غزل______

میرا زکر ہو گا اسکی زندگی کی کتاب میں

کیا اتنا سکوں کافی ہے میرے درد کے نصاب میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ بولتا گر وہ ،اسکے لہجے میں کچھ تو ڈھونڈتے

کوئ خوشی تھی نہ غم، وہ خموش تھا جواب میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں کس سپنے کی تعبیر ڈھونڈوں کہ یہ وصال

روشنیوں کے باب میں نہ شب بھر خواب میں

_________

علیزے محمد

فوٹوگرافی: فرحین خالد

“کچھ اپنے خیالات کے بارے میں”

خیال ہیں مرے یہ، عجب ابہام ہیں
مہمل ہیں کبھی،کبھی الہام ہیں…

اپنی ذات کا ہی ہیں کبھی استہزاء
کبھی حقیقت سے بےانتہا انضمام ہیں…

اکثر تو دُوجوں کی خاطر بھی تحریک٬
کبھی میرے لیے ہی وجہِ انقسام ہیں…

دل کو کبھی شکستہ کردینے والے،
کبھی اپنی وسعت میں ازدحام ہیں…

کبھی مجھ پہ تحکم جتانے والے،

کبھی اوروں کی آرزوؤں کے زیرِ دام ہیں

~نورالعلمہ حسن

     “آسرا”______ثروت نجیب

” بیا کہ بریم م به مزار سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ” سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ ـ آسرا گنگناتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشوں کی صفائی کے دوران اور اپنی مترنم آواز پہ خود ہی جھوم رہی تھی ـ
آسرہ بائیس سالہ نوخیز چنچل بوٹے قد کی’ کتابی چہرہ ‘ بادامی آنکھیں تیکھے نین نقش والی’ چست و چوبند خوبرو لڑکی پلکوں پہ شادی کے بے حد خوبصورت خواب سجائے جب شیر شاہ کی زندگی میں آئی تو میانہ قد کا قدرے سانولا سا اندر دھنسی ہوئی آنکھیں متلون مزاج اور اس کے دگرگوں حالات جو رونمائی میں شادی کی پہلی رات ہی بطور تحفہ اسے ملے ـ
وہ پھر بھی سہانے جیون کے خوابیدہ حصار سے نکل ہی نہ سکی’ جب زندگی تمام تر بد صورتی کے ساتھ اس کا منہ چڑاتی تو اسے بےحد دکھ ہوتا’ وہ غربت کی سوتن سے حاجز آ جاتی تو اس سے جان چھڑانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈنے لگتی ـ
کابل میں سرد موسم پگھل کر دریا برد یوچکا تھا ـ آب نیسان کی بارشوں کے بعد اب درختوں نے سبز مخملی لبادوں سے ستر پوشی شروع کر دی تھی’ بغدادی کبوتر منہ میں تنکے دبائے آشیانے بنانے میں درختوں اور چبوتروں میں مناسب جگہ کے متلاشی تھے ـ شھرِ کابل کے لوگ نوروز کی تیاروں میں مگن ‘ کہیں گندم کے ہرے خوشوں سے سمنک بنانے کی تیاریاں شروع تو کوئی ہفت میوہ ا کٹھا کرنے میں مصروف کوئی پلاسٹک کی شفاف تھیلی میں سنہری مچھلی خرید کے گھر جا رہا تھا تو کوئی خیاط کا منتظر کہ کب اس کے نئے کپڑےسل کے آئیں گے ـ عورتیں گھروں کی صفائیوں میں جُتی ہوئیں کوئی دوپٹہ سر پہ باندھے ناک منہ لپیٹے گھر کے مرکزی دروازے کے باہر بانس کے ڈنڈے سے دبیز قالین جھاڑ رہی ہے تو کوئی گلدان میں مصنوعی لالہ کے پھول سجا رہی ہے ـ نوروز کی آمد آمد ہر طرف گہماگہمی اور اس نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ اس بار مزار شریف میں مولا علی کے مزار پہ جا کے حاضری دے گی اس یقن کے ساتھ کہ جھنڈا بلند ہوتے وقت جب دستِ دعا اٹھائے گی تو اس کی زندگی بدل جائے گی ـ
“آسرا آسرا کہاں ہو تم”؟ ؟؟
شیر شاہ گھر میں داخل ہوتے ہی آسرا کو پکارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور آسرا کو گنگناتے دیکھ کر ٹھٹھک گیا ـ
“لگتا ہے ہے مزار جانے کا شوق تمھارے دل میں بیٹھ گیا ہے ”
” شوق نہیں ضرورت” !!!
وہ جھاڑن ایک طرف رکھ کے پاؤں پسارے مسہری پہ بیٹھے ہی بولی! !!!
سنو کیا تمھارا دل نہیں کرتا ہمارے گھر خوشحالی آئے “؟
جب سے شادی ہوئی ہے ترس گئی ہوں ـ تمھاری کچی پکی نوکری اوپر سے تین تین ماہ تنخواہ بند جب ملتی ہے تو قرضوں میں خرچ ہوجاتی ہے اور یہ کرائے کا مکان !!! ـ ـ ـ
“کیا ایسی ہوتی ہے زندگی “؟؟؟
” ارے میں تو فارس کے لاڈ ہی نہیں اٹھا پاتی ”
جھولے میں سوتے دس ماہ کے بچے کو پیار سے دیکھتے دیکھتے روہانسی ہو گئی ـ

