ممی کی ڈائری______________ماں ،بچے اور پریوں کی کہانی

پچھلے کچھ دنوں سے اپنی داستان میں میں اپنا پسینہ پونچھتی رہی اور تھکی ہوی ماں کے دکھڑے روتی رہی۔۔۔۔ آج اس پریوں کی کہانی کی بات کرتے ہیں جسکا نام بچے ہیں،ممتا ہے اور ماں بچے کی کہانی ہے۔جب مائیں بچے پال پال تھک جاتی ہیں تو پھر ان کی پریوں کی کہانی بھی بوڑھی ہو جاتی ہے میری طرح ،وہ کہتے ہیں ناں

Familiarity breeds contempt!

تو پھر اس پریوں کی کہانی کے اجلے گہرے رنگ بھی دھندلے اور بے تاثر لگنے لگتے ہیں ۔ہمیشہ نہیں،بس جب تک بچے جاگتے ہیں ،بچے سو جائیں تو پریوں کی کہانی، ماں اور بچے کی وہی میٹھی داستان پھر سے تازہ ہو جاتی ہے۔آپ بھی لیتی ہوں گی اکثر سوے بچوں کی پپیاں!😎

تو آج کچھ کرتے ہیں ایسی ہی میٹھی میٹھی باتیں! میں نے اپنے بچوں کو سکھایا ہے اک شوگر مینیا۔کبھی کبھی جب میں میٹھے میٹھے موڈ میں ہوں تو بچوں سے کہتی ہوں “میری شوگر لو ہو گئی ہے!

My sugar is getting low!

یہ بھی پڑھیں:ممی کی ڈائری:دعا،ممی اور انگریزی ہدایت نامے

اور تینوں بھاگے آتے ہیں مجھے جپھی ڈالنے تا کہ میرا شوگر لیول بڑھ سکے۔وہ جانتے ہیں کہ اسکا مطلب ہے کہ آؤ اماں کو اک جپھی دو!پھر کبھی کبھی میری بیٹیاں آ جاتی ہیں ۔کہتی ہیں

“Mama!you need sugar???”

مما! آپکو شوگر چاہئے؟؟؟”

اور میں سمجھ جاتی ہوں اب انکا گلے لگنے کا من ہے۔اس چھوٹی سی اک پریکٹس کا بہت فایدہ ہے۔بچہ الجھتا نہیں۔کوئ بہانہ نہیں ڈھونڈتا،اسے اک کھیل مل جاتا ہے سیدھی دل کی بات کے اظہار کا۔یہ جھپھیاں اور پپیاں بہت ضروری ہوتی ہیں۔جیسے ہمیں چاہیے ہوتی ہیں۔ اپنے بہن بھائیوں،دوستوں اور شریک حیات کے ہونے کا احساس ،اسی طرح چھوٹے بچوں کو بھی چاہیے ہوتی ہے ہماری محبت کی گرمی ،ہمارے بازوؤں کا حصار! اگرچہ یہ نسخہ بھی ہر وقت یاد نہیں رہتا مگر جب بھی آزمایا جاتا ہے بہت ہی پرلطف اور شیریں ہے۔بچے کو دل سے لگا کر کبھی کبھی ماں کے دل کو ٹھنڈک پہنچانے کی بھی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ضرورتوں اور زمہ داریوں کی سختی بہت کچھ بھلائے رکھتی ہے تو کبھی کبھی اس طرح کے سیدھے اور ڈائریکٹ محبت کے اظہار دل کو بہت سکون دیتے ہیں،ماوں کو بھی اور ماؤں کے راج دلاروں کو بھی۔

یہ بھی پڑھیں :ماں اور معاشرہ

پھر بچوں کے لنچ باکس بنانے کا روز کا جنجھٹ۔یہ مشکل لنچ باکس کبھی کبھی بہت خوبصورت ہو جاتے ہیں بچوں کے لئے جب ان میں نگٹس،کھیرے،فرائز اور جوسز کے ساتھ ہم ایک چھوٹا سا خط ڈال دیں۔کوی بچے کی پڑھنے کی صلاحیت کے مطابق

l love you darling

Miss you

My cute son!

وغیرہ،اگر آپکا بچہ بھی میری طرح نرسری میں ہے تو، اور اگر وہ کچھ لائنیں پڑھ سکتا ہے تو کوی چند حرفی محبت کا اظہار،کوئ چھوٹی سی کہانی،کوی مزے کی نظم کے ساتھ لگے ایک دو سٹکرز: اس سے کیا ہوتا ہے؟ یہ ہم ماوں کے لیے تو اک اضافی زحمت ہی ہے مگر جب ہم ان کے لئے ساری زندگیاں وقف کر جاتے ہیں،سارے پیسے لٹا کر انکی الماریاں کپڑے جوتوں اور کھلونوں سے بھر دیتے ہیں،تو پھر یہ تو بہت ہی اک زرا سی کوشش ہے۔اس سے یہ ہوتا ہے کہ بچہ جب سکول جا کر سب بچوں کے بیچ لنچ باکس کھولتا ہے تو اس میں سے نکلتی ہے مما!!!😀بچہ ایک دم اپنے دوستوں میں معتبر ہو جاتا ہے۔سکول میں جہاں وہ آپکو بھول چکا ہوتا ہے وہ محبت سے یاد کرنے لگتا ہے۔اور یہی وہ میٹھی میٹھی خوشگوار یادیں ہوتی ہیں جنہیں آنے والے مستقبل میں وہ یاد رکھتا ہے۔ہماری روک ٹوک،نصیحتیں تو بہت بعد کے زمانے میں انکو سمجھ میں آنی ہیں۔یہ چھوٹے موٹے کبھی کبھار کے محبت کے اظہار ماں اور بچے کے رشتے میں خاصا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ممی کی ڈائری؛قربانی کی گاے اور تربیت

کیا آپ کے بچے بھی اپنا گرا دانت تکیے کے نیچے رکھتے ہیں تا کہ ٹوتھ فیری انہیں آ کر لیجاے؟ آمنہ اور فاطمہ نے خوب دانت سنبھال سنبھال ٹشو پیپر میں لپیٹ کر تکیے کے نیچے رکھے ۔ساتھ چھوٹے چھوٹے خط بھی پری کو یہ بتانے کے لئے کہ انکو اس بار کیا گفٹ چاہئیے۔پھر آدھی رات کو ٹوتھ فئیری انکے تکیے کے نیچے سے خط اور دانت نکال کر اسکی جگہ ایم اینڈ ایمز رکھتی رہی۔یہاں تک کہ انکو خبر ہو گئی کہ یہ ٹوتھ فیری انکی مما ہی تھی۔ان پریوں کی کہانی کو ہم بہت وقت نہیں دے پاتے مگر جب کبھی بھی دیے سکیں دے ہی لینا چاہئیے۔ورنہ ماں ہونا وہ عہدہ ہے جسمیں پچھتاوے جان نہیں چھوڑتے۔کاش ایسے کر لیتے،کاش ویسے کر لیتے،،،مائیں اولاد کے لئے کر کر تھک جاتی ہیں پھر بھی پچھتاتی رہتی ہیں کہ وہ اچھی مائیں نہیں بن سکیں۔اسکی وجہ یہ نہیں کہ ہم ناکام مائیں تھیں۔بس ہماری حدیں یہیں تک تھیں۔انسان کے مقدر میں جتنی محنت ،جتنی کامیابی،جتنی شہرت،جتنی محبت لکھی ہو وہ اس سے زیادہ بھر نہیں پاتا!مگر ماؤں کا دل ہے کہ کچھ بھی کر کے ہمیشہ بے چین ہی رہتا ہے۔اسکی وجہ ہماری نااہلیت نہیں،ہمادی بے تحاشا محبت ہے۔

اور ایک سب سے اہم بات: کوالٹی ٹائم کی مسٹری!☝ساری ساری زندگی،پورے پورے دن اور راتیں،مکمل کئریر،دن رات کا چین دے کر بھی ہم مائیں بے چین رہتی ہیں کہ شاید ہم کوالٹی ٹائم نہیں دے سکے بچوں کو۔انکے ساتھ ملکر کھلونوں سے نہیں کھیلا،گھنٹوں بیٹھ کر کارٹون نہیں دیکھے،کہانیوں کی کتابیں نہیں سنائیں۔یہ کوالٹی ٹائم کی مسٹری بھی ان یورپی عورتوں کے لئے دریافت کی گئی ہے جنکے بچے سارا دن نینیز اور میڈز کے ہاتھوں پلتے ہیں،انکو منانے کے لئے کہ کسی بہانے کچھ وقت ضرور اپنے بچوں کے سنگ گزاریں۔وہ مائیں جو چوبیس گھنٹے بچوں کو اپنے ہاتھ سے نہلاتی دھلاتی ہیں،اپنے ہاتھ سے کھلاتی ہیں اور دن رات انکی ہر ضرورت کے لئے انکے قریب رہتی ہیں وہ بچوں کو کوالٹی ٹائم سے بہت آگے گزر کر کوالٹی لائف دے چکی ہیں ۔سو اس مدرز ڈے پر ہر الجھن سے نکلیں ،میرے ساتھ آپ بھی اپنے کندھوں پر اک تھپکی دیں اور کھل کر مسکرائیں!!!!پریوں کی اس کہانی کو ہر رنگ آپ نے دیا ہے۔

📌 Happy mother’s Day 💖💖💖

Write to mommy:

mommysdiary38@gmail.com

________________________

تحریر:ممی

کور ڈیزائن:ثروت نجیب،صوفیہ کاشف

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی تخلیق ہیں ۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

“بیاہتا بیٹیوں کے دکھ”

ہتھیلی پہ وہ مہندی سے چھاپتی ہیں محبت کو
رنگ چڑھے اگر چوکھا ‘ خوشی سے لوبان ہوتی ہیں ـــــ
جو پھیکا پڑ جائے کبھی کاجل ‘ گھل گھل کے اشکوں سے
چھپا لیتی ہیں آنچل میں’ بتاتی ہی نہیں آخر !
دکھ کیا ہے ان آنکھوں میں ؟
ہزار پوچھو مگر چپ ‘ مقفل ہونٹ و دل کر کے!
بیاہی بیٹیاں کتنی نا فرمان ہوتی ہیں ـــــ
بیٹیوں کے کلیجے میں کوئی پتھر آ کے رکھ جائے!
بہا کے بابل کی یاد میں آنسو ‘
وہ یوں ہلکان ہوتی ہیں ــــــ
بلاوا آ بھی جائے گر ‘ کبھی میکے سے ان کو جب
روک لیتی ہیں قدم اپنے’ مجبوریاں بھانپتی
ہر ایک موقعے کا آپ قبرستان ہوتی ہیں ــــــــ
کوئی تقریب ہو تہوار ہو ‘ پہنچتی ہیں وہ دیری سے ‘
کسی بچے کا مکتب ہے ‘ کسی بچے کی چھٹیاں کم’
چھڑا کے شوق سے دامن ‘ واپس روان ہوتی ہیں ـــــ
سمجھتی ہی نہیں !
کہاں؟ کیسے؟ کس کے سامنے؟ کتنے؟ آنسو بہانے ہیں !
بیاہتا بیٹیوں کی آنکھیں کتنی نادان ہوتی ہیں ـــــ
وہ گھر کو سنبھالیں یا تھامیں ماں کا آنچل؟
سمجھ جاتی ہیں محرماں!
آنکھوں کے اشاروں کو !!””
چھپے ہیں راز جن میں ان نظاروں کو !!!!
زباں رکھتے ہوئے بھی کتنی بے زبان ہوتی ہیں ـــــ
مہماں بن کے جو آ جائے ‘ ممتا چاہ میں ڈوبی’
روک سکتی ہیں وہ ماں کو ‘ نہ رخصت کرنے کو جی چاہے
ہائے مجبوریاں!
بیٹیاں کس طرح تہی دست و دامان ہوتی ہیں ـــــ
رک جاتی ہیں دروازے پہ’ ہلا کے ہاتھ ہلکا سا
رخصت ہو کے جدائی سے انجان ہوتی ہیں ــــــ
کبھی وعدہ کر کے مکرتی ہیں وہ بہنا سے
کبھی دیکھتی ہیں بصد شوق رستہ اپنے بھائی کا
کبھی خود ہی خیالوں میں وہ اس کی مہمان ہوتی ہیں ــــــــ
نہ میکے کی خبر پا کے ‘ وسوسے اپنے تھپکا کے
زرا سی بات پہ وہ بےطرح پریشان ہوتی ہیں ــــــ
تھام لیتی ہیں ننھی انگلیوں کو’ ماں کی یاد جب آئے
اپنے بچوں کے چہروں میں شبہاتیں ڈھونڈتی ہیں
کبھی بھائی ‘کبھی بہنا ‘کبھی ابو ‘ کبھی امی
وہ پا کے خون کے رشتوں کو اپنے خون میں اکثر
انھی نقش و نگاراں کے درمیان ہوتی ہیں ــــــ
کنارے پونچھتی ہیں پلو سے وہ اپنی نمدیدہ آنکھوں کے
کوئی جو پوچھ بیٹھے ‘ روئی کیوں ؟
شیشے کےسامنے پھیکی ہنسی ہنس کر ‘
خود ہی حیران ہوتی ہیں ـــــ
سسرال میں نمک مانند’ حسب ضرورت ہنستی ہیں
حرف آئے نہ میکے پہ ‘ قدم ہولے سے رکھتی ہیں
دل ان کا گودام جیسے ‘ سینت کے رکھیں جہاں ارماں’
وہ سارے خواب گرد آلود ‘ جن پہ کبھی قربان ہوتی ہیں ــــــ
اگتا ہی نہیں سورج ان کے آنگن میں شاید
جس دن صدا ماں کی نہ سن پائیں گوش ان کے
اس دن مثلِ سنگ و خشت بےجان ہوتی ہیں ـــــــ
بیاہتا بیٹیوں دکھ ‘ کہاں سمجھا ہے ‘ کب کوئی؟
بھرم اوڑھے خموش ‘ چپ چاپ
خدا کا مان ہوتی ہیں ــــــــ

______________

از ثروت نجیب

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

دعا، ممی اور انگریزی ہدایت نامے

پچھلے کچھ دن سے ایک دعا مسلسل مانگ رہی ہوں” یااللہ! مجھے میرے بچوں کے لیے نرم اور محبت بھرا کر دے! یا اللہ مجھے بچوں کے سامنے سب سے زیادہ ٹھنڈا کر دے!”

لگتا ہے ناں عجیب سا کہ میں خود سے اپنے روئیے کو سنبھالنے اور نکھارنے کی بجاے خدا سے دعائیں مانگ رہیں ہوں۔ایسے ہی جسے جب خود ماں نہیں تھی بیٹی تھی تو دعائیں مانگتی تھی “کہ یا اللہ مجھے فرمانبردار اولاد بنا!”مگر مجھے یہ عجیب نہیں لگتا۔کیو نکہ باشعور بالغ فرد ہونے کے باوجود،زندگی کے بہت سے مقامات پر سخت فیصلے کرنے کے باوجود،بڑے بڑے نبھاہ اور کمپرومائز کرنے کے باوجود مجھے خبر ہے کہ سب کچھ میرے اختیار میں نہیں۔جلتی زمین پر چلنے والا اچھل ہی پڑتا ہے،پاوں لہولہاں ہو رہے ہوں تو زبان سے چیخیں نکل ہی آتی ہیں۔میں ہر وقت بچوں کو میٹھی نظروں سے تکتی نہیں رہ سکتی،انکے ہر بات پر انکا منہ بھی نہیں چوم سکتی،ہر وقت ان سے کھیلنے کا وقت بھی نہیں میرے پاس۔۔میں کبھی بھاگتے دوڑتے وقت کی ٹینشن میں چولھے پر کھڑی سڑ رہی ہوں ،کبھی تھوڑے سے وقت میں زیادہ سکول کا کام نبیڑ لینے میں الجھی ہوئی ہوں کبھی کم وقت میں ڈھیر سا کھانا بنانا ہے تو ایسے میں کیسے ہو گا مجھ سے کہ میری بچی آے اور کہے کہ مما اگر میں نے اپنی سہیلی سے دوستی نہ کی تو مجھے اللہ مارے گا کیا؟ اور میں اسے کہوں،”آو بیٹی یہاں بیٹھو میں تمھیں خدا کا سارا فلسفہ شفقت سے سنا دوں۔”میں تو یہ کہوں گی کہ “خدا کے لئے جاؤ مجھے کام ختم کر لینے دو!”

یہ بھی پڑھیں: قربانی کی گاۓ اور تربیت____ ممی کی ڈائری

آج صبح پہلی بار میرے دونوں بچے بغیر میرے گلے لگے ،بغیر مسکراے ،بغیر پپی لئے،اور خدا حافظ کہے،بغیر مجھے تاکید کئے” مما خوب مزے سے ریسٹ کریں ! مما اپنا خیال رکھیے گا!”چلے گئے۔کیوں؟ کیونکہ زرا جو تھوڑی سی بات پر غصہ آیا تو پھر تیز ہوتی ہوی ٹرین کی طرح بڑھتا ہی چلا گیا۔میں جتنا اسے روکتی رہی وہ اتنا بھانبھڑ بنتا رہا۔پہلے فاطمہ کے تیاری چھوڑ کر کتاب پڑھنے میں مگن ہونے سے لیکر پھر آمنہ کے سوئمنگ ڈریس نہ ملنے،بگڑے ہوے چہرے تک میں بگڑتی ہی چلی گئی۔محمد کو روتے دھوتے اٹھا کر نہلانا،ڈانٹ ڈپٹ کر کے رونے سے روکنا۔۔۔۔۔کیسا عجیب لگتا ہے ناں روتے ہوے بچے کو ڈانٹنا کہ چپ کر جاؤ!،،،ہاں! پیار سے سمجھانے کے بہت طریقے معلوم ہیں مگر پیار کرنے کا وقت رہانہ حوصلہ۔علم پڑا کتابوں کاپیوں میں یا دماغ کے کسی بیکار گوشے میں سڑ رہا ہے اور ہم دیکھے دیکھاے،سیکھے سکھاے رستے پر سر پٹ بھاگے چلے جا رہے ہیں۔کیا تربیت کا علم کتابوں کے علم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے؟ جی ہاں! کتاب کا علم دھرانے اور نافذ ہونے کے لئے ذہنی سکون اور پری پلاننگ مانگتا ہے جبکہ اپنے گھر اور ماحول سے سیکھے ہوے طریقے بے ساختہ اور فوری آتے ہیں ،بغیر ایک منٹ ضائع کئے۔ہم بہت کام بغیر غور و حوض کے کرتے رہتے ہیں۔اب جانے یہ میرا چیخنا چلانا میرے بلڈ پریشر کے بڑھنے کا نتیجہ ہے، زندگی کے دس سالوں کی بھٹی میں جلنے والی لکڑیوں کا دھواں ہے یا ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ میری عادت ثانیہ بن چکا ہے،کچھ خبر نہیں۔مگر ایک بار غصہ کرنا شروع کیا تو پھر کھڑوس ماؤں کی طرح بغیر رکے کرتی چلے گئی۔تب نہ میرا بیٹھ کر ٹھنڈا پانی پینے کو دل کرتا ہے۔نہ بچوں سے پرے ہٹ جانے کا۔۔۔۔۔کیا واقعی میں ایک ماں ہوں یا ایک بہت بری ماں ہوں؟؟؟؟؟؟

یہ بھی پڑھیں:ممی کی ڈائری_میرے خواب

ماں بننے اور بچوں کو چومنے چاٹنے کی وہ پریوں کی کہانی ختم ہو چکی جب معصوم سے ،زرا زرا سے بچے ، ننھے ننھے خرگوشں جیسے، چوم چوم تھکتے نہ تھی،جب انکے رونے پر فٹا فٹ اٹھا کر بانہوں کا جھولا جھلانے لگتی،جب انکی ایک چھینک پر ساری رات جاگ کر گزار دیتی۔اب بچے بڑے ہو گئے ہیں۔اب انکی ضد غصہ دلاتی ہے ،اب انکا شور برا لگتا ہے اور اب انکا بحث کرنا مستقبل سے خوفزدہ کر دیتا ہے۔کیا یہی ہیں وہ پیارے پیارے بچوں کی محبتوں کی دیو مالائی داستان جس کے پہلے صفحات پر محبت اور خوبصورتی لکھ کر اگلے صفحات پر صرف آزمائش لکھی ہے۔اک مایوسی،اک نارسائی اک بے بس سی ہے جو گھیرے رکھتی ہے۔بحثیت ماں اپنی ناکامی کا احساس،گھر کے یونٹ میں بہتریں رول ادا نہ کر سکنے کا احساس،سارے سالوں کا ہر لمحہ ان پر نچھاور کر کے بھی ہار جانے کا احساس!وہ بہتریں کردار جو کتابوں رسالوں کا نصابی علم حاصل کرتے ہم سب نے اخذ کیا تھا ،دماغوں میں سوچا تھا اور دنیا کے سب سے زہین، خوبصورت،فرنمابردار اور تابعدار بچوں کا خواب دیکھا تھا۔وہ سارے خواب جیسے دنیا کے گھن چکر میں پس چکے ہیں۔خوبصورت خوابوں کی تعبیر ہمیشہ ویسی نہیں ہوتی۔اب اس موڑ پر مجھے بھی یہ لگنے لگا ہے کہ یہ تھی بچوں کی خوبصورت کہانیوں کی تعبیریں۔میں وہی ہوں ہر وقت ہنستی شوخیاں کرتی زندگی سے بھرپور لڑکی جسے اب بات بات پر غصہ آتا ہے۔وہ جسکی صورت سے شوخی لپکتی تھی اب اس پر لاف لائن نہیں ملتی۔ہنسیاں رُک چکیں،زندگی نے زمہ داری بنکر حیات کے پھولوں کا ہر رنگ نچوڑ لیا۔وہ کتابوں میں پڑھے فلسفے کہ بچوں کو خوب سارا پیار دو سب ڈھکوسلہ نکلے۔بھلا ہر وقت چولہے میں ،صفائ میں، تابعداری میں ،خدمت سسرال میں پھنسا ہوا ماسی سا وجود اتنا پیار کہاں سے لاے۔وہ ماں جسکے پیچھے کبھی ماں ہو، کر کبھی بیوی ہو کر، کبھی بہو اور بھابھی ہو کر ہزاروں آوازیں لپکتی ہوں وہ ٹھہراو،وہ شفقت،وہ پرسکوں شفیق رویہ کہاں سے لاے۔وہ جو خود تیز گام بنی بھاگتی پھرتی ہے، وہ پیار دینے اور سکھانے کی عیاشی کیا برداشت کر بھی سکتی ہے؟میںرا دل کرتا ہے پیرنٹنگ کی ایسی ساری کتابوں کو آگ لگا دوں جو ہمیں ایسی میٹھی میٹھی باتیں بتاتی ہیں جو ہمارے بس میں ہی نہیں۔کوی ایسی کتابیں کیوں نہیں لکھتا جیسے اچھی مائیں پیدا کرنے کا طریقہ،بہو کو اچھی ماں بنانے کا طریقہ،اپنی بیوی کو اچھی ماں بننے میں مدد کیجئے وغیرہ وغیرہ۔ارے مجھے پتا ہے کہ یہ یہ یہ کرنا چاہیے ،پر میرے شوہر میری ساس کو بھی تو کوئ یہ بتاے کہ یہ بھی کرنا چاہیے، میں اس سارے علم اور فلسفے کو کیا اپنے سر پر ماروں جس پر عمل کرنا میرے اختیار میں نہیں کہ میری تو اپنی حیثیت بھی اک زر خرید غلام سے بڑھ کر نہیں۔آہ! مجھے معاف کیجئے گا کہ بات بات بڑھک اٹھتی ہوں اور کڑوا کڑوا بولتی ہوں ۔کیا کروں ایک فل ٹائم ممی ہوں جو شفیق سے کسیل ہو چکی، میٹھا پانی بے تحاشا کڑوا ہو چکا اب اوپر سے کئی ڈول کڑواہٹ کے نکلیں گے تو ہی نیچے کے ٹھنڈے میٹھے پانی تک ہاتھ پہنچے گا۔

