دیوانے۔۔۔۔۔۔۔از صوفیہ کاشف

یہ دیوانے ہیں

کتاب کھولے دیوار پڑھتے ہیں

کھلی آنکھوں خواب بنتے ہیں

بند آنکھوں تلاشتے پھرتے ہیں

یہ دیوانے ہیں

ریت پر گھنٹوں بیٹھے

لہروں سے بات کہتے ہیں

ہواؤں سے سرگوشیاں

گھٹاؤں کے سنگ رات کرتے ہیں

یہ جنکی آنکھوں سے تعبیریں

موتی بنکر جھڑتی ہیں

یہ جنکی ہتھیلیوں سے منزل

ریت بنکر پھسلتی ہے!

یہ جنکی اذانوں پر کوی صلواۃ نہیں کہتا

یہ جنکے دعاؤں پر کوی ہاتھ نہیں دھرتا

یہ دیوانے ہیں!

اپنے ٹوٹے وجود لیے

در در بھٹکتے ہیں

اور گمنام ہستیوں کا

ہر پل ماتم کرتے ہیں

یہ امید کے شجر سے

خزاں بنکر جھڑ جاتے ہیں

یہ تعبیروں کے آسماں سے

پانی بنکر برس جاتے ہیں۔

کسی پھیلی جھولی میں حیات ساری ڈال دیں

آنکھوں کی چمک میں بس کر اپنا آپ وار دیں

انکے ہاتھ میں جادو

اور نگاہوں میں طلسم

الفاظ انکے منتر

آہیں انکی سرگم

دکھائی دے کر بھی گمشدہ سے

فنا کے تماشے ہیں

خوابوں میں بسنے والے

جینے نہ مرنے والے

ہاتھ اٹھاے اوپر

دھمال کرنے والے

یہ دیوانے ہیں۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوفیہ کاشف

ایک نظم،ان گنت سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

ستارہ گر ،
جو روشنی تھی پھوٹنی وہ کیا ہوئی
جو رنگ تھے بکھير نے کدھر گئے
عطاؤں کو رضا سمجھنے والا وقت کیا ہوا
محبتوں سے دل تہی ، یہ مفلسی ــــ
منافقوں سے دوستی ، نہیں، نہیں
وہ لفظ جوڑ جوڑ کے عقیدتوں سے محفلیں سجانے والے کیا ہوئے
متاعِ جاں، ستمگری پہ آگئے
یقیں گماں سے ہار کے کدھر گیا
جبِینِ شوق کیا ہوئی
وہ چشمِ منتظر کدھر گئی
وہ سرخوشی ہوا ہوئی
تماشہ دیکھنے کو لوگ آگئے
دِلاسہ دینے والے دھند ہوگئے
وہ آنکھ کیوں اجڑ گئی
وہ خواب کیوں بکھر گیا
وہ شاخ کس نے کاٹ دی
وہ رنگ اتارنے ,چڑھانے والے خاک ہوگئے
وہ ذات پات بھول بھال ایکدوسرے کو پڑھنے والے کیا ہوئے
وہ عِشق عِشق وِرد کرنے والے کیسے لٹ گئے
وہ مستقل محبتیں کمانےوالے کیا ہوئے
رفاقتیں نبھانے والےکیا ہوئے
قلندری سکھانے والا عشق کیسے کھو گیا
یہ ہِجر کیوں ٹھہر گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

ننھے حماد کے ساتھ کیجیے ایبٹ آباد کی سیر!😂

کھری محبت……..از رضوانہ نور

تم جو ہنس کے کہتے ہو
درد سے ہوں ناواقف
کرب اور اذیت سے دور دور کا ناتہ
خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتی سی پھرتی ہوں

خوشنما تصور ہے
اختلاف رستے سے
انحراف منزل سے
تم تو کر بھی سکتے ہو
خود سے اڑ بھی سکتے ہو
مرد جو ٹھہرتے ہو
میں تو کملی عورت ہوں
چاہ راس کب مجھکو
پاسِ عہدکب مجھکو
میں نزاکتوں والی
جاں یہ خاص کب مجھکو
عزتوں کا اک گھڑا
سر پہ یوں دھرا ہوا
باوجود خواہش کے
اب کے ہل نہیں سکتی
دو قدم بھی چاہوں تو
ساتھ
چل نہیں سکتی
تم کو تو بہت آساں
بےوفا مجھے کہنا

چل میں مان لیتی ہوں
کچھ خبر نہیں مجھکو
تیری چاہتوں کی بھی
کچھ فکر نہیں مجھکو

دل میں جھانک پاوُ تو
اتنا جان پاوُ گے
کسقدر عزیز تر
وہ چند ماہ ہیں مجھے
ماں کی کوکھ میں بنے
وہ نو ماہ ہیں مجھے
ان چند ماہ و سال سے
بے پناہ عزیز ہیں
ایک دن سمجھ لینا
چاہتوں کے سوداگر
ہار کر بھی جیتے ہیں
میں بھی ایسی لڑکی ہوں
کھرے رشتوں کے بدلے
کھوٹے گوارا نہیں کرتی
اجنبی کی چاہت میں
اپنوں کو ہارا نہیں کرتی
تم تو جو جو کہتے ہو
ٹھیک ٹھیک کہتے ہو

شاعرہ: رضوانہ نور

:وڈیو دیکھیں:چھ سالہ بچے کے ساتھ کریں ایبٹ آباد کی سیر!😍

فوٹو بشکریہ: فرحین خالد

مگر!…………از صوفیہ کاشف

اگر جو تری ہر یاد کے بدلے

ترے آنگن میں

پھول کھلنے لگتے

تو کیسے گھر کے سب دیوارو در،

ہر ذینہ،ہر آنگن ،

پھولوں سے بھر چکا ہوتا

پاؤں تک دھرنے کو وہاں

تجھے رستہ نہیں ملتا،

اور اگر جو میری آنکھ میں اترا

تری صورت سے جڑا ہر اک خواب

قدموں کے نیچے

کہکشاں دھرتا

تو کیسی رنگ برنگی کہکشائیں

چمکتی ہوی ،رقص کرتی ،سارے شہر میں امڈ چکی ہوتیں

زمین کا منظر تک

تری نگاہوں سے اوجھل کر چکی ہوتیں!

اگر جو میری ہر آہ

ترے گھر کی تجوری میں

ایک منور سکہ دھرنے لگتی

تو کھڑکیوں اور دروازوں کو توڑتا

گھر سے درہم و دینار کا

اک سیلاب زر بہہ نکلتا!

تو چھپانا بھی چاہتا تو چھپا نہیں پاتا!

مگر یہ محبت کی ستم ظریفی تھی

یا میری کمزور ہستی کی مفلسی

کہ نہ پھول کھلے نہ کہکشائیں سجیں

نہ سکے ہی جنم لیے!

میری محبت بھی جیسے

کسی فقیر کی قبا تھی

ہر طرف سے شکستہ

ہر رخ سے گدا تھی!

سو نہ دنیا کی نظر میں جچی

نہ تجھے ہی لبھا سکی!

محض کسی مزار پر گری

کسی برباد کی آہ تھی!

خاموش اور بے زبان

خالی اور بے نشاں!

اجازت دو! ۔۔۔۔از رابعہ بصری

تم مجھے جوڑنے آئے تھے
میرے کِرچی کِرچی وجود کےسبھی ٹکڑے
اپنے سنہری ہاتھوں سے چْن کے
میرے سبھی گھاوُ بھرنے کا دعوٰی کیا تھا
ہِجر کی ساری تھکن سمیٹنے کا وعدہ کیا تھا
جِس کی دکھن نے بدن کو راکھ کر ڈالا تھا
میرا گندم کی بالی کا سا کھِلتا ہوا رنگ و روپ
جو ماند سا ہوگیا
کاٹتی دھوپ نے میرے وجود کی ساری ہریالی
ساری شادابی چھِین لِی
محبتوں کے وہ سبھی ذائقے جو پور پور میں رچ گئے تھے
روٹھ بیٹھے تھے
تم نے خود سے کہا تھا
درد کے سبھی موسموں سے رہائی دلاوُگے
وفا کے سبز پیڑوں پہ برگ وبار کھِلادوگے
روح سیراب کردوگے
چاہ کی ریشمی ڈور تھاموگے
میرے آنگن میں رقص کرتے ہوئے
دوڑتے بھاگتے سارے غم , تھام لوگے
وفا کے سبز پیڑوں پربرگ وبار کِھلادوگے
تم سِتارے چنوگے
ہِجرت و ہِجر کے ذائقوں سے پرے
اس طرف لے چلوگے
جہاں کنجِ تاریک میں بانسری بج رہی ہو
معطر فضا ہو ,
تِتلیاں اڑ رہی ہوں

تم نے دعوٰی کیا تھا
میرے اداس لفظوں کو , کھنکھناتے لہجے میں ڈھالوگے
میری ڈھارس بنوگے
میرے دل میں اگے دکھ کے گھنے شجر کو
اپنے ہاتھوں سے کاٹوگے
سکھ کے سبھی بیج بودوگے
محبت سے تہی دھڑکن کو اپنی سرمئی خوشبو سے باندھوگے
میرے ماتھے کو نرمی سے چھووگے
اور کہدوگے
چلو اب سبز سِی وہ مخملیں چادر تو اوڑھو
چلو گردِ سفر جھاڑو
چلو سامان باندھو , افق کے پار چلتے ہیں

تو اے میرے حسنِ سخن ساز
ذرا یہ تو بتا
نظر کے زاویئے بدلے ہوئے کیوں؟
ہمارے بِیچ یہ دِیوار کیسی؟
یہ کِس نے کھینچ دِی ہے؟
تمھارے شبنمیِں لہجے میں بیزاری، ماتھے پہ سِلوٹ
اور تکلم یوں ، کہ جیسے لفظ بھی خیرات میں دینےلگے ہو
یہ کوئی مصلحت ہے
یا، کوئی مبہم اِشارہ ہے
تو کیا میں جان لوں
شجر سے سارے پتے جھڑ گئے ہیں
مناجاتیں ادھوری رہ گئی ہیں
وہ سب باتیں ضروری رہ گئی ہیں
میرے جلتے قدم ، بھِیگی نِگاہیں
میرے شانوں پہ رکھی زرد سی یہ شال
جانے کب سے یوں رکھے ہوئے ہے
اور جانے کتنے عشرے اور یوں ہی بِیتنے والے ہیں

اِجازت دو ، تمھاری سرد آنکھوں سے
ذرا نظریں بچا کے
تمھاری سرمئی خوشبو کی ساری گِرہیں کھول ڈالوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

soul Wispering

وڈیو دیکھیں: پاکستان کی خوبصورت لولوسار جھیل

گڑیا…………….از بنت الھدی

لوگ کہتے ہیں
ابھی تو ہو تم اک گڑیا سی
پر سوچ تمھاری
بلند و بالا پہاڑوں جیسی سلسلہ وار
سمندروں کی گہرائی جیسی
آخر کس گھاٹ کا رنگ لاگا ہے تجھ کو
کہ اتنی سی عمر میں اتنی پختہ ہو گئی
نہ تیرے بالوں میں چاندی اتری
اور نہ تیرے چہرے پہ وقت کی لکیریں
پھر بھی باتیں تیری ایسی
جیسے صدیوں کا تو چرخا کات کے بیٹھی ہو
میں بھی سن کے ہنس دیتی ہوں
اور خود کو کہتی ہوں
یہ کیا جانیں
اتنی سی عمر میں
کتنے رنگ ہیں میں نے دیکھے
منہ کو میٹھا
حلق کو کڑوا
سب ہی تو چکھا ہے میں نے
وزنی، ہلکی، موٹی، پتلی، سب زنجیریں, توڑ چکی
اور کچھ اب بھی باقی ہیں
ھنر نہیں نام کو چلتے دیکھا ہے
شوق نہیں صنف کا سکہ چلتا ہے
تم کیا جانو حال میرا
ہر روز, زہرِ مار کے قطرے
حلق کو چھلنی کرتے ہیں
پر پھر آنسو بہا کے سارا درد
دل سے زائل کرتی ہوں
ٹوٹے پھوٹے دل کے ٹکڑے
جھولی میں بھر کےپھر سے جوڑتی ہوں
خوابوں کی کرچیوں کو ہاتھوں میں دبوچتی ہوں
اس یقین پہ کہ کوئی تو ہاتھ آہی جاۓ گا
یہ سب لوگ کیا جانیں میری بلا سے
میں تو بس اتنا جانوں
کہ تھک ہار کے بیٹھا نہیں جاتا
ابھی تو بس آبلے لیے منزل تک چلنا ہے
طوق اٹھائے رستے میں آئی زنجیروں کو توڑنا ہے
کچھ بھی ہو بس چلنا ہے
کیونکہ میں جانتی ہوں
میں عورت ہوں
ہوں تو میں حق کسی اور کا
پر یہ میں نا مانوں
اور دیکھ لینا
ایک دن آۓ گا
جب میں چوٹی پہ اور تم ڈھلوان پہ
سر کو اٹھاۓ میری روشنی سے اپنی چندھیائی آنکھوں سے
مجھ کودیکھو گے
اور بس دیکھتے ہی رہ جاؤ گے
اور لوگو!
تب تک تم کو چاندنی بھی دکھ جاۓ گی
اور ساتھ میں وقت کی بے وقت لکیریں بھی

…………………….