یہ بھی پڑھیں: کھڑکی سے اس پار

“سنا ہے مزار شریف میں جب جھنڈا بلند ہوتا ہے نا تو مولا علی کے کرم سے ساری مرادیں پوری ہو جاتی ہیں اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئےکہا “!!!
شیر شاہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا ـ ـ ـ
“چلو چل کے دیکھ لیتے ہیں مزار شریف بھی”!
مگر سنو اگر اس جمع پونجھی سے میں بائیک لے لیتا اور ہم گھر پہ ہی نوروز منا لیتے تو ـ ـ ـ ؟؟؟
وہ منہ بناتے ہوئے بولا” اب دیکھو نا بہت سی اچھی نوکریاں تو سواری نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ سے نکل جاتیں ہیں ”
” حالات تو حکمت عملی کی وجہ سے ہی درست ہوتے ہیں نا ”
منت کے دھاگے اور آستانوں پہ چراغ جلانے سے مفلسی ختم ہو جاتی تو مجاور کبھی تنگ دست نہ ہوتے ـ”
آسرا کانوں کو ہاتھ لگاتے بولی ” توبہ توبہ ”
“شیر اب مجھے مزار نہ لے جانے کے لیے شرک کرو گے گیا ؟؟؟”
تو شیر شاہ فوراً بولا ـ ـ ـ
” نہیں نہیں ویسے ہی تجویز تھی “ـ ـ ـ
آسرا نے نجانے کیسے پائی پائی جوڑ کر کابل سے مزار شریف جانے کے لئے رقم اکھٹی کی تھی -”
بار ہا بازار میں چیزوں کو دیکھ کر دل مچلا مگر نادیدہ خوشحالی کی آس میں نفس کو قابو میں رکھا _”
اگلے دن شیر شاہ کو ضروری سامان کی فہرست تھماتے ہوئے کہا “کچھ بھول نہ جانا سب ضروری سامان لکھ دیا ہے اس فہرست میں” ـــ
اور وہ خود سفری بیگ میں چند جوڑے رکھنے کے لیے ٹرنک کھول کے بیٹھ گئی ـ
شیر شاہ تیمور شاہی بازار کی گہما گہمی میں سرخ سیبوں سے لدی ریڑھی کو دھکیلتا ‘ زمین پہ بچھے کپڑوں کے انبار سے ہوتے ہوئے راہ گیروں کے کندھے سے کندھا ملاتے ‘ گاڑیوں اور جیب کتروں سے بچتا بچاتا ‘ نیلے برقعے اوڑھے عورتوں کے جمگٹھےے کو راستہ دیتا اس قدیم بازار میں جہاں متوسط طبقے کے لیے ہر قسم کا سامان بارعایت ملتا لوگوں کے ہجوم میں گم ہو گیا ـ