ہاں تو ان کتابوں سے پڑھے اسباق کے مطابق خوب چوما بچوں کو،خوب پچکارہ،انکی ہر اک چیخ پر لپکے،انکی انگلی کے ہر اشارے کو مکمل کیا۔اور ہمیں لگا کہ ہم زندگی کو جنت بنا رہے ہیں۔مگر وقت نے یہ غلط فہمی بھی ختم کر دی۔بہت سارا پیار بچوں کو بگاڑ گیا ہے ۔آخر ہم کب تک بچوں کو بے دریغ پیار کر سکتے تھے؟ ایک بچے کے بعد دوسرے کے آ نے پر،دو تین بچوں کے ایک ساتھ چلانے پر ،کھانے،پینے،کھیلنے حتی کہ اٹھنے بیٹھنے اور ایک دوسرے کو دیکھنے پر بھی جن بچوں میں جھگڑا ہو ان کو کب تک چومتے رہیں گے۔نجانے سب کے بچے جھگڑتے ہیں یا صرف ہمارے جھگڑتے ہیں چونکہ انہوں نے اماں ابا کو صرف جھگڑتے ہی دیکھا ہے۔تو وہ جنکو بہت چوم چوم کر پالا تھا اب انہی کو ڈانٹتے پھرتے ہیں۔کیا تھا جو اگر محبت کو اتنے ہم ترسے نہ ہوتے،محبت کے اتنے اسباق پڑھے نہ ہوتے، زرا جو بچوں کے ساتھ ایک متوسط سا رویہ پہلے دن سے رکھتے تو شاید آج بچے کچھ حدوں میں ہوتے۔آج انکو سمجھاتے ہیں تو سمجھتے نہیں اور اوپر سے فیس بک کی وہ گھومتی گھماتی پوسٹس جو ہمارا دماغ پھر سے خراب کرتی رہتی ہیں جو کہتی ہیں بچوں پر تنقید نہ کریں،انکو ایسے نہ ڈانٹیں،انکو ایسے نہ روکیں جیسی بیکار واہیات باتیں۔۔۔۔کبھی ان باتوں پر عمل بھی کر کے دیکھا ہے کسی نے؟ کبھی اس عمل کا رزلٹ بھی دیکھا ہے کسی نے؟ آج میں آپ کو ایک سنہری الفاظ سے لکھنے والی بات بتانے لگی ہوں آپ چاہے پیرنٹنگ میں پی ایچ ڈی کر لیجئے آپ بچے ویسے ہی پالیں گے جیسے آپ کو پالا گیا۔یہ وہ تربیت یافتہ اصلی علم ہے جو آپ کو گھٹی میں ملا ہے اور یہی آپ آگے منتقل کر سکتے ہیں۔یہ کتابوں کی باتیں جگسا پزل کی طرح ہمیشہ ادھوری رہتی ہیں ،ہمیشہ نامکمل،یہ فلسفے ہمیشہ آپکو مشکل میں تنہا چھوڑ جاتے ہیں اور مائیگرئن،بلڈ پریشر سمیت بہت سی بیماریوں کی وجہ بھی بنتے ہیں۔ہم ان پر چلنے کی کوشش میں پہلی نکڑ پر پھنس جاتے ہیں اور مشکل سے نکلنے کا نسخہ پھر ہمیں نہیں ملتا۔پھر نکالنا پڑتا ہے جیب میں سے وہی اپنے معاشرے کا دیا علم۔اس معاشرے کی روایات سے لڑ جانے کی ہمت کس کس میں ہے؟؟؟؟

اففففففففففف کیا لکھنے بیٹھتی ہوں اور کدھر جا پہنچتی ہوں۔آپکو بھی میری باتوں میں یاد آتی ہے وہ کھڑوس بوڑھی عورت کہ جو خلاؤں میں گھورتی نجانے کیسی بے سروپا باتیں کرتی رہتی ہے۔۔

ہاں تو بات شروع ہوی تھی ڈانٹنے سے۔سارا دن کئی بار کندھے اچکاے،خود کو سمجھایا” کچھ نہیں ہوتا! لوٹ کر گھر کو ہی آنا ہے آخر!” اب اس ممی کو سمیٹ چکی ہوں میں جو ایسی باتوں پر رونے لگتی تھی۔پھر بھی مشکل تو بحرطور تھی جو تب تک نہیں ختم ہوی جب تک دونوں بچے سکول سے واپس نہیں لوٹے اور انکو گلے لگا کر خوب ساری پپیاں کر کے دل کو چین نہ مل گیا طبیعت ایسی ہی زدوغم رہی۔مگر انکو گلے سے لگا لیا تو جیسے ساری مشکلیں ختم ہو گئیں۔ماں جب گلے لگا لے تو سمجھ لو اس نے سب معاف کر دیا،وہ سب بھول چکی،کہ وہ ماں کیا جو بچوں پر غصہ رہے اور معاف نہ کرے،چاہے کتنی ہی غصیلی اور سریل کیوں نہ ہو میرے جیسی۔

صبح سے کڑھ کڑھ کر نجانے کتنا خون جلا بیٹھی تھی۔حالانکہ جلتے رہنا نہ میں خود چاہتی ہوں نہ یہ زہر آلود احساس بچوں کو دینا چاہتی ہوں۔مگر پھر ایک خیال آتا ہے۔میں زندگی کے ہر موڑ پر بچوں کے لئے سایہ نہیں بن سکتی۔زندگی انہیں اسی طرح کی تلخ اور شیریں لوگوں اور حالات میں جینی ہے۔میں انکو بے تحاشا پیار کر سکتی ہوں مگر اس دنیا کو انہیں اتنا پیار دینے پر مجبور نہیں کر سکتی۔تو اچھا ہے کہ میرا یہ بے تحاشا غصہ کا ہاتھی کبھی بے قابو ہو جاتا ہے تو۔گھر سے نکلیں گے تو کم سے کم یہ گلہ تو نہیں کریں گے کہ ماں نے دنیا کی سختی سے نپٹنا ہی سکھایا ہوتا!!!!!!ہر کام میں کچھ نہ کچھ تو اچھا ہوتا ہی ہے ناں!

_____________________

تحریر: ممی

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی تخلیق ہیں ۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

سفرِ حجاز اقدس اور میں

قسط نمبر 2

“دیدارِ کعبہ “

کل مجھے ایک 85 سالہ اماں بی نے عمرے پہ جاتے ہوئے بتایا کہ وہ پچھلے بیس سالوں سے تہجد میں روزانہ اپنے رب کے حضور جانے کی دعا کر رہی تھیں…

میں حیران رہ گئ…. پھر احساس ہوا کہ جس کے دل میں اتنا ارمان ہو تو رب کعبہ انھیں کیسے نہ بلاتا! سبحان اللہ،

یہ ہوتا ہے شوقِ ولایت!

مگر دوسری طرف کچھ معصوم ایسے بھی ہیں جو یہ تمنا دل کی دل میں لیے ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں. اس لیے جس کو یہ سعادت نصیب ہو وہ جان لے کہ رب العزت نے کوئی بہت ہی خاص کرم کا معاملہ کیا ہے ان کے ساتھ.

مجھ خطا کار کو اس بات کا بخوبی ادراک تھا اسی لیے جب شوہر مجھے ایکسٹرا کیش، ایکسٹرا ھدایات کے ساتھ رخصت کر رہے تھے تو میرے دل کی لگی کچھ اور تھی.. کہنے لگے…

یہ بھی پڑھیں: بلاوہ_ سفر حجاذ اور میں

” تو تم مجھے چھوڑ کے جا رہی ہو؟” میں نے بے دھیانی میں کہا کہ ” میں خود کو پانے جا رہی ہوں” بیٹی نے گلے لگا کے کہا ” ماما، آپ کے پاؤں دکھ جاتے ہیں فوراً دوا لے لیجے گا” مگر میرا دل دنیا اور رشتوں سے ماورا کسی اور دھن میں تھا. اسوقت نہ ائرپورٹ کا رش برا لگا نہ لمبی لائنوں کی ابتری….مجھے تو اپنا قبلہ اول کا دیدار مطلوب تھا. وہ، جس کی تعمیر طوفان نوح کے بعد حضرت ابراہیم نے خود اپنے ہاتھوں سے کی تھی اور دیوار ایستادہ کرتے ہوئے وہ پتھر جس پہ آپ کھڑے تھے، اس پہ آپ کے پیروں کے نقوش ثبت ہوگئے تھے جو آج بھی زائرین کی توجہ کا مرکز ہیں. جو ہر عمرہ کے ارکان کا لازمی جزوبھی ہے کہ نبی ابراہیم علیہ سلام کی عقیدت میں تمام عمرہ ادا کرنے والے قبلہ رخ ہوکر مقام ابراہیم کی موسوم دو رکعت نوافل ادا کرتے ہیں. یہی وہ وقت بھی تھا جب ایک فرشتہ جنت کا ایک پتھر حجر اسود لے کے نمودار ہوا جسے آپ نے کعبہ کی مشرقی جانب نصب کیا تھا…

میں اپنے دل میں ذوق نظارہ لیے، دل میں لبیک اللھم لبیک کا ورد کرتے ہوئے مطار ملک العبد العزیز ( جدہ ایرپورٹ ) پہ اتری تو نئی دنیا میں قدم رکھنے کا احساس ہوا جہاں زبان، لباس، طور طریقہ سبھی مختلف تھے. فضا میں ایک گھمبیر خاموشی تھی جیسے آنے والے سہمے ہوئے ہوں اور چھوٹی سی غلطی پہ سر قلم ہونے کا ڈر ہو. دوسرا خیال جو دل میں آیا وہ یہ بھی تھا کہ اکثریت احرام باندھے ہوئے ہے شاید یہ ادب اسی بات کا غماز ہے.وہ احرام جس میں کسی کا بال بیکا کرنا ممنوع ہے حتی کہ ایک چيونٹی کا بھی. امیگریشن کی لائینیں بے انتہا طویل تھیں اس لیے کھڑے کھڑے میں نے اطراف کا جائزہ لینا شروع کیا. میرے ارد گرد جو ابن آدم آئے تھے وہ سب چالیس سال سے اوپر کے ہوں گے. شاید اپنے رب کی کشش اسی عمر میں زیادہ محسوس ہوتی ہے کہ نبوت کی بھی یہی عمر ہے. میری نظر سفید براق کپڑوں میں ملبوس کمہلائے ہوئے چہروں پہ پڑی جن کے چہروں پہ فکروں کی دراڑیں تھیں. وقت نے بھلے ان سے ظاہری طمطراق چھین لیا ہو مگر ان کا جذبہ جو دل کے نہاں خانوں میں پنپتا ہے اس کو زک نہیں پہنچا سکا تھا. وہ بزرگ نما جوان تھیلا اٹھائے بغل میں پرس اُڑسے ایک دوسرے کی ہمت بندھا رہے تھے. میں نے ایک کو کہتے سنا ” ہول تائی نا کر جتھے توں چلاں اے اوتھےای ساریاں جانا اے”

( جلدی کس بات کی ہے جہاں تم جانا چاہتے ہو یہ سب بھی وہیں جانے کے لیے آئے ہیں) میں مسکرائی کہ یہ بھی میرے جیسے ہیں. کچھ لوگ ویل چیئر پہ بھی تھے…جن کی پھرتیاں قید کردی گئیں تھیں مگر دل اسی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ رب نے انکو بلایا تھا. اللہ اللہ کے امیگریشن کے پل صراط سے اترے تو سامان پہچان کر پورٹر کی نذر کرکے اپنی اپنی سواریوں میں بیٹھ کر مکہ المکرمہ کی جانب روانہ ہوئے…

فوٹوز دیکھیں: مکہّ

سڑک کی دونوں جانب سیاہ سنگلاخ پہاڑیاں تھیں جن کو دیکھ کے موسم کی سختی کا بھرپور اندازہ ہوتا تھا… نواسی کیلو میٹر کی روڈ جو ہم نے سوا گھنٹے میں طے کی اس کے اختتام پہ ایک بورڈ پہ درج دیکھا

اھلا و سھلاً لضیوف الرحمن!

( اللہ کے مہمانوں کو خوش آمدید)

دل خوشی سے جھوم اٹھا اور پچھلی رات کی تھکن جس کا احساس اب نمایاں ہونے لگا تھا اڑن چھو ہوگئ.

اب لبیک کی آواز دھڑکن کے ساتھ تیز ہوگئی تھی ٹریفک میں پھنسی سواریوں سے اتر کر دوڑ لگا کے جانے کا دل کر رہا تھا. دل کو سمجھایا کہ بس اب کچھ دیر اور…. پہاڑوں کے درمیان یہ ایک ماڈرن شہر زائرین کی سہولیات کو نظر میں رکھ کر بنایا گیا لگتا تھا جہاں چٹانوں کو کاٹ کر سرنگیں نکالی گئ تھیں کہ اس سیل ِرواں کو کم سے کم رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے. ایسی ہی ایک سرنگ نے ہمیں ہمارے ہوٹل کے دروازے پہ اتارا. جہاں ہم نے سرعت سے چیک ان کیا اور سیدھے حرم کا رخ کیا. باب عبدالعزیز کے سامنے پہنچنا تھا کہ دل کی دھڑکن رک گئ. محرابوں کے بیچوں بیچ جو روئیت ہوئی اس نے دل کو جیسے جکڑ لیا. چشم حیرت بیساختہ اس کی جانب دیکھتی چلی گئی اور قدم ایسے لڑکھڑائے کہ آگے جانے کا یارا نہ ہو. ایک ہیبت تھی جو جسم و جاں پہ طاری تھی. جب دوسری سانس آئی تو آنکھیں دھندلا گئیں. احساس ہوا کہ حق الیقین کے پائیدان پہ کھڑی ہوں..آیت کے معانی ذہن میں گونجے کہ ” اور تیرے رب کا وعدہ سچ ہے”

دل تو چاہ رہا تھا کہ وہیں سجدے میں گر جاؤں مگر ساتھ موجود ساتھیوں کی پکار نے جھنجھوڑا…. دعا مانگو دعا مانگو…. پہلی نظرپڑنے کی گئ ہر دعا قبول ہوتی ہے…!

حواس کو یکجا کرکے دعا کرنی چاہی تو کوئی دعا یاد نہ آئی …کپکپاتے لبوں سے بے اختیار بس یہ ہی نکلا…. یا ربی… یا ربی…. یا ربی….

جاری ہے.

_________________

تحریر ،کور ڈیزائن اور فوٹوگرافی:

فرحین خالد

ممی کی ڈائری____________قربانی کی گاۓ اور تربیت

لوگ سمجھتے ہیں مجھے موٹا دکھائ دینا پسند ہے،مجھے کھاتے رہنے کی بیماری ہے،میں چاہوں بھی تو اپنا وزن کم نہیں کر سکتی،اور مجھ بارہ من کی دھوبن کے اندر نہ کوی ذندہ وجود ہے نہ کوئ ارمان نہ کوئی ترنگ۔کوی نہیں جانتا کہ کہ مجھ بارہ من کی دھوبن کے اندر آج بھی وہ سنگل پسلی جوان دوشیزہ رہتی اور بھاگتی پھرتی ہے جسے ڈولی میں بٹھا کر لایا گیا تھا،ملکہ ہونے کا تاج پہنا کر آخر ایک ہل میں جوت دیا گیا تھا۔ہاں مجھے پتا ہے کہ یہ زندگی تو عورت کی معراج ہے ،اسکی تکمیل ہے،اسکے خوابوں کی سرزمین ہے۔مگر معراج کے بعد بھی کوئ کیا اتنا بے سکون ہوتا ہے،تکمیل کے بعد بھی کوئ کیا خود کو ایسا آدھا تصور کرتا ہے؟ اور خوابوں کی سر زمین پر بھی کیا کوئ بھٹکتا ہے؟ نہیں ناں! پھر کہیں تو کوئ خرابی تھی ناں ہمارے تخیل کی پرواز میں یا زمینی حقائق کی سمجھ میں۔

All is well that ends well!

تو پھر جسکا انجام اچھا نہ ہوا وہ اچھا تو نہ ہوا ناں!میں ممی ہوں گھر کا وہ ہینڈی ملازم جو ہر ایک کو ہر وقت چاہیے۔کبھی دھلنے کو،کبھی دھونے کو،کبھی سنوارنے کو ،کبھی کھلانے کو ، کبھی پکانے کو کبھی پڑھانے کو،غرضیکہ میری فیملی میں جتنے اراکین ہیں ان سب کی ہر ضرورت مجھ سے جڑی ہے۔میری حاضری میں ذرا سی غفلت نہ میرے ننھے بچوں کو گوارا ہے( اور کیا کیجئے،ننھے جو ہوے) اور نہ ہی میرے سمجھدار شوہر کو۔کہ شوہر جتنا بھی لبرل،جیسا ہی باشعور کیوں نہ ہو،بیوی کو ملکہ ملکہ کہتے ہوے اسکی دھیان میں ہر وقت آج بھی کل وقتی ملازمہ ہی رہتی ہے۔جی ہاں سب کی طرح شادی کے شروع کے سالوں میں مجھے بھی ستی ساوتری بنکر قربانی کی گاۓ بننے کا شوق تھا۔چناچہ میں اس سلم سمارٹ لڑکی کو نظر انداز کرتی رہی سجنا سنورنا جس کا شیوا تھا اور اپنے اندر کی اس ستی ساوتری کو پروان چڑھاتی رہی جو گھر بار بچوں کے لیے پہلے کنگھی کرنا چھوڑ دیتی ہے،پھر منہ دھونا،پھر کپڑے بدلنا،پھر صحت کا خیال پھر ماضی اور مستقبل بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔ جب بچوں کو پال پوس کر سکول بھیج کر وہ ایک کام سے فرصت پاتی ہے تو خبر ہوتی ہے کہ وزن کئی سوئیاں چڑھ چکا ہے،آنکھوں تلے سیاہی اور پیروں پر جھریاں آ چکیں،ہونٹ اور رنگ ملائمت گنوا بیٹھے،گھٹنے دکھنے لگے،سانسیں پھولنےلگیں اور جیسے بڑھاپا دروازے پر کھڑا۔

ابھی اس ممی نے نیا نیا قلم تھاما ہے۔کئی سرے پکڑوں گی کئی جگہوں سے ٹوٹوں گی پھر جا کر ایک بات ایک کہانی مکمل کر سکوں گی۔ابھی باتوں کو سمیٹنا نہیں آتا۔ابھی سوچ اسی طرح دربدر بھٹکتی ہے جیسے میرا وجود دن بھر آوازوں پر لپکنے کی ورزش میں مصروف رہتا ہے۔تو مجھ ممی سے گلہ مت کیجئے گا کہ اگر بات کہیں سے چھٹے اور کہیں اور جا پہنچےکہ یہ مجھ ممی کی مجبوری ہے۔

یہ بھی پڑھیں_میرے خواب:ممی کی ڈائری

تو بات تو سچ یہ ہے کہ اپنا یہ بارہ من دھوبن سا وجود مجھے قطعا پسند نہیں۔درحقیقت مجھے اس سے نفرت ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ میرے گھر کے لوگ مجھے موٹا ہونا تو جتاتے ہیں مگر مجھے ورزش کے لیے ایک گھنٹے کی فراغت نہیں دیتے۔اگر ایک یا دو دن چھٹی مل بھی جائے تو اگلے کئی دن ایسے کام اور مجبوریاں ٹپک پڑتی ہیں کہ مجھے پھر اپنا آپ بھلانا پڑتا ہے۔میں باپ تو ہوں نہیں کہ روزانہ صبح ایک گھنٹہ دوڑنے کے لیے نکل جاؤں،مجھے تو اس وقت سب کے ناشتے اور لنچ باکس بنانے ہیں۔میں شام پانچ سے چھ جم میں بھی نہیں گزار سکتی کہ میرے بچوں کے پڑھنے کا وقت ہے۔اور میری نو سے پانچ تک کی نوکری بھی نہیں،میری تو کل وقتی ملازمت ہے جس سے نہ چھٹی ملتی ہے نہ خلاصی۔

مجھے معلوم ہے یہ بہت عام سی باتیں ہیں مگر ممی کی لائف جھیل کر دیکھی جاے تو ان سے بڑی حقیقت کوی نہیں ملے گی۔یہی روز کی باتیں ،انہیں صبح شام کے جھمیلوں نے مجھے بنایا ہے۔مجھے غور سے دیکھیں۔اس بارہ من کی دھوبن کے وجود میں آپکو ایک بیس سالہ دوشیزہ ترستی ملے گی،جو بھاگنا چاہتی ہے،ہنسنا اور ناچنا چاہتی ہے،جسے بارش میں بھیگنا ہے،جسے ہوا کے سنگ اڑنا ہے جسے ستاروں کے سنگ جاگنا ہے۔مگر اس بارہ من کی دھوبن نے بییس سالہ دوشیزہ کو پکڑ رکھا ہے۔کہ آج بھی اسکے دماغ کو اس بات کا یقین نہیں کہ اک ماں اپنے لیے کچھ لمحے جی سکتی ہے،اک بیوی اپنے لیے بھی خوبصورت دکھ سکتی ہے،مجھے آج بھی کفر لگتا ہے کہ میں دن میں ،ہفتے میں،مہینے میں کچھ گھنٹے بچوں اور میاں’گھر کی ضرورتوں سے پرے رہوں۔۔۔مجھ پر کوی آواز لگا دیتا ہے کہ “خود غرض”_____اور میں ایک خود غرض ماں نہیں بننا چاہتی۔اس لیے میں اپنا دل مارے اپنی زمہ داریوں کے ساتھ لپٹی رہتی ہوں۔مگر اتنی محنت اور ریاضت کے باوجود میرے بچے دنیا کے مکمل ترین ،خوبصورت ترین،اور ہنس مکھ ترین بچے کیوں نہیں؟ میری بیٹی کے چہرے پر ہر وقت وہی ناراضگی کیوں چھائی رہتی ہے جو مجھے آئینے میں اپنے چہرے میں دکھائی دیتی ہے؟میرا بیٹا میری ہی طرح کیوں چیخنے لگا ہے۔میں نے جب سے زندگی کو ممی بن کر کر جینا سیکھا میں بھول گئی کہ میں نے زندگی کو نہ جیا تو میرے بچے بھی زندگی نہ جی سکیں گے۔میں نے جب سے مسکراہٹ گروی رکھی،مجھے خبر نہ ہوی کہ میرے بچے مسکرانا نہ سیکھ سکیں گے۔اور جب سے میں نے گھر اور بچوں کی زمہ داریاں پوری کرنے کے لیے منہ دھونا،کنگھی کرنا،کپڑے بدلنا چھوڑا مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ میری بیٹی میری تقلید میں خود پر توجہ دینا نہ سیکھ سکے گی۔میرے لوگوں اور معاشرے کے رویوں نے مجھے اس طرف دھکیل دیا جدھر صرف میرا حال ہی نہیں میرا مستقبل بھی تاریک ہو رہا تھا۔کیا آپ نے بھی کبھی قربانی کی گاۓ بنتے ہوے یہ سوچا ہے کہ آپ اپنے گھر میں قربانی کی گائیاں ہی پروان چڑھا رہے ہیں؟ نہیں ناں! ہم کیکر کے بیج بو کر گلابوں کی توقع کرنے والے لوگ ہیں ناں!

تحریر:ممی

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

(ایک ممی کے خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی ملکیت ہیں۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

Makkah (By Sofia Kashif)

“Surely Allah has chosen four cities from amongst all others, just as He, the Noble and Grand has said (in the Noble Qur’an): “I swear by ‘the fig’ and ‘the olive’ and the ‘Mountain of Sinai’ and by this protected city.” ‘The fig’ is the city of Madinah; ‘The olive’ is the city of Baitul Maqdas (in Jerusalem); ‘The Mountain of Sinai’ is Kufah; and the protected city is Makkah.”

سفِر حجاز اقدس اور میں

قسط نمبر 1

( بلاوا )

__________________

میرے داورا میرے کبریا

کروں حمد تیری میں کیا بیاں

تیری منزلوں میں ہیں فاصلے

میرے راستے میں ہیں پیچ و خم

کہتے ہیں رب کے در پہ وہی حاضری دیتا ہے جس کے نام کا بلاوا بھیجا گیا ہو. مجھے بھی ادراک تھا بلکہ علم الیقین تھا کہ اس دلِ نادار کی لگن دیکھتے ہوئے میرا رب بھی مجھے اپنے در پر ضرور بلائے گا. پھر ایک روز جب امی نے فون کرکے مجھے اپنے ساتھ چلنے کا کہا تو میں نے بلا تامل حامی بھرلی کہ ایسا نایاب موقعہ پھر کب ملتا جہاں ماں کی خدمت اور اللہ کے ہاں حاضری ایک ساتھ میسر آ رہی تھی. میں نے جھٹ پٹ ٹریول ایجنٹ کو فون ملایا اور معلومات حاصل کیں اور ویزے کے لیے تمام کوائف جمع کرنے شروع کر دیے، مگر جیسے جیسے راستے کھلتے جا رہے تھے میری غیر یقینی کیفیت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا کہ مجھ سا گناہ گار بھی اس پاک سر زمین پہ قدم رکھ سکے گا؟ پھر جب ویزہ پاسپورٹ ٹکٹ سب ہاتھ میں آگیا تو عین الیقین سے فرط جذبات میں آنسو بھرآئے اور لگا کہ وہ گھڑی دور نہیں جب میں خدا کے گھر کو اپنی سونی ویران آنکھوں سے دیکھ سکوں گی. دل کی لگن اب بڑھ گئی تھی، جی دنیا داری سے اُچاٹ سا ہو رہا تھا… مصلے پہ بیٹھتی تو آنکھیں آسمان کی جانب اٹھ جاتیں اور دل آپ ہی آپ پینگے بڑھاتا چلا جاتا. لگ رہا تھا کہ جیسے میرے ٹوٹے رابطے جڑ گئے ہوں.. زبان تھی کہ لبیک اللھم لبیک آپ ہی آپ پکاے چلی جاتی … حمد و نعت دل میں جاری رہتی اور لبوں پہ بول پکار بن کے کچھ یوں ادا ہوتی…

وہ تنہا کون ہے… اللہُ اللہ…

بادشاہ وہ کون ہے… اللہُ اللہ

مہرباں وہ کون ہے… اللہُ اللہ

حسبی ربی جل اللہ، اللہُ اللہ

ما فی قلبی غیر اللہ، اللہُ اللہ

میں ہر چیز کو پہلے سے پلان کرنے کی عادی ہوں. ہر کام کو نک سک سے درست کرنا میری عادت ہے کہ میں نہ بھی ہوں تومیرے پیچھے کوئی معاملہ گڑ بڑ نہ ہو… مگر اس بار سفر کی نوعیت کچھ ایسی مختلف تھی کہ دل اپنی اڑان آپ اُڑا جا رہا تھا. دماغ ستاتا اپنی جانب کھینچتا تو میں منتشر خیالوں کو سمیٹ کر کاموں کو یکسوئی سے کرنے کی کوشش کرتی. ہر صبح کھڑکی پہ بیٹھا ایک پرندہ جو پیار کے گیت گنگنایا کرتا تھا اس کی لے میں اب مجھے حمد و ثنا کی لہک سنائی دینے لگی تھی جو کبھی درودِ ابراہیمی بن جاتی توکبھی درودِ تاج، میں من ہی من مُسکاتی کہ ایسی ہی ایک ترنگ میری رگوں میں بھی جاری ہے.