بنت الھدی

Photo credits:Sim Khan

یہ بھی دیکھیں: خوبصورت پاکستان کی دلنشیں گزرگاہ

ارضی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی پی کے نام کا کنگن ہو!
کوئی چُوڑا ہو!
جسے بانجھ کلائیاں پہن سہاگن ہو جاویں
مرا روپا، جوبن ہار گِیَو!
سرکار سائیں!
سانول کا بچھوڑا مار گِیَو!
مرے سینے درد غموں کے تیر اتار گِیَو!
بیمار نصیبوں بیچ سَجَا منجدھار گِیَو!
منجدھار پڑے!
سرکار سائیں!
غمخوار سائیں!
اک بار سائیں!
سنو عرضی بس اک بار سائیں!
وہ پھر سے آج اُس در پر منت مانگنے پہنچ گئی تھی ایک اُجڑی ہوئی بیوہ منت اُس ایک نظر خیرات کی منت جو ایک دفعہ اُٹھ کر اُس کی جانب ایسی پلٹی کہ پھر کبھی اُس کے آنگن لوٹ کر نہ آئی مگر جاتے جاتے سُندری بائی کا سب چین سکون اور اس کا سورج کی طرح چڑھتا جوبن اپنے ساتھ لے گئی.اور ایک تاریک زرد شام اُس کی جھولی میں ڈال گئی.ابھی بھی وہ ایک پیاسے دیے میں اپنا انتظار اپنی آس امید ڈال کر اسے صاحبِ مزار کی قبر پر رکھ کر پلٹی ہی تھی کہ کجری بیگم جو ساز و رقص میں اُس کی شاگرد بھی تھی اور سُندری بائی کے بعد اجمیر والے کوٹھے کی اگلی بائی بھی آگے بڑھ آئی آج نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو لاکھ سمجھانے کے باوجود ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھی تھی جب بولی تو لہجے میں تلخی در آئی.
سُندری بائی کچھ ہوش کے ناخن لے سکھی کب تک یوں ریاضت کرتی رہے گی یوں دیے دھاگے جلاتی باندھتی رہے گی تو آگرہ کی سب بڑی طوائف ہے آج بھی لوگ تیرے ایک اشارے پر اپنا سب لُٹا بیٹھتے ہیں بھول مت ہم طوائفیں عورت تو ہوتی ہیں مگر جذبات و احساسات عورتوں والے نہیں رکھ سکتی یہ ہمارے پیشے کی عورتوں کا شیوہ نہیں ہے کہ عشق کے در کی چاکری کرے ہم تو کاغذ کے چند ٹکرو کی غلام ہیں اور تو یہ سب کس کے لیے کر رہی ہے اُس انسان کے لیے جو بس ایک نظر تجھ پر ڈال کر ایسا گیا کہ پلٹ کر خبر نہ لی. نہ کوئی سوداہوا نہ رقص.وہ ٹھہرا سید زادہ پاک آل پاک نبی کی اور تُو تو اجمیر کی ایک تنگ و تاریک گلی کے ایک بدبودار کوٹھے کی ایک ہندو طوائف بھول جا سُندری وہ نہیں آئے گا۔ اُتار دے یہ کالا چولا ہر کسی کو یہ کالی چادر پاک نہیں کرتی بڑے نصیب والے ہوتے ہیں جو اس سیاہ چادر کی پاکی تک پہنچ !پاتے ہیں.بس کر دے چھوڑ دے..!”
” توُ نے ٹھیک کہا کجری بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس سیاہی کی پاکی تک پہنچ پاتے ہیں اور میرا سفر اس پاکی کی طرف اُس دن شروع ہوا تھا جب وہ سیاہ پوش میرے کوٹھے پر آکر چند لمحے رُکا تھا تو نے ایک بات غلط کی کہ اس دن کوئی سوداہ نہیں ہوا. اُسی دن تو سودا ہوا تھا نظر سے نظر کا سودا سفید سے سیاہی کا سوداہم. تو اسے ایک نظر کا عشق کہتی ہے میں اسے روح سے روح کے ملن کی گھڑی کہتی ہو میری روح اُس کی روح میں کہی بہت پہلے کسی لامکاں کے سفر کے دوران تحلیل ہو چُکی ہے یہ تو ہزاروں لاکھوں نظروں کے بعد کی ایک نظر تھی اور کتنا حیران تھا وہ شاہ پیا بھی جیسے وہ بھی روح سے روح کے اس ملن کے لمحے میں قید ہو گیا ہو…..وہ آنکھیں بند کیے اُسی لمحے کی شیرینی کو محسوس کرنے لگی جیسے وہ ابھی بھی کسی مقدس یونانی دیوتا کی مانند اس کے سامنے کھڑا دنیا سے بے نیاز اسے دیکھ رہا ہو. وہ ابھی اسی احساس میں قید تھی کہ . اچانک ایک بے ہنگم شور کی وجہ سے اُس نے آنکھیں کھول دی سامنے ہی ایک اُجڑا بکھرا ہوا کوئی شخص دنیا سے بے نیاز اپنی دھن میں بولتا چیختا چلاتا آکر بیٹھ گیا.وہ بہت حیران سی اسے دیکھ رہی تھی اس کے ہاتھوں میں مختلف رنگوں کی شیشیاں تھی جو باری باری کھول کے وہ اپنے اوپر اُنڈیل رہا تھا.وہ کافی دیر اُسے دیکھتی رہی ایک عجیب اپنایت کا احساس ہو رہا تھا اسے اس سے.
یہ کون ہے کجری ؟؟؟ ارے یہ یہ فقیر سائیں ہے کہتے ہیں پہاڑوں سے اُتر کر آیا ہے یہ مجذوب ہے دیوانہ ہے…
وہ کچھ دیر تو سوچتی رہی مگر پھر اُٹھ کر اُس کے پاس جا کر بیٹھ گئی وہ اب سر جھکائے مست و مگن بیٹھا تھا اُس کا پورا چہرہ ست رنگی رنگوں سے رنگا تھا.
فقیر سائیں ایک رنگ کی شیشی مجھے بھی دان کر دیو میں بھی خود کو رنگ دو شاید اس رنگ کی رنگائی دیکھ کر وہ سیاہ پوش شاہ پیاہ آ جائے میرے آنگناں میں ایک دفعہ پھر سے.وہ مُسکرا دیا اور سر جھکائے ہی بولا …
ابھی بھی رنگوں کی متلاشی ہے تو کوئی سال پہلے آکر تو اپنے سارے رنگ تیرے آنگن میں چھوڑ آیا تھا کیا نہیں دیکھے تو نے, ہرا, نیلا, لال, پیلا سب تیرے در پر پڑے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ کالا رنگ جو تمام رنگوں کا بادشاہ ہے حق کا رنگ ہے. ارے کرماں والیے محب تو ہوتا ہی سیاہ پوش ہے یہ تو محبوب ہوتا ہے جو ست رنگی ہوتا ہے یہ اُس کا کام ہے کہ چاہے تو اپنے رنگ میں رنگ دے چاہے تو سیاہ چھوڑ کر عشق کو امر کر دے . یہ کہتے ساتھ ہی اُس نے ایک ایک کر کے تمام رنگوں کی شیشیاں اپنے ہاتھوں میں اُنڈیل دی اور سر اُٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور تمام رنگ اُس کے چہرے پر مل دیے یہ لے محبوب نے رنگ دیا آج تجھے اپنے رنگ میں یہ کہتے ساتھ ہی وہ اُٹھ کر دیوانہ وار باہر بھاگا اور وہ ایک دفعہ پھر حیرت کا مجسمہ بنی بیٹھی رہ گئی ..
وہ آنکھیں وہ نظر وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی.
یہ سیاہ چادر جو اُس نے اوڑھ رکھی تھی یہ اُس دن اکیلے اُس کے نصیب میں نہیں آئی تھی وہ آگ جس میں وہ جل رہی تھی اُس میں کوئی اور بھی کب سے جُھلس رہا تھا..
راہِ عشق میں اگر ایک کے حصّے میں جنون آتا ہے آگ آتی ہے تو دوسرا اُس کی آنچ سے راکھ ہو نہ ہو جُھلس ضرور جاتا ہے..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

. شفاء سجاد..

“گنجلک بیلیں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…ثروت نجیب

ہزاروں باتیں
دل کی مُنڈیروں پہ چڑھی
گھنی بیلوں کی مانند
بےتحاشا بڑھتی جا رہی ہیں
کشف کے کواڑوں پہ
اک چھتنار سا کر کے
میری آنکھوں کے دریچوں تک
اس قدر پھیلی ہوئی
کہ جہاں بھی اب
نگاہ ڈالوں
ہریاول ہی دکھتی ہے
رازداری کا کلوروفل
میرے قرنیوں سے آ چپکا ہے
جس کی دبیز تہہ نے
میری بادامی آنکھوں کو
دھانی کر دیا ہے
گھنی
گنجلک
الجھی ہوئیں
کہیں کہیں سے
مُڑی ہوئیں
میری ذات سے
جُڑی ہوئیں
ُانھی پرانی یادوں کے
سوالوں سے
اب تک بندھی
جن کے بیشتر جواب دہ
اب
اس دنیا میں ہی نہیں
تکرار کی سیلن
چاٹتی رہتی ہے
نئے نظریے
نم خوردہ
دیواروں سے
سوچوں کا
گَچ گِرتا رہتا ہے
جن کو میرے اندیشے
چُنتے چُنتے تھک جاتے ہیں
تخیل کی
نئی دھوپ کو
روکے ہوئے
نہ خزاں آتی ہے
نہ وہ خیال جھڑتے ہیں
جن کا جھڑنا اب ضروری ہے
اے باغبانِ وقت تمھی
ان ہزار پایہ بیلوں کی
چھانٹی کر دو نا
کہ اُگے گلاب اب کوئی
موتیے سی سوچ ہو
گلِ بہار سی فہم لیے
بنفشی شعر لکھوں میں اب
ادراک ہو لالہ و سوسن
وہ کنول کھلے
دماغ کے اِس حوض میں
جسے میں پیش کروں
نظم کے گُلدان میں یوں
عطر سے رچے فضا
خوشبو کی شیشی سے
غسل کرے یہ ہوا
باغ و بہار کا
سلسلہ رہے سدا
دل پہ بھاری
مہک سے عاری
بوسیدہ باتوں کی بیل کے
ان کاسنی گلوں پہ اب
تتلیاں نہیں آتیں

……………….

