی.لڑ کر بھی جھک
کر بھی، قربانی دے کر بھی اور لے کر بھی.یہ دیس نکالا کسی صورت نہیں ٹلتا.
باپ
نے نکاح کے وقت سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ نہ جانے خوشقسمتی کی دعا دی یا نہیں پر شکر
ضرور  ادا کیا دل میں کہ عزت بچ گیی.گھر سے جنازہ بڑی دھوم سے نکلا.ماں رونے
کی بجاے رخصتی پر ہنستی رہی.اسکی بھی عزت رہی، گھر بھی بچا اور سہاگ بھی.سب کچھ بچ
گیا صرف لٹا تو سسی کا شہر بھنبھور.رومانوی فقرے ، تحفے تحایف، دعوتیں ،رنگ برنگے
کپڑے، جھلمل کرتے زیور ،سب لوٹ آیا اسکی زندگی میں مگر ایسے کہ جیسے انٹینا ہل جانے
سے رنگین ٹی وی کالا ہو جاے.تصویر ہلتی رہے چکراتی ہے.سعدیہ ایک بار بھٹکی تھی مگر
اب قدم سنبھال  کر رکھتی زندگی کے ساتھ چلتی رہی.گھر بنانے میاں کو اپنانے
کی  کوششوں میں جت گیی.سسرال کی خدمتوں میں مصروف رہنے کی کوششوں میں خود کو
بگاڑتی  گیی.اپنوں نے جن پھولوں پر رخصت کیا تھا تو غیروں سے تو توقع ہی نہ
تھی.قبولیت ہی قبولیت تھی ہر طرف.جھولی میں پھول ییں یا کنکر، روڑے  گریں، یا
شبنم ،کس کو فکر!جب پتھروں پہ چلنا مقدر ٹھرا تو تلووں کی کیا فکر.
نہ فلک ٹوٹے
نہ زمینیں پھٹیں.خدمتیں ہمیشہ کامیاب ٹھرتی ہیں. اسکی بھی ٹھر گیی تھیں۔ کیا فرق
پڑتا ہے کہ دل مر جاے ،کیا فرق پڑتا ہے اگر وہ سجدہ سہو کرتی ر ہے.زندگی کی ایک بنت
ڈھیلی رہ گیی تھی کوی ٹانکا غلط جا لگا تھا کہ لباس تنگ پڑ جاتا، سانس پھنسنے
لگتا،دودھ ابلتا، سالن جلتا اور راتیں جاگتی رہتیں.نعمتوں میں سے لزت روٹھ گئی،
خوبصورتیوں کے رنگ بکھر گیے.زندگی ادھوری ،اسطرف پوری  نہ اس اسطرف
پوری.
ماں باپ کے گھر لڑکیوں کی زندگیوں کے کچھ ٹانکے اڈھیر دو.ساری عمر سسرال
کو چاٹتی انکی ٹھوکروں کو سہتی رہیں گی.میاں پر آمین پڑھتی رہیں گی.گھروں سے ایسے
رخصت کرو کہ ڈولی کی بجاے جنازہ لگے پھر  جنازہ بھی واپس نہ آے گا.جو بیٹیاں
باپ کے گھر لہولہان ہو جایین انکو رستوں کے آسیب  پھر ڈراتے نہیں. راضی باضی
سسرال، خوش اور مطمین شوہر.نقصان صرف ایک زات کا…..اک بے نشاں بیکار وجود کا جسکے
ہونے نہ ہونے سے کاینات میں کسی کو  فرق نہیں پڑتا.زند گی کی بنت میں اس سے
بھی کچھ بگڑ گیا تھا کوی ٹانکا ادھڑ گیا تھا پر اسکو سدھارنے کا اب کوی چارہ نہ
تھا.اس نے عشق کی نماز پڑھی تھی جسمیں سجدہ سہو نہ تھا!

Photo courtesy :Kurama Magazine