امی فون پہ اپنی اور باجی کی تیاریوں کا ذکر کرتیں تو مجھے بھی رہنمائی ملتی کہ رخت سفر میں کیا کیا ہونا چاہیے جو میں نے بھی رکھنے کا سوچا مگر کوئی شاپنگ نہیں کی کوئی جوڑا نہ سلوایا کہ مجھے تو درویشی کی طلب تھی. میں اپنے رب سے تزکیہ نفس کی خواستگار تھی. میں ایسی ملنگنی بن جانا چاہتی تھی جس کو دنیا وما فیھا سے کوئی شعف نہ ہو، جو اپنے مولا کے رنگ میں رنگی ہو اور اسی کے ذکر میں نہال رہے. اپنے اس جذبے کا ذکر ایک سنگی سے کیا اور کہا کہ ” تم دیکھنا کہ اس قربِ حق کے بعد میں یکسر بدل جاؤں گی.” تو وہ خوب محظوظ ہوئی شاید وہ مجھ کو مجھ سے زیادہ جانتی تھی.. بولی ” اچھا، تو یہ بتاؤ کہ واپس ٹھیک ہونے میں کتنے دن لوگی”

تو میں ایک نئے تذبذب کا شکار ہوگئی کہ خدا کے گھر کی مسافرت، دین کے شعور کی آگہی کے بعد بھی اس کا نفاذ اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے. گناہ و ثواب کی جنگ سے آگے کی روحانیت کا حصول مجھ سے کیا قربانیاں مانگتا ہے… اس سوچ کا جواب مجھے عمیر نجمی کے اس شعر میں ملا کہ

نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ

اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے

میں اپنے رکتے ڈگمگاتے قدموں کےساتھ تاریخِ روانگی کے قریب بڑھ رہی تھی کہ ایک واٹس ایپ میسج نے خوشگوار حیرت میں ڈال دیا. وہ میسج مجھے اس پیاری ساتھی رائٹر نبیلہ آبرو نے بھیجا تھا جس سے میرا خال خال ہی رابطہ ہوا کرتا تھا. اس نے لکھا تھا، ” رات میں نے خواب میں آپکو دیکھا کہ آپ میرے گھر میں آئی ہیں اور امی سے سبز چوڑیاں لے کے پہنی ہیں.” اتنا پیارا خواب جان کر میں بہت مطمئن ہوئی اور جواب میں یہ لکھا کہ آپ کی امی نے عنایت کی ہیں تو یقیناً یہ کسی اعزاز سے کم نہیں ہیں. ابھی اس خواب کا سحر ٹوٹا بھی نہیں تھا کہ ایک اور عزیز ترین سہیلی حمیرا فضا کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ اس نے رات مجھے ایک خواب میں دیکھا ہے کہ وہ مکہ میں ہے جہاں مجھے ایک بڑی لوہے کی الماری تحفے میں دی گئی ہے…. کہنے لگی کہ آپ کے ساتھ ضرور کچھ اچھا ہونے والا ہے تو میں مسکرائی اور تسلیم کیا کہ واقعی تمھارا خواب سچا ہے، میں عمرے کی نیت سے جلد مکہ جانے والی ہوں.

ان باتوں سے میرے عین الیقین کو ثبات ملا کہ میرا اپنے رب کے حضور جانا لکھ دیا گیا ہے ساتھ ہی ساتھ میرے دل کی ساعتیں تیز ہوتی جا رہی تھیں میں عین الیقین کو حق الیقین میں بدلتے دیکھنا چاہتی تھی کہ جب میری نگاہیں خدا کے گھر کعبہ شریف پہ پڑیں گی اس حمد کی مصداق کہ…

کعبہ پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا

یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے، دل ذوقِ تماشا بھول گیا

(جاری ہے)

بلاعنوان

اے درد,اپنی آنچ کی شدت کو ماند کر
اے رنج, میری سِطر کی سیڑھی اتر ذرا
اے زخم, اپنے رنگ ذرا مجھ میں بھر کے دیکھ
اے خواب, اسکی نیند کی پلکیں جھپک کے آ
اے نم, ذرا سا ٹھہر جا، آنکھوں میں رک ذرا
اے حرف, فکروفن کی کہانی سنا مجھے
اے نصف شب کے پہر, تو لوبان تو جلا
اے روشنی, تو طور سا منظر دکھا کے لا
اے عشق, اب زیارتِ محبوب کرعطا
انگشتری میں سبز زمرد جڑا کے دے
دھرتی,تو اپنی گود میں لے لے، سلا مجھے
اِس شہرِ بدگماں سے رہائی دِلا مجھے
اے سبز اوڑھنی, مجھے خود میں لپیٹ لے
اے خاک مجھ کو اوڑھ لے اور غسل دے ذرا
کلمہ پڑھا کے سر میرا سجدے میں رکھ ابھی
اے آخری دعا تو ذرا ہاتھ باندھ لے

__________

رابعہ بصری

کور فوٹو: صوفیہ کاشف

میرے خواب________ممی کی ڈائری

یہ وہی جگہ ہے جہاں کھڑے ہو کر مجھے اپنے بچوں کی سکول بس کا انتظار کرنا ہے جو میں پچھلے سات سال سے کر رہی ہوں۔پہلے فاطمہ کے لیے اب محمد کی لئے!اور آج بہت عرصے بعد پھر سے جی چاہا کہ بلاگ لکھوں۔مجھے پھر سے وہ وقت یاد آیا جب فاطمہ تین چار سال کی تھی اور مجھے کسقدر شوق تھا بلاگ لکھنے کا۔کیوں؟ شاید اس لیے کہ میں اپنی زندگی کے سب سے مختلف دور سے گزر رہی تھی۔ہر لمحہ اک نئی چیز سیکھنی پڑ رہی تھی ہر منٹ اک نیا چیلنج سامنے تھا۔چھوٹے چھوٹے میرے بچوں کی پیاری پیاری مسکراہٹیں،انکی چھوٹی چھوٹی شرارتیں اور غلطیاں،انکا ہنسنا اور رونا ،گھر بھر کی زمہ داریاں،افففف،صفائیاں،پکوایںاں کیا کچھ نہ تھا جو میری زندگی کا اک بڑا چیلنج بنکر میرے سامنے آ گیا تھا۔میرے پاس ہر وقت کچھ نیا تھا بتانے کو ،لکھنے کو ،دکھانے کو! سواے وقت کے۔آہ!

یہ بھی پڑھیں:سناٹے

میری اسقدر مصروف اور چیلنجنگ زندگی میں ان فائلز کو تیار کرنے کا وقت نہ تھا چونکہ میں زمہ داریاں نبھانے میں مگن تھی۔مجھے اپنے بچوں اور فیملی کے لیے وہ سب کرنا تھا جو میں دوست احباب کو دکھانا چاہتی تھی۔اور میں کرنے میں مگن رہی اور مجھے دکھانے کا وقت نہ ملا!مجھ سے برداشت نہ تھا کہ میرے بچے روتے رہیں اور میں کمپیوٹر یا موبائل کی سکرین سے نظریں جوڑے وہ لکھوں جو میں ڈھنگ سے کر بھی نہ پاتی۔سو پھر میں نے ڈھنگ سے سب کام کئے اور روداد نویسی کو جانے دیا۔آج اگر چہ میری زندگی سے وہ مشکل اور طوفانی مراحل گزر چکے،اور میرے گھر میں خاموشی اور سکوت کا راج دن کے بیشتر حصے رہنے لگا ہے تو میرے پاس وقت ہے کہ میں سب کچھ لکھ دوں! وہ سب۔۔۔۔۔جو میں دیکھ چکی،جو میں بھول چکی،جو میں سیکھ چکی!تو پھر آج پھر سوچا کہ چلو لکھتے ہیں۔وہ سب جو شاید نیا نہیں مگر لکھنے میں ہرج کیا ہے۔جہاں اتنے قدم زندگی میں نئے اٹھائے ہیں وہاں اک یہ بھی اٹھا کر دیکھتی ہوں۔ہو سکتا ہے اس پر بھی کوئ راستہ نکل آئے!چلیں جس کو مجھے گولی مارنی ہے مار دے،جسکے ڈنڈے کا خوف میرا رستہ روکتا ہے مار دے ڈنڈا! مگر اب یہ بلاگ لکھ ہو کر رہے گا اور اردو میں ہی لکھا جاے گا۔انگلش میں لکھنے والے بہت،کیا اردو میں بھی اتنے ہی بلاگر ہیں؟ مجھے نہیں خبر!مگر اگر ہیں تو بھی کوئ حرج نہیں ۔مجھے اپنے ہی لوگوں سے مخاطب ہونا ہے تومیری اپنی زبان سے بہتر کچھ نہیں۔بھلے مجھے کوی تمغہ یا نفیس برگر کلاس ہونے کا اعزاز نہ ملے!

____________

تحریر: ممی

کور فوٹو:صوفیہ کاشف

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی ملکیت ہیں۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

دیوانے

دیوانے نے کارواں کاآغاز کیا۔ وہ کچھ اس طرح سرگرمِ سفر ہوا کہ دوبارہ پلٹ کے پیچھے نہیں دیکھا۔ اپنے سر پر کفن باندھ کے چلا تھا۔
اپنی دھن کا پکا تھا۔ اس لئے حالات سے نہیں گھبرایا۔غمِ جاناں جب اسے رلاتا تو وہ بس ہنس کر تمام دکھ درددرگزر کرتا۔سماں بگڑتا سنورتا لیکن وہ نڈر ہو کر اور اٹل رہ کر جانبِ منزل اپنی نگاہیں جماتا۔ اس نے آگ میں پھول کھلانے کی قسم کھائی تھی۔ سوزِ جگر رہ رہ کر اسے ہمت دیتی۔ اس پر جنون سوار تھا۔ منزل کی تشنگی تھی۔ کچھ کر دکھانے کا حوصلہ اسے ستاتا رہتا۔ اسے زمانے کے طعنے کا، ان آنسوؤں کاقرض اور اس تھپڑکا جواب دینا تھا۔جو ہوا غلط ہوا۔ وہ اس ذلت کا حقدار نہیں تھا۔ جب بچھڑے ہوئے یاد آتے اور بے چین ہو کر اس طرف نظر جاتی تو وہ ضبط کر کے اپنا جگر تھام لیتا۔ جس دم اس نے یہ راہ لی تھی اسے معلوم تھا کہ قربانیاں لازم تھیں۔ اس نے جو سوچا اسے پانا تھا۔ اسی طرح الجھتے الجھتے عمر کٹ گئی۔ سوال اٹھتا ہے کیا یہ سب ضروری تھا؟

یہ بھی پڑھیں:شجر بے سایہ

_______________

تحریر-آبیناز جان علی
موریشس

کور فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

غزل______

میرا زکر ہو گا اسکی زندگی کی کتاب میں

کیا اتنا سکوں کافی ہے میرے درد کے نصاب میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ بولتا گر وہ ،اسکے لہجے میں کچھ تو ڈھونڈتے

کوئ خوشی تھی نہ غم، وہ خموش تھا جواب میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں کس سپنے کی تعبیر ڈھونڈوں کہ یہ وصال

روشنیوں کے باب میں نہ شب بھر خواب میں

_________

علیزے محمد

فوٹوگرافی: فرحین خالد

“کچھ اپنے خیالات کے بارے میں”

خیال ہیں مرے یہ، عجب ابہام ہیں
مہمل ہیں کبھی،کبھی الہام ہیں…

اپنی ذات کا ہی ہیں کبھی استہزاء
کبھی حقیقت سے بےانتہا انضمام ہیں…

اکثر تو دُوجوں کی خاطر بھی تحریک٬
کبھی میرے لیے ہی وجہِ انقسام ہیں…

دل کو کبھی شکستہ کردینے والے،
کبھی اپنی وسعت میں ازدحام ہیں…

کبھی مجھ پہ تحکم جتانے والے،

کبھی اوروں کی آرزوؤں کے زیرِ دام ہیں

~نورالعلمہ حسن

     “آسرا”______ثروت نجیب

” بیا کہ بریم م به مزار سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ” سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ ـ آسرا گنگناتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشوں کی صفائی کے دوران اور اپنی مترنم آواز پہ خود ہی جھوم رہی تھی ـ
آسرہ بائیس سالہ نوخیز چنچل بوٹے قد کی’ کتابی چہرہ ‘ بادامی آنکھیں تیکھے نین نقش والی’ چست و چوبند خوبرو لڑکی پلکوں پہ شادی کے بے حد خوبصورت خواب سجائے جب شیر شاہ کی زندگی میں آئی تو میانہ قد کا قدرے سانولا سا اندر دھنسی ہوئی آنکھیں متلون مزاج اور اس کے دگرگوں حالات جو رونمائی میں شادی کی پہلی رات ہی بطور تحفہ اسے ملے ـ
وہ پھر بھی سہانے جیون کے خوابیدہ حصار سے نکل ہی نہ سکی’ جب زندگی تمام تر بد صورتی کے ساتھ اس کا منہ چڑاتی تو اسے بےحد دکھ ہوتا’ وہ غربت کی سوتن سے حاجز آ جاتی تو اس سے جان چھڑانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈنے لگتی ـ
کابل میں سرد موسم پگھل کر دریا برد یوچکا تھا ـ آب نیسان کی بارشوں کے بعد اب درختوں نے سبز مخملی لبادوں سے ستر پوشی شروع کر دی تھی’ بغدادی کبوتر منہ میں تنکے دبائے آشیانے بنانے میں درختوں اور چبوتروں میں مناسب جگہ کے متلاشی تھے ـ شھرِ کابل کے لوگ نوروز کی تیاروں میں مگن ‘ کہیں گندم کے ہرے خوشوں سے سمنک بنانے کی تیاریاں شروع تو کوئی ہفت میوہ ا کٹھا کرنے میں مصروف کوئی پلاسٹک کی شفاف تھیلی میں سنہری مچھلی خرید کے گھر جا رہا تھا تو کوئی خیاط کا منتظر کہ کب اس کے نئے کپڑےسل کے آئیں گے ـ عورتیں گھروں کی صفائیوں میں جُتی ہوئیں کوئی دوپٹہ سر پہ باندھے ناک منہ لپیٹے گھر کے مرکزی دروازے کے باہر بانس کے ڈنڈے سے دبیز قالین جھاڑ رہی ہے تو کوئی گلدان میں مصنوعی لالہ کے پھول سجا رہی ہے ـ نوروز کی آمد آمد ہر طرف گہماگہمی اور اس نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ اس بار مزار شریف میں مولا علی کے مزار پہ جا کے حاضری دے گی اس یقن کے ساتھ کہ جھنڈا بلند ہوتے وقت جب دستِ دعا اٹھائے گی تو اس کی زندگی بدل جائے گی ـ
“آسرا آسرا کہاں ہو تم”؟ ؟؟
شیر شاہ گھر میں داخل ہوتے ہی آسرا کو پکارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور آسرا کو گنگناتے دیکھ کر ٹھٹھک گیا ـ
“لگتا ہے ہے مزار جانے کا شوق تمھارے دل میں بیٹھ گیا ہے ”
” شوق نہیں ضرورت” !!!
وہ جھاڑن ایک طرف رکھ کے پاؤں پسارے مسہری پہ بیٹھے ہی بولی! !!!
سنو کیا تمھارا دل نہیں کرتا ہمارے گھر خوشحالی آئے “؟
جب سے شادی ہوئی ہے ترس گئی ہوں ـ تمھاری کچی پکی نوکری اوپر سے تین تین ماہ تنخواہ بند جب ملتی ہے تو قرضوں میں خرچ ہوجاتی ہے اور یہ کرائے کا مکان !!! ـ ـ ـ
“کیا ایسی ہوتی ہے زندگی “؟؟؟
” ارے میں تو فارس کے لاڈ ہی نہیں اٹھا پاتی ”
جھولے میں سوتے دس ماہ کے بچے کو پیار سے دیکھتے دیکھتے روہانسی ہو گئی ـ

یہ بھی پڑھیں: کھڑکی سے اس پار

“سنا ہے مزار شریف میں جب جھنڈا بلند ہوتا ہے نا تو مولا علی کے کرم سے ساری مرادیں پوری ہو جاتی ہیں اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئےکہا “!!!
شیر شاہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا ـ ـ ـ
“چلو چل کے دیکھ لیتے ہیں مزار شریف بھی”!
مگر سنو اگر اس جمع پونجھی سے میں بائیک لے لیتا اور ہم گھر پہ ہی نوروز منا لیتے تو ـ ـ ـ ؟؟؟
وہ منہ بناتے ہوئے بولا” اب دیکھو نا بہت سی اچھی نوکریاں تو سواری نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ سے نکل جاتیں ہیں ”
” حالات تو حکمت عملی کی وجہ سے ہی درست ہوتے ہیں نا ”
منت کے دھاگے اور آستانوں پہ چراغ جلانے سے مفلسی ختم ہو جاتی تو مجاور کبھی تنگ دست نہ ہوتے ـ”
آسرا کانوں کو ہاتھ لگاتے بولی ” توبہ توبہ ”
“شیر اب مجھے مزار نہ لے جانے کے لیے شرک کرو گے گیا ؟؟؟”
تو شیر شاہ فوراً بولا ـ ـ ـ
” نہیں نہیں ویسے ہی تجویز تھی “ـ ـ ـ
آسرا نے نجانے کیسے پائی پائی جوڑ کر کابل سے مزار شریف جانے کے لئے رقم اکھٹی کی تھی -”
بار ہا بازار میں چیزوں کو دیکھ کر دل مچلا مگر نادیدہ خوشحالی کی آس میں نفس کو قابو میں رکھا _”
اگلے دن شیر شاہ کو ضروری سامان کی فہرست تھماتے ہوئے کہا “کچھ بھول نہ جانا سب ضروری سامان لکھ دیا ہے اس فہرست میں” ـــ
اور وہ خود سفری بیگ میں چند جوڑے رکھنے کے لیے ٹرنک کھول کے بیٹھ گئی ـ
شیر شاہ تیمور شاہی بازار کی گہما گہمی میں سرخ سیبوں سے لدی ریڑھی کو دھکیلتا ‘ زمین پہ بچھے کپڑوں کے انبار سے ہوتے ہوئے راہ گیروں کے کندھے سے کندھا ملاتے ‘ گاڑیوں اور جیب کتروں سے بچتا بچاتا ‘ نیلے برقعے اوڑھے عورتوں کے جمگٹھےے کو راستہ دیتا اس قدیم بازار میں جہاں متوسط طبقے کے لیے ہر قسم کا سامان بارعایت ملتا لوگوں کے ہجوم میں گم ہو گیا ـ

یہ بھی پڑھیں: بے وفا
بازار کے درمیان میں بہتے گدلے دریائے کابل سے نمی چرا کے ہوائیں بہار کے موسم کو ٹھنڈا میٹھا کر رہی تھیں ـ
بہار کا لبادہ اوڑھے سیب و خوبانی کی بُور کی خوشبو سے لبریز ہوائیں اور ڈھلتے سورج کا پراسرار وقت اوج پہ تھا جب چرند و پرند سمیت ہر ایک کو گھر پلٹنے کی جلدی ہوتی ہے تو شیر نے بھی گھر پلٹنے کی ٹھانی ‘وہ بڑ بڑایا ” تقریباً سب سامان لے لیا ہے “ـــــ یہ کہتے ہوئے وہ ہجوم کو ایکبار پھر چیرتے ہوئے اب باہر نکلنے کی کوشش میں مصروف تھا ـ
بازار اب پہلے سے ذیادہ پر ہجوم ہو چکا تھا ـ خشک میوے اور پلاسٹک کے چپل اور برتنوں سے لدی ریڑھی والے اپنی ریڑھیاں کھینچتے بازار سے نکلنے کے متمنی ‘ دکانوں کے شٹر گرنے کی آوازیں اور زمیں پہ بیٹھے کپڑا و پردہ فروش کپڑوں کے انبار کو سمیٹ رہے تھے کی ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد راکھ اور خون کے ساتھ کتنے ہی خوابوں کے ریزے ہوا میں معلق اپنی خستگی کا ماتم کرتے وہ انکھیں ڈھونڈ رہے تھے جن میں کبھی بسا کرتے تھے پر یہاں تو راکھ ہی راکھ تھی آنکھوں کی راکھ جن سے ان کے وجود کھو گئے تھے ـ گوشت پوست کے انسان آن کی آن میں کوئلے اور راکھ میں مٹی مٹی ہوگئے ـ سڑے ہوئے گوشت کی بساند اور جلے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑے ‘ ہوا میں اڑتے جسمانی اعضا کے ریزے ‘ ہر طرف گہرے دھوئیں میں مدغم سسکیاں ‘،آہ و بکا ‘ گریہ و نالے ـ ـ ـ
دھڑ سے دروازہ کھلا اور پڑوسن نے اس اندو ناک حادثے کی اطلاع دی _ آسرا کے اوسان خطا ہو گئے _”
” وہ دیوانہ وار دوڑتی ہوئی گھر سے باہر نکلی اور دروازے پر غش کھا کر گر پڑی _گھر آہستہ آہستہ محلے کی عورتوں سے بھر گیا _ کوئی پانی کے چھینٹے ڈال کر آسرا کو بمشکل ہوش میں لاتی اور وہ “شیر شیر” کرتی پھر بے ہوش ہو جاتی _
‘ننھا معصوم بچہ بھوک سے نڈھال اپنے اردگرد ایک دم اتنی ساری عورتوں کا ہجوم دیکھ کر رو رو کے بے حال ہوا جاتا تھا _ ”
آسرا آسرا ـ ـ ـ ادھر دیکھو آسرا ـ ـ ـ آسرا نے نیم وا آنکھیں کھولیں دیکھتے ہی اس سے لپٹ کر رونے لگی ـ اتنا چلائی کہ کہ پاس کھڑی عورتوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہو گئیں ـ ـ ”
پگلی ـ ـ روتی کیوں ہو؟”
” زندہ سلامت تمھارے سامنے بیٹھا ہوں ـ ـ ـ ”
“دیکھو! معمولی زخموں کے علاوہ کچھ نہیں ہوا ـ”

یہ بھی پڑھیں:بیس سیکنڈ

یہ الگ بات کہ ہلدی کی طرح پیلے چہرے حواس باختہ اعصاب اور پھٹے ہوئے راکھ سے اٹے کپڑوں میں اس کے دل پہ کیا سانحہ گزرا وہ ایک الگ المیہ تھا جسے دبائے وہ آسرا کو دلاسا دے رہا تھا ـ ـ ـ
ایک عورت نے بڑھ کر بلکتے بچے کو ماں کی گود میں ڈال دیا ـ ـ ـ “مولا نے کرم کیا “ـ
“بلا تھی اور برکت نہ تھی ـ”
“ہاتھ کا دیا آگے آگیا ”
ایسے ملے جلے تاثرات سنتی آسرا نے شیر شاہ کے کندھے پہ سر رکھ دیا ـ
وہ جان گئی تھی کہ زندگی کے لیے اس کے لوازمات سے ذیادہ ضروری بذاتِ خود زندگی ہی ہے ـ
۲۱ مارچ کی صبح نوروز کی میز سات رنگ کی اشیاء سے سجی تھی آسرا رقابیوں میں سمنک ڈال کر مہمانوں کو کھلا رہی تھی اور آنگن میں چمکتی بائیک کھڑی خوشحالی کی نوید دے رہی تھی ـ