یہ بھی پڑھیں: کٹھ بڑھئ از ثروت نجیںب

“داستان نفس”

“داستان نفس”

رشتوں کے دھاگوں سے بُنی
کبھی ریشم کبھی کھدر سی
کبھی کھردرا کھردرا پٹ سن ہے
کبھی کوتاہ کبھی صدر سی
کبھی نیلگوں نیلگوں سوچ میں گم
کبھی میں’ ھم اور تم
کبھی فکروغم میں زردی مائل
کبھی خوف کا رنگ اسکے حائل
کبھی خوشیوں کی لالی لے کر
محبت کا منبع ‘ محبت کی سائل
مست قدرت کی ہریاول میں
کبھی آسودہ کبھی گھائل
سپیدہ سحر کی مانند
جسم و جان کی دونوں سلائیاں
تانا بانا بُنتے بُنتے
اک عرصہ بِتا دیتی ھیں
ہر برس کی
سرد اور چھاؤں میں
گنجان شھر یا گاؤں میں
متحرک ساعت کی سوئیوں جیسی
گھن چکر کے پاؤں میں
حیات بے ثُبات کی
کیا داستاں سناؤں میں
سالہاسال کی عرق ریزی
کھٹی میٹھی باتوں سے
گنجلک ذہن کا بھرا کاسہ
دیرینہ خواہشوں کا آسا
تار تار دل لیے
تجربات سے منقش
پند سے پیراستہ
یادوں کی حسین قبا
نئی نسل کو ہدیہ کرتے ہی
جیون کا ست رنگی گولا
کیسے ختم ھو جاتا ھے
پتہ ہی نہیں چلتا……

نظم نگار ….ثروت نجیب

Sensual with black current vanilla body cream :Bath & Body Works

Have you tried the sensual body cream  before going to bed ?Did you got the definit result of the aromatherapy ?

Yes ! Off course! No one can deny the unmistakable results of Sensual body cream with perfect aroma of black currant vanilla! If you haven’t try yet,go and grab one for You as I can bet it’s your first purchase but not last!

Why?

Many good reasons behind:

  •  The fragrance will make your senses reel with pleasure and take you waltzing into the gardens of eden feeling like a butterfly roaming among the enchanting scents of heavenly flowers.
  • Try it once to see how an application of sensual lotion turns your sleepless nights into a tight sleep of fanciful dreams..
  •  Your husband/partner will  love the aroma  for a beautiful night!The aroma is highly sensual and exotic to raise your tired sleppy romance.
  • breath and let him breath deeply  for best results
  • A must try to  rejoice and relax before going to bed.the soothing scent cools you down and made you completely stress free.

  • The formula is so moisturising that keep your skin smooth and scented all night long.It really quenches the skin without feeling so thick. 
  • a litle goes a long way and enough for long hours of night with a single use. .
  • highly recommended and one of my all time favourite purchase.

check:nail color by Nailstation

Directions

  • keep this on your side table for regular  use in night or batter to have a variety of Bath and Body Works  creams to use daily a different fragrance.
  • Massage your body gently before bed.

Price:

It’s a pricy product ,

  • costs 85 aed/ 15 $
  • you can get an advantage of sale offers to get it on lower prices almost 25 to 75 % ,though it hardly saves in the stock for such low prices.
  • :shop online

وقت

وقت کو وقت ملے اگر،

میری دہلیز پرکچھ خواب دھرے ہیں ،

وہ جو موسموں کی شدت سے ،

یا تو گھبرا گئے ہیں یا مرجھا گئے ہیں،

وہ جو خواب اس آس پر روز جیے

روز مرتے ہیں ،

کہ

وقت کا کوئی مکمل لمحہ،

کسی کن فیکون کے طلسم کی طرح

انہیں مکمل کر دے گا،

وقت کو وقت ملے اگر،

میری دہلیز پر بھکاری بنے خوابوں کو،

اک نظر دیکھ لے ،

اور پھر ان کے نصیب کا فیصلہ فیصلہ کرلے،

کہ لمحوں کی گرانی میں،

یہ خواب مر جائیں گے،

یا پھر کسی معجزے کے ہاتھوں،

جیں گے اور امر ہو جائیں گے۔

ثوبیہ امبر

یہ بھی پڑھیں:ہلکی ہلکی اداس ہوا

اسیرانِ    سراب  از فرحین خالد

 

خدا  نے اسے رُوپہلی   مٹی  سے گوندھا تھا . جسم   کے خم   کچھ ایسے تراشیدہ تھے کہ  جو پلک اٹھے پھسل پھسل جائے . بالوں کے آوارہ گھو نگر   ماتھے  پہ  جھولتے اور کان  کی لووں   کو   اٹھتے  بیٹھتے  چومتے  .اسکی   آنکھیں ،  میں   لکھتے لکھتے  رک گیا تھا .اسکی سیاہ  آنکھوں  میں   ایسے  اجالے تھے  کہ جس کسی پہ پڑتےزندگی کی   آ س  دے  جاتے .وہ  من موہنی  ایک  خانہ  بدوش تھی …بتاشہ !

میں بے چین  ہو کر   اپنی   رائٹنگ  ٹیبل  سے اٹھ    کھڑا  ہوا  اور کھڑکی  سے باہر ساحل  پہ ٹکراتی لہروں   کو دیکھتے  ہوئے  سوچ رہا  تھا  کہ دس  سال  بیت  گئے  جب   میں    کراچی کے ساحل  پہ لگے  میلے  میں یونہی    کھنچتا  چلا  گیا تھا . ایک خیمے  کے باہر  درج  تھا

” ہمت  ہے تو قسمت   آزما  لیں ”

یہ بھی پڑھیں:بوجھ

باہر  بیٹھے شخص  کو  میں نے سو روپے  ادا کیئے   اور   پردہ  اٹھا  کے اندر  داخل  ہوا  تو  وہ   سامنے ہی   بیٹھی تھی.  مجھے دیکھتے ہی   اسکی آنکھوں میں شناسائی کی  لپک   کوندی تھی  ،  جیسے میری  ہی منتظر  ہو  بولی ” نورستان  سے چترال کیلئے  چلی تھی  تو میں نے تمہیں  خواب  میں دیکھا  تھا ،کتنے  دن لے لیئے  تم نے آنے  میں ؟” اس کو نیم  خفا   پا  کے  میں مسکرایا  اور  سوچا  اگر  یہ   کھیل  ایسےہی   کھیلا  جانا  سے  تو   فبھا   ، بولا ” فاصلے  دلوں    میں  نہ  ہوں  تو معنی نہیں رکھتے ”  وہ جھوم  اٹھی تھی .  پاس رکھی    ایک ٹوکری  میں  سجے   پھولوں   کے  ہالوں  میں سے  ایک  دائرہ اٹھا لائی  اور  میرے سر پہ رکھتے ہوئے چاہت  سے  بولی “زما گرانہ ، چائے   پیش کروں  ؟  میں  صرف  آنکھوں  سے حامی بھر سکا .  بتاشہ  کے  ارد گرد بھی  وہی رنگینی تھی  جو اس کے  لباس اور مزاج کا حصہ تھی . لیس   کے پردے  کے پیچھے  لگے برقی قمقمے  جگمگا رہے تھے ، نیلی  چھت سے    ٹنگی  رنگین

اوڑ ھنیاں   بادبانی  کشتیوں    کا منظر  دے  رہی تھیں اور  ان کے   درمیان آویزاں   سنہری   ستارے  جھلملا رہے  تھے . اس نے  مجھے  ایک دیوان  پہ  بٹھایا ،تپاک  سے     پیالی دھری  اور  بے تکلفی  سے  میرے پہلو  سے آ لگی ،  کلائی  تھام کے بولی ” اس پہ  میرا نام گدا ہوا ہے  نا ؟   میں نے  پوچھا ، تمہارا  کیا نام  ہے ؟ وہ شوخی  سے  بولی ،” وہی جو تمہارا ہے !    مجھے  ہنسی آ گئی ، تو کیا تمہارا نام  بھی  کبیر  بلوچ  ہے ؟  اس نے چٹخارہ  سا  انکار  کیا  اور بولی ،خانم بتاشہ !  یہ  کہتے ہوئے  اس نے   میری کلائی پلٹی  تو  اس  پہ میرے نام کا مخفف  درج  تھا  ” کے بی ” وہ جانے کیا بول رہی تھی  مگر میں  یکدم     گھبرا گیا تھا ، ایک جھٹکے سے  کھڑا  ہوگیا  اور بولا .  ڈرامہ  ختم  ہوگیا ہے  یا  کچھ  نوٹنکی ا بھی باقی  ہے ؟  ہر گاہک  کے ساتھ نام بدلتی ہو  گی ..سو  روپے  میں  اچھا شغل لگا لیتی ہو !  میں نے محسوس  کیا  کہ   وہ   ان جملوں    کی اذیت  سے سفید پڑ  گئی تھی .  میں جانے  کیلئے     پلٹا   ہی تھا  کہ   اسنے مجھے کہنی   پکڑ  کے روکا  اور  کہا ، صاحب  ابھی   پیسہ  وصول  نہیں ہوا .  ایک کونے  میں رکھے کرسٹل بال کی طرف اشارہ  کرتے  ہوئے  لجاجت سے  بولی ،قسمت  کا حال  جانیں  گے  یا   گانا سنیں گے ؟ اسکی   جھلملاتی  آنکھوں  سے سرکتے  ستاروں  کو دیکھ کے  میں پگھل  گیا  اور نرمی سے   بولا ، بتاشہ  گانا بھی گا لیتی ہے   ؟ تو   وہ  چہک اٹھی . جونہی ایک پاؤں پہ گول گھومی  تو  مجھے لگا   دنیا نے   اپنے مدار  پہ گھومنا اسی   نازنین سے  سیکھا ہے . کب اس نے   چترالی  ستار  کی دھن   بکھیری، کیونکر اس نے مجھے  دیوان  پہ   مسکن کیا  ،   مجھے کچھ یاد نہیں . اگر  کچھ  یاد رہا  تو اس   کاہنہ   کی دلبری اور مسحور کن موسیقی .  جانے  کتنی دیر میں دم بخد  رہا  .وہ   تھم بھی گئی   تو طلسم  نہ ٹوٹا  . پاس آ کے بولی ، تم میرے ساتھ چلو گے ؟ میں نے  نشے  میں پوچھا ، ” کہاں ”  بولی ،” پہاڑوں کے اس پار !”

یہ بھی پڑھیں:دوسری موت 

میں ناران تک ہی گیا تھا  پوچھا  ، سیف الملوک ؟  اسنے نفی میں سر ہلایا  اور میری  تھوڑی  اپنی چٹکی  میں لے کے بولی ، اور بھی آگے  محبت   کے سفر   پہ ! مجھے یکدم اپنے پاپا کہنے والے دو بچے یاد آ گئے .سیدھا  اٹھ بیٹھا اور  سنجیدگی سے بولا ، میں کمٹڈ  ہوں ، دو بچے  ہیں .  اسنے   میری جانب  بغور دیکھا اور کہا،   تو ؟  اب میں واقعی  سٹپٹا  رہا تھا .. گھبراہٹ  سے سانس سی اکھڑ نے  لگی تھی. کہنے لگی ، میں محبت میں قناعت  کی قائل نہیں  وہ رشتے  جو بوجھ  بن کے  ہمیں آزردہ  کریں   ان سے  آزاد ہوجانا بہتر ہے . مجھ سے کچھ بن نہ پڑی  تو میں ہکلایا ، میں  ایک   بورنگ سا   آدمی  ہوں لگی بندھی کا عادی  . وہ کھلکھلا  کے ہنس  پڑی اور مجھ پہ ہی آ ٹکی .. نیم وا آنکھوں سے بولی ، واقعی ؟   تم کو نہیں  لگتا  کہ ہمارا ملنا قدرت  کا اشارہ  ہے ؟ جانتے ہو میں کوسوں   دور  سے تم کو اپنا  آپ سونپنے  آئی  ہوں ؟ میں  اسے ہلکے سے دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا ، بولا  بہت  دیر  ہو چکی  ہے. اس نے ملتجی ہو کر پوچھا ،کل آؤ گے ؟ میں نے  نفی میں سر ہلا دیا .  اس نے  میری کلائی  پہ گدے  ” کے بی ” کو چوما  اور  بولی

میں اب نہیں  لوٹوں گی ، لیکن   میری  یاد ستائے تو   چاند  کی چودھویں رات  اس  سمندر کو دیکھ لینا ، میں بل  کھاتی  اٹھان لیتی    لہروں  پہ سفر کرتی  ملوں گی ، یہ اپنے ساتھ بہا لیجانے کا فن تو جانتی ہیں  مگر تجاوز  نہیں کرتیں . خدا ئے   پا مان .