یہ بھی پڑھیں: بے وفا
بازار کے درمیان میں بہتے گدلے دریائے کابل سے نمی چرا کے ہوائیں بہار کے موسم کو ٹھنڈا میٹھا کر رہی تھیں ـ
بہار کا لبادہ اوڑھے سیب و خوبانی کی بُور کی خوشبو سے لبریز ہوائیں اور ڈھلتے سورج کا پراسرار وقت اوج پہ تھا جب چرند و پرند سمیت ہر ایک کو گھر پلٹنے کی جلدی ہوتی ہے تو شیر نے بھی گھر پلٹنے کی ٹھانی ‘وہ بڑ بڑایا ” تقریباً سب سامان لے لیا ہے “ـــــ یہ کہتے ہوئے وہ ہجوم کو ایکبار پھر چیرتے ہوئے اب باہر نکلنے کی کوشش میں مصروف تھا ـ
بازار اب پہلے سے ذیادہ پر ہجوم ہو چکا تھا ـ خشک میوے اور پلاسٹک کے چپل اور برتنوں سے لدی ریڑھی والے اپنی ریڑھیاں کھینچتے بازار سے نکلنے کے متمنی ‘ دکانوں کے شٹر گرنے کی آوازیں اور زمیں پہ بیٹھے کپڑا و پردہ فروش کپڑوں کے انبار کو سمیٹ رہے تھے کی ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد راکھ اور خون کے ساتھ کتنے ہی خوابوں کے ریزے ہوا میں معلق اپنی خستگی کا ماتم کرتے وہ انکھیں ڈھونڈ رہے تھے جن میں کبھی بسا کرتے تھے پر یہاں تو راکھ ہی راکھ تھی آنکھوں کی راکھ جن سے ان کے وجود کھو گئے تھے ـ گوشت پوست کے انسان آن کی آن میں کوئلے اور راکھ میں مٹی مٹی ہوگئے ـ سڑے ہوئے گوشت کی بساند اور جلے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑے ‘ ہوا میں اڑتے جسمانی اعضا کے ریزے ‘ ہر طرف گہرے دھوئیں میں مدغم سسکیاں ‘،آہ و بکا ‘ گریہ و نالے ـ ـ ـ
دھڑ سے دروازہ کھلا اور پڑوسن نے اس اندو ناک حادثے کی اطلاع دی _ آسرا کے اوسان خطا ہو گئے _”
” وہ دیوانہ وار دوڑتی ہوئی گھر سے باہر نکلی اور دروازے پر غش کھا کر گر پڑی _گھر آہستہ آہستہ محلے کی عورتوں سے بھر گیا _ کوئی پانی کے چھینٹے ڈال کر آسرا کو بمشکل ہوش میں لاتی اور وہ “شیر شیر” کرتی پھر بے ہوش ہو جاتی _
‘ننھا معصوم بچہ بھوک سے نڈھال اپنے اردگرد ایک دم اتنی ساری عورتوں کا ہجوم دیکھ کر رو رو کے بے حال ہوا جاتا تھا _ ”
آسرا آسرا ـ ـ ـ ادھر دیکھو آسرا ـ ـ ـ آسرا نے نیم وا آنکھیں کھولیں دیکھتے ہی اس سے لپٹ کر رونے لگی ـ اتنا چلائی کہ کہ پاس کھڑی عورتوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہو گئیں ـ ـ ”
پگلی ـ ـ روتی کیوں ہو؟”
” زندہ سلامت تمھارے سامنے بیٹھا ہوں ـ ـ ـ ”
“دیکھو! معمولی زخموں کے علاوہ کچھ نہیں ہوا ـ”