__________________

تحریر و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں:ہمالیہ قراقرم ہائی وے

جدائ_______رابعہ بصری

ہاں وہی کاسنی نہر تھی
چار سْو چپ دھری تھی
وہ میرے روبرو سر جھکائے پشیمان سا ,
ایسے بیٹھا تھا جیسے کوئی
اپنی ساری کمائی لٹا کے بھی ہار آیا ہو
عجیب سا کھردرا زنگ آلود چہرہ
کہ جِس پہ بہت کچھ لِکھا تھا
پڑھ لِیا تھا, سمجھ نہ سکی
اسی دِلگیر لمحے میں
ہماری روحوں نے اِک آخری بات کِی
چھید سا ہوگیا
درد بڑھنے لگا
ڈگمگاتے قدم وہ سنبھالے رخصتی کو اٹھا
دھند اتنی تھی کہ واپسی دِکھ نہ سکی

خدا گواہ !!!
آنکھ میں آج بھی ‘ جب یہ منظر اترتا ہے
دِل کی ساری رگیں ٹوٹ جاتی ہیں
جھِیل بھرجاتی ہے

___________

رابعہ بصری

“ابلہی”__________از ثروت نجیب

ہتک آمیز لفظوں کی
دو دھاری تلوار پہ چل کے
گھائل کر دو ـ ـ ـ ـ
خود کو دست و پا!
کس نے کہا تھا؟
میری دستار کے بل سے الجھوـــ
میرے آج اور کل سے الجھو ــــ
کس نے کہا تھا؟
مزاح کو ظرافت کے معیار سے اتارو !
ہوا کو پتھر مارو!
کاش ــــ
سن لیا ہوتا!
بہتا پانی پاک ہوتا ہے
استفراغ کر کے
تعصب بھرے لفظوں کا ــــ
کیا سوچا تھا؟
میلا ہو جائے گا دریا؟
سنو! !!!
اجلے تھے اور اجلے رہیں گے
دھو دھو کے پاپ!
گنگا جل اور زمزم آب

________________

ثروت نجیب

بے وفا_______صوفیہ کاشف

مخنی سا قد،سفید رنگ،جھکے کندھے،چہرے پر مسکینیت لیے وہ روزگار کی تلاش میں دوبئی آیا تھا ،آج اسکا انڈے جیسا سفید رنگ جھلسا ہوا گندمی اور چہرے پر لقوہ کا حملہ ہو چکا تھا۔عمر کی کتنے ہی طویل موسم گرما اس نے اس ننگے سر آگ کے تندور میں گزارے تھے جہاں سال کے دس ماہ پچاس ڈگری کی حرارت اور ورک سائٹ پر چھت سے گرمی سے بحال ہو کر مکھیوں کی طرح گرتے پاکستانی،ملو،اور بنگالیوں کے بیچ سہنے پڑتے ۔دن رات کی محنت،پردیسی تنہای،فیملی سے دوری سب نے مل جل کر اسکی آنکھوں تلے گہرے حلقے ڈال دییے تھے اور چہرے اور جسم کی کھال پر سلوٹیں بکھیر دی تھیں۔دو تین سال بعد محبتوں کو ترستا پاکستان جاتا تو خوب آؤ بھگت ہوتی،سامنے سب دو زانو بیٹھتے بعد میں حسد اور جلن میں تپتے۔کوی بے وفا پاکستانی کہتا،کوی ملک چھوڑ کر بھاگا بھگوڑا۔جشن آزادی تئیس مارچ پر ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ملی نغمے سننے والے خود کو پاکستان کے محافظ سمجھتے اور پردیسیوں کو بے وفا بھگوڑے۔ سالوں سے ٹی وی کے ایسے تہواروں سے پرے رہنے والا عبدالغفور ہر سال کرکٹ کے میچ پر ساتھی ملؤوں سے الجھ پڑتا۔جب بھی دونوں ٹیموں کے میچ ہوتے،ایک جگہ کام کرنے والے ملؤ اور پٹھان دوستوں سے دشمن بن جاتے اور دونوں ٹیموں میں سے کسی کے بھی ہارنے پر وہاں دنگا فساد ہو جاتا۔کچھ کی نوکریاں جاتیں،کچھ کی جانیں۔اس بار سرحدوں پر حالات بھی خراب تھے کچھ جاسوسوں کے بھی جھگڑے تھے۔تئیس مارچ پر نجانے کس بات کو لے کر کسی ملؤ نے کچھ کہا اور بے وفا اور بھگوڑے پاکستانی عبدالغفور نے جھریوں ذدہ ہاتھوں سے اسکا گریباں پکڑ کر دو گھونسے جڑ دئیے۔کتنے ہی اور ملؤ اور پٹھان بچ بچاؤ کرانے میدان میں کودے مگر گالی در گالی بات بڑھتی رہی اور اس رات شہر سے باہر کے اس لیبر کیمپ میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔پورا کیمپ خالی کروایا گیا اور سارا عملہ معطل ہوا۔پریڈ اور فلائی پاسٹ دیکھ کر ملی نغمے گا کر رات کو میٹھی نیند سونے والے با وفا پاکستانیوں کو خبر نہ ہوی کہ اس رات امارات کے صحرا میں کتنے سر وطن کے نام پر بغیر وردی کے بغیر تمغوں کے وارے گئے۔انہیں مرنے والے بے وفا پاکستانیوں اور ہندوستانیوں میں عبدالغفور بھی ایک تھا۔

___________________

صوفیہ کاشف

وڈیو دیکھیں۔پاکستان ڈے(2018) کی صبح پریڈ سے پہلے شاہینوں کا خون گرمانا

حد__________صوفیہ کاشف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چلو تمھارے ساتھ چلتا ہوں!”
“کہاں تک چلو گے؟”
“جہاں تک تم چاہو!”
اگر میں کہوں کہ زمان و مکان کی آخری حد تک؟؟؟تو چلو گے ساتھ؟!”
“اگر تم کہو گی کہ مکاں سے لا مکاں تک ,,,,تو بھی چلوں گا!”
میں اسکے چہرے کی طرف مڑ کر اسکی آنکھوں کے رنگ کھوجنے لگی نجانے اسکے لفظوں میں اور آنکھوں کے رنگ میں کوئ مطابقت بھی ہے کہ نہیں،،،،،،کہیں کچھ پھیکا کسی مصنوعی مصالحے کا تڑکہ تو نہیں؟مگر وہاں سب کچھ یکساں تھا ایک دوسرے سے ملتا،ایک رنگ چمکتا،اسکے لبوں سے نظروں تک سب معانی سر اٹھائے کھڑے میری ٹکٹکی کا سامنا کرتے تھے۔میرے پیروں تلے نرم ملائم سبز گھاس مزید ملائم سی ہونے لگی،آس پاس خموش کھڑے پہاڑ شاید گنگنانے سے لگے اور وادی کے اوپر منڈلاتی بدلیاں جیسے پنجوں پر بیلے کا رقص کرنے لگیں۔ایک ایمان سا اسکے لہجے سے جھانکتا تھا اور میرا دنیا سے ستایا ہوا دل اسکے الفاظ پر لبیک کہنے سے ڈرتا تھا۔ اندیشوں کے جن یقین کامل نہ ہونے دیتے تھے۔پھر بھی میں نے اس پر یقین کیا۔
“بہت سخت منزلیں ہیں! تھک تو نہیں جاؤ گے ناں!”
،،،،میں نے چلتے چلتے پیر سے ایک پتے کو مسلا اور اس سے پوچھا تھا۔۔
“تھک جاؤں گا۔۔۔۔۔مگر پھر بھی محبت بنکر کر ہمیشہ تمھارےساتھ رہوں گا!!!”
یہ ایمان تھا ،گماں تھا کہ گیاں تھا، مگر زمان و مکاں سے جب میں لامکان ہوی تو وہ میرے ساتھ نہیں تھا مگر ۔۔۔۔۔ وہ ایک ایماں کا۔۔۔۔۔خوبصورت گماں کا ہاتھ ٬،،،پتھروں سے ستاروں تک اور پھر بہاروں تک میرا ہاتھ تھامے ہر منزل پر میرے ہمراہ رہا تھا۔

______________

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: سپنج

Note to self by Connor Franta________ کتاب تبصرہ از صوفیہ کاشف

ایک چوبیس سالہ بلاگر ،انسٹاگرامر Connor Franta ,جسکی پہلی کتاب

A work in Progress

بہترین سوانحی عمری اور یاداشت کے طور پر نیویارک ٹائمزبیسٹ سیلر رہی ہے۔یہ کتاب اسکے زاتی احساسات اور واقعات اور اپنی شخصیت کے اندرونی تہہ خانوں تک روشنی کی لہریں لیجانے اور انکی تاریکی کو اجالے میں بدلنے کے سفر کی روداد ہے۔ایک ایسا سفر جو ہر نوجوان کے سامنے ایک سوال بنکر کھڑا ہوتا ہے جسے حل کرنے کی جراءت کوی کوی کر پاتا ہے ،ایک ایسا گرم جھلساتا ہوا سورج جسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہر جوان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اکثریت بہانوں ،معزرتوں اور شرمندگیوں کے پتوں تلے چھپ کر زندگی گزار لینے پر قناعت کر جاتے ہیں۔اسی لیے یہ کتاب بالخصوص اٹھارہ سے تیس سال تک کے جوانوں کے لیے ہے جو اپنی شناخت سے لیکر اپنی پہچان تک میں الجھے زندگی کے سمندر میں ہاتھ میں آ جانے والی کسی جھاڑی کی خواہش میں ڈوبتے ابھر رہے ہوتے ہیں۔اسکے موضوعات انکے کچھ مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی جرات کرتے ہیں اور انہیں آئینہ کے سامنے لانے میں مددگار رہتے ہیں۔یہ لکھاری کے اپنی زات کو دریافت کرنے کا سفر ہے،کب کب کس بات پر وہ پھوٹ پھوٹ رویا اور کب کب کس جگہ اس نے کس طرح خود کو سنبھالا،ذندگی کے وہ چھوٹے چھوٹے پھنسا دینے والے مسلئے جن سے جوانی کے مضبوط دامن اکثر الجھ جاتے ہیں اور پھر اسے کوی تسلی دینے والا نہیں ملتا ۔کوی یہ نہیں کہتا کہ”دیکھنا،،،سب ٹھیک ہو جاے گا!”اور یہی سادہ سا فقرہ بعض اوقات جوانی کی بہت بڑی ضرورت بن جاتا ہے۔پڑھنے والا خود کو ہر شے سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہے ۔” کیا کریں اور کیا نہ کریں “کی مشکل میں سر تا پا الجھے ہوے جوانوں کے لیے یہ ایک بہترین دوست ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ انکے ساتھ بیٹھ کر انتہائی دوستانہ انداز میں اور آسان الفاظ میں چھوٹی چھوٹی باتیں سمجھا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کتاب تبصرہ(the girl on the train)

میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ کوی بہت شہرہ آفاق کتاب ہے جسمیں جوانوں کے سب مسائل کا حل ہے۔مگر یہ ایک اچھی کتاب ہے جسکا مطالعہ اگر بہت ضروری نہیں تو غیر ضروری بھی نہیں۔خصوصا جب انکی سمجھ میں بہت سی عام باتیں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی بیش بہا ترقی کے باوجود اکثر نہیں آ پاتیں۔اسکے باوجود کہ لکھاری کے کچھ زاتی مسائل ہمارے لیے عجیب ہو سکتے ہیں مگر انہیں نپٹنے اور حقیقت کا سامنا کرنا سکھانے میں مددگار بھی ہو سکتے ہیں۔

تیس سال سے اوپر کے افراد کے لیے یہ ایک اچھا ریمانڈر ہے ان باتوں کا جنکو ہم یاد رکھ رکھ کر بلآخر بھولنے لگتے ہیں۔وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جنہیں کبھی بڑی فرصت سے رٹا لگایا ہوتا ہے اب کسی سٹور کے اندھیرے کونے میں پھینک کر بھول چکے ہوتے ہیں۔یہ انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر مبنی ہلکی پھلکی کتاب ہے جسمیں تصاویر ،اشعار اور کہاوتوں کے استعمال کے ساتھ انہیں مزید دلربا بنا دیا گیا ہے۔ایسے ہی جیسے ہم کسی ڈائجسٹ کے کنارے لکھے اقتباسات اور رسالوں میں لگے چھوٹے چھوٹے اقوال زریں سے دل کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بھی ایک قلیل وقت میں دل بہلانے کا آسان نسخہ ہے جو کتاب کے اوراق پر آپکو تمام سوشل میڈیا اور انسٹاگرام کا آڈیو ویڈیو مزا مہیا کر دیتا ہے۔

۔میں نے یہ کتاب پہلی نظر پر ہی اٹھا لی تھی چونکہ یہ پہلی نظر میں ہی متاثرکن لگی تھی۔اسکی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے لیے پورا گھنٹا ڈھونڈنا ضروری نہیں،چھوٹے چھوٹے انشائیہ اور شاعری کے اوراق پر مشتمل یہ کتاب دس منٹ کی فراغت میں بھی تھوڑا سا دل بہلانے کے لیے کافی ہے اور اسی طرح یہ ان دس منٹوں میں کوی وحدانیت کی ،خدا اور اسکے معجزات کے وجود کی یا دنیا کے ثبات اور بے ثباتی پر مبنی کوئی ضخیم بحث نہیں کرتی بلکہ ہلکی پھلکی باتوں سے ہمیں وہ اسباق یاد دلاتی ہے جو دنیا کے شوروغل اور تیز رفتار زندگی میں ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔

میں نہی کہہ سکتی کہ یہ آپکی لائبریری کے لیے یہ ایک ضرور ی کتاب ہے مگر میں یہ ضرور کہتی ہوں کہ یہ میری لائبریری کے لئے ایک خوبصورت کتاب ہے جو کسی تھکے لمحے میں میرا دل بہلا سکتی ہے, ہلکیے پھلکے الفاظ سے ڈھیلے ڈھالے انداز میں کچھ مایوسی کا بوجھ بانٹ سکتی ہے اور اندھیرے کے سفر میں اک چھوٹی سی روزن مہیا کر سکتی ہے۔

___________________

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ مصنف

ساون_________اے_کے_آصف

برسنا سرد ساون کا
اور اس پر اسکا یاد آنا
بڑا مشکل ہے میرے واسطے
اب اس ظالم کو بھلانا

جو کہتا تھا میں تیرا ہوں
فقط تیرا ہی رہنا ہے
تیرے بن رہ نہیں سکتا
تجھے اب یہ بھی کہنا ہے

تو میری ہی رہے گی۔۔
اور میں تیرا رہوں گا اب
کوئی تیجا نہیں ہوگا
مکمل ہم پہ ہوگا سب

فقط خوشیاں ،بہاریں اور تیرے قہقہے ہونگے
کھنکتی چوڑیاں ہر سو پرندے چہکتے ہونگے

مکمل اب تیرا ہر پل میرے حسار میں ہوگا
بسر ہر ایک لمحہ اب صرف بہار میں ہوگا

۔
مگر ۔۔۔
وہ خواب تھا سب کچھ
۔

نہ خوشیاں تھیں، نہ قہقے تھے، نہ وہ حسین یادیں تھیں
فقط کہنے کی باتیں تھیں
مکمل نہ وہ میرا تھا ۔۔۔
نہ میں چوڑی سی کھنکی تھی
نہ چہکی تھی نہ مہکی تھی بس اس سے اتنا کہتی تھی
کہ ایسا کیا کیا میں نے ؟
کی تم اکھڑے سے رہتے ہو
نہ سیدھی بات کرتے ہو
نا اب تم مجھ پہ مرتے ہو
تو کہنے وہ لگا مجھ سے ۔۔۔۔
کی تم میں ہے ہی ایسا کیا ؟
کہ تم پر مر لیا جائے
مکمل ہوگیا ہوں میں
یہ جملہ بھی کہا جائے
۔
چلو جائو
یہ کتابی محبت اب یہاں پر کون کرتا
ہے ؟
بھلا یہ بھی محبت ہے کہ جاں تک دے دی جائے
جو سب سرسبز جھوٹے خواب ہیں، پورے کیے جائیں

میری جاں!
اب یہاں اس دور میں رانجھے نہیں ملتے
چلو جائو بھلا دو سب ۔۔۔کہ اب رانجھے نہیں ملتے

یہ کہہ کر وہ جو پلٹا تھا
تو اب تک وہ نہیں لووٹا ۔۔۔
میں تب ان تلخ باتوں پر بہت دن تک تو روئی تھی
کئی راتیں نا سوئی تھی
پر اب جو حال تکتی ہوں
تو کچھ میں بھی سنبھلتی ہوں
کہ باتیں ٹھیک کہتا تھا
یہ کتابی محبت اب یہاں پر کون کرتا ہے ؟
کہ سب وحشی درندے ہیں
جو حرس و حوس کو اب محبت نام دیتے ہیں
مگر میں اب یہ سمجھی ہوں
کہ تب تو کملی جھلی تھی
جو ان باتوں کو نہ سمجھی
میں تب سب ہار بیٹھی تھی
کہ کر میں پیار بیٹھی تھی
جو اس وحشی کو نا سمجھی

مگر اے بنت حوا اب تجھے اک بات کہتی ہوں
زرا محتاط رہنا تم
کہ یہ اکیسویں ہے
اب یہاں پنوں نہیں ملتے
صرف بازار لگتے ہیں
جہاں بیوپار ہوتے
سب اداکار ہوتے ہیں
میری لیلی یہاں پر اب کوئی مجنوں نہیں ملتے
فقط وحشی ہی ملتے ہیں
میری بھولی یہاں پر اب کوئی رانجھے نہیں
کہ اب رانجھے نہیں ملتے
___________
اے-کے-آصف

فوٹوگرافی:فرحین خالد

وڈیو دیکھیں: ایک بارش

Style Icon _______ picks of the month

The latest Michael Kors large leather and canvas tote from March collection with a gorgeous color combination and unique design, brings a two years warranty and a complimentary travel vanity pouch with it.

Price:2,510 AED

548:00$

L’Oréal presents a perfect face wash with three pure clay and Eucalyptus .It works in three wonderful ways by cleansing, purifying and mattifying. The Eucalyptus extract in it helps in tightening the skin and toning it.

Price:24.40 AED

6.55 US$

watch more:Nailstation

Lovely display of vibrant colours seaweed green, pink and yellow shades on light cotton scarf by Khaadi.

Price:55aed

14.97 US $

A Beautiful, colourful and inspirational journal for Paulo Coehlo lovers with a daily dose of his inspiration on every page.A good piece for your side table or on reading desk.
Available on boarder’s,

Price:85AED

16.95 US$

An amazing ultra rich and pampering body cream that works as a soothing relaxing aromatherapy. Great product by Bath & Body Works.

Price: 85 AED

23 US$

watch more: Sensual by Bath & Body Works

A trendy light khaki Jersey robe from Dorothy Perkins for all the elegance you need!

Price:149 AED

40.57 US$

Photography: Sofiakashif

By

Sofia kashif

Farheen Khalid

Exclusively for

SofiaLog.blog

Gazebo

One of the best Indian taste in town, Gazebo is located in many very famous locations, you can easily get one beside your corner.

Service:

  1. Upto the mark
  2. Efficient
  3. Polite
  4. Active

Dinning Hall:

  • private family chambers
  • Open places included
  • Well designed
  • Perfect decor

Menu:

A big variety of grill,curries,biraynies, vegans,chappaties,nan and Indian @Pakistani snacking like samosa & pappad with the best east desserts including gulab jaman,falooda,firni.

Taste:

  • Undeniably perfect
  • Delicious & Mouth watering
  • Ample servings
  • Perfectly presented

Charges:

130 for two with two course meal

Locations:

  • AbuDhabi
  • Dubai
  • Sharjah
  • Ras Al khaimah
  • Ajman
  • Alain

Website:website Gazebo

watch video:Tony Hadley’s Lifeline,live in concert

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

وہ میرے گاؤں میں ٹھہرا نہ اپنے گھر میں رہا
عجیب شخص تها میرے لیے سفر میں رہا

اسے ہی پوچھتے ہیں تم نے کیا کیا بابا
جو اپنے بچوں کی خاطر نگر نگر میں رہا

وہی تھا دھوپ کی شدت جو ہنس کے سہتارہا
تُو اپنا تخت لئے سایہ ء شجر میں رہا

ہماری آدھی گواہی تھی سو ہمی ملزم
وہ جرم کرکے بھی ارباب معتبر میں رہا

غمِ حیات نے سب کچھ بھلا دیا ، ورنہ
دل ایک عمر تیری یاد کے سحر میں رہا

کہیں کسی نے لٹا دی خلوص کی دولت
مگر ہوس کا پجاری ، زمین و زر میں رہا

میں جگنوؤں کے تعاقب میں دور آ نکلی
وہ ہجرتوں کا ستایا ہوا تھا گھر میں رہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

وڈیو دیکھیں:ہمالیہ کی خموش خوبصورت گردی

اس سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔صوفیہ کاشف

اس سے پہلے

کہ تلاطم خیز لہریں

ہماری ڈوبتی ابھرتی کشتی کو

گہرائیوں میں دفن کر دیں

اور ہمارے ریختہ ٹکڑے

لہروں پر نشان عبرت بنے

خوفزدہ لوگوں کو

اور پریشاں کریں

اس سے پہلے کہ طلب کی بادو باراں میں

گر پڑیں ہماری احتیاط کی چھتیں!

اس سے پہلے کہ باغوں کے جھولے

بنیادوں سے اکھڑ جائیں

عشق کا ابلتا ہوا قیامت خیز لاوہ

ہمارے گھروں اور زندگیوں کو

نیست و نابود کر دے!

چلو اک بار پھر سے

اپنے تپتے رنگ خوابوں سے

نظر چرائیں طلب کی سرخ نگاہوں سے

محبت کے زہر آلود کانٹے سے

ادھوری زندگی کا دامن چھڑائیں

چلمن سے بہتی گرم ندیوں کو

ہاتھ کی پشت سے پوچھیں!