میں  سوچتا آیا    کہ لہریں  تجاوز کر جائیں  تو تباہی کے نقش  چھوڑ  جاتی ہیں .

آج دس برس  بعد بھی   میں    بیچ  ہاؤس  میں کھڑا   پاش  ہوتی  لہروں کو تک رہا تھا  ، کہ کاش  انکی آغوش  میسر  آ جائے .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عکاسی:صوفیہ کاشف

رکی هوئی صدی. اذ سدرت المنتہی

میں نے کہا “آو کہ تمهیں بتاوں کہ یادیں تو مجهے بهی نهیں چهوڑتیں

یوں لگتا ہے جیسے کوئی لمحہ من میں ہی رک گیا هے-

زندگی چل رہی هے .وقت کی ڈور کهسکتی جارهی هے.

میرے قدم مجهے راستوں گهسیٹتے جارهے هیں..اور راستہ طویل تر هوتا جارها هے.

میں تو چلتا رها هوں..مگر میرا دل ..

دل کہیں رکهہ کے بهول آیا هوں.۔

میرا دماغ ..جسے سوچ خلائوں میں اڑائے پهرتی هے..جو هاتهہ ہی نهیں لگتا.

اور میری روح..لگتا هے میری روح کسی سو سال پرانے درخت کی جهاڑیوں میں پهنسی هوئی هے. .تڑپتی تو هے ساتهی…مگر رهائی نهیں پاتی..

میں اپنی روح کی طرف بارہا مڑ مڑ کر دیکهتا هوں .مگر اس تک قدم جا نہیں پاتے..سفر تو چل رها هے..جیسےجیسے میرے قدم راستوں میں بڑهتے هیں..اپنی روح سے بچهڑتا جارها هوں ..معلوم هوتا هے جیسے مرچکا هوں…اور سچ پوچهو تو دوست مر ہی چکا هوں”.

کہنے لگی . “کتابیں پڑهنا تو چهوڑدی ہیں..پھر بهی ایسی باتیں کرتے هو.اس قدر بے چین رهتے هو.

پہلے تو ایسے نہ تهے…یاد ہے کبهی زندگی سے بهرپورگفتگو ہوتی تهی..

کتنے ہی پرجوش رہا کرتے تهے.اور پر امید بهی..

اب تو سب کچهہ مل بهی چکا هے…اسکے باوجود اتنی بے چارگی..اس قدر تشنگی..ایسی بے بسی کیوں آخر..؟؟”

” سب کی فهرست میں کیا کچهہ رکها هے بهلا؟جانناچاهتا تها

وهی جو تمهاری ضرورتوں میں کبهی شامل رہا هے….گهر.ملازمت..اورپیسہ.”

وہ مجهے اپنی ضروریات گنوارہی تهی..اور میری ہنسی چهوٹ گئی.

بس دوست..خواب محبت اور روشنی کو کس جرم کی سزا میں میری فهرست سے تم نے نکال پھینکا ہے

“شکوہ کیسے نہ کرتا

تمهاری ترجیحات تو فقط یہی چیزیں تهیں .جو میں نے تمهیں گنوائی ،باقی سب تو کتابوں میں رکهہ کے بهول چکےایسے کے صفحہ نمبر تک یاد نهیں..

مانتی ہوں کتاب تو میں بهی اپنی پرانی شیلف کے خانے میں بہت سی کتابوں کےدرمیان رکهہ کے بهول چکی هوں.اب اگر ڈهونڈنا چاہوں بهی تو مل نہ پائے.

ویسے بهی اتنا وقت ہی کہاں کہ پرانی شیلف کا بند خانہ کهولوں..یہ بهی ڈر هے کے کہیں پهر سے کتابوں میں گم هوجائوں گی اور اس بار کهوئی تو خود کو بهی مل نہ پائوں …گهر والے تو ڈهونڈتے هی ره جائیں گے.

خود سے تو کسی حد تک بچهڑ چکی هوں..مگر گهر والے نهیں کهو نا چاهتے..کیوں کے میرے سوا کتنے گهر کے کام ادهورے رهتے هیں..

اسی لئے ۔۔۔۔۔۔۔..بس خود کو گهر کے کاموں میں گنوایا هے..

میں نے سوچا شاید خود کو بهلاتی هے..مگر کسی حد تک ……..سچ بهی تها..

تو تمهارا دل گهر کے کاموں میں لگ گیا هے.(.یا پهر میری طرح کتاب کے صفحہ نمبر نا معلوم میں اپنا آپ رکهہ کے بهلاچکی هو)وگرنہ تمهاری مصروفیات گهر تک تو محدود نہ تهیں..

کھوٹے سکے اذ صوفیہ کاشف:یہ بھی پڑھیں
میری بات پر جانے کیوں هنس دی.

کہنے لگی دل کهیں تنہائی میں ہی کهوگیا هے .

میں نے کہا ڈهونڈ لاوں؟

تو کیسے…کہاں سے

کہنے لگی .تنہائی میں ملنا.

بتایا وہ تو ملتی ہی نهیں هے اسقدر مصروف رهتاہوں..کیا کروں دوست..

ملازمت بهی تو کرنی هے..گهر چلانا ہے

تهکا ہوا لوٹتا ہوں اور اماں کی وہی پرانی شکایتیں شروع..

نہ معلوم ماں کب خوش هوگی..حج کرکے آئی ہیں..بہن کی شادی میری ملازمت ..سب اچها چل رہا هے..مگر..

کہنے لگی ماں کیا کہتی ہے؟

بتایا کے کتنی ہی شکایات ہیں..

سر فهرست یہ کے شادی کیوں نہیں کرتا..

گهر کے لئے وقت نہیں..اپنا خیال نہیں رکهتا.

جب اپنا خیال رکهنے کی خواہش تهی تب….

کیا بتاؤں اب کے فرصت میں یادیں ڈسنے لگتی ہیں..گهر میں رہوں تو گهر کی دیواریں کهانے کو دوڑتی ہیں..جان بوجھ کر بهی خود کو مصروف رکها هے.پهر سے تنهائی میں گم هونا نہیں چاهتا..دل کهوچکا هوں

خود کو کهونا مهنگا پڑے گا..زندگی بهی تو کاٹنی هے

مدهم مسکرائی..پگلے..ماں بچوں کی خوشی چاہتی هے..اسکی خواہش نا جائز نہیں..کہا مان لو..پہلے انهیں تمہاری لاپرواہی نے پریشان کیا اب تمهاری تنهائی انکو کهاتی هے..

شروع سے ماں کی طرف دار تهی..اب بهی وهی کر رهی تهی..میں ہنس بهی نہ سکا…جانتی بهی تهی کے اپنی خواہشوں کا مارا هوں..ماں کی خواہش کا بوجهہ بڑا هے

تم بتاو دوست زندگی کیسی گزر رهی هے؟”خود سے اس تک آنے میں بڑی دقت تهی.

کهوگئی ایک بار پهر ..

زندگی میرے کمرے میں سانس لیتی هے.کتابوں کی شیلف میں قید زندگی هے

میرے سنگل بیڈ پر سوئی زندگی هے

گویا کے زندگی بدل گئی..تم نہ بدلیں.ہنسی اس پر آئی یا زندگی پر سمجهہ نہ سکا.

مدهم ہنسی..اور پهر چپ کا لمحہ..کہنے لگی..

!زندگی لاکهہ بدلے محبت رنگ نہیں بدلتی..

یاد آیا..مجهے زندگی اور خود کو محبت کہنے والی..

محبت اداس تو کردیتی هے.کیا کہتا

کچهہ تو دیتی هے نا. اسی میں خوش تهی

سب کچهہ تو چهین لیتی هے.مجهے اختلاف تها.

اپنا آپ تو سونپتی هے نا..تکرار ثابت تهی

کیا کروں دوست.مانا کے سب کچهہ هے مگر جو نہیں وہ محبت هے.مجهے اپنا دکھ رلانے لگا.جو اس سے وابستہ تها

دوست تمهارے احساس سوئے پڑے هیں. کوئی پرانی کتاب کهول کے دیکهو محبت وہیں ملے گی.فکر مند ہوگئی.

دوسری موت اذ حمیرا فضا :یہ بھی پڑھیں

بتایا جو ہے وقت کا محتاج هوں اور سکون کے لئے ترستا ہوا جب باهر نکلوں تو سڑک پر گاڑیوں کا شور سکون اڑادیتا ہے..روڈ پر نکلتے ہی عجیب خوف گهیرے میں رکهتا هے۔ لاشعوری طور پہ روڈ ایکسیڈنٹ میں کچلا گیا هوں. سچ پوچهو تو میں

لاوارث لاش کی طرح بے شناخت پڑا ہوں..ہر گاڑی مجهے کچل کے گزرجاتی هے

بڑی مشکل سے خود کو مردہ خانے تک لایا ہوں..جہاں شناخت کے انتظار میں رکهی بدبو کرچکی هے ایسی بدبو جو کبهی زندگی

میں محسوس نہ ہوئی تهی..ایسی بدبو

اس خیال نے عجیب ناگوار احساس بهردیا.

خوشبو اور بدبو کا ملا جلا تاثر عجیب تها

بدبو ..جو میری لاش میں تهی

خوشبو ‘جو اس کے لہجے میں تهی

سحر جو اس کی آواز میں تها..جس نے صدا جکڑے رکها.

دیکهو دوست..ایک کام کرنا مجھے بے شناخت نہ مرنے دینا..مربهی جاوں تو شناخت کرنا..دیکهو کتبہ بهی لگانا..محبت کے نام کا

میری بات سن کر خوف زدہ ہوگئی..کہنے لگی محبت نہیں مرتی دوست .تم ایسی باتیں نہ کرو. دیکهو بم دهماکوں اور اغواہ کے کیس سے ڈر کر پہلے ہی باہر نکلنا چهوڑچکی هوں…ٹی وی اخبار تک سے ناطہ توڑ لیا هے

گهر کے کاموں میں خود کو الجهایا ہے

کیا بتاوں کہ کبهی چائے کے پانی میں آنسو مل جاتے هیں. چائے کڑوی زہر بن جاتی هے.گهر والے کہتے ہیں چینی کی جگہ زہر ملادیا..کیا بتاوں کے آنسو زہر کیوں بن جاتے ہیں

کبهی خواہشوں کو هنڈیا میں پکاوں ..بهونوں تو عجب رنگ نکهرتے ہیں۔ بریانی کے چاولوں میں رنگ ملانے کی ضرورت نہیں رہتی..باورچی خانے میں خواہشوں کی خوشبو بکهرنے لگتی هے.

گهر والے کهانے میں ملی خواہشیں بهی کهاجاتے هیں..

بچی ایک محبت ہے جسے کتابوں میں چهپادیا هے.گهر میں کسی کو کتاب کا چسکہ نہیں .. جس لئے محبت تک رسائی ناممکن ہے

سجدہ سہو اذ صوفیہ کاشف یہ بھی پڑھیں!
اسکے لہجہ کا سحر اداس تها
میں نے محبت کا بوجھ ڈال دیا…یے بتاو مل سکتی هو..؟بتاچکی هوں گهر تک زندگی سمٹ گئی هے ..پهر سمندر کنارے مشینی دور کی باتیں کرکے کیا ملنا هے

محبت پانی میں بہہ جائے گی.سمندر کی تہہ تک اترجائے گی۔۔ پهر نہ ملے گی…لہروں سے بهی ڈرتی ہوں…

جبهی دور سے تماشہ کرتی لہر کو دیکهہ کے بهاگتی تهی..