یہ بھی پڑھیں:بیس سیکنڈ

یہ الگ بات کہ ہلدی کی طرح پیلے چہرے حواس باختہ اعصاب اور پھٹے ہوئے راکھ سے اٹے کپڑوں میں اس کے دل پہ کیا سانحہ گزرا وہ ایک الگ المیہ تھا جسے دبائے وہ آسرا کو دلاسا دے رہا تھا ـ ـ ـ
ایک عورت نے بڑھ کر بلکتے بچے کو ماں کی گود میں ڈال دیا ـ ـ ـ “مولا نے کرم کیا “ـ
“بلا تھی اور برکت نہ تھی ـ”
“ہاتھ کا دیا آگے آگیا ”
ایسے ملے جلے تاثرات سنتی آسرا نے شیر شاہ کے کندھے پہ سر رکھ دیا ـ
وہ جان گئی تھی کہ زندگی کے لیے اس کے لوازمات سے ذیادہ ضروری بذاتِ خود زندگی ہی ہے ـ
۲۱ مارچ کی صبح نوروز کی میز سات رنگ کی اشیاء سے سجی تھی آسرا رقابیوں میں سمنک ڈال کر مہمانوں کو کھلا رہی تھی اور آنگن میں چمکتی بائیک کھڑی خوشحالی کی نوید دے رہی تھی ـ

__________________

تحریر و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں:ہمالیہ قراقرم ہائی وے

جدائ_______رابعہ بصری

ہاں وہی کاسنی نہر تھی
چار سْو چپ دھری تھی
وہ میرے روبرو سر جھکائے پشیمان سا ,
ایسے بیٹھا تھا جیسے کوئی
اپنی ساری کمائی لٹا کے بھی ہار آیا ہو
عجیب سا کھردرا زنگ آلود چہرہ
کہ جِس پہ بہت کچھ لِکھا تھا
پڑھ لِیا تھا, سمجھ نہ سکی
اسی دِلگیر لمحے میں
ہماری روحوں نے اِک آخری بات کِی
چھید سا ہوگیا
درد بڑھنے لگا
ڈگمگاتے قدم وہ سنبھالے رخصتی کو اٹھا
دھند اتنی تھی کہ واپسی دِکھ نہ سکی

خدا گواہ !!!
آنکھ میں آج بھی ‘ جب یہ منظر اترتا ہے
دِل کی ساری رگیں ٹوٹ جاتی ہیں
جھِیل بھرجاتی ہے

___________

رابعہ بصری

“ابلہی”__________از ثروت نجیب

ہتک آمیز لفظوں کی
دو دھاری تلوار پہ چل کے
گھائل کر دو ـ ـ ـ ـ
خود کو دست و پا!
کس نے کہا تھا؟
میری دستار کے بل سے الجھوـــ
میرے آج اور کل سے الجھو ــــ
کس نے کہا تھا؟
مزاح کو ظرافت کے معیار سے اتارو !
ہوا کو پتھر مارو!
کاش ــــ
سن لیا ہوتا!
بہتا پانی پاک ہوتا ہے
استفراغ کر کے
تعصب بھرے لفظوں کا ــــ
کیا سوچا تھا؟
میلا ہو جائے گا دریا؟
سنو! !!!
اجلے تھے اور اجلے رہیں گے
دھو دھو کے پاپ!
گنگا جل اور زمزم آب