اور پھر سے بیکار ہنگاموں میں

اشتہا انگیز کھانوں میں

رنگ و بو سے بھرے ایوانوں میں

خود کو گمشدہ کر لیں!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوفیہ کاشف

پتے اور شجر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از میمونہ صدف

اے میرے ہم وطنو!
کبھی دیکھا تم نے خزاں رسیدہ پتے کو
جب جب شجر سے جدا ہوا
پہلے تو ہوا سنگ بہت اڑا
پھر جب گرا
قدموں تلے روندا گیا
شجر تو قائم رہتا ہے
نئے پتوں کا گھر بنتا ہے
جو اسے سے جڑے
اپنا اور اس کا تن سجائے
رہتے ہیں
یہ دیس بھی تو شجر ٹھہرا
اس کو رہنا ہے قائم
غداری کچھ لمحے تو
ہوا میں اڑائے گی بہت
لیکن انجام کیا ہو گا
بالآخر زمیں بوس ہو گا
قدموں میں روندا جائے گا
دیس تو قائم رہے گا
نئے پتوں کا مسکن بن کر
کئی زندگیوں کو مہکائےگا

………………

میمونہ صدف ہاشمی

فوٹوگرافی:عرفان فاروق

دیوانے۔۔۔۔۔۔۔از صوفیہ کاشف

یہ دیوانے ہیں

کتاب کھولے دیوار پڑھتے ہیں

کھلی آنکھوں خواب بنتے ہیں

بند آنکھوں تلاشتے پھرتے ہیں

یہ دیوانے ہیں

ریت پر گھنٹوں بیٹھے

لہروں سے بات کہتے ہیں

ہواؤں سے سرگوشیاں

گھٹاؤں کے سنگ رات کرتے ہیں

یہ جنکی آنکھوں سے تعبیریں

موتی بنکر جھڑتی ہیں

یہ جنکی ہتھیلیوں سے منزل

!ریت بنکر پھسلتی ہے

یہ جنکی اذانوں پر کوی صلواۃ نہیں کہتا

یہ جنکے دعاؤں پر کوی ہاتھ نہیں دھرتا

!یہ دیوانے ہیں

اپنے ٹوٹے وجود لیے

در در بھٹکتے ہیں

اورگمنام ہستیوں کا

ہر پل ماتم کرتے ہیں

یہ امید کے شجر سے

خزاں بنکر جھڑ جاتے ہیں

یہ تعبیروں کے آسماں سے

پانی بنکر برس جاتے ہیں۔

کسی پھیلی جھولی میں حیات ساری ڈال دیں

آنکھوں کی چمک میں بس کر اپنا آپ وار دیں

انکے ہاتھ میں جادو

اور نگاہوں میں طلسم

الفاظ انکے منتر

آہیں انکی سرگم

دکھائی دے کر بھی گمشدہ سے

فنا کے تماشے ہیں

خوابوں میں بسنے والے

جینے نہ مرنے والے

ہاتھ اٹھاے اوپر

دھمال کرنے والے

یہ دیوانے ہیں۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوفیہ کاشف

ایک نظم،ان گنت سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

ستارہ گر ،
جو روشنی تھی پھوٹنی وہ کیا ہوئی
جو رنگ تھے بکھير نے کدھر گئے
عطاؤں کو رضا سمجھنے والا وقت کیا ہوا
محبتوں سے دل تہی ، یہ مفلسی ــــ
منافقوں سے دوستی ، نہیں، نہیں
وہ لفظ جوڑ جوڑ کے عقیدتوں سے محفلیں سجانے والے کیا ہوئے
متاعِ جاں، ستمگری پہ آگئے
یقیں گماں سے ہار کے کدھر گیا
جبِینِ شوق کیا ہوئی
وہ چشمِ منتظر کدھر گئی
وہ سرخوشی ہوا ہوئی
تماشہ دیکھنے کو لوگ آگئے
دِلاسہ دینے والے دھند ہوگئے
وہ آنکھ کیوں اجڑ گئی
وہ خواب کیوں بکھر گیا
وہ شاخ کس نے کاٹ دی
وہ رنگ اتارنے ,چڑھانے والے خاک ہوگئے
وہ ذات پات بھول بھال ایکدوسرے کو پڑھنے والے کیا ہوئے
وہ عِشق عِشق وِرد کرنے والے کیسے لٹ گئے
وہ مستقل محبتیں کمانےوالے کیا ہوئے
رفاقتیں نبھانے والےکیا ہوئے
قلندری سکھانے والا عشق کیسے کھو گیا
یہ ہِجر کیوں ٹھہر گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

ننھے حماد کے ساتھ کیجیے ایبٹ آباد کی سیر!😂

کھری محبت……..از رضوانہ نور

تم جو ہنس کے کہتے ہو
درد سے ہوں ناواقف
کرب اور اذیت سے دور دور کا ناتہ
خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتی سی پھرتی ہوں

خوشنما تصور ہے
اختلاف رستے سے
انحراف منزل سے
تم تو کر بھی سکتے ہو
خود سے اڑ بھی سکتے ہو
مرد جو ٹھہرتے ہو
میں تو کملی عورت ہوں
چاہ راس کب مجھکو
پاسِ عہدکب مجھکو
میں نزاکتوں والی
جاں یہ خاص کب مجھکو
عزتوں کا اک گھڑا
سر پہ یوں دھرا ہوا
باوجود خواہش کے
اب کے ہل نہیں سکتی
دو قدم بھی چاہوں تو
ساتھ
چل نہیں سکتی
تم کو تو بہت آساں
بےوفا مجھے کہنا

چل میں مان لیتی ہوں
کچھ خبر نہیں مجھکو
تیری چاہتوں کی بھی
کچھ فکر نہیں مجھکو

دل میں جھانک پاوُ تو
اتنا جان پاوُ گے
کسقدر عزیز تر
وہ چند ماہ ہیں مجھے
ماں کی کوکھ میں بنے
وہ نو ماہ ہیں مجھے
ان چند ماہ و سال سے
بے پناہ عزیز ہیں
ایک دن سمجھ لینا
چاہتوں کے سوداگر
ہار کر بھی جیتے ہیں
میں بھی ایسی لڑکی ہوں
کھرے رشتوں کے بدلے
کھوٹے گوارا نہیں کرتی
اجنبی کی چاہت میں
اپنوں کو ہارا نہیں کرتی
تم تو جو جو کہتے ہو
ٹھیک ٹھیک کہتے ہو

شاعرہ: رضوانہ نور

:وڈیو دیکھیں:چھ سالہ بچے کے ساتھ کریں ایبٹ آباد کی سیر!😍

فوٹو بشکریہ: فرحین خالد

مگر!…………از صوفیہ کاشف

اگر جو تری ہر یاد کے بدلے

ترے آنگن میں

پھول کھلنے لگتے

تو کیسے گھر کے سب دیوارو در،

ہر ذینہ،ہر آنگن ،

پھولوں سے بھر چکا ہوتا

پاؤں تک دھرنے کو وہاں

تجھے رستہ نہیں ملتا،

اور اگر جو میری آنکھ میں اترا

تری صورت سے جڑا ہر اک خواب

قدموں کے نیچے

کہکشاں دھرتا

تو کیسی رنگ برنگی کہکشائیں

چمکتی ہوی ،رقص کرتی ،سارے شہر میں امڈ چکی ہوتیں

زمین کا منظر تک

تری نگاہوں سے اوجھل کر چکی ہوتیں!

اگر جو میری ہر آہ

ترے گھر کی تجوری میں

ایک منور سکہ دھرنے لگتی

تو کھڑکیوں اور دروازوں کو توڑتا

گھر سے درہم و دینار کا

اک سیلاب زر بہہ نکلتا!

تو چھپانا بھی چاہتا تو چھپا نہیں پاتا!

مگر یہ محبت کی ستم ظریفی تھی

یا میری کمزور ہستی کی مفلسی

کہ نہ پھول کھلے نہ کہکشائیں سجیں

نہ سکے ہی جنم لیے!

میری محبت بھی جیسے

کسی فقیر کی قبا تھی

ہر طرف سے شکستہ

ہر رخ سے گدا تھی!

سو نہ دنیا کی نظر میں جچی

نہ تجھے ہی لبھا سکی!

محض کسی مزار پر گری

کسی برباد کی آہ تھی!

خاموش اور بے زبان

خالی اور بے نشاں!

اجازت دو! ۔۔۔۔از رابعہ بصری

تم مجھے جوڑنے آئے تھے
میرے کِرچی کِرچی وجود کےسبھی ٹکڑے
اپنے سنہری ہاتھوں سے چْن کے
میرے سبھی گھاوُ بھرنے کا دعوٰی کیا تھا
ہِجر کی ساری تھکن سمیٹنے کا وعدہ کیا تھا
جِس کی دکھن نے بدن کو راکھ کر ڈالا تھا
میرا گندم کی بالی کا سا کھِلتا ہوا رنگ و روپ
جو ماند سا ہوگیا
کاٹتی دھوپ نے میرے وجود کی ساری ہریالی
ساری شادابی چھِین لِی
محبتوں کے وہ سبھی ذائقے جو پور پور میں رچ گئے تھے
روٹھ بیٹھے تھے
تم نے خود سے کہا تھا
درد کے سبھی موسموں سے رہائی دلاوُگے
وفا کے سبز پیڑوں پہ برگ وبار کھِلادوگے
روح سیراب کردوگے
چاہ کی ریشمی ڈور تھاموگے
میرے آنگن میں رقص کرتے ہوئے
دوڑتے بھاگتے سارے غم , تھام لوگے
وفا کے سبز پیڑوں پربرگ وبار کِھلادوگے
تم سِتارے چنوگے
ہِجرت و ہِجر کے ذائقوں سے پرے
اس طرف لے چلوگے
جہاں کنجِ تاریک میں بانسری بج رہی ہو
معطر فضا ہو ,
تِتلیاں اڑ رہی ہوں

تم نے دعوٰی کیا تھا
میرے اداس لفظوں کو , کھنکھناتے لہجے میں ڈھالوگے
میری ڈھارس بنوگے
میرے دل میں اگے دکھ کے گھنے شجر کو
اپنے ہاتھوں سے کاٹوگے
سکھ کے سبھی بیج بودوگے
محبت سے تہی دھڑکن کو اپنی سرمئی خوشبو سے باندھوگے
میرے ماتھے کو نرمی سے چھووگے
اور کہدوگے
چلو اب سبز سِی وہ مخملیں چادر تو اوڑھو
چلو گردِ سفر جھاڑو
چلو سامان باندھو , افق کے پار چلتے ہیں

تو اے میرے حسنِ سخن ساز
ذرا یہ تو بتا
نظر کے زاویئے بدلے ہوئے کیوں؟
ہمارے بِیچ یہ دِیوار کیسی؟
یہ کِس نے کھینچ دِی ہے؟
تمھارے شبنمیِں لہجے میں بیزاری، ماتھے پہ سِلوٹ
اور تکلم یوں ، کہ جیسے لفظ بھی خیرات میں دینےلگے ہو
یہ کوئی مصلحت ہے
یا، کوئی مبہم اِشارہ ہے
تو کیا میں جان لوں
شجر سے سارے پتے جھڑ گئے ہیں
مناجاتیں ادھوری رہ گئی ہیں
وہ سب باتیں ضروری رہ گئی ہیں
میرے جلتے قدم ، بھِیگی نِگاہیں
میرے شانوں پہ رکھی زرد سی یہ شال
جانے کب سے یوں رکھے ہوئے ہے
اور جانے کتنے عشرے اور یوں ہی بِیتنے والے ہیں

اِجازت دو ، تمھاری سرد آنکھوں سے
ذرا نظریں بچا کے
تمھاری سرمئی خوشبو کی ساری گِرہیں کھول ڈالوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

soul Wispering

وڈیو دیکھیں: پاکستان کی خوبصورت لولوسار جھیل

گڑیا…………….از بنت الھدی

لوگ کہتے ہیں
ابھی تو ہو تم اک گڑیا سی
پر سوچ تمھاری
بلند و بالا پہاڑوں جیسی سلسلہ وار
سمندروں کی گہرائی جیسی
آخر کس گھاٹ کا رنگ لاگا ہے تجھ کو
کہ اتنی سی عمر میں اتنی پختہ ہو گئی
نہ تیرے بالوں میں چاندی اتری
اور نہ تیرے چہرے پہ وقت کی لکیریں
پھر بھی باتیں تیری ایسی
جیسے صدیوں کا تو چرخا کات کے بیٹھی ہو
میں بھی سن کے ہنس دیتی ہوں
اور خود کو کہتی ہوں
یہ کیا جانیں
اتنی سی عمر میں
کتنے رنگ ہیں میں نے دیکھے
منہ کو میٹھا
حلق کو کڑوا
سب ہی تو چکھا ہے میں نے
وزنی، ہلکی، موٹی، پتلی، سب زنجیریں, توڑ چکی
اور کچھ اب بھی باقی ہیں
ھنر نہیں نام کو چلتے دیکھا ہے
شوق نہیں صنف کا سکہ چلتا ہے
تم کیا جانو حال میرا
ہر روز, زہرِ مار کے قطرے
حلق کو چھلنی کرتے ہیں
پر پھر آنسو بہا کے سارا درد
دل سے زائل کرتی ہوں
ٹوٹے پھوٹے دل کے ٹکڑے
جھولی میں بھر کےپھر سے جوڑتی ہوں
خوابوں کی کرچیوں کو ہاتھوں میں دبوچتی ہوں
اس یقین پہ کہ کوئی تو ہاتھ آہی جاۓ گا
یہ سب لوگ کیا جانیں میری بلا سے
میں تو بس اتنا جانوں
کہ تھک ہار کے بیٹھا نہیں جاتا
ابھی تو بس آبلے لیے منزل تک چلنا ہے
طوق اٹھائے رستے میں آئی زنجیروں کو توڑنا ہے
کچھ بھی ہو بس چلنا ہے
کیونکہ میں جانتی ہوں
میں عورت ہوں
ہوں تو میں حق کسی اور کا
پر یہ میں نا مانوں
اور دیکھ لینا
ایک دن آۓ گا
جب میں چوٹی پہ اور تم ڈھلوان پہ
سر کو اٹھاۓ میری روشنی سے اپنی چندھیائی آنکھوں سے
مجھ کودیکھو گے
اور بس دیکھتے ہی رہ جاؤ گے
اور لوگو!
تب تک تم کو چاندنی بھی دکھ جاۓ گی
اور ساتھ میں وقت کی بے وقت لکیریں بھی

…………………….

بنت الھدی

Photo credits:Sim Khan

یہ بھی دیکھیں: خوبصورت پاکستان کی دلنشیں گزرگاہ

ارضی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی پی کے نام کا کنگن ہو!
کوئی چُوڑا ہو!
جسے بانجھ کلائیاں پہن سہاگن ہو جاویں
مرا روپا، جوبن ہار گِیَو!
سرکار سائیں!
سانول کا بچھوڑا مار گِیَو!
مرے سینے درد غموں کے تیر اتار گِیَو!
بیمار نصیبوں بیچ سَجَا منجدھار گِیَو!
منجدھار پڑے!
سرکار سائیں!
غمخوار سائیں!
اک بار سائیں!
سنو عرضی بس اک بار سائیں!
وہ پھر سے آج اُس در پر منت مانگنے پہنچ گئی تھی ایک اُجڑی ہوئی بیوہ منت اُس ایک نظر خیرات کی منت جو ایک دفعہ اُٹھ کر اُس کی جانب ایسی پلٹی کہ پھر کبھی اُس کے آنگن لوٹ کر نہ آئی مگر جاتے جاتے سُندری بائی کا سب چین سکون اور اس کا سورج کی طرح چڑھتا جوبن اپنے ساتھ لے گئی.اور ایک تاریک زرد شام اُس کی جھولی میں ڈال گئی.ابھی بھی وہ ایک پیاسے دیے میں اپنا انتظار اپنی آس امید ڈال کر اسے صاحبِ مزار کی قبر پر رکھ کر پلٹی ہی تھی کہ کجری بیگم جو ساز و رقص میں اُس کی شاگرد بھی تھی اور سُندری بائی کے بعد اجمیر والے کوٹھے کی اگلی بائی بھی آگے بڑھ آئی آج نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو لاکھ سمجھانے کے باوجود ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھی تھی جب بولی تو لہجے میں تلخی در آئی.
سُندری بائی کچھ ہوش کے ناخن لے سکھی کب تک یوں ریاضت کرتی رہے گی یوں دیے دھاگے جلاتی باندھتی رہے گی تو آگرہ کی سب بڑی طوائف ہے آج بھی لوگ تیرے ایک اشارے پر اپنا سب لُٹا بیٹھتے ہیں بھول مت ہم طوائفیں عورت تو ہوتی ہیں مگر جذبات و احساسات عورتوں والے نہیں رکھ سکتی یہ ہمارے پیشے کی عورتوں کا شیوہ نہیں ہے کہ عشق کے در کی چاکری کرے ہم تو کاغذ کے چند ٹکرو کی غلام ہیں اور تو یہ سب کس کے لیے کر رہی ہے اُس انسان کے لیے جو بس ایک نظر تجھ پر ڈال کر ایسا گیا کہ پلٹ کر خبر نہ لی. نہ کوئی سوداہوا نہ رقص.وہ ٹھہرا سید زادہ پاک آل پاک نبی کی اور تُو تو اجمیر کی ایک تنگ و تاریک گلی کے ایک بدبودار کوٹھے کی ایک ہندو طوائف بھول جا سُندری وہ نہیں آئے گا۔ اُتار دے یہ کالا چولا ہر کسی کو یہ کالی چادر پاک نہیں کرتی بڑے نصیب والے ہوتے ہیں جو اس سیاہ چادر کی پاکی تک پہنچ !پاتے ہیں.بس کر دے چھوڑ دے..!”
” توُ نے ٹھیک کہا کجری بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس سیاہی کی پاکی تک پہنچ پاتے ہیں اور میرا سفر اس پاکی کی طرف اُس دن شروع ہوا تھا جب وہ سیاہ پوش میرے کوٹھے پر آکر چند لمحے رُکا تھا تو نے ایک بات غلط کی کہ اس دن کوئی سوداہ نہیں ہوا. اُسی دن تو سودا ہوا تھا نظر سے نظر کا سودا سفید سے سیاہی کا سوداہم. تو اسے ایک نظر کا عشق کہتی ہے میں اسے روح سے روح کے ملن کی گھڑی کہتی ہو میری روح اُس کی روح میں کہی بہت پہلے کسی لامکاں کے سفر کے دوران تحلیل ہو چُکی ہے یہ تو ہزاروں لاکھوں نظروں کے بعد کی ایک نظر تھی اور کتنا حیران تھا وہ شاہ پیا بھی جیسے وہ بھی روح سے روح کے اس ملن کے لمحے میں قید ہو گیا ہو…..وہ آنکھیں بند کیے اُسی لمحے کی شیرینی کو محسوس کرنے لگی جیسے وہ ابھی بھی کسی مقدس یونانی دیوتا کی مانند اس کے سامنے کھڑا دنیا سے بے نیاز اسے دیکھ رہا ہو. وہ ابھی اسی احساس میں قید تھی کہ . اچانک ایک بے ہنگم شور کی وجہ سے اُس نے آنکھیں کھول دی سامنے ہی ایک اُجڑا بکھرا ہوا کوئی شخص دنیا سے بے نیاز اپنی دھن میں بولتا چیختا چلاتا آکر بیٹھ گیا.وہ بہت حیران سی اسے دیکھ رہی تھی اس کے ہاتھوں میں مختلف رنگوں کی شیشیاں تھی جو باری باری کھول کے وہ اپنے اوپر اُنڈیل رہا تھا.وہ کافی دیر اُسے دیکھتی رہی ایک عجیب اپنایت کا احساس ہو رہا تھا اسے اس سے.
یہ کون ہے کجری ؟؟؟ ارے یہ یہ فقیر سائیں ہے کہتے ہیں پہاڑوں سے اُتر کر آیا ہے یہ مجذوب ہے دیوانہ ہے…
وہ کچھ دیر تو سوچتی رہی مگر پھر اُٹھ کر اُس کے پاس جا کر بیٹھ گئی وہ اب سر جھکائے مست و مگن بیٹھا تھا اُس کا پورا چہرہ ست رنگی رنگوں سے رنگا تھا.
فقیر سائیں ایک رنگ کی شیشی مجھے بھی دان کر دیو میں بھی خود کو رنگ دو شاید اس رنگ کی رنگائی دیکھ کر وہ سیاہ پوش شاہ پیاہ آ جائے میرے آنگناں میں ایک دفعہ پھر سے.وہ مُسکرا دیا اور سر جھکائے ہی بولا …
ابھی بھی رنگوں کی متلاشی ہے تو کوئی سال پہلے آکر تو اپنے سارے رنگ تیرے آنگن میں چھوڑ آیا تھا کیا نہیں دیکھے تو نے, ہرا, نیلا, لال, پیلا سب تیرے در پر پڑے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ کالا رنگ جو تمام رنگوں کا بادشاہ ہے حق کا رنگ ہے. ارے کرماں والیے محب تو ہوتا ہی سیاہ پوش ہے یہ تو محبوب ہوتا ہے جو ست رنگی ہوتا ہے یہ اُس کا کام ہے کہ چاہے تو اپنے رنگ میں رنگ دے چاہے تو سیاہ چھوڑ کر عشق کو امر کر دے . یہ کہتے ساتھ ہی اُس نے ایک ایک کر کے تمام رنگوں کی شیشیاں اپنے ہاتھوں میں اُنڈیل دی اور سر اُٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور تمام رنگ اُس کے چہرے پر مل دیے یہ لے محبوب نے رنگ دیا آج تجھے اپنے رنگ میں یہ کہتے ساتھ ہی وہ اُٹھ کر دیوانہ وار باہر بھاگا اور وہ ایک دفعہ پھر حیرت کا مجسمہ بنی بیٹھی رہ گئی ..
وہ آنکھیں وہ نظر وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی.
یہ سیاہ چادر جو اُس نے اوڑھ رکھی تھی یہ اُس دن اکیلے اُس کے نصیب میں نہیں آئی تھی وہ آگ جس میں وہ جل رہی تھی اُس میں کوئی اور بھی کب سے جُھلس رہا تھا..
راہِ عشق میں اگر ایک کے حصّے میں جنون آتا ہے آگ آتی ہے تو دوسرا اُس کی آنچ سے راکھ ہو نہ ہو جُھلس ضرور جاتا ہے..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

. شفاء سجاد..

“گنجلک بیلیں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…ثروت نجیب

ہزاروں باتیں
دل کی مُنڈیروں پہ چڑھی
گھنی بیلوں کی مانند
بےتحاشا بڑھتی جا رہی ہیں
کشف کے کواڑوں پہ
اک چھتنار سا کر کے
میری آنکھوں کے دریچوں تک
اس قدر پھیلی ہوئی
کہ جہاں بھی اب
نگاہ ڈالوں
ہریاول ہی دکھتی ہے
رازداری کا کلوروفل
میرے قرنیوں سے آ چپکا ہے
جس کی دبیز تہہ نے
میری بادامی آنکھوں کو
دھانی کر دیا ہے
گھنی
گنجلک
الجھی ہوئیں
کہیں کہیں سے
مُڑی ہوئیں
میری ذات سے
جُڑی ہوئیں
ُانھی پرانی یادوں کے
سوالوں سے
اب تک بندھی
جن کے بیشتر جواب دہ
اب
اس دنیا میں ہی نہیں
تکرار کی سیلن
چاٹتی رہتی ہے
نئے نظریے
نم خوردہ
دیواروں سے
سوچوں کا
گَچ گِرتا رہتا ہے
جن کو میرے اندیشے
چُنتے چُنتے تھک جاتے ہیں
تخیل کی
نئی دھوپ کو
روکے ہوئے
نہ خزاں آتی ہے
نہ وہ خیال جھڑتے ہیں
جن کا جھڑنا اب ضروری ہے
اے باغبانِ وقت تمھی
ان ہزار پایہ بیلوں کی
چھانٹی کر دو نا
کہ اُگے گلاب اب کوئی
موتیے سی سوچ ہو
گلِ بہار سی فہم لیے
بنفشی شعر لکھوں میں اب
ادراک ہو لالہ و سوسن
وہ کنول کھلے
دماغ کے اِس حوض میں
جسے میں پیش کروں
نظم کے گُلدان میں یوں
عطر سے رچے فضا
خوشبو کی شیشی سے
غسل کرے یہ ہوا
باغ و بہار کا
سلسلہ رہے سدا
دل پہ بھاری
مہک سے عاری
بوسیدہ باتوں کی بیل کے
ان کاسنی گلوں پہ اب
تتلیاں نہیں آتیں

……………….

یہ بھی پڑھیں: کٹھ بڑھئ از ثروت نجیںب

“داستان نفس”

“داستان نفس”

رشتوں کے دھاگوں سے بُنی
کبھی ریشم کبھی کھدر سی
کبھی کھردرا کھردرا پٹ سن ہے
کبھی کوتاہ کبھی صدر سی
کبھی نیلگوں نیلگوں سوچ میں گم
کبھی میں’ ھم اور تم
کبھی فکروغم میں زردی مائل
کبھی خوف کا رنگ اسکے حائل
کبھی خوشیوں کی لالی لے کر
محبت کا منبع ‘ محبت کی سائل
مست قدرت کی ہریاول میں
کبھی آسودہ کبھی گھائل
سپیدہ سحر کی مانند
جسم و جان کی دونوں سلائیاں
تانا بانا بُنتے بُنتے
اک عرصہ بِتا دیتی ھیں
ہر برس کی
سرد اور چھاؤں میں
گنجان شھر یا گاؤں میں
متحرک ساعت کی سوئیوں جیسی
گھن چکر کے پاؤں میں
حیات بے ثُبات کی
کیا داستاں سناؤں میں
سالہاسال کی عرق ریزی
کھٹی میٹھی باتوں سے
گنجلک ذہن کا بھرا کاسہ
دیرینہ خواہشوں کا آسا
تار تار دل لیے
تجربات سے منقش
پند سے پیراستہ
یادوں کی حسین قبا
نئی نسل کو ہدیہ کرتے ہی
جیون کا ست رنگی گولا
کیسے ختم ھو جاتا ھے
پتہ ہی نہیں چلتا……

نظم نگار ….ثروت نجیب

Sensual with black current vanilla body cream :Bath & Body Works

Have you tried the sensual body cream  before going to bed ?Did you got the definit result of the aromatherapy ?

Yes ! Off course! No one can deny the unmistakable results of Sensual body cream with perfect aroma of black currant vanilla! If you haven’t try yet,go and grab one for You as I can bet it’s your first purchase but not last!

Why?

Many good reasons behind:

  •  The fragrance will make your senses reel with pleasure and take you waltzing into the gardens of eden feeling like a butterfly roaming among the enchanting scents of heavenly flowers.
  • Try it once to see how an application of sensual lotion turns your sleepless nights into a tight sleep of fanciful dreams..
  •  Your husband/partner will  love the aroma  for a beautiful night!The aroma is highly sensual and exotic to raise your tired sleppy romance.
  • breath and let him breath deeply  for best results
  • A must try to  rejoice and relax before going to bed.the soothing scent cools you down and made you completely stress free.

  • The formula is so moisturising that keep your skin smooth and scented all night long.It really quenches the skin without feeling so thick. 
  • a litle goes a long way and enough for long hours of night with a single use. .
  • highly recommended and one of my all time favourite purchase.

check:nail color by Nailstation

Directions

  • keep this on your side table for regular  use in night or batter to have a variety of Bath and Body Works  creams to use daily a different fragrance.
  • Massage your body gently before bed.