چلو پهر کہیں صحرا میں ملیں..دوست ویسے بهی مشینوں نے ریاضی کے حساب کی طرح الجهایا ہوا ہے..اور سمندر کی خوف ناکی تو مجهے بهی ڈراتی هے.

تمهیں لاکهہ بتایا دوست کہ محبت کتاب میں قید ہے.کهولوں گی تو سپنے سوکهی پتیوں کی طرح بکهر جائیں گے.خواہشیں بے رنگ اور خواب پهڑپهڑاتے هوئے پر نکال کر اڑجائیں گے..

میں نے کها دیکهو دوست..پتهر کے دیس میں ملتے ہیں..

کیوں کہ ڈرتا ہوں.تمهیں پهر سے کهودینے سے

دیکهو محبت کی بات کریں گے تو کبهی زندگی پر .وہاں جاکر محبت کو کتاب سے آزاد کریں گے..لہجے محبت کی روح بهر کے آباد هوجائیں گے.لوٹیں گے تو محبت کی چاشنی میں لہجے ڈوبے ہونگے..زندگی کے لئے آسانی لائیں گے..محبت بانٹیں گے تو مسائل کمزور ہونگے.

میری ضد پر راضی ہوئی..محبت کی خاطر پتهر کے دیس میں ملاقات کے لئے حامی بهرلی.—————–

پتهر کے دیس میں ملا تها

محبت کی بات کرتے ہوئے کہنے لگا…

سنو..!دوست..ہمارے مسائل محبت کو کهاگئے هیں

کس قدر کهوکهلے ہوگئے ہیں..میں تو سوچتا ہی ہوں..کیا تم نے کبهی سوچا اگر سو سال پہلے پیدا ہوتے..اور محبت ہوتی تو مسائل کتنے مختصر ہوتے..

میں نے کہا دیکهو …سوسال پہلے بهوک محبت کو کهاجاتی دو ویلے کهانے کی پریشانی ساتهہ لے کر جنگل بیابانوں میں پهرتے..

کہنے لگا بهوک کا مسئلہ تو آج بهی زندہ هے

میں نے بتایا دیکهو محبت همیشہ مسائل کے بیچ ہی جنم لیتی هے..

کہنے لگا کیا بهوک کا مسئلہ سو سال بعد بهی زندہ رهے گا ؟؟پهر تو دوست اور بهی شدت اختیار کرجائے گا یہ مسئلہ..دیکهو ..پہلے انسان کی بهوک دو ویلے تک محدود تهی…

اب گاڑیوں مشینوں بنگلوں کی طلب نے آلیا..دن بہ دن بهوک کی شکلیں بدلتی جائیں گی..جتنا روپیہ بڑهے گا بهوک اس سے ایک قدم آگے چلے گی..

وقت کے ساتهہ ساتهہ ضرورتوں اور خواہشوں کا سمندر پانی کے سمندر پر بچهتا جائے گا….اور سمندر کا پانی مزید کهارا هوتا جائے گا

دنیا کی آبادی بڑه رهی هے..پهر گهٹتی جائے گی..زمین سمٹتی جاتی هے..دیکهو کتنی جلدی لوگ پیدا ہورہے ہیں…اس سے کہیں زیادہ جلدی مر رهے هیں..

محبت ابهی کتابوں میں ہے…پهر خوشبو بن کر ہواوں میں اڑجائے گی..اور آہستہ آہستہ لوگ محبت کے نام سے نا آشنا ہوجائیں گے..

احساس کو ہوس کی بهوک کهارہی هے..بهوک صرف روٹی نہیں..محبت بهی کهاجاتی هے..

میں چپ هوئی..وہ ڈر گیا..

کہنے لگا آو کہیں بهاگ چلیں…محبت کو تو ہر هال میں بچانا هے..

چلو سمندر کی تہ میں اترجاتے هیں..

میں کیا کہتی…سمندر کی مچهلیاں کهاجائیں گی..پتہ بهی ہے کے چهوٹی مچهلیوں کو بڑی مچهلیاں کهاجاتی هیں..

سوچ میں پڑگیا…چلو پهر خلاء میں اڑجائیں..
کہا بهی کہ گهٹن ہوگی..

کہنے لگا سو سال بعد محبت کرتے تو بهی خلاء میں ہی گهر بنانے کی خواہش ہوتی .سیاروں کی سیر کرتے..پهر اب کیوں نہیں..؟

دیکهو دوست..هم زمین کو چهوڑ کر کہیں نہیں بس سکتے..کیا سیارے پر ہمیں…بادل بارش..موسم مل سکے گا. کیا اناج پانی درخت هونگے؟

پهر محبت کا جو قحط پڑا تو زندہ رہنے کے لئے کیا ره جاتا هے.

اور ویسے بهی دوست..ہماری مستیاں زمین ماں نے برداشت کی ہیں..کوئی بهی سیارہ ہمارے گناهوں کا بوجهہ اپنے سینے پر نہیں سهارپائے گا..ایک ہی غلطی پر دربدر کیا جائے گا ہمیں..

>ل کہنے لگا : وهاں ہم دهماکہ تو کیا گولی تک نهیں چلاسکتے..یہاں تک کہ اکڑ کے چل بهی نهیں سکتے…

دیکهو !پهر بهی زمین سے تو امن ہی هوگا ناں!,,,,,,

بڑا دکھ ہوا ۔سمجهایا اسے کے دیکهو ماں کو چهوڑنے کی بات نہ کرو..ماں کی گود هماری پہلی اور آخری پناه گاه هے..

اس کے دامن میں امان هے..وہ تو بس همنے هی خود کو کئی خواحشوں کی حسرت اور ضرورتوں کی کثرت میں اجهایا هے

> سب مل بهی جائے .جو نهیں ملتا وہ سکون هے

ٹهیک هے ساتهی..پر زمین تو هر جگہ سے ایک سی مگر انسان شکلیں زبانیں بولیاں ..کلچر تهزیب رنگ و روپ کیوں الگ هے؟

سوال اچها تها.

میں نے کها سارے فطرت کے رنگ هیں.سب کچهہ الگ سهی مگر.احساس سب کے ایک هیں زندگی ایک هے جیسے .محبت ایک هے

محبت کی بات پر مسکراتا تها

کهنے لگا هم ایک دوسرے سے نفرت کیوں کرنے لگ جاتے هیں؟

میں نے کها بهٹک گئے هیں کهنے لگا زندگی کے بارے میں کهو..

میں نے کها مجهے اور خود کو دیکهو. آسمان اور زمین کو دیکهو..

کهنے لگا نگاه اوپر نهیں اٹهتی..

راستوں کی ٹریفک میں اجهہ جاتا هوں..

زمین کو دیکهو تو چکنی مٹی کی خوشبو اپنی طرف کهینچتی هے..

سمندر میں دیکهوں تو مچهلیاں پکڑنے کا شوق ڈبوتا هے

خواحشیں اور ضرورتیں آپس میں اجهی هوئی هیں ..سلجهانے بیٹهوں تو رات گزرجائے..ایک رات صدی برابر حساب لیتی هے..بهت الجها هوں

یے تک بهلا بیٹهے کے کس مقصد کے تحت آئے تهے.

اور یے بهی کے پتهر کے دیس میں وقت رک جاتا هے

اور اب لگتا هے جیسے پتهر هوچکے هیں..

ساتهی ہم تو محبت کا عهد لیکر پتهر کے دیس میں آئے تهے..پهر کیا هوا؟یے همارے بال کیوں سفید هوگئے..

کیا صدی گزرگئی؟

ساتهی میری طرح حیران تها..اور میں پریشان..مگر یهاں تو وقت نهیں چلتا..هم بوڑهے کیسے هوئے؟

ہم واقعی صدی کے شروع میں یهاں آئے تهے..اور اب صدی اختتام کو هے..

زمین کی زندگی بهت تیز رفتاری سے آگے نکلتی جارهی هے.

ساتهی کیا اب زندگی کو محبت کی ضرورت نہ رهی هوگی..؟اس کا مسئلہ محبت تهی..

میں نے سوچا محبت خوشبو بن کر هوائوں میں بکهر گئی هوگی..اب تو کتاب سے علم بهی اٹهہ چکا هوگا.

وہ کهنے لگا میں نے کچهہ آوازیں سنی هیں..لوگ کهہ رهے تهے هم ایک صدی سے اسی پتهر پے بیٹهے تهے..اور یهیں پتهر هوگئے

کیا هم صرف سن سکتے هیں ساتهی…کسی سے بات نهیں کرسکتے.؟محبت سے بهی نهیں؟مجهے بهی محبت کا مسئلہ تها.

میں اسی صدمے میں تهی وہ بولا

ساتهی زندہ مردے بولتے هیں مگر ان کی بات کوئی نهیں سنتا.

دیکهو هم هل نهیں سکتے..چل نهیں سکتے..هم پتهر هیں…اور صدی ..

اسنے مجهے چهونا چاها تو پهر سے پتهر کا هوگیا اور صدی پهر سے جهٹکا کهاکر رک گئی..جب کوئی کسی کو چهونا چاهے تو وہ پتهر کیوں هوجاتا هے..کس سے کهتی..لفظ اور.احساس کی موت هوچکی تهی.

لوگ آتے هیں همیں دیکهتے هیں..بولتے هیں..

هم سنتے هیں..مگر بول نهیں سکتے..بولیں بهی تو کسی کو سنائی نہ دے

هم هل نهیں سکتے کیوں کے هم پتهر هیں…اور صدی بهی رکی هوئی هے.

مگر محبت سارا اسی کا مسئلہ ہے-

—–

Breakfast at La brioche,Dalma Mall, AbuDhabi

La brioche is always a beautiful place and my personal favourite for a French style breakfast, coffee or a party with friends.It is as serene in the Dalma mall for a breakfast as in Khalifa city, AbuDhabi, as all the stores or entertainment spots around weren’t opened yet.While long walk ways were quite and lazy on a  Friday morning we  rushed to La brioche, Dalma mall for  breakfast as I was getting late for my some official work.

Services:

  • Quick
  • Polite
  • Helpful

(We were in a rush so I request them to be quick in serving and to my surprise,they were actually!)

Sitting area:

  • Beautifully decorated
  • Intimate space
  • Instagram friendly
  • Outdoor seating
  • Spacious place
  • Comfy sofas

check review about giraffeyasmallAbudhabi

Menu:(breakfast)

  • French bakery
  • Eggs
  • Healthy eating
  • Omletts
  • Croissants
  • Granola

Menu we choose:

  1. Kids meal:(French toast+fresh juice)
  • Ample
  • Served with fresh juice
  • Perfect in taste
  • Soft
  • Beautiful presentation
  • Sumptuous

2.French Toast:(regular breakfast)

  • Very soft,
  • ample
  • served with strawberries and cream
  •  more than you actually need!
  • Perfectly toasted

Watch: Mugg&beans,khalifa city, AbuDhabi 3.shia seed delight:(healthy eating)

It’s a yummy fruitful healthy options: a Shia pudding is

  •  mixed with coconut and soya milk,
  •  loaded with berries,grapes and orange and
  • grated roasted pistachio gives a  seducing taste.
  • The presentation is as beautiful as the delish taste and health it offers.
  • for me I mostly prefer healthy eating as it keep my calories guilt on a controlled level.
  •  Verdict:
  • Beautiful place
  • Affordable prices
  • Ample servings

Check website:

http://www.labriocheuae.com/

Intuition body scrub by H&M

About beauty products,I am very anxious.i prefer quality over quantity.Thats the way I deal with pricy products,buy two than four but go for credibility and authenticity.This time which products I tried it was so good in results with a just little expence.

What is it?

A clarifying scrub that buffs and revitalises all skin type, made up of Apricot Seeds & Green tea Extract

How to use?

In the bath or shower, massage onto your skin with circular motions and rinse thoroughly.

check review:nailstation
 

Results:

The grainy thick scrub leaves your skin Outstandingly soft and moisturised with a refreshing fragrance of Apricot seeds on your body,and this effect is real not only acclaimed.Its perfect for an environment so full of air-conditioning, humidity and splendid sun.This scrub really worth your money.

