واہگہ!_________عظمی طور

واہگہ ! میں نے تیرا ذکر اس وقت سنا جب کبھی تیرے سینے پہ سبز پرچم لہرائے اور سبھی اترائے…

کفارہ۔۔۔۔۔۔۔صوفیہ کاشف

“یہ چہرہ بہت خوبصورت تھا جب تک اس پر محبت کے نام کی کالک نہیں لگی تھی” مجھے آتے ہوئے…

سائنس کے سینے پر بندوق کا فائر

— نانا جانی…؟ جی بچے. نانا جانی کلاس میں ٹیچر نے لیکچر کے دوران بتایا پوچها کیا؟ دهرتی گول ہے…

برفیلے دل کا آنگن_______ثروت نجیب،ک

تحریر:ثروت نجیب کابل افغانستان :کور ڈیزائن:ثوبیہ امبر ____________________ ”تمھیں دل کے قفس کی تاریں کسنے کے علاوہ آتا کیا ہے؟…

نئی نئی ممی اور نئے نئےابا

ممی کی ڈائری کے پچھلے ورق نے کچھ ایسے سوال اٹھائے کہ جن کے جواب میرے خیال میں ازحد ضروری…

کتاب تعارف___”گہر ہونے تک “

ذندگی اک کھیل ہے مگر ایسا جسے کھیلنے کو بہت سی بہادری اور کمال چاہیے۔یہ بچوں کا کھیل ہر گز…

پردیس کے رنگ چڑھنے لگے______از صوفیہ کاشف

پاکستان کی سرحد سے نکل جانے کے بعد اور کسی پہلی دنیا کی کامیاب ریاست یا کسی ترقی یافتہ معاشرے…

خط ہی کیوں لکھے جائیں از جون ایلیا کا جواب_______سدرتہ المنتہی جیلانی

خط ہی کیوں لکھے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جون ایلیا (سدرتہ کی طرف سے فارحہ ارشد کے لئے ) فارحہ نگارینہ تم…