Price:

It’s a pricy product ,

  • costs 85 aed/ 15 $
  • you can get an advantage of sale offers to get it on lower prices almost 25 to 75 % ,though it hardly saves in the stock for such low prices.
  • :shop online

وقت

وقت کو وقت ملے اگر،

میری دہلیز پرکچھ خواب دھرے ہیں ،

وہ جو موسموں کی شدت سے ،

یا تو گھبرا گئے ہیں یا مرجھا گئے ہیں،

وہ جو خواب اس آس پر روز جیے

روز مرتے ہیں ،

کہ

وقت کا کوئی مکمل لمحہ،

کسی کن فیکون کے طلسم کی طرح

انہیں مکمل کر دے گا،

وقت کو وقت ملے اگر،

میری دہلیز پر بھکاری بنے خوابوں کو،

اک نظر دیکھ لے ،

اور پھر ان کے نصیب کا فیصلہ فیصلہ کرلے،

کہ لمحوں کی گرانی میں،

یہ خواب مر جائیں گے،

یا پھر کسی معجزے کے ہاتھوں،

جیں گے اور امر ہو جائیں گے۔

ثوبیہ امبر

یہ بھی پڑھیں:ہلکی ہلکی اداس ہوا

اسیرانِ    سراب  از فرحین خالد

 

خدا  نے اسے رُوپہلی   مٹی  سے گوندھا تھا . جسم   کے خم   کچھ ایسے تراشیدہ تھے کہ  جو پلک اٹھے پھسل پھسل جائے . بالوں کے آوارہ گھو نگر   ماتھے  پہ  جھولتے اور کان  کی لووں   کو   اٹھتے  بیٹھتے  چومتے  .اسکی   آنکھیں ،  میں   لکھتے لکھتے  رک گیا تھا .اسکی سیاہ  آنکھوں  میں   ایسے  اجالے تھے  کہ جس کسی پہ پڑتےزندگی کی   آ س  دے  جاتے .وہ  من موہنی  ایک  خانہ  بدوش تھی …بتاشہ !

میں بے چین  ہو کر   اپنی   رائٹنگ  ٹیبل  سے اٹھ    کھڑا  ہوا  اور کھڑکی  سے باہر ساحل  پہ ٹکراتی لہروں   کو دیکھتے  ہوئے  سوچ رہا  تھا  کہ دس  سال  بیت  گئے  جب   میں    کراچی کے ساحل  پہ لگے  میلے  میں یونہی    کھنچتا  چلا  گیا تھا . ایک خیمے  کے باہر  درج  تھا

” ہمت  ہے تو قسمت   آزما  لیں ”

یہ بھی پڑھیں:بوجھ

باہر  بیٹھے شخص  کو  میں نے سو روپے  ادا کیئے   اور   پردہ  اٹھا  کے اندر  داخل  ہوا  تو  وہ   سامنے ہی   بیٹھی تھی.  مجھے دیکھتے ہی   اسکی آنکھوں میں شناسائی کی  لپک   کوندی تھی  ،  جیسے میری  ہی منتظر  ہو  بولی ” نورستان  سے چترال کیلئے  چلی تھی  تو میں نے تمہیں  خواب  میں دیکھا  تھا ،کتنے  دن لے لیئے  تم نے آنے  میں ؟” اس کو نیم  خفا   پا  کے  میں مسکرایا  اور  سوچا  اگر  یہ   کھیل  ایسےہی   کھیلا  جانا  سے  تو   فبھا   ، بولا ” فاصلے  دلوں    میں  نہ  ہوں  تو معنی نہیں رکھتے ”  وہ جھوم  اٹھی تھی .  پاس رکھی    ایک ٹوکری  میں  سجے   پھولوں   کے  ہالوں  میں سے  ایک  دائرہ اٹھا لائی  اور  میرے سر پہ رکھتے ہوئے چاہت  سے  بولی “زما گرانہ ، چائے   پیش کروں  ؟  میں  صرف  آنکھوں  سے حامی بھر سکا .  بتاشہ  کے  ارد گرد بھی  وہی رنگینی تھی  جو اس کے  لباس اور مزاج کا حصہ تھی . لیس   کے پردے  کے پیچھے  لگے برقی قمقمے  جگمگا رہے تھے ، نیلی  چھت سے    ٹنگی  رنگین

اوڑ ھنیاں   بادبانی  کشتیوں    کا منظر  دے  رہی تھیں اور  ان کے   درمیان آویزاں   سنہری   ستارے  جھلملا رہے  تھے . اس نے  مجھے  ایک دیوان  پہ  بٹھایا ،تپاک  سے     پیالی دھری  اور  بے تکلفی  سے  میرے پہلو  سے آ لگی ،  کلائی  تھام کے بولی ” اس پہ  میرا نام گدا ہوا ہے  نا ؟   میں نے  پوچھا ، تمہارا  کیا نام  ہے ؟ وہ شوخی  سے  بولی ،” وہی جو تمہارا ہے !    مجھے  ہنسی آ گئی ، تو کیا تمہارا نام  بھی  کبیر  بلوچ  ہے ؟  اس نے چٹخارہ  سا  انکار  کیا  اور بولی ،خانم بتاشہ !  یہ  کہتے ہوئے  اس نے   میری کلائی پلٹی  تو  اس  پہ میرے نام کا مخفف  درج  تھا  ” کے بی ” وہ جانے کیا بول رہی تھی  مگر میں  یکدم     گھبرا گیا تھا ، ایک جھٹکے سے  کھڑا  ہوگیا  اور بولا .  ڈرامہ  ختم  ہوگیا ہے  یا  کچھ  نوٹنکی ا بھی باقی  ہے ؟  ہر گاہک  کے ساتھ نام بدلتی ہو  گی ..سو  روپے  میں  اچھا شغل لگا لیتی ہو !  میں نے محسوس  کیا  کہ   وہ   ان جملوں    کی اذیت  سے سفید پڑ  گئی تھی .  میں جانے  کیلئے     پلٹا   ہی تھا  کہ   اسنے مجھے کہنی   پکڑ  کے روکا  اور  کہا ، صاحب  ابھی   پیسہ  وصول  نہیں ہوا .  ایک کونے  میں رکھے کرسٹل بال کی طرف اشارہ  کرتے  ہوئے  لجاجت سے  بولی ،قسمت  کا حال  جانیں  گے  یا   گانا سنیں گے ؟ اسکی   جھلملاتی  آنکھوں  سے سرکتے  ستاروں  کو دیکھ کے  میں پگھل  گیا  اور نرمی سے   بولا ، بتاشہ  گانا بھی گا لیتی ہے   ؟ تو   وہ  چہک اٹھی . جونہی ایک پاؤں پہ گول گھومی  تو  مجھے لگا   دنیا نے   اپنے مدار  پہ گھومنا اسی   نازنین سے  سیکھا ہے . کب اس نے   چترالی  ستار  کی دھن   بکھیری، کیونکر اس نے مجھے  دیوان  پہ   مسکن کیا  ،   مجھے کچھ یاد نہیں . اگر  کچھ  یاد رہا  تو اس   کاہنہ   کی دلبری اور مسحور کن موسیقی .  جانے  کتنی دیر میں دم بخد  رہا  .وہ   تھم بھی گئی   تو طلسم  نہ ٹوٹا  . پاس آ کے بولی ، تم میرے ساتھ چلو گے ؟ میں نے  نشے  میں پوچھا ، ” کہاں ”  بولی ،” پہاڑوں کے اس پار !”

یہ بھی پڑھیں:دوسری موت 

میں ناران تک ہی گیا تھا  پوچھا  ، سیف الملوک ؟  اسنے نفی میں سر ہلایا  اور میری  تھوڑی  اپنی چٹکی  میں لے کے بولی ، اور بھی آگے  محبت   کے سفر   پہ ! مجھے یکدم اپنے پاپا کہنے والے دو بچے یاد آ گئے .سیدھا  اٹھ بیٹھا اور  سنجیدگی سے بولا ، میں کمٹڈ  ہوں ، دو بچے  ہیں .  اسنے   میری جانب  بغور دیکھا اور کہا،   تو ؟  اب میں واقعی  سٹپٹا  رہا تھا .. گھبراہٹ  سے سانس سی اکھڑ نے  لگی تھی. کہنے لگی ، میں محبت میں قناعت  کی قائل نہیں  وہ رشتے  جو بوجھ  بن کے  ہمیں آزردہ  کریں   ان سے  آزاد ہوجانا بہتر ہے . مجھ سے کچھ بن نہ پڑی  تو میں ہکلایا ، میں  ایک   بورنگ سا   آدمی  ہوں لگی بندھی کا عادی  . وہ کھلکھلا  کے ہنس  پڑی اور مجھ پہ ہی آ ٹکی .. نیم وا آنکھوں سے بولی ، واقعی ؟   تم کو نہیں  لگتا  کہ ہمارا ملنا قدرت  کا اشارہ  ہے ؟ جانتے ہو میں کوسوں   دور  سے تم کو اپنا  آپ سونپنے  آئی  ہوں ؟ میں  اسے ہلکے سے دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا ، بولا  بہت  دیر  ہو چکی  ہے. اس نے ملتجی ہو کر پوچھا ،کل آؤ گے ؟ میں نے  نفی میں سر ہلا دیا .  اس نے  میری کلائی  پہ گدے  ” کے بی ” کو چوما  اور  بولی

میں اب نہیں  لوٹوں گی ، لیکن   میری  یاد ستائے تو   چاند  کی چودھویں رات  اس  سمندر کو دیکھ لینا ، میں بل  کھاتی  اٹھان لیتی    لہروں  پہ سفر کرتی  ملوں گی ، یہ اپنے ساتھ بہا لیجانے کا فن تو جانتی ہیں  مگر تجاوز  نہیں کرتیں . خدا ئے   پا مان .

میں  سوچتا آیا    کہ لہریں  تجاوز کر جائیں  تو تباہی کے نقش  چھوڑ  جاتی ہیں .

آج دس برس  بعد بھی   میں    بیچ  ہاؤس  میں کھڑا   پاش  ہوتی  لہروں کو تک رہا تھا  ، کہ کاش  انکی آغوش  میسر  آ جائے .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عکاسی:صوفیہ کاشف

رکی هوئی صدی. اذ سدرت المنتہی

میں نے کہا “آو کہ تمهیں بتاوں کہ یادیں تو مجهے بهی نهیں چهوڑتیں

یوں لگتا ہے جیسے کوئی لمحہ من میں ہی رک گیا هے-

زندگی چل رہی هے .وقت کی ڈور کهسکتی جارهی هے.

میرے قدم مجهے راستوں گهسیٹتے جارهے هیں..اور راستہ طویل تر هوتا جارها هے.

میں تو چلتا رها هوں..مگر میرا دل ..

دل کہیں رکهہ کے بهول آیا هوں.۔

میرا دماغ ..جسے سوچ خلائوں میں اڑائے پهرتی هے..جو هاتهہ ہی نهیں لگتا.

اور میری روح..لگتا هے میری روح کسی سو سال پرانے درخت کی جهاڑیوں میں پهنسی هوئی هے. .تڑپتی تو هے ساتهی…مگر رهائی نهیں پاتی..

میں اپنی روح کی طرف بارہا مڑ مڑ کر دیکهتا هوں .مگر اس تک قدم جا نہیں پاتے..سفر تو چل رها هے..جیسےجیسے میرے قدم راستوں میں بڑهتے هیں..اپنی روح سے بچهڑتا جارها هوں ..معلوم هوتا هے جیسے مرچکا هوں…اور سچ پوچهو تو دوست مر ہی چکا هوں”.

کہنے لگی . “کتابیں پڑهنا تو چهوڑدی ہیں..پھر بهی ایسی باتیں کرتے هو.اس قدر بے چین رهتے هو.

پہلے تو ایسے نہ تهے…یاد ہے کبهی زندگی سے بهرپورگفتگو ہوتی تهی..

کتنے ہی پرجوش رہا کرتے تهے.اور پر امید بهی..

اب تو سب کچهہ مل بهی چکا هے…اسکے باوجود اتنی بے چارگی..اس قدر تشنگی..ایسی بے بسی کیوں آخر..؟؟”

” سب کی فهرست میں کیا کچهہ رکها هے بهلا؟جانناچاهتا تها

وهی جو تمهاری ضرورتوں میں کبهی شامل رہا هے….گهر.ملازمت..اورپیسہ.”

وہ مجهے اپنی ضروریات گنوارہی تهی..اور میری ہنسی چهوٹ گئی.

بس دوست..خواب محبت اور روشنی کو کس جرم کی سزا میں میری فهرست سے تم نے نکال پھینکا ہے

“شکوہ کیسے نہ کرتا

تمهاری ترجیحات تو فقط یہی چیزیں تهیں .جو میں نے تمهیں گنوائی ،باقی سب تو کتابوں میں رکهہ کے بهول چکےایسے کے صفحہ نمبر تک یاد نهیں..

مانتی ہوں کتاب تو میں بهی اپنی پرانی شیلف کے خانے میں بہت سی کتابوں کےدرمیان رکهہ کے بهول چکی هوں.اب اگر ڈهونڈنا چاہوں بهی تو مل نہ پائے.

ویسے بهی اتنا وقت ہی کہاں کہ پرانی شیلف کا بند خانہ کهولوں..یہ بهی ڈر هے کے کہیں پهر سے کتابوں میں گم هوجائوں گی اور اس بار کهوئی تو خود کو بهی مل نہ پائوں …گهر والے تو ڈهونڈتے هی ره جائیں گے.

خود سے تو کسی حد تک بچهڑ چکی هوں..مگر گهر والے نهیں کهو نا چاهتے..کیوں کے میرے سوا کتنے گهر کے کام ادهورے رهتے هیں..

اسی لئے ۔۔۔۔۔۔۔..بس خود کو گهر کے کاموں میں گنوایا هے..

میں نے سوچا شاید خود کو بهلاتی هے..مگر کسی حد تک ……..سچ بهی تها..

تو تمهارا دل گهر کے کاموں میں لگ گیا هے.(.یا پهر میری طرح کتاب کے صفحہ نمبر نا معلوم میں اپنا آپ رکهہ کے بهلاچکی هو)وگرنہ تمهاری مصروفیات گهر تک تو محدود نہ تهیں..

کھوٹے سکے اذ صوفیہ کاشف:یہ بھی پڑھیں
میری بات پر جانے کیوں هنس دی.

کہنے لگی دل کهیں تنہائی میں ہی کهوگیا هے .

میں نے کہا ڈهونڈ لاوں؟

تو کیسے…کہاں سے

کہنے لگی .تنہائی میں ملنا.

بتایا وہ تو ملتی ہی نهیں هے اسقدر مصروف رهتاہوں..کیا کروں دوست..

ملازمت بهی تو کرنی هے..گهر چلانا ہے

تهکا ہوا لوٹتا ہوں اور اماں کی وہی پرانی شکایتیں شروع..

نہ معلوم ماں کب خوش هوگی..حج کرکے آئی ہیں..بہن کی شادی میری ملازمت ..سب اچها چل رہا هے..مگر..

کہنے لگی ماں کیا کہتی ہے؟

بتایا کے کتنی ہی شکایات ہیں..

سر فهرست یہ کے شادی کیوں نہیں کرتا..

گهر کے لئے وقت نہیں..اپنا خیال نہیں رکهتا.

جب اپنا خیال رکهنے کی خواہش تهی تب….

کیا بتاؤں اب کے فرصت میں یادیں ڈسنے لگتی ہیں..گهر میں رہوں تو گهر کی دیواریں کهانے کو دوڑتی ہیں..جان بوجھ کر بهی خود کو مصروف رکها هے.پهر سے تنهائی میں گم هونا نہیں چاهتا..دل کهوچکا هوں

خود کو کهونا مهنگا پڑے گا..زندگی بهی تو کاٹنی هے

مدهم مسکرائی..پگلے..ماں بچوں کی خوشی چاہتی هے..اسکی خواہش نا جائز نہیں..کہا مان لو..پہلے انهیں تمہاری لاپرواہی نے پریشان کیا اب تمهاری تنهائی انکو کهاتی هے..

شروع سے ماں کی طرف دار تهی..اب بهی وهی کر رهی تهی..میں ہنس بهی نہ سکا…جانتی بهی تهی کے اپنی خواہشوں کا مارا هوں..ماں کی خواہش کا بوجهہ بڑا هے

تم بتاو دوست زندگی کیسی گزر رهی هے؟”خود سے اس تک آنے میں بڑی دقت تهی.

کهوگئی ایک بار پهر ..

زندگی میرے کمرے میں سانس لیتی هے.کتابوں کی شیلف میں قید زندگی هے

میرے سنگل بیڈ پر سوئی زندگی هے

گویا کے زندگی بدل گئی..تم نہ بدلیں.ہنسی اس پر آئی یا زندگی پر سمجهہ نہ سکا.

مدهم ہنسی..اور پهر چپ کا لمحہ..کہنے لگی..

!زندگی لاکهہ بدلے محبت رنگ نہیں بدلتی..

یاد آیا..مجهے زندگی اور خود کو محبت کہنے والی..

محبت اداس تو کردیتی هے.کیا کہتا

کچهہ تو دیتی هے نا. اسی میں خوش تهی

سب کچهہ تو چهین لیتی هے.مجهے اختلاف تها.

اپنا آپ تو سونپتی هے نا..تکرار ثابت تهی

کیا کروں دوست.مانا کے سب کچهہ هے مگر جو نہیں وہ محبت هے.مجهے اپنا دکھ رلانے لگا.جو اس سے وابستہ تها

دوست تمهارے احساس سوئے پڑے هیں. کوئی پرانی کتاب کهول کے دیکهو محبت وہیں ملے گی.فکر مند ہوگئی.

دوسری موت اذ حمیرا فضا :یہ بھی پڑھیں

بتایا جو ہے وقت کا محتاج هوں اور سکون کے لئے ترستا ہوا جب باهر نکلوں تو سڑک پر گاڑیوں کا شور سکون اڑادیتا ہے..روڈ پر نکلتے ہی عجیب خوف گهیرے میں رکهتا هے۔ لاشعوری طور پہ روڈ ایکسیڈنٹ میں کچلا گیا هوں. سچ پوچهو تو میں

لاوارث لاش کی طرح بے شناخت پڑا ہوں..ہر گاڑی مجهے کچل کے گزرجاتی هے

بڑی مشکل سے خود کو مردہ خانے تک لایا ہوں..جہاں شناخت کے انتظار میں رکهی بدبو کرچکی هے ایسی بدبو جو کبهی زندگی

میں محسوس نہ ہوئی تهی..ایسی بدبو

اس خیال نے عجیب ناگوار احساس بهردیا.

خوشبو اور بدبو کا ملا جلا تاثر عجیب تها

بدبو ..جو میری لاش میں تهی

خوشبو ‘جو اس کے لہجے میں تهی

سحر جو اس کی آواز میں تها..جس نے صدا جکڑے رکها.

دیکهو دوست..ایک کام کرنا مجھے بے شناخت نہ مرنے دینا..مربهی جاوں تو شناخت کرنا..دیکهو کتبہ بهی لگانا..محبت کے نام کا

میری بات سن کر خوف زدہ ہوگئی..کہنے لگی محبت نہیں مرتی دوست .تم ایسی باتیں نہ کرو. دیکهو بم دهماکوں اور اغواہ کے کیس سے ڈر کر پہلے ہی باہر نکلنا چهوڑچکی هوں…ٹی وی اخبار تک سے ناطہ توڑ لیا هے

گهر کے کاموں میں خود کو الجهایا ہے

کیا بتاوں کہ کبهی چائے کے پانی میں آنسو مل جاتے هیں. چائے کڑوی زہر بن جاتی هے.گهر والے کہتے ہیں چینی کی جگہ زہر ملادیا..کیا بتاوں کے آنسو زہر کیوں بن جاتے ہیں

کبهی خواہشوں کو هنڈیا میں پکاوں ..بهونوں تو عجب رنگ نکهرتے ہیں۔ بریانی کے چاولوں میں رنگ ملانے کی ضرورت نہیں رہتی..باورچی خانے میں خواہشوں کی خوشبو بکهرنے لگتی هے.

گهر والے کهانے میں ملی خواہشیں بهی کهاجاتے هیں..

بچی ایک محبت ہے جسے کتابوں میں چهپادیا هے.گهر میں کسی کو کتاب کا چسکہ نہیں .. جس لئے محبت تک رسائی ناممکن ہے

سجدہ سہو اذ صوفیہ کاشف یہ بھی پڑھیں!
اسکے لہجہ کا سحر اداس تها
میں نے محبت کا بوجھ ڈال دیا…یے بتاو مل سکتی هو..؟بتاچکی هوں گهر تک زندگی سمٹ گئی هے ..پهر سمندر کنارے مشینی دور کی باتیں کرکے کیا ملنا هے

محبت پانی میں بہہ جائے گی.سمندر کی تہہ تک اترجائے گی۔۔ پهر نہ ملے گی…لہروں سے بهی ڈرتی ہوں…

جبهی دور سے تماشہ کرتی لہر کو دیکهہ کے بهاگتی تهی..

چلو پهر کہیں صحرا میں ملیں..دوست ویسے بهی مشینوں نے ریاضی کے حساب کی طرح الجهایا ہوا ہے..اور سمندر کی خوف ناکی تو مجهے بهی ڈراتی هے.

تمهیں لاکهہ بتایا دوست کہ محبت کتاب میں قید ہے.کهولوں گی تو سپنے سوکهی پتیوں کی طرح بکهر جائیں گے.خواہشیں بے رنگ اور خواب پهڑپهڑاتے هوئے پر نکال کر اڑجائیں گے..

میں نے کها دیکهو دوست..پتهر کے دیس میں ملتے ہیں..

کیوں کہ ڈرتا ہوں.تمهیں پهر سے کهودینے سے

دیکهو محبت کی بات کریں گے تو کبهی زندگی پر .وہاں جاکر محبت کو کتاب سے آزاد کریں گے..لہجے محبت کی روح بهر کے آباد هوجائیں گے.لوٹیں گے تو محبت کی چاشنی میں لہجے ڈوبے ہونگے..زندگی کے لئے آسانی لائیں گے..محبت بانٹیں گے تو مسائل کمزور ہونگے.

میری ضد پر راضی ہوئی..محبت کی خاطر پتهر کے دیس میں ملاقات کے لئے حامی بهرلی.—————–

پتهر کے دیس میں ملا تها

محبت کی بات کرتے ہوئے کہنے لگا…

سنو..!دوست..ہمارے مسائل محبت کو کهاگئے هیں

کس قدر کهوکهلے ہوگئے ہیں..میں تو سوچتا ہی ہوں..کیا تم نے کبهی سوچا اگر سو سال پہلے پیدا ہوتے..اور محبت ہوتی تو مسائل کتنے مختصر ہوتے..

میں نے کہا دیکهو …سوسال پہلے بهوک محبت کو کهاجاتی دو ویلے کهانے کی پریشانی ساتهہ لے کر جنگل بیابانوں میں پهرتے..

کہنے لگا بهوک کا مسئلہ تو آج بهی زندہ هے

میں نے بتایا دیکهو محبت همیشہ مسائل کے بیچ ہی جنم لیتی هے..

کہنے لگا کیا بهوک کا مسئلہ سو سال بعد بهی زندہ رهے گا ؟؟پهر تو دوست اور بهی شدت اختیار کرجائے گا یہ مسئلہ..دیکهو ..پہلے انسان کی بهوک دو ویلے تک محدود تهی…

اب گاڑیوں مشینوں بنگلوں کی طلب نے آلیا..دن بہ دن بهوک کی شکلیں بدلتی جائیں گی..جتنا روپیہ بڑهے گا بهوک اس سے ایک قدم آگے چلے گی..

وقت کے ساتهہ ساتهہ ضرورتوں اور خواہشوں کا سمندر پانی کے سمندر پر بچهتا جائے گا….اور سمندر کا پانی مزید کهارا هوتا جائے گا

دنیا کی آبادی بڑه رهی هے..پهر گهٹتی جائے گی..زمین سمٹتی جاتی هے..دیکهو کتنی جلدی لوگ پیدا ہورہے ہیں…اس سے کہیں زیادہ جلدی مر رهے هیں..

محبت ابهی کتابوں میں ہے…پهر خوشبو بن کر ہواوں میں اڑجائے گی..اور آہستہ آہستہ لوگ محبت کے نام سے نا آشنا ہوجائیں گے..

احساس کو ہوس کی بهوک کهارہی هے..بهوک صرف روٹی نہیں..محبت بهی کهاجاتی هے..

میں چپ هوئی..وہ ڈر گیا..

کہنے لگا آو کہیں بهاگ چلیں…محبت کو تو ہر هال میں بچانا هے..

چلو سمندر کی تہ میں اترجاتے هیں..

میں کیا کہتی…سمندر کی مچهلیاں کهاجائیں گی..پتہ بهی ہے کے چهوٹی مچهلیوں کو بڑی مچهلیاں کهاجاتی هیں..