 

Price:

Price:

Dhs:69           KD:5.900

OR:6.900.      BAD:6.900


Sale deal:

The sale season is offering this scrub with as low price as 15 aed.Sale is on in store and online till stock last,so go and grab your stock.such a little expence will give you an outstanding experience,I bet!

Website:

shoponline

Giraffe,Yas,AUH

Cuisine: international;

 a blend of best tastes around the globe

check the review:Leopold’s of London,AbuDhabi

Sitting and surrounding:

  • Comfy couches and chairs
  • A real kitchen effect with brown and cream colour scheme.
  • Open and private areas
  • Open dinning area in avenue
  • Surrounded and rushed
  • In the center of  Yas mall life

Review:Mugg@Bean


Kids Meal:

  • One main+  drink +dessert=45aed
  • You can order separately
  • Burgers are bigger than average size in kids meals
  • Fresh Juices with meal is another plus
  • Either they don’t have color pages for kids or they forgot to offer us
  • They offer  a little sitting area for toddlers as well.
  • One of best kids meal

Review:The Yellow Chilli by Sanjeev Kapoor

Main course:

  • Chicken Cesare salad(65aed)
  • Kati roll….(50aed)
  • Pomegranate tea (26aed)

Review: Shake Shack

Kati Roll
Chicken Caesar Salad

Verdict:

  • Kati roll is mouthwatering and delish,a dish of Indian taste.
  • Beautiful presentation
  • Caesar salad is good too
  • Iced tea jar was amazing
  • Prices are quite equal to chilli but the serving sizes are smaller.

    Pomegranate tea

Services:

  • Good
  • Polite
  • Need a little more keenness

Locations:

  • Dubai

 

 

 

 

 

 

  1. Dubai international terminal 1, concourse D
  2. Dubai international terminal 3 concourse A
  3. Dubai international terminal 3, concourse B

 

  • AbuDhabi

 

 

 

 

 

 

  1. Yas Mall AbuDhabi

 

Website

 

 

 

 

 

 

https://www.giraffe.net


ہم بھی عظیم ہوتے گر……

آج ہم نے پھر سکول سے بھاگنے کا پلان بنایا تھا.

“سنو اس طرف کی دیوار چھوٹی ہے ادھر سے پھلانگ لیتے ہیں”.

میں نے اپنی دوست کو ایک سمت اشارہ کیا.اس نے آنکھ دبا کر تائید کی اور ہم نے دوڑ لگا دی ابھی دیوار پہ چڑھے ہی تھےکہ,
“یہ کتابیں پڑھنے کے لیے ہوتی ہیں سر رکھ کے سونے کے لیے نہیں” اماں کی کمر پہ جمائی زوردار دھپ نے سارے خواب کا فسوں توڑ دیا.
“امی آپ مجھے عظیم انسان نہ بننے دیجئیے گا اچھا بھلا سکول سے بھاگنے لگی تھی…..”
سنا ہے نیوٹن سکول سے بھاگ گیا تھاخوش قسمت تھا, اور وہ جس نے بلب ایجاد کیا تھا کیا بھلا نام تھا اس کا….اررررررےے ہاں !یاد آیا تھامس ایڈسن! اس کو تو خود سکول والوں نے اس کی والدہ سے معذرت کر لی اور اس کی والدہ کس قدر سمجھدار خاتون تھیں پھر اسے سکول بھیجنے کا سوچا بھی نہیں اور ایک ہماری اماں حضور ہیں جن کو روزانہ سکول بلا کر ہمارے قصیدے سنائے جاتے تھے مگر مجال ہی کیا کہ ان میں سمجھ داری کی رمق ہوتی اور وہ ابا میاں کی حق حلال کی کمائی ضائع ہونے سے بچا لیتیں…
خیر کتابوں سے یاد آیا ہم اپنے ایم اے کے فائنلز کی تیاری میں غرق ہیں…پورا سمسٹر تو ہم جیسے ذہین لوگ یونیورسٹی چلے جاتے ہیں یہ بھی گھر والوں پہ احسانِ عظیم ہوتا ہے چہ جائیکہ اب پڑھیں بھی… ایک ہفتہ قبل ہم خوابِ خرگوش سے بیدار ہوئے اقبال سے معذرت کے ساتھ
~آنکھ جب اچانک کھلتی ہے امتحانوں میں
نظر آتی ہے مجھےمنزل پھر کتب خانوں میں
وہ کہتے ہیں نا قدر کم کر دیتا ہے روز کا آنا جانا اس لیے کلاس میں جاتے نہیں, نوٹس تو ہم بناتے نہیں…..لیکچر کبھی ہینڈ فری لگائے بِنا سنا نہیں, کتابیں خرید کر ملکی سرمائے کے زیاں کے ہم قائل نہیں ,بقول اباجان کے موبائل پہ زیادہ نظر جمائے رکھنے سے عینک کا نمبر بڑھنے کا خطرہ لاحق ہے اس لیے اتنا بڑا خطرہ ہم ننھی سی جان پر مول لینے کو تیار نہیں اس لیے واٹس ایپ, فیس بک کے علاوہ ہم کچھ بھی موبائل پر استعمال نہیں کرتے .یہاں تک کے ابا جان کے نصیحت بھرے پیغامات بھی نہیں دیکھتے کہ نظر کے ساتھ ساتھ عزت کا گراف بھی گرنے کا شدید خطرہ ہوتا ہے…..تو کتاب. توپڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.آخری چیز جس سے امتحانات میں امداد باہم پہنچنے کی توقع ہوتی ہے وہ ہوتے ہیں دوست . ہمارے دوست تو ایسے ہیں کہ برادرانِ یوسف کے علاوہ ان پہ کوئی ضرب المثل صادق ہی نہیں آتی کہ آوے کا آوہ ہی الٹا ہے. وقت پر پہلے کبھی کچھ ان سے برآمد ہو ہے جو اب ہو گا
خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا
ساری رات اس دکھ میں(کہ اب ہم کس طور اپنی اس چھوٹی سی ناک کو کٹنے سے بچا پائیں گے) فیس بک پر دکھی سٹیٹس اپ لوڈ کرتے رہے اور سو بھی نہ پائے…صبح کو خیال آیا کہ اب جب کچھ پرچے سے متعلق پڑھنے کو ہے نہیں تو کیوں نمرہ احمد کا ادھورا ناول ہی مکمل کر لیا جائے…اسے پڑھنے بیٹھے ہی تھے کچھ رات کا جگ راتا اور کچھ رومانٹک سا ہیرو جلد ہی ہم نیند کی آغوش میں چلے گئے…مگر امتحان کی پریشانی (جو کہ ہمیں کبھی ہوئی نہیں) میں ناآسودہ خواہش نے خواب کا روپ دھار لیا اور ابھی ہم سکول سے بھاگنے ہی والے تھے کہ ہماری ہٹلر ٹائپ اماں نے ایک بار پھر ارمانوں کا خون کر دیا…اور ہم ایک بار پھر نیوٹن کے مد مقابل آنے سے محروم رہ گئے…

تحریر: رضوانہ نور

غزل۔۔۔۔۔۔از سعدیہ بتول

اس سے کہنا حیات باقی ہے
عشق زندہ ہے ذات باقی ہے

ہم نے جانا وصال لمحوں میں
ان کے چہرے پہ رات باقی ہے

اب کے زہرِ جفا ہی دے جاؤ
مرگ باقی ہے مات باقی ہے

تیری قربت میں دن نکل آیا
دل کے آنگن میں رات باقی ہے

اس محبت کو موت آ جائے
گر جو میری حیات باقی ہے

” سعدیہ بتول “

We Are Human

Under these
Bullets and bombs
Missiles and drones
Our skin tone is not
Still humanized enough
To touch the merit of
Human Rights…

Because we don’t own
Manacles of your
So called “Revolutions”
That are still caging our words
In the prison of your
“Fake freedom”

Keep terrorizing
Keep killing
Keep droning our acreage
Till my land stop rising
“Savages” against tyranny

But
My mother asked me
To tell you
Wait,
Wait
Till the end of time!

………..

Writer : Soudah Sultana El Zamaa

آئینے میں ایک اور پچھتاوا…….حمیرا فضا

کبھی کبھی کسی گناہ سے آگاہی ،کسی غلطی کا ادراک،کسی خطا کا احساس ہی تب ہوتا ہے جب وہ نجاست کی طرح جسم سے چمٹ جائے ۔وہ نجاست جسے ندامت کے سینکڑوں آنسو ملکر بھی پاک صاف نہ کر پائیں۔وہ بھی ایک ایسے گناہ کی مرتکب ہو چکی تھی جسے شریف لوگ منہ سے ادا کرنا بھی معیوب سمجھتے ہیں۔وہ گناہ جس نے اُس کے سکھ کو کھا کر دکھ کو امر کر دیا تھا۔وہ گناہ جو دن کے اُجالے کا دشمن اور رات کی سیاہی کا ہمنوا تھا ۔وہ گناہ جو آئینے کی طرح گھر کے ہر کونے پر آویزاں تھا جس میں اُسے اپنی صورت مسخ شدہ دکھائی دیتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ارضی از شفا سجاد

یہ عمر کا وہ سادہ حصہ تھا جس نے جمیل کی آنکھوں میں اُسے زندگی کے رنگین پہلو دکھائے تھے ۔بے باک جوانی نے محبت کو کمزور کردیا تھا ، بزدل بنا دیا تھا ۔ ایسی بزدل محبت جو عزت کی طاقت سے لڑ نہیں پاتی اور نفس کے دھاری وار سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے ۔ محبت کی اِس راہ میں شرافت کچلی گئی تھی جس پر چلتے چلتے جمیل بے وفائی کے راستے نکل گیا اور وہ پشیمانی کی منزل پر تنہا رہ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پریت از فرحین خالد

پہلے پہل تو یہ پچھتاوے کے کیڑے بدن پر صرف رینگتے تھے مگر شادی کے بعد پوری رفتار سے دوڑنے لگے۔جیسے سارے موسم سال بھر آگے پیچھے دوڑتے ہیں جسم میں چبھتے اضطراب کے گرم موسم __خیالات کو کپکپاتے قلق کے سرد موسم__ دل کو پل پل توڑتے خزاں کے مایوس موسم __ اور آنکھوں کو پرنم رکھتے بے خوابی کے گیلے موسم ۔ جب کبھی اقبال کی معصوم صورت میں جمیل کی مکروہ شکل نظر آتی تو زندگی کا روپ مزید بھیانک ہو جاتا۔اقبال کی محبت وہ خوبصورت خواب تھا جس میں وہ ڈر ڈر کر جی رہی تھی ۔خوف تھا کہ اقبال کی آنکھ نہ کھل جائے اور وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی دنیا سے بے دخل نہ کر دے ۔ جس کے باہر صرف حقیقت کی رسوائی بھری دنیا تھی۔
اُسے لگتا تھا یہ صرف ملال نہیں وہ جوان سوکن ہے جو اُس کے اور اقبال کے دل کے بیچ تاک لگا کر بیٹھی ہے۔ضمیر کی دن رات کی ضرب اُن طعنوں کی طرح ہے جو گھر بیٹھی ڈھلتی عمر کی لڑکیوں کو جاہل ماں باپ کستے ہیں ۔اور افسوس کی یہ تیز جلن اُس بھڑکتی آگ کا نتیجہ ہے جو صرف چمڑی ہی نہیں سکھ چین بھی جلا دیتی ہے ۔
“فریحہ ساری آوازیں میری سماعتوں سے قطع تعلق کر لیں جو تمہارے بارے میں غلظ سُن کے سہن کر جاؤں، سب تصویریں آنکھوں کو نوچ کھائیں جو تمہارے سوا کسی اور کو دیکھوں ، تمام لفظ خاموشی کے در جا بیٹھیں جو تمہاری دل آزاری کروں۔ ” اقبال کی ایسی شاعرانہ تعریف اُس کی جان پر ہمیشہ ایک ڈنگ کی طرح لگتی ۔پچھتاوے کا وہ ڈنگ جو کئی کئی روز تک اُسے تڑپاتا رہتا۔
عورتوں کو اچھے شوہر مل جائیں تو وہ اُنھیں اپنے کسی نیک فعل کا انعام سمجھتی ہیں مگر اُسے تو بھولے سے بھی کوئی چھپائی ہوئی، کمائی ہوئی نیکی یاد نہ آتی۔وہ بچپن سے ہی فلم گانوں کی شوقین تھی ،صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح کہنے والی خودسر طبیعت کی مالک ،بے شرمی کو لباس کی خوبصورتی اور بد اخلاقی کو صاف گوئی کی علامت سمجھنے والی۔وہ سمجھنے لگی تھی کہ وہ بچپن سے ہی قصور وار ہے۔ لڑکپن کی خطاؤں کے قطروں نے اُسے گناہوں کے سمندر میں دھکیلا تھا، وہ سمندر جس میں اقبال کی اچھائیاں اور اُس کی کوتاہیاں تیر رہی تھیں ۔وقت الارم بجا رہا تھا کہ ڈوبنا مقدر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