سوچ میں پڑگیا…چلو پهر خلاء میں اڑجائیں..
کہا بهی کہ گهٹن ہوگی..

کہنے لگا سو سال بعد محبت کرتے تو بهی خلاء میں ہی گهر بنانے کی خواہش ہوتی .سیاروں کی سیر کرتے..پهر اب کیوں نہیں..؟

دیکهو دوست..هم زمین کو چهوڑ کر کہیں نہیں بس سکتے..کیا سیارے پر ہمیں…بادل بارش..موسم مل سکے گا. کیا اناج پانی درخت هونگے؟

پهر محبت کا جو قحط پڑا تو زندہ رہنے کے لئے کیا ره جاتا هے.

اور ویسے بهی دوست..ہماری مستیاں زمین ماں نے برداشت کی ہیں..کوئی بهی سیارہ ہمارے گناهوں کا بوجهہ اپنے سینے پر نہیں سهارپائے گا..ایک ہی غلطی پر دربدر کیا جائے گا ہمیں..

>ل کہنے لگا : وهاں ہم دهماکہ تو کیا گولی تک نهیں چلاسکتے..یہاں تک کہ اکڑ کے چل بهی نهیں سکتے…

دیکهو !پهر بهی زمین سے تو امن ہی هوگا ناں!,,,,,,

بڑا دکھ ہوا ۔سمجهایا اسے کے دیکهو ماں کو چهوڑنے کی بات نہ کرو..ماں کی گود هماری پہلی اور آخری پناه گاه هے..

اس کے دامن میں امان هے..وہ تو بس همنے هی خود کو کئی خواحشوں کی حسرت اور ضرورتوں کی کثرت میں اجهایا هے

> سب مل بهی جائے .جو نهیں ملتا وہ سکون هے

ٹهیک هے ساتهی..پر زمین تو هر جگہ سے ایک سی مگر انسان شکلیں زبانیں بولیاں ..کلچر تهزیب رنگ و روپ کیوں الگ هے؟

سوال اچها تها.

میں نے کها سارے فطرت کے رنگ هیں.سب کچهہ الگ سهی مگر.احساس سب کے ایک هیں زندگی ایک هے جیسے .محبت ایک هے

محبت کی بات پر مسکراتا تها

کهنے لگا هم ایک دوسرے سے نفرت کیوں کرنے لگ جاتے هیں؟

میں نے کها بهٹک گئے هیں کهنے لگا زندگی کے بارے میں کهو..

میں نے کها مجهے اور خود کو دیکهو. آسمان اور زمین کو دیکهو..

کهنے لگا نگاه اوپر نهیں اٹهتی..

راستوں کی ٹریفک میں اجهہ جاتا هوں..

زمین کو دیکهو تو چکنی مٹی کی خوشبو اپنی طرف کهینچتی هے..

سمندر میں دیکهوں تو مچهلیاں پکڑنے کا شوق ڈبوتا هے

خواحشیں اور ضرورتیں آپس میں اجهی هوئی هیں ..سلجهانے بیٹهوں تو رات گزرجائے..ایک رات صدی برابر حساب لیتی هے..بهت الجها هوں

یے تک بهلا بیٹهے کے کس مقصد کے تحت آئے تهے.

اور یے بهی کے پتهر کے دیس میں وقت رک جاتا هے

اور اب لگتا هے جیسے پتهر هوچکے هیں..

ساتهی ہم تو محبت کا عهد لیکر پتهر کے دیس میں آئے تهے..پهر کیا هوا؟یے همارے بال کیوں سفید هوگئے..

کیا صدی گزرگئی؟

ساتهی میری طرح حیران تها..اور میں پریشان..مگر یهاں تو وقت نهیں چلتا..هم بوڑهے کیسے هوئے؟

ہم واقعی صدی کے شروع میں یهاں آئے تهے..اور اب صدی اختتام کو هے..

زمین کی زندگی بهت تیز رفتاری سے آگے نکلتی جارهی هے.

ساتهی کیا اب زندگی کو محبت کی ضرورت نہ رهی هوگی..؟اس کا مسئلہ محبت تهی..

میں نے سوچا محبت خوشبو بن کر هوائوں میں بکهر گئی هوگی..اب تو کتاب سے علم بهی اٹهہ چکا هوگا.

وہ کهنے لگا میں نے کچهہ آوازیں سنی هیں..لوگ کهہ رهے تهے هم ایک صدی سے اسی پتهر پے بیٹهے تهے..اور یهیں پتهر هوگئے

کیا هم صرف سن سکتے هیں ساتهی…کسی سے بات نهیں کرسکتے.؟محبت سے بهی نهیں؟مجهے بهی محبت کا مسئلہ تها.

میں اسی صدمے میں تهی وہ بولا

ساتهی زندہ مردے بولتے هیں مگر ان کی بات کوئی نهیں سنتا.

دیکهو هم هل نهیں سکتے..چل نهیں سکتے..هم پتهر هیں…اور صدی ..

اسنے مجهے چهونا چاها تو پهر سے پتهر کا هوگیا اور صدی پهر سے جهٹکا کهاکر رک گئی..جب کوئی کسی کو چهونا چاهے تو وہ پتهر کیوں هوجاتا هے..کس سے کهتی..لفظ اور.احساس کی موت هوچکی تهی.

لوگ آتے هیں همیں دیکهتے هیں..بولتے هیں..

هم سنتے هیں..مگر بول نهیں سکتے..بولیں بهی تو کسی کو سنائی نہ دے

هم هل نهیں سکتے کیوں کے هم پتهر هیں…اور صدی بهی رکی هوئی هے.

مگر محبت سارا اسی کا مسئلہ ہے-

—–

Breakfast at La brioche,Dalma Mall, AbuDhabi

La brioche is always a beautiful place and my personal favourite for a French style breakfast, coffee or a party with friends.It is as serene in the Dalma mall for a breakfast as in Khalifa city, AbuDhabi, as all the stores or entertainment spots around weren’t opened yet.While long walk ways were quite and lazy on a  Friday morning we  rushed to La brioche, Dalma mall for  breakfast as I was getting late for my some official work.

Services:

  • Quick
  • Polite
  • Helpful

(We were in a rush so I request them to be quick in serving and to my surprise,they were actually!)

Sitting area:

  • Beautifully decorated
  • Intimate space
  • Instagram friendly
  • Outdoor seating
  • Spacious place
  • Comfy sofas

check review about giraffeyasmallAbudhabi

Menu:(breakfast)

  • French bakery
  • Eggs
  • Healthy eating
  • Omletts
  • Croissants
  • Granola

Menu we choose:

  1. Kids meal:(French toast+fresh juice)
  • Ample
  • Served with fresh juice
  • Perfect in taste
  • Soft
  • Beautiful presentation
  • Sumptuous

2.French Toast:(regular breakfast)

  • Very soft,
  • ample
  • served with strawberries and cream
  •  more than you actually need!
  • Perfectly toasted

Watch: Mugg&beans,khalifa city, AbuDhabi 3.shia seed delight:(healthy eating)

It’s a yummy fruitful healthy options: a Shia pudding is

  •  mixed with coconut and soya milk,
  •  loaded with berries,grapes and orange and
  • grated roasted pistachio gives a  seducing taste.
  • The presentation is as beautiful as the delish taste and health it offers.
  • for me I mostly prefer healthy eating as it keep my calories guilt on a controlled level.
  •  Verdict:
  • Beautiful place
  • Affordable prices
  • Ample servings

Check website:

http://www.labriocheuae.com/

Intuition body scrub by H&M

About beauty products,I am very anxious.i prefer quality over quantity.Thats the way I deal with pricy products,buy two than four but go for credibility and authenticity.This time which products I tried it was so good in results with a just little expence.

What is it?

A clarifying scrub that buffs and revitalises all skin type, made up of Apricot Seeds & Green tea Extract

How to use?

In the bath or shower, massage onto your skin with circular motions and rinse thoroughly.

check review:nailstation
 

Results:

The grainy thick scrub leaves your skin Outstandingly soft and moisturised with a refreshing fragrance of Apricot seeds on your body,and this effect is real not only acclaimed.Its perfect for an environment so full of air-conditioning, humidity and splendid sun.This scrub really worth your money.

 

Price:

Price:

Dhs:69           KD:5.900

OR:6.900.      BAD:6.900


Sale deal:

The sale season is offering this scrub with as low price as 15 aed.Sale is on in store and online till stock last,so go and grab your stock.such a little expence will give you an outstanding experience,I bet!

Website:

shoponline

Giraffe,Yas,AUH

Cuisine: international;

 a blend of best tastes around the globe

check the review:Leopold’s of London,AbuDhabi

Sitting and surrounding:

  • Comfy couches and chairs
  • A real kitchen effect with brown and cream colour scheme.
  • Open and private areas
  • Open dinning area in avenue
  • Surrounded and rushed
  • In the center of  Yas mall life

Review:Mugg@Bean


Kids Meal:

  • One main+  drink +dessert=45aed
  • You can order separately
  • Burgers are bigger than average size in kids meals
  • Fresh Juices with meal is another plus
  • Either they don’t have color pages for kids or they forgot to offer us
  • They offer  a little sitting area for toddlers as well.
  • One of best kids meal

Review:The Yellow Chilli by Sanjeev Kapoor

Main course:

  • Chicken Cesare salad(65aed)
  • Kati roll….(50aed)
  • Pomegranate tea (26aed)

Review: Shake Shack

Kati Roll
Chicken Caesar Salad

Verdict:

  • Kati roll is mouthwatering and delish,a dish of Indian taste.
  • Beautiful presentation
  • Caesar salad is good too
  • Iced tea jar was amazing
  • Prices are quite equal to chilli but the serving sizes are smaller.

    Pomegranate tea

Services:

  • Good
  • Polite
  • Need a little more keenness

Locations:

  • Dubai

 

 

 

 

 

 

  1. Dubai international terminal 1, concourse D
  2. Dubai international terminal 3 concourse A
  3. Dubai international terminal 3, concourse B

 

  • AbuDhabi

 

 

 

 

 

 

  1. Yas Mall AbuDhabi

 

Website

 

 

 

 

 

 

https://www.giraffe.net


غزل

گردشِ جاں میں رہے چاند ستارے یارو
ہم نے ایسے بھی کئی دور گزارے یارو

ہم نے رکھا ہی نہیں سود و زیاں کا سودا
ہم نے سہنے ہیں محبت میں خسارے یارو

رنج دیتے سمے اتنا تو فقط سوچتے تم
ہم بھی تھے ماں کے بہت زیادہ دلارے یارو

اور ہم ہنس کے سبھی ٹال دیا کرتے تھے
غیب سے ہوتے رہے ہم کواشارے یارو

تم سے بچھڑے توکبھی لوٹ کے دریا نہ گئے
منتظر اب بھی ہیں وہ سارے کنارے یارو

ہِجر کی آنچ کو سہتے تو زمانے گزرے
نقش تو بعد میں کاغذ پہ اتارے یارو

وقت پڑنے پہ کوئی کام نہ آیا اپنے
ہم سمجھتے تھے کہ سائے ہیں ہمارے یارو

ہم نے مرنے کا بھی سامان کیے رکھا ہے
ہجر ایسے کہیں بے موت نہ مارے یارو

رابعہ بصری

________________

فوٹوگرافی:خرم بقا

Advertisements

مارگلہ ہلز میں فطرت کے نظارے

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کردیا

راہِ عشق میں بھی کیا پیچ و خم ہوں گے جو کل کی رہگزر نے ہمیں دِکھلا دیئے۔۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ کل ہمارا فن ڈے تھا ۔ عمر کے اس حصے میں ہمیں تفریح کسی راشن کی صورت ہی میسر آتی ہے یعنی سنڈے کے سنڈے۔۔۔ اس لیئے بچے تو نہ اٹھے ہم بہرحال جوتے موزے پہن کے تیار ہو گئے۔ یہ خاص گیٹ اَپ اس واک کے لیئے تھا جس پہ ہمیں جانا تھا۔ ظالموں نے کہا تھا ساڑھے تین میل کی واک ہوگی ہم ٹہرے ‘نو’ جوان سوچا اُڑتے اُڑتے جائیں گے پہاڑوں میں ، مُنال میں بیٹھ کے لنچ کریں گے اور کروز کرتے ہوئے لوٹ آئیں گے پھر بچے کچے سنڈے کا بھی شرارتی ذہن نے کچھ سوچ رکھا تھا۔۔۔۔ مگر ۔۔۔ جو ہمارے ساتھ درگھٹنا ہوئی اس کی بابت پوچھیں متی!!

ایشین اسٹڈیز گروپ کے زیرِ اہتمام مخنیال کے مقام پہ ایک hiking trail ہے جس کو
Second ridge of Margalla Hills
بھی کہا جاتا ہے، جہاں ہمیں ایک ٹولے کی صورت میں لیجایا گیا۔ جاپانی باغ پہ پہلا پڑاؤ تھا جہاں پہ نصب جاپان کے تحفے میں دیئے گئے جھولے آج بھی اپنی پائداری کی مثال رقم کر رہے ہیں کہ انکا ‘ نام ہی کافی ہے’ دل نے چاہا کہ ہم بھی جھوٹے لے آئیں مگر لوگوں نے روایتی پاکستانی ہونے کا ثبوت نہ دیا اور تقریباً وقت پہ ہی پہنچ گئے۔ سب نے ایک دوسرے سے علیک سلیک کی اور اندازہ ہوا کہ یہ بڑے دلچسپ لوگوں کا گروپ ہے جو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان میں ایک قابل ذکر شخصیت تھے، خالد صاحب ۔ میرا نام پوچھا اور جان کے بڑے خوش ہوئے، میں نے قریب کھڑے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ میرے نام میں یہ والے خالد شامل ہیں۔ انہوں نے چھوٹتے ہی جو سوال کیا وہ پیٹ پکڑ کر دہرا کرنے کے لیئے کافی تھا۔ فرمایا ، آپ کے ازواجی تعلقات کیسے ہیں ؟ خالد بھی سٹپٹا گئے جن کو ہماری ساتھی گڑیا نے ریسکیو کیا اور کہا کہ میں ان دونوں کی قریبی دوست ہوں اور یقین دلاتی ہوں کہ بہت اچھے ہیں تو انہوں نے کمال اخلاص سے یہ بتایا کہ یہ ان ناموں کا ہنر ہے جو انسانوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔

مخنیال کے گاؤں پہ پہنچ کر ہم نے اپنے حوصلے کو مزید پختہ کیا اور پیّاں پیّاں چھیّاں چھیّاں چل پڑے۔۔۔ اب چونکہ ہمارے گروپ میں زیادہ تر ہائکرز ، فوجی ، پروفیسرز ، پینٹرز اور شوقیہ حضرات تھے سب اپنی اپنی پیس پہ چلتے ہوئے آگے نکل گئے اور ہمیں ہمارا سیلفی کا شوق لے ڈوبا جو ہر خوبصورت نظارے ۔۔۔ درختوں کے درمیان سےچھنتی ہوئی روشنی۔۔۔۔ خشنما پودوں۔۔ اور رنگین تتلیوں کو دیکھ کے مچل جایا کرتاہے۔۔۔کتنے ہی دلربا لمحے صحیح اینگل نہ ملنے پہ رائیگاں گئے۔۔۔ اور سنسان جنگل میں کھو جانے کا ڈر ہمیں چلنے پہ مجبور کرتا رہا۔
ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس رہگزر پہ ایک ایسا بھی مقام ہے جہاں سے خانپور ڈیم اور راول جھیل کا بیک وقت نظارہ کیا جا سکتا ہے، ہم چل چل کے خچر ہوگئے ،آنکھیں پتھرا گئیں ، دل ڈوب گیا مگر وہ مقام تھا کہ سراب تھا۔۔۔ مل کے نہ دیا ۔ منیر نیازی یاد آگئے۔۔

یہ اجنبی سی منزلیں یہ رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

یہ دنیا کہ وہ ساڑھے تین میل تھے جو پورے ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔ ہم نے بھی کیونکہ ٹھان رکھی تھی اس لیئے روتے پیٹتے چلتے چلے گئے جس سے مراد ہمارا بے سرا ترنم بھی ہے۔۔۔
راستے میں ایک چشمہ آیا جہاں سے ٹھنڈا پانی پیا اور چند لمحوں کے لیئے سستائے بھی ۔۔ ایک کرنل بھائی نے ہمیں اپنی واکنگ اسٹک آفر کی جو ہم نے اپنے ‘ینگ لُک’ کا بھرم رکھنے کے لیئے مسترد کردی اور باقی سارے رستے آنکھیں اس لکڑی کو ڈھونڈتے گزریں جو ہماری مدد کر پاتی۔۔۔
یوں اللہ اللہ کرکے وہ موڑ کہانی میں اس ٹوئسٹ کی طرح آیا جب ہمیں اسکی کوئی تمنا نہ رہی تھی۔۔۔۔ دیکھا تو سامنے ایک مسحور کن سا نظارہ تھا جس کو اچانک آئے بادلوں نے اور بھی پر کشش بنا دیا تھا۔ منہ سے سبحان اللہ صدقِ دل سے ادا ہوا۔۔۔ ابھی ہم دل ونظر میں اسے قید کر ہی رہے تھے کہ کسی نےآواز لگا کے بتایا کہ ابھی آدھا راستہ ہوا ہے فوراً ہی مَنوں پانی پڑ گیا اور دوسرا فقرا جو ادا ہوا وہ ہائے اللہ تھا جو کہ از خود ہی ودر بنتا جا رہا تھا۔۔۔
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے

مرتے کیا نہ کرتے پھر چل پڑے۔ بھیڑ چال کیا ہوتی ہے اس کا مطلب کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا تھا۔
جس چیز نے ان دُکھتے اوسان کی مسیحائی کی وہ اونچے اونچے قد آور صنوبر کے درختوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی ہوا کی جھرنوں جیسی آواز تھی ۔
ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پریوں کا ایک طائفہ کہیں بیٹھا جلترنگ بجا رہا ہے اور جا بجا رنگ برنگی تتلیاں محوِ رقص ہیں ۔۔۔
زاہد نے میرا حاصلِ ایماں نہیں دیکھا
رخ پہ تیری زلف کو پریشاں نہیں دیکھا
سکون ایسا تھا کہ دل کے دھڑکنے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی جس نے دھیرے دھیرے خیالات کے شور کو بھی باہر کے سکوت کیساتھ ہم آہنگ کر دیا تھا۔۔۔ سادھو سنت کس امن کی کھوج میں جنگلوں کا رخ کیا کرتے ہیں خوب آشکار ہو رہا تھا۔

یہی وہ مقام تھا جب بہزاد لکھنوی کی وہ غزل اپنے آپ گنگنائی کہ
اے رہبرِ کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

ہمارا گروپ ہم سے پچیس منٹ پہلے پہنچ کے سستا چکا تھا۔۔۔۔ اور ہمارا منتظر تھا۔ اپنے ساتھ جو اسنیکس لے کے گیا تھا وہ بھی کھا چکا تھا۔۔۔ پھر بھی بہت محبت سے پھل ، بھنے چنے، چپس اور کنڈیز پیش کیں۔۔۔ وہاں مجھے نئے دوست خالد صاحب نے مشورہ دیا کہ مجھے روٹی ترک کردینی چاہیے اور دودھ پینا چاہیئے۔۔۔ جو میں نے مسکرا مسکرا کے قبول کیا ۔۔۔ واپسی کا سفر جانے سے بڑھ کے تکلیف دہ تھا مگر ہماری ہمت بندھانے کے لیئے گڑیا ساتھ تھیں جو جوان مردی سے سب سے آگے چلیں اور رک رک کے ہمیں آوازیں دیتی رہیں ۔۔۔ ہمارے والے خالد یہی کہتے رہے سوری ڈارلنگ آئندہ نہیں لاؤں گا اور پورا راستہ سفری سامان اٹھائے ہمت بندھاتے رہے۔۔ اور ہم خراماں خراماں مست سی چال چلتے عصا موسی جیسی لکڑی کا سہارا لیئے گامزن وہی دھن گنگناتے گئے۔۔۔۔
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر۔۔۔ آہستہ آہستہ۔۔

________________

تحریر: فرحین خالد

فوٹوگرافی:سم خان

یوم مئی کے موقع پر ینگ ویمن رائٹرز فورم کے تحت تخلیقی مقابلہ

ینگ ویمن رائٹرز فورم، اسلام آباد چیپٹر نے یوم مئی کو کسب حلال میں کوشاں ہر مزدور کی عظمت کو سلام پیش کرنے اور محنت کش طبقے کے ساتھ اظہار یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک آن لائن ایکٹیویٹی کا اہتمام کیا اور تمام ممبران کو اس حوالے سے ایک قطعہ یا ایک پچاس یا سو لفظوں کی کہانی لکھنے کی دعوت دی ۔ تخلیقات جمع کروانے کا وقت شام چار بجے تا رات دس بجے متعین کیا گیا ۔

ان نگارشات کو پڑھ کر ان کی درجہ بندی کرنے کی خدمات ایک مقامی شاعر فقیر سائیں کو دی گئیں اور دو نقد انعامات ۔۔۔ ایک شاعری اور ایک نثر کے لئے ۔۔۔ مختص کیے گئے ۔

فورم کے اسلام آباد چیپٹر کی ممبران نے اس سرگرمی میں جوش و خروش سے حصہ لیا اور نہ صرف اپنی تخلیقات پیش کیں بلکہ ساتھی ممبران کی تخلیقات پر تبصرے و گفتگو بھی کی ۔

🍀🍁🍀🍁🍀🍁🍀🍁

اس آن لائن مقابلے کے منصف فقیر سائیں نے مقابلے کے نتائج کا اعلان ان خیالات کے اظہار کے ساتھ کیا :

” محترم ینگ مصنفات
میں نے سب کہانیاں اور نظمیں پڑھیں اور بار بار پڑھیں ۔۔۔

ہمارے غربت زدہ معاشرے کی بدقسمتی یہ ہے کہ اب ہمارے سب تہوار چاہے وہ مذہبی ہوں یا اس کے علاوہ ، ہمارے تضادات کو اجاگر کرتے ہیں ۔
یومِ مئی بھی اسی زمرے میں آتا ہے ۔
سب کہانیوں میں انہی تضادات کو بیان کیا گیا ہے ۔ جو کہ درست اور متوقع بھی ہے ۔
سب کہانیاں اور نظمیں بہت اچھی ہیں ۔
اسلئے بہترین کا انتخاب بہت مشکل ہے لیکن مجھے ایک کہانی اور ایک نظم کا انتخاب کرنے کو کہا گیا ہے ۔ سو ۔۔۔

کہانیوں میں صوفیہ کاشف کی کہانی اپنے مختلف زاویے کے سبب بہتر لگی ۔
جبکہ شاعری میں فاطمہ عثمان کی انگریزی نظم جامع ہونے کے سبب بہتر لگی ۔
تمام شرکاء کو مبارکباد ۔

ملیں کسی سے تو حال پوچھیں
پھر اس سے آگے سوال پوچھیں
یہی ہے راہِ نجات سائیں
سوال پوچھیں سوال پوچھیں

دعا گو
فقیر سائیں ”

🌺🌸🌺🌸🌺🌸🌺🌸

صوفیہ کاشف کی اول قرار پانے والی کہانی

چند لفظی کہانی : لیںبر ڈے

“ہزار ہزار روپے ملیں گے! ”
سب بھاگے اسکی طرف۔۔۔
کس چیز کے، آج چھٹی تھی۔۔۔
سب دیہاڑی دار مزدور بیکار بیٹھے تھے۔
” لیبر ڈے پر اک سیمنار ہے اس میں حاضرین بن کر بیٹھنا ہے!”
۔۔۔

فاطمہ عثمان کی اول آنے والی انگریزی نظم

It’s odd to say it’s our day
We work hard oh yes
And melt drop by drop
With tears of our family
With fear of hungry days
With our babies insecure
And wages too low
We still work hard; yes.
We grow the crop leaf by leaf
And build structures brick by brick
And shed our blood to bring up strong
But our own goes weak,day after day
And we die often with grieve
Or by sorrowful hopelessness
And year after year
We r paid a tribute
To take a break
A day Without any wages
A day of hunger
They call,
The labour day….

By: Fatima Usman Zahid

🌸🌹🌸🌹🌸🌹🌸🌹

ینگ ویمن رائٹرز فورم ، پاکستان کی بانی اور روح رواں بشرٰی اقبال ملک نے اسلام چیپٹر کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ مٸی کے دن کی چھٹی کا بہترین استعمال کیا گیا ۔ اسلام آباد چیپٹر کی کابینہ مبارک باد اور بے حد داد کی مستحق ہے ۔ اپنے خواب کو اتنے پر عزم ، پر خلوص اور سب سے بڑھ کر باصلاحیت ممبران کی موجودگی سے پورا ہوتا دیکھ رہی ہوں ۔

💐🌹 💐🌹 💐🌹 💐🌹

رپورٹ : عروج احمد (میڈیا ہیڈ، ینگ ویمن رائٹرز فورم، اسلام آباد چیپٹر)

” ماں اور معاشرہ”

میرے انکل کو پرندے بہت پسند ہیں ـ اپنی شوق کی تکمیل کے لیے انھوں نے گھر میں قسم قسم کے پرندے پال رکھے تھے ـان کا گھر وسیع اراضی پہ پھیلا ہوا جس کے ایک حصے میں ان کے گھر کی عمارت تھی جس کے ساتھ ملحق ایک چکور باغ جس پہ سبز گھاس کا فرش بچھا ہوتا اس کے اطراف میں کیاریاں جن میں موسمی پھولوں والے بےشمار پودوں کے علاوہ میوے دار درخت جن کی شاخوں پہ ننھی ننھی رنگیں چڑیوں کے سیم والے پنجرے لٹکتے اور باغ کے وسط میں نیلی کاشی سے مزین حوض کے تازہ شفاف پانی سے شڑاپ شڑاپ کرتی رنگین مرغابیاں اور سفید بطخیں اشنان کرتی بھیگتی حوض سے باہر نکتی اور داخل ہوتی ‘ باغ میں ٹہلتے سبز گردن والے مور’ کیاری میں رکھے لکڑی کے پنجرے جن میں چکور ‘ مشکی تیتر’ بٹیر اپنی مخصوص بولیاں بولتے ہوئے ‘ انوکھی کلغی والے مرغے اور موٹی موٹی مرغیاں جن کے پاؤں کے پر جھالر کی طرح ان کے پیروں سے لپٹے ہوئے اور دیسی بدیسی رنگین طوطے ـ بڑے پرندوں کے لیے باغ کے پچھلےحصے میں بڑے پنجرے رکھے گئے تھے مگر ان سب پرندوں میں سفید سرمئی لمبی لمبی ٹانگوں والی کونجیں جس کی موٹی چونچیں ان کو باقی پرندوں سے منفرد کرتیں مجھے بہت پسند تھی ـ خاموش چپ چاپ کسی درویش کی طرح اپنی دنیا میں مگن اپنی چونچ اپنے پروں میں دبائے کسی گہری سوچ میں گم ـ ہم جب انکل کے گھر جاتے تو میں ہاتھ میں دانہ لیے ان کے پاس جاتی ـ انہیں دانہ ڈالتے انھیں اپنے قریب دیکھ کر عجیب سی مسرت کا احساس ہوتا ـ

یہ بھی پڑھیں: میرے خواب ا، ممی کی ڈائری

گرمیوں کی چھٹیوں میں ان کے گھر جانا ہم بچوں کے لیے کسی تفریح گاہ سے کم نہ ہوتا ـ ایک بار ہم ان کے گھر گئے تو باغ کی گھاس بہت بڑھ چکی تھی درختوں کی شاخیں بے ہنگم بڑھی ہوئی ‘ لٹکتی ہوئی بیلیں اور درختوں سے سےلٹکے چڑیوں کے پرندے جو کہ اب برآمدے میں منتقل ہوگئے تھے ـ ہم سب بچے باغ کی ایک طرف کھیلنے لگے مجھے چھپاکے مارتی مرغابیاں بھی نظر آئیں اور درختوں میں چھپے مور بھی مگر کونجیں کہیں دیکھائی نہیں دیں میں اس تجسس میں ان پیاری کونجوں کو دیکھنے کے لیے کھیل چھوڑ کے ان کے پنجرے کی جانب بڑھی میں جوں ہی ان کے پنجرے کے قریب گئی وہ کونجیں ایک خونخوار جنگلی درندے کی طرح اپنے دونوں پر پھیلائے مجھ پہ جھپٹ پڑیں میں چیختی چلاتی باغ سے بھاگی باقی بچوں کو دیکھ کر ان کی آنکھیں مذید پھیل گئیں اور وہ منہ سے عجیب آوازیں نکالتی پر پھیلائے ہمیں مارنے کو دوڑتی پیچھے پیچھے آنے لگیں ـ میرے دل کی دھڑکنیں تیز اور خوف سے سارا جسم پسینے سے شرابور یو چکا تھا سب بچے چیخ چلا کر برآمدے کی جانب دوڑ رہے تھے ہماری چیخوں کی آواز سن کی گھر کے بڑے باہر نکل آئے تب تک کونجیں ہمیں باغ سے باہر نکال کر واپس پلٹ رہی تھیں ـ میں امی ابو کے ساتھ ڈرائنگ میں بیٹھ گئی تو انکل بتانے لگے کہ کچھ عرصہ پہلے کونج نے انڈے دیے اب ان میں سے بچے نکل آئے ہیں تب سے کونج اس باغ میں کسی کو قدم تک نہیں رکھنے دیتی ـ مالی ایک دن درانتی لیے باغ میں کام کرنے گیا تو اس کو چونچیں مار مار کے لہولہان کر دیا ـ اب جب تک ان کے بچے بڑے نہیں ہو جاتے باغ کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں ـ وہ واقعہ میرے ذہن پہ نقش کر گیا اور غیر ارادی طور پہ مجھے کونجوں سے ڈر لگنے لگا ـ اسی طرح ہمارے محلے کی ایک خاتون کے گھر کٹ کھنی مرغی کی دہشت بھی مشہور ہو گئی اچانک وہ ایک عام سی مرغی سے جنگلی بن گئی جو آدم ذات کو دیکھتے ہی اس پہ وار کرنے کو دوڑ پڑتی ـ ایک بار بچپن میں بلی کا بلونگڑا بارش میں بھیگتے سکڑا سمٹا ہمیں گلی سے ملا اور ہم اسے گھر اٹھا کے گھر لے آئے وہ گود میں کھیلتی پاؤں سے لپٹتی سارا دن نرم گرم بستروں پہ لوٹتی ہمارے آس پاس رہتی ‘ اچانک جان لیوا بن گئی اور اس کے قریب جانے لا سوچتے تو پنجوں سے بلیڈ نما ناخن نکالے مارنے کے لیے جھپٹتی ـ اور وہ قمری میری شادی کے بعد جس نے میرے نئے گھر کی بالکنی میں گھونسلہ بنا دیا رات کے وقت تیز گھن گرج کے ساتھ بہار کی موسلا دھار بارش میں وہ بغیر سائبان کے مکمل بھیگ چکی تھی مگر گھونسلے پہ براجمان رہی رات کے پچھلے پہر جب کواڑ ھواؤں سے بجنے لگے تو میں کھڑکیاں دروازے بند کرنے کے لیے اٹھی مجھے وہ سکڑی سمٹی قمری دیکھائی دی ـ میں نے اپنے شوہر سے کہا یہ ٹھنڈ سے مر جائے گی ‘ اٹھیں ! اس کے لیے کچھ کریں ـ پھر ہم نے ایک چنگیر میں پرانا تولیہ رکھا اور اس کے بیٹنے کے لیے جگہ بنا لی مگر یہ ڈر کہ اب اگر ہم گھونسلے کی جانب ہاتھ بڑھاتے تو قوی امکان تھا قمری اڑ جاتی مگر چارو نا چار میرے شوہر نے ہاتھ بڑھا کر گھونسلہ بالکنی کی دیوار سے نیچے اتارا مگر وہ ہمارے گمان کے سے ذیادہ بہادر نکلی اپنے گھونسلے سے ٹس سے مس نہ ہوئی البتہ خوف سے اس کے دل کی رفتار اتنی بڑھی چکی تھی کہ اس کا سینہ لرز رہا تھا وہ جنگلی قمری گھونسلے سمیت اس چنگیر میں منتقل ہوئی اور بالکنی میں سائبان کے نیچے رکھتے وقت تک اپنے انڈوں سے نہ ہٹی صبح میں نے اسے چہکتے دیکھا اور کچھ یفتے بعد اس کے بچوں کو ہوا میں اڑتے ـــ ان سب میں ایک بات مشترک تھی وہ سب مائیں تھیں ـ شادی سے پہلے سکڑی سمٹی ‘ کاکروچ سے ڈرنے والی ‘ اندھیرے سے خوف ذدہ ‘ بادل کی گھن گرج سن کے ماں سے چپکنے والی لڑکی ابتدائی دنوں میں سسرال میں ایسے ہی ڈری سہمی رہتی ہے مگر جب ماں بنتی ہے تو بےزبان بہو کے منہ میں بھی زبان آ جاتی ہے سسرال والے سمجھتے ہیں کہ ماں بننے کا زعم ہے گھر میں قدم جمنے کی دیر تھی کہ یہ بھی جواب دینے لگی ـ کسی نے سوچا آخر یہ اچانک تبدیلی کیسے آتی ہے ؟ آخر اس کا جواب مجھے میری تین سالہ بیٹی نے دیاـ جب وہ اپنی گڑیا سے کھیلتے وقت ان بےجان پلاسٹک کو پتلوں کے دکھ درد کو محسوس کرتی ہے ـ سردی میں ان کو لپیٹ کے رکھتی ہے اور گرمی میں ان پہ پنکھا جھلتی ہے اپنی پلیٹ سے کھانا نکال کر ان کے لیے رکھتی ہے ان سے باتیں کرتی ہے ـ
جب اس کا بھائی بے نیازی سے ٹھوکر مار کے گڑیا کو اس کے تخت سے گرا دیتا ہے تو وہ روتی ہے کہ میری گڑیا کو چوٹ لگی ہے کہتی ہے ” کہتی ہے مما میری گڑیا کو تفلیک ہو رہی ہے ” تو بھائی ہنستا ہے کہ یہ تو نان لیونگ تھنگ ہے ‘ بےجان ہے اسے تکلیف کیسے ہو سکتی ہے ـ وہ اور روتی ہے کہ” مما اس نے میری گڑیا کو بےجان کہہ دیا ” ـ کسی نے سچ ہی کہا ماں نو ماہ اولاد کو کوکھ میں رکھتی ہے اور باقی ساری عمر اپنے دل میں ـ پرندوں اور جانوروں کا سسرال نہیں ہوتا نہ کمبائن فیملی اور نہ ہی ان کے شوہر نامدار یہ حق جتاتے ہوں گے کہ بچے ہمارے ہیں تم صرف حق رضاعت تک محدود تھیں ـ ماں کی زندگی اس کے شوق اور اس کے سبھی مشاغل بچوں کی پیدائش کے بعد متروک ہو جاتے ہیں ـ اس کی جسمانی ساخت اور تازگی پہلے کی سی نہیں رہتی مگر اس کے باوجود وہ جن کی نسل کو پروان چڑھا رہی ہوتی ہے وہی تعاون کرنے کے بجائے اکثر اسے کے مدِ مقابل اس کے لیے نئی نئی چنوتیاں لے کر آ جاتے ہیں اور ماں ساری زندگی بچوں کے سامنے بری بنی ان کی تربیت کی ذمہ داری اٹھاتی ہمہ وقت ان کے غم میں گھلی جاتی ہے ـ ماں کو خراجِ تحسین دینے کی ذمہ داری صرف بچوں کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ہے ـ اس کی ریاست کی ہے ‘ ہر اس شخص کی ہے جو سمجھتا ہے کہ بچوں سے اس کی قوم کا مستقبل وابستہ ہے ـ اس مرد کی ہے ‘ جس کے بچے وہ اپنی بے لوث محبت سے پالتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بچے آخر باپ کی ملکیت ہی کہلاتے ہیں ـ نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا ” تم مجھے اچھی مائیں دو میں تم کو اچھی قوم دوں گا ” ـ میں سمجھتی ہوں آپ ماں کو پرسکون ماحول’ بچوں کی بہبود کے لیے مشاورت کا حق اور محبت دیں وہ آپ کو ناصرف ایک اچھی نسل دیں گی بلکہ آپ کا مثبت رویہ ایک متوازن معاشرے کی بنیاد بھی رکھے گا ـ

_________________

تحریر:ثروت نجیب

من موہن کرمکر کی بیٹی کا دکھ

ٹائیم اسکوائر پر رات کے ٹھیک بارہ بجے کا وقت،بئیر بلو لیبل،جانی واکر،ٹکیلا،شیمپیئن،شی واز ریگل شراب اور فرانسیسی پرفیومز کی خوشبوء میں بسا اور پوری طرح رچا ہوا مہکے ہوے ہیپی نیو ائیر کے ہزاروں نعرے مئن ہیٹن کی ہائی اسکریپر بلڈنگ کی بلندیوں سے ٹکراتے ہوئے

سارے میں زمین کی طرف آکر گلابی مٹھیوں میں سماگئے تھے

اور تمام رات امریکہ کے بار کسینو شراب خانے من چلوں کے قہقہوں سے چہکتے ہوئے گونجتے رہے تھے

مغرب کی پہاڑیوں پر برف باری کا سلسلہ جاری رہا اور جھرنے خنک ہوائوں کے تھپیڑوں سے ٹکراکر گہرائی کی اور گرنے سے پہلے برف کے ننھے ننھے گولوں کی شکل اختیار کرکے کسی بڑے ڈھیر میں بدلتے جارہے تھے

ہرن نیو جرسی کے جنگلات پر پیچ راستوں پر بچھے سوکھے پتوں پر پھلانگتے ہوئے قلانچیں بھرتے ہوئے جارہے تھے_

یہ بھی پڑھیں:دیوانے

اور ایک ائٹم موجود روح پرنسٹن یونیورسٹی کی قدیم گلیوں میں مغرب کے روح کھینچ دینے والے رویوں پر ندامت کے کے آنسو پیتے ہوئے بڑبڑاتا ہی رہا تھا

باون ستاروں والے سرکس کے مالک نے اکتاکرعرب شیر کو اس سا ل کے آخر میں عید الاضحی’ کا تحفہ بناکر اپنوں کی طرف روانہ کردیا تھا

اور اس نے اکتیس دسمبر کی شام کو کال کوٹھڑی میں سسکتے ہوئے قلم کی سیاہی میں حالات کے زخموں کو ڈبوکر اپنے گھر والوں کو ایک خط لکھا تھا

اسی طرح جس طرح وہ اپنے محفوظ گھر کے کمرے میں اپنی رائٹنگ ٹیبل کے پاس بیٹھ کر لکھتا تھا

اس نے خط لفافے بند کرنے کے بعد

کھانا کھاکر عبادت کی اور پھر سرد دیوار کو ٹیک لگاکر بیٹھ گیا

اور پھر سوچتا رہا اپنے وطن کے خشک پہاڑوں کی شکلوں کو اور کرتا رہا تصور میں ان پر رنگریزی اور چٹسالی،مالی سے چھپ چھپاکر باغ کا پھل توڑکر کھانا بھی تو کبھی مشغلہ تھا

جن دنوں اس نے باپ کو کھیتوں میں بیج بوتے دیکھا تھا اور ہل چلاتے ہوئے

اور اس نے درخت پر بیٹھے الو کو نشانہ کھینچ مارا تھا

الو فراٹے سے اڑگیا تھا

اور وہ الو کے ڈرکر اڑجانے پر کتنہ دیر تک زمین پر بیٹھا ہنستا رہا تھا

بچپن بھی کیا خوب تھا

اور پھر تصور میں پہنچ گیا اپنے ماضی کے در پر جہاں ایک زندگی سے بھرپور منظر اس کا منتظر تھا

کیسے ماں اسے زبردستی پکڑ کر نہلاتی تھی

نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہناکر کندھوں پر اسکول کا بستہ پہنائے

پیشانی پر شفقت کا بوسہ لیکر وہ کھلے صحن سے نکلتے ہوئے کلانچیں بھرتا ہوا گلی کے نکڑ سے پرے نکل جاتا تھا_

یہ بھی پڑھیں:شجر بے سایہ

اس مختصر سی کال کوٹھڑی کے ٹھنڈ سے سرد ہوتے فرش پر چادر سے خود کو ڈھانپے وہ کس قدر منہمک تھا اس خیال سے ہی جو جان پر پڑے عذابوں کو لمحوں کے لئے دھودیا کرتا تھا کس قدر لطف تھا ماضی کو سوچتے ہوئے

تم قاتل ہو

اس نے یکلخت ہی خریدے گئے جج کی آواز سنی

ملک کا صدر بنتے ہی تم نے شک کی بنیاد پر کتنے غلط فیصلے کردئے

کتنوں کو تختہ دار چڑھادیا

تم نے اپنے پڑوسی ملکوں پر حملہ کروائے

اور قبضے کی زمینوں پر یرغمالی کی

تیرے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں

اور تم نے جڑی ہوئی قوموں کی کائونسل کے بنائے گئے اصولوں کو جھٹلایا”

وہ اپنی کال کوٹھڑی میں بند خود پر لگے ہوئے الزاموں کو سوچتے ہوئے مسکرایا تو صدیوں کی تاریخ مسکرادی

اور اس نے لمحے بھر کو سوچا کہ اقتدار کی بنیاد ہی شک کی زمین پر رکھی جاتی ہے

تو میں اگر جو قاتل ہوں

تو مجھ سے کہیں بڑے قاتل تو میری دھرتی پر نظر رکھنے والے

نہ فقط نظر رکھنے ،بلکہ قبضہ کرنے والے بڑے قاتل ہیں

تو مجھے اب پتھر وہ مارے

جس نے خود یہ گناہ نہ کیا ہو

اور اس جملے کے بعد ایک گہرا سکون سرایت کیا تو نیند نے اسے اپنی گہرائی میں لے لئیا

☆☆☆

اور اسی رات اس نے خود کو اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا

وہ سارے جو ایک رنگین تتلی کو پکڑنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے

وہ جیسے ہی تتلی کے پروں کو تھامنے کی کوشش کرتے تتلی بھڑکتی ہوئی فراٹا بھرتی نکل جاتی

وہ اس کھیل میں سب سے پیش پیش اور آگے تھا

پھر اس نے یوں دیکھا کہ تتلی پکڑنے کی خواہش میں کلانچیں بھرتے ہوئے اس کے بازو ہوا میں بلند ہوگئے ہیں اور وہ تتلی کے پیچھے پیچھے چھوٹی اڑان اڑتے ہوئے بلند ہوتے ہوئے یکسر ایک خوبصورت رنگین تتلی میں ہی بدل گیا تھا

اور سارے ساتھی اسے جھپٹنے کو بے قرار تھے اسی کشمکش میں وہ کسی دوست کے ہاتھ لگ گیا

اور سارے دوست اسے ایک حیرت بھری پر شوق نگاہوں سے دیکھتے گئے

وہ سب کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر بے رنگ ہوکر رہ گیا تھا

اس کے سارے رنگ اس کے ساتھیوں کی انگلیوں پر رہ گئے

جس کو تجسس کے ساتھ لیکر ہر کوئی اپنے اپنے گھر کی طرف نکل گیا تھا

وہ اس عجیب قسم کے سحر انگیز خواب سے جاگ اٹھا تھا

اور ادھ جاگے ذہن سے توجہ کی تو اس ملک کے عربئ میدان سے رباب پر بجتی ہوئی دھن کے ساتھ عربی گانے کے بول گونج گونج کر اس تک بھی پہنچتے رہے

اے صبح کی ہوا

آہستہ آہستہ گھل

اور پھر جا

میرے محبوب کو سلام کہنا

اے صبح کی ہوا

نغمے کی مدھر آواز کو لوری سمجھ کر وہ دوبارہ نیند کی گہرائی میں ڈوبنے لگا تھا

فجر کو اسے نیند سے بیدار کیا گیا

وہ نہا دھوکر تیار ہوا

تیار ہوتے ہوئے اس نے خود ایک معصوم سا بچہ تصور کیا

اور ماں اسے عید کے لئے نیا لباس پہنارہی ہے

اور وہی ماں کے بوسے کے لمس لازوال لمس کے احساس نے اس کو ایک ڈھارس بندھائی

وہ بے نقش چہروں کے گھیرے میں امید کی صبح کو روندتا ہوا پھانسی گھاٹ کی جانب چل رہا تھا

اور اس کے ہر اٹھتے ہوئے قدم میں ایک عجب قسم کی بے نیازی تھی

اس کی ہشمت کے انداز دیکھ کر ساتھ چلتے ہوئوں کے بے نقش چہرے اپنے تاثر کھونے لگے تھے

وہ جو اک خوشی تمام رات رہی تھی کہ مخالف کو پھانسی پر شکستہ دیکھ کر قرار آئے گا سو کافور ہوتی محسوس ہوئی اور اپنے اندر غصے اور چڑچڑاہٹ کو محسوس کرنے لگے

اور وہ ان سب کے خیالوں سے بے پرواہ بس چلتا ہی جارہا تھا

اور جب تختہ دار پر کھڑے ہوکر اسے نقاب پہنایا جانے لگا تھا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ موت کو بے نقاب دیکھنا چاہتا ہے

اور اس کے بعد وحشی جلاد زرا کھسکے تو وہی نقاب اس کے گلے کا اسکارف بن گیا تھا

اور پھانسی کے پھندے کو تنگ کیا گیا

تب بھی کسی قدر پرسکون احساس اس کے چہرے پر رہاجس کے اندر بے بسی اور شکست خوردہ احساس دیکھنے کے متلاشی حسرت ناکام کی طرح چپ رہ گئے

تختہ دار کھینچا گیا اور رسا کشی کی موت نے اسے لٹکادیا باوجود اس کے وحشیوں کی آگ سرد نہ ہوئی تو اخلاق کی تمام حدیں پھلانگتے ہوئے زندگی کو مردنی میں بدلنے کے بعد بھی پھٹکار کی کسر چھوڑی اور اپنے تئیں انہوں نے گناہ کو دھویا تھا

جبکہ نیا سال اس گناہ گار کی مردہ لاش پر رحمت کی طرح چھاگیا کہ اس چہرے پر سکون کا احساس جانے کیوں تادیر دکھائی دیا تھا

کہیں پرے صوفیوں کی سرزمین پر ماتمی لباس پہنے ہوئے بوڑھے فقیر نے تار چھیڑنے کی خاطر طنبورے کے سینے پر ہتھی مارکر ایک سازندے کو چھیڑا تو ساز بج اٹھے اور کائنات لمبی سانس چھوڑکر یکلخت مدھم ہوگئی۔

تو دوسرے دیس جلاد نے تختہ دار ہٹادیا

بغداد کے کسی گائوں میں تسبیح پڑھتے ہاتھوں میں عجب لرزش پیدا ہوئی تسبیح ٹوٹ گئی

دانہ دانہ منتشر آوازوں کے ہنکارے بھرتا ہوا بکھرگیا۔

جمائیوں میں جھولتے ہوئے باون ستاروں کے سرکس کے مالک کو جگاکہ بڈھے شیر کی پھانسی کی اطلاع دی گئی

تو وہ کسی گہری چپ میں آگیا اور ہر امید نے تھکن اوڑھ لی نیند جیسے اسی کی تلاش میں تھی

نیا سورج زرد شعائوں سے ابھرنے لگا

خون کی سرخی سے میلا ہوکر۔۔۔چندھیاگیا

اور سرزمین پر سب کچھ عام سا تھا

نماز عید کے بعد مسلمین نے قصائیوں کی راہ دیکھی

چھریاں تیکھی کی گئیں

حضرت ابراہیم کی روایت کو سر آنکھوں پر کئے ہر سال کی طرح گلی گلی سرخ خون کے دھبوں اور چھیتڑوں سے بھرگئی

گھروں میں گوشت اور ہڈیاں کی تقسیم جاری رہی

موبائل فون پر عید کی مبارک بادیں بھی اسی طرح اور ملنے ملانے کا سلسلہ بھی برابر رہا

اور ان سب ترجیحات سے کٹی ہوئی کولکتہ کی بستی میں من موہن کرمکر کی پندرہ سالہ سجیلی بانوری معصوم سی بیٹی ٹی وی پر نشر ہوتے خبرنامے میں سابقہ صدر کی پھانسی کا منظر دیکھتے ہوئے ذہنی دبائو کا شکار ہوتی گئی

انہوں نے ایک محب وطن کو پھانسی چڑھادیا

میں اس درد کو محسوس کرنا چاہتی ہوں

کرسکتی ہوں

کرررہی ہوں

اور اس درد کے اندر پستے ہوئے اس نے پنکھے میں رسا باندھ کر خود کشی کردی

اس روز کی ہولناک خبر کے بعد مجھے علم ہوا کہ درد نہ ہندو ہوتا ہے اور نہ مسلم نہ عیسائی

درد کا کوئی ایک مذہب نہیں ہوتا

درد تو بس آنسو ہوتا ہے

جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا

سفید نہ سرخ

آنکھ سے نکلتا ہے

اور کئی حسرتوں میں مدفن ہوکے کبھی ہمارے خون کی آکسیجن میں گھل کر دوڑنے لگتا ہے

تو میں اپنی اس کہانی کے تمام دکھ

اور آنسو

کولکتہ کی بستی میں رہنے والے من موہن کرمکر کی بیٹی کے نام کرتا ہوں

اور تمام تسبیحات کے قل 2007ع کی صبح کے نام کردیتا ہے
ختم شد

__________________

مصنف طارق عالم ابڑو

مترجم سدرت المنتہی’