سجدہ سہو از صوفیہ کاشف

اقبال کی وفا اور جمیل کے دھوکے نے اُسے یکسر بدل ڈالا تھا ۔زندگی کے البم میں غلطیوں کی پرانی تصویریں تو تھیں لیکن کوئی نئی تصویر کا اب تصور تک نہ تھا۔ ابتداء میلی تھی اختتام سے بھی یہی اُمید تھی اُسے ، مگر بیچ کی اُجلی چادر نے گھنا سایہ عطا کیا تھا محبت اور نعمتوں کا سا یہ ، لیکن اُس سائے کو کاٹتی تاسف کی دھوپ نے اُسے کبھی مکمل خوش نہ ہونے دیا۔
صرف وقت ہی نہیں ، اقبال کی آنکھوں میں محبت بھی بڑھ رہی تھی اور اُس کی آنکھوں میں تعجب۔اکثر وہ اپنے آپ کو اُس تنگ دست شخص کی طرح لگتی جو راہ چلتے چلتے مالا مال ہو چکا ہے۔ ہنوز بے یقینی تھی کہ یہ چاہت اور عزت کی دولت قسمت کی مہربانی ہے یا آزمائش کا اِشارہ ۔ حیرانی تھی کہ اقبال اِتنا اچھا کیسے ہو سکتا ہے اور اُس پہ حیرت کہ اُس کا کیسے ہو سکتا ہے۔شاید یہ تنہائی کی معافیوں کا صلہ تھا یا گناہ کی سنگینی کا احساس ،لیکن دل مطمئن کیسے ہوتا ، اعتراف جو ابھی باقی تھا۔
زندگی کئی واقعات سے بھر چُکی تھی جو یقین دلانے کے لیے کافی تھے کہ وہ اقبال کے بلکل قابل نہیں ۔ایک بار بھری محفل میں اقبال کی ایک شوخی کزن نے اُن کا کڑا امتحان لیا تھا ۔سوال تھا کہ اُن کی لیلی مجنوں جیسی محبت کی وجہ کیا ہے ؟۔”اگر میں مصور ہوتا وفاداری ، پارسائی کی شکل بناتا تو کاغذ پر فریحہ کا وجود اُبھرتا۔اگر شاعر ہوتا حُسن اور دلکشی پر غزلیں کہتا تو فریحہ کا پری چہرہ ہی اس کا موجب بنتا۔لیکن میں ایک عام سا بندہ ہوں اور اِتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ میرے دل کی زمین ہری بھری ہے حسِین ہے کیونکہ میں ایک نیک اور خالص دل کا شریک ِ حیات ہوں۔” وہ شرم کے مارے چپ رہی تھی مگر اقبال کے جذباتی جواب نے اُس کی شرم کو شرمندگی میں بدل دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

رکی ہوئ صدی از سدرت المنتہی
وقت آگے بڑھ کر اور کم ہوا مگر ڈنگ پوری شدت سے لگ رہے تھے ۔وہ جب بھی خود سے ملتی بے ایمانی بے وفائی کے ڈنگ، اُلجھن اور چبھن کے ڈنگ درد کے کئی نشان چھوڑ جاتے جن کو چھپاتے چھپاتے وہ تھک چکی تھی ۔کبھی کبھی اُس کا دل چاہتا اقبال کو سب کچھ بتا کر بے قراری کی دوزخ سے رہائی پالے پھر یہ سجی سجائی ، بنی بنائی جنت کو کھونے کا ڈر ایسے گھیر لیتا جیسے ویران جنگل میں تن تنہا مسافر کو بھوکا پیاسا شیر۔
“جانتی ہو فریحہ میں نے اِتنے برس نابینا گزارے ہیں ۔” اِس انوکھی بات پر اُس نے اچنبھے سے اقبال کو دیکھا۔ “دکھ اور فریب نے وہ روشنی سلب کر لی تھی جس سے چیزیں اور رشتے اچھے نظر آتے ہیں۔پھر تم میری زندگی میں آئی اور تمھارا چہرہ جو صرف درخشاں نہیں سچا بھی ہے ، اِسے دیکھ کر سب رشتے صاف اور سچے نظر آئے ، ہر شئے خوبصورت دیکھائی دی ۔” اقبال کا سر زعم سے اُٹھا ہوا تھا اور اُس کی گردن غم سے جھکی ہوئی۔ عین دل پر ڈنگ لگا تھا لاعلم اندھی محبت کا ڈنگ ۔وہ اِس شخص کو روک نہیں پا رہی تھی جو اپنے ہی خمار میں اُسے محبت کی چوٹیوں تک لے کے جا رہا تھا بغیر یہ جانے کہ وہ روز پشیمانی کی کھائی میں گِر رہی ہے۔
دیکھنے میں اُس کی زندگی مکمل تھی ۔تین پیارے پیارے بچے ، محل جیسا گھر ، محبت لٹاتا شوہر ۔وہ خوشیوں سے ایسے لدی ہوئی تھی جیسے مہارانیاں زیورات سے لدی ہوتی ہیں۔مگر اندر ایک خلا تھا جسے پُر کرنے کے لیے آسائشیں اور محبت ناکافی تھی۔یہ زندگی کی وہ خالی جگہ تھی جو اُس کے اپنے لفظوں سے ہی بھرنی تھی ،اپنے سچے لفظوں سے۔
آخر ہمت نے ہتھیار ڈال دیے۔جسم ڈنگ کے وار سے تھک چکا تھا تو روح ضمیر کی مار سے۔اُس نے یہ اندیشہ کچل دیا کہ وہ جنت سے نکالی جائے گی کیونکہ دوزخ میں رہنا اب اُسے گوارا نہ تھا۔شادی کو نو برس بیت چکے تھے ۔اُس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اِس شادی کی سالگرہ پر اقبال کو اب تک کا بہترین تحفہ دے گی ، حقیقت اور سچ بیانی کا تحفہ۔

وڈیو دیکھیں: حماد کے ساتھ ایبٹ آباد کی طرف سفر!

و ہ اظہارِ محبت میں جتنا سخی تھا وہ اُتنی ہی کنجوس تھی ۔”فریحہ بس ایک ہی شکایت رہی تمط سے کہ تم باتیں سنبھال کر رکھتی ہو۔آج شام میں جلدی آجاؤ ں گا نیا سامان ، نئے تحفے لے کر ۔دل کے بکسے سے سارا پرانا سامان نکالیں گے ،نئی چیزوں کی جگہ بنائیں گے ۔آج ہم ڈھیروں باتیں کریں گے ۔میٹھی باتیں جمع کر کے تلخ باتیں تفریق کر دیں گے ۔دل کی شیلف خالی رکھنا ،نئی باتوں اور نئی یادوں کے لیے ۔ ” اقبال کے چہرے پر بے تحاشہ محبت تھی اور لہجے میں گہری سنجیدگی ۔وہ محبت کی ادا میں ایسی کھوئی کہ لہجے پر غور نہ کر سکی۔
اُن کی شادی کی سالگرہ پر موسم خوشگوار سا ہوتا تھا شاید دل مسرور ہو تو باہر کی دنیا کو مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔لیکن آج موسم میں سوگواری تھی یقیناً باہر کی دنیا دل کی مرضی کے ماتحت تھی۔معصّیت کا لباس اُترنے والا تھا اُس کا دل کیا سفید کپڑے پہن لے ۔وہ سکون کے حصول سے پہلے سکون کی تاثیر محسوس کرنا چاہتی تھی۔
اقبال کے آنے میں کچھ ہی دیر باقی تھی مگر اُس کے آنے سے پہلے نہ آنے کی اطلاع آگئی ۔ایک حادثے نے اقبال کی جان لے لی تھی اور اِس خبر نے اُس کی ۔وہ دلوں کی عارضی جدائی مٹانے کے لیے بھاگ رہی تھی اور دائمی جدائی سے ٹکرا گئی ۔یقین اور برداشت ساتھ نہیں دے رہے تھے کہ اب اُس کا اور اقبال کا ساتھ نہیں رہا۔ “اقبال چلے گئے کیوں چلے گئے __ کیسے جا سکتے ہیں وہ میرا دل کا بوجھ ہلکا کیے بغیر __ کیسے چھوڑ سکتے ہیں میری محبت کی شدت کو جانے بغیر__ کیوں خاموش ہو گئے میرے گناہوں کا اعتراف سنے بغیر۔ “وہ بے ہوشی کی کیفیت میں تھی لیکن ضمیر کی دل شکستہ آوازیں ہر پل ستا رہی تھیں ۔
وہ روز اقبال کی کسی نہ کسی پسندیدہ چیز کو ضرور چھوتی ۔کسی کو محسوس کرنے کا شاید یہ احمقانہ طریقہ ہو مگر محبت ہمیشہ فراست اور حماقت کے بیچ ہی جھولتی رہتی ہے ۔وہ ہچکولے لیتی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی ۔پتوں اور ہواؤں میں اُداس گفتگو جاری تھی۔اقبال کے ہاتھ کے لگائے پودے اُس کے منتظر کھڑے تھے ۔ ننھے سیب ، انگور کی بیلوں کو تسلی دے رہے تھے ۔سفید کلیاں ، لال گلابوں کے گلے لگ کر رو رہی تھیں ۔
اُس کے ہاتھ میں ڈائری تھی وہ ڈائری جس سے وہ چڑتی تھی جو اُس کے وقت اور محبت میں برابر کی شریک تھی ۔اقبال نے بچھڑنے سے ایک دن قبل تین صفحے لکھے تھے ۔اُس نے پہلا صفحہ کھولا آنکھیں پانی سے بھر گئیں پورا صفحہ محبت سے بھیگا ہوا تھا۔اِتنی تڑپ دیکھ کر بے چینی اور بلبلا اُٹھی، اِتنی عزت پا کر عزتِ نفس کو مذید ٹھیس لگی ، الفت کی ایسی دیوانگی پر خاموش محبت کو نہایت صدمہ ہوا ۔
اُس نے اگلا صفحہ پلٹا ۔ یوں لگا ہوا کے لب سِل گئے ، پودوں کی سانس رک گئی ، پھولوں نے آنکھیں میچ لیں اور کھڑکی کی جان نکل گئی ۔دوسرے صفحے پر وہ گناہ برہنہ پڑا تھا جو اُس کی دانست میں پردے میں تھا ۔جس کی لاش کا ٹھکانہ بس اُسے ہی معلوم تھا ۔اقبال نے ٹھکانہ ڈھونڈ لیا تھا اور لاش کو معافی کی قبر میں دفنا دیا تھا ۔اُسے لگا سارے ڈنگ مر گئے ، سارے بوجھ ہٹ گئے، سارے نشان مٹ گئے۔
وہ تیسرے صفحے پر آئی جسم کو حیرت اور غصے کے کئی جھٹکے لگے مگر جلد ہی اُسے محبت اور ظرف نے تھام لیا۔معافی کی خیرات دے کر معافی کی بھیک مانگی گئی تھی ۔آخری صفحہ نہیں ایک آئینہ تھا پچھتاوے کے ہاتھوں میں تھاما ہوا آئینہ ، جس میں صرف اُس کے گناہ کی شکل نہیں ،اقبال کے گناہ کا عکس بھی تھا۔

کتابیں جھانکتی ہیں۔۔۔۔۔

میرے دوستوں کی اکثریت میری کتاب کی محبت کی شیدائی ہے۔ اکثر لوگوں سے دوستی میری صرف اس محبت کی بنا پر جنم پای ہے۔مگر میں کیسے سب کو بتاؤں کہ یہ محبت میرے لیے کسی لاحاصل محبت سے ذیادہ نہیں۔یہ مجھے اسی طرح تڑپاتی ہے جیسے کوی پردیسی محبوب دور بیٹھے چاہنے والے کو ترساتا ہے۔جو ہزار کوششوں،خواہشوں اور خوابوں کے باوجود قریب نہیں آ پاتا۔اسمیں کوی شک نہیں کہ اپنے قریبی یاس مال جاؤں تو باڈرز یا ورجن(بڑے کتب خانے) جاے بغیر گزارا نہ میرا ہوتا ہے نہ میرے بچوں کا ۔اسکے باوجود کہ شدید خواہش ہوتی ہے کہ جو کتاب اٹھایی جاے واپس نہ رکھی جاے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ خواہش ہوتی ہے کہ کسی صدیوں کے بھوکے ندیدے کی طرح اسے ایک ہی منٹ میں بغیر ڈکار لیے نگل لیا جاے۔مگر بندہ مزدور کے اوقات کی طرح میرے بھی اوقات اتنے ہی تلخ ہیں جو اس دھواں دھار عیاشی کے متحمل نہیں ہو پاتے ۔چناچہ بہت سے کڑوے گھونٹ بھر کر بہت سے دلاسے دل کو دے کر کچھ کتابیں اٹھایی جاتی ہیں اس عزم کے ساتھ کہ انشااللہ جلد ہی پچھلی کتب ختم ہونگی اور انکی باری آے گی، کچھ زرا نظر چرا کر واپس رکھی جاتی ہیں چونکہ چھوڑی جانے والی کتاب سے نظر ملانا بہت ہی تکلیف دہ امر ہے ،اس حقیقت سے نظر ملا کر کہ ابھی تو گھر میں اتنی پڑی ہیں جنکی ابھی باری نہیں آی۔اور یقین کیجیے کہ ذندگی کی ایک بڑی مایوسی کی وجہ وہ کتابیں بھی ہیں جو میرے بک ریک کے شیشے کے پیچھے سے مجھے آنکھیں مار مار تھک چکی ہیں اور میں ان سے عشق کے دعوے کی ہزار سچای کے باوجود انکے قریب نہیں جا پاتی،انکے لفظوں کو اپنی روح میں نہیں اتار سکتی،انکے خوبصورت ملائم صفحات کا لمس محسوس نہیں کر پاتی۔اسکی وجہ یہی ہے کہ میں ایک بے پرواہ سولہ سالہ لڑکی نہیں جسکی اماں اسے فارغ بٹھا کر پڑھانا چاہتی ہو تاکہ وہ اتنی فرصت سے پڑھے کہ کامیابی سے ڈاکٹر بن جاے بلکہ میں ان مراحل سے سالوں پہلے گزر چکی اک عمر رسیدہ ماں اور بیوی ہوں اور اپنی ماں کی دی وراثتی عادت سے مجبور اپنے بچوں کو بٹھا کر پڑھانا چاہتی ہوں۔چناچہ باورچی خانے کے چولہے سے باتھ روم کے ٹب تک،بچوں کے تہہ در تہہ کاغذوں اور کھلونوں سے لدے کمرے سے لے کر گھر کی دیواروں تک میں ہر چیز کو صاف کرتے ،مانجتے اور سنوارتے پای جاتی ہوں ۔اگر کہیں مشکل سے ملتی ہوں تو اپنے گھر کے اسی محبوب کونے میں جہاں میں نے کسی معصوم کم سن بچی کے گڑیا گھر کی طرح اک کرسی میز کے ساتھ قلم کاغز اور کتاب رکھ کر اپنے خوابوں کا گھر سجا رکھا ہے۔اور میرا منتظر یہ کونہ میری آمد کا منتظر رہتا ہے جو میں اکثر دے نہیں پاتی چناچہ کبھی اک کتاب یہاں رکھی کبھی وہاں منتظر بیٹھی چالیس دنوں میں یا دو ماہ میں بمشکل اختتام پزیر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بوجھ از صوفیہ کاشف

مجھے یاد ہے کہ بہت بچپن میں میرے چچا کا گھر چھٹیاں گزارنے کی بہترین جگہ ہوتا تھا جہاں میں اپنی دادی کے ساتھ اکثر جاتی رہتی تھی۔اسکی وجہ انکے کنوارے گھر میں جا بجا سسپنس ڈائجسٹ کی بہتات تھی،ڈھیروں ڈھیر،تہہ در تہہ،جو مجھ چوتھی پانچویں کی بچی کو سمجھ تو کیا آتے ہونگے مگر دل لگانے کا بہترین ذریعہ تھے کہ اس خالی گھر میں دادی کے ساتھ اکیلی رہتے میں وہ ڈھیروں ڈھیر ڈایجسٹ انکے گھر کے ہر کونے سے ڈھونڈ کر پڑھ آتی تھی۔سکول میں درجن بھر سے زیادہ کزنز اوپر نیچے تقریبا ہر کلاس میں بھری تھیں اور میرا مشغلہ تھا کہ بریک میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کی بجاے میں کسی نہ کسی کزن سے اسکی اردو کی کتابیں مانگ لاتی تھی۔اس لیے گریڈ ون سے لے کر ٹن تک ہر سال سب سے بور مضمون مجھے اردو لگتا تھا کہ سو سو بار پڑھ رکھا ہوتا تھا۔جب تک کہ سلیبس بدل کر اس میں کچھ نئے اسباق کا اضافہ نہ ہو جاے۔جنگ کے بچوں کے رسالے جو اس وقت چار صفحات پر مشتمل تھے اور اشتہارات کی جاگیروں سے محفوظ تھے ڈھیروں ڈھیر اکٹھے تھے۔پھر زرا سے بڑے ہوے تو اسی خاندانی اخبار کو الف سے ہے تک چاٹنے لگے۔چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے سارے کالم سب مضامین سارے فیچرز پڑھے جاتے اور خبر بھی نہ ہوتی کہ دل دماغ کی زنبیل میں کیا کیا کچھ الٹ چکے۔ہاں مگر اب ضرور اندازہ ہوتا ہے جب اک زرا سی معمولی بات بھی دوسروں کو سمجھانے کے لیے کتنا سر کھپا کر بھی بے اثر رہتے ہیں تو سمجھ میں آتی ہے کہ کسقدر سمجھ علم اور شعور ان کتابوں اور رسالوں نے چپکے چپکے ہمارے اندر انڈیلی تھی کہ ہمیں خبر بھی نہ ہوی۔ایسا کیوں تھا؟ اسقدر مطالعہ کا شوق کتاب سے اسقدر محبت؟ شاید کچھ وراثتی بھی ہو گا۔کہ گھر میں امی کی جاگیر رضیہ بٹ کے ناولوں اور پنجابی داستانوں کی بہتات تھی۔گھر کی الماریوں میں ابا جی کے بنک کے ماہانہ میگزین اور سالانہ خوبصورت کتاب نما رپورٹیں قطاروں میں سجی تھیں۔اسکے علاؤہ مشہور زمانہ بہشتی زیور ،اور مرنے کے بعد موت کے منظر سے لیکر ،نسیم حجازی کے سب ناولز سمیت ،کیمیاء سعادت،غنیتہ الطالبین،کشف المعجوب تک ترتیب سے لگی تھیں۔ بڑے بھای کتابوں پر کتابیں خرید کر لاتے اور ہم سے بچا کر تالا لگی الماری میں بند کر لیتے ۔اب ہم مانگتے پھرتے اور مانگ مانگ پڑھتے۔ایک واپس کرتے تو دوسری ملتی۔ ساری عمر روزانہ اخبار صبح صبح دہلیز پر پڑا ملتا جو عمر بھر علم اور شعور میں بغیر بتاے اور جتاے بے انتہا اضافہ کرتا رہا۔قدم قدم چلتے ہم کہاں سے کہاں پہنچے یہ فرق ہمیں تب دکھتا ہے جب ہمیں انکے ساتھ بیٹھنا پڑ جاے جنکے گھر میں بچوں کے نصاب کے سوا کوی کتاب نہیں ملتی،جنکے ناشتہ کی میز پر صبح کا اخبار نہیں ہوتا،جنکے سرہانے رات کو سوتے اک الٹی کتاب اور ایک ترچھی عینک نہیں گری ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: پچاس لفظوں کی کہانیاں از عروج احمد

لیکن اب الماری میں ڈھیروں ڈھیر کتابیں ٹھوس لینے کے باوجود بھی اسقدر وقت نہیں کہ ایک ہی دن میں کتاب نپٹ جاے۔ پھر بھی دل میں مایوسی نہیں۔وجہ؟ ایک بہت اہم وجہ ہے۔میری بیٹی ماشاءاللہ جب بھی بیٹھتی ہے سرہانے ایک نہیں دو تین کتابیں رکھ کر بیٹھتی ہے،باہر جاتے ہیں تو دو کتابیں ساتھ لے کر جاتی ہے۔مالز جائیں تو میرے بچے کھلونوں سے ذیادہ کتابوں پر مچلتے ہیں میری کتابوں جتنا خرچہ میرے دو چھوٹے بچوں کی کتابوں پر ہو جاتا ہے۔مجھے یاد ہے میں نے فاطمہ کے لیے پہلی کتاب تب لی تھی جب وہ ایک ماہ کی تھی۔مائیں بچیوں کے پیدا ہوتے ہی انکا جہیز بنانے لگتی ہیں میں نے اسکی لائبریری بنانا شروع کر دی تھی۔پہلے اس نے تصویریں دیکھنا سیکھا،پھر کہانی سننا اور بلآخر تحریر کو پڑھ لینا۔اسکے بعد میری مشکلیں آسان ہو گییں۔اب وہ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے پڑھتی ہے۔وہ سوتی ہے تو اسکے سرہانے تین چار کتابیں پڑی ہیں وہ کھاتی ہے تو کھانے کی میز پر کتاب رکھے بیٹھی ہے۔مجھے سکوں ہے کہ کم عمری سے ہی میں نے اسکا ہاتھ محفوظ ہاتھوں میں دے دیا ہے۔اسے وہ رستہ دکھا دیا ہے جس پر اسے ہمیشہ روشنی ملے گی۔ دنیا میں کیسے ہی مشکل امتحاں آ جائیں زندگی میں کتنے ہی کٹھن مرحلے،یہ دوست ہمیشہ اسکے ساتھ راستہ دکھانے کو موجود رہیں گے۔یہی وجہ ہے کہ میری منتظر کتابیں مجھے بیکار نہیں لگتیں۔میں نے لفظ لفظ پڑھکر بھی اگر اپنی نسل کو اک تحریک دے دی ہے تو اسمیں برا کیا ہے۔کچھ کتابیں ہمارے والدین نے گھر میں اپنی محبت سے مجبور ہو کر سجای تھیں جنہیں وہ پڑھ نہ پاتے تھے۔مگر انکی لگن لے کر ہم چل پڑے۔اب کچھ محبتیں ہم نے اپنی الماریوں میں سجا دی ہیں تو کیا ہوا جو قدم ہمارے اکھڑ چکے،ہماری رفتار رکھنے کو اگر ہمارے بچے موجود ہیں تو پھر یہ سودا گھاٹے کا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پلیٹ فارم از نیل زہرا