________________

ثروت نجیب

بے وفا_______صوفیہ کاشف

مخنی سا قد،سفید رنگ،جھکے کندھے،چہرے پر مسکینیت لیے وہ روزگار کی تلاش میں دوبئی آیا تھا ،آج اسکا انڈے جیسا سفید رنگ جھلسا ہوا گندمی اور چہرے پر لقوہ کا حملہ ہو چکا تھا۔عمر کی کتنے ہی طویل موسم گرما اس نے اس ننگے سر آگ کے تندور میں گزارے تھے جہاں سال کے دس ماہ پچاس ڈگری کی حرارت اور ورک سائٹ پر چھت سے گرمی سے بحال ہو کر مکھیوں کی طرح گرتے پاکستانی،ملو،اور بنگالیوں کے بیچ سہنے پڑتے ۔دن رات کی محنت،پردیسی تنہای،فیملی سے دوری سب نے مل جل کر اسکی آنکھوں تلے گہرے حلقے ڈال دییے تھے اور چہرے اور جسم کی کھال پر سلوٹیں بکھیر دی تھیں۔دو تین سال بعد محبتوں کو ترستا پاکستان جاتا تو خوب آؤ بھگت ہوتی،سامنے سب دو زانو بیٹھتے بعد میں حسد اور جلن میں تپتے۔کوی بے وفا پاکستانی کہتا،کوی ملک چھوڑ کر بھاگا بھگوڑا۔جشن آزادی تئیس مارچ پر ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ملی نغمے سننے والے خود کو پاکستان کے محافظ سمجھتے اور پردیسیوں کو بے وفا بھگوڑے۔ سالوں سے ٹی وی کے ایسے تہواروں سے پرے رہنے والا عبدالغفور ہر سال کرکٹ کے میچ پر ساتھی ملؤوں سے الجھ پڑتا۔جب بھی دونوں ٹیموں کے میچ ہوتے،ایک جگہ کام کرنے والے ملؤ اور پٹھان دوستوں سے دشمن بن جاتے اور دونوں ٹیموں میں سے کسی کے بھی ہارنے پر وہاں دنگا فساد ہو جاتا۔کچھ کی نوکریاں جاتیں،کچھ کی جانیں۔اس بار سرحدوں پر حالات بھی خراب تھے کچھ جاسوسوں کے بھی جھگڑے تھے۔تئیس مارچ پر نجانے کس بات کو لے کر کسی ملؤ نے کچھ کہا اور بے وفا اور بھگوڑے پاکستانی عبدالغفور نے جھریوں ذدہ ہاتھوں سے اسکا گریباں پکڑ کر دو گھونسے جڑ دئیے۔کتنے ہی اور ملؤ اور پٹھان بچ بچاؤ کرانے میدان میں کودے مگر گالی در گالی بات بڑھتی رہی اور اس رات شہر سے باہر کے اس لیبر کیمپ میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔پورا کیمپ خالی کروایا گیا اور سارا عملہ معطل ہوا۔پریڈ اور فلائی پاسٹ دیکھ کر ملی نغمے گا کر رات کو میٹھی نیند سونے والے با وفا پاکستانیوں کو خبر نہ ہوی کہ اس رات امارات کے صحرا میں کتنے سر وطن کے نام پر بغیر وردی کے بغیر تمغوں کے وارے گئے۔انہیں مرنے والے بے وفا پاکستانیوں اور ہندوستانیوں میں عبدالغفور بھی ایک تھا۔

___________________

صوفیہ کاشف

وڈیو دیکھیں۔پاکستان ڈے(2018) کی صبح پریڈ سے پہلے شاہینوں کا خون گرمانا

حد__________صوفیہ کاشف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چلو تمھارے ساتھ چلتا ہوں!”
“کہاں تک چلو گے؟”
“جہاں تک تم چاہو!”
اگر میں کہوں کہ زمان و مکان کی آخری حد تک؟؟؟تو چلو گے ساتھ؟!”
“اگر تم کہو گی کہ مکاں سے لا مکاں تک ,,,,تو بھی چلوں گا!”
میں اسکے چہرے کی طرف مڑ کر اسکی آنکھوں کے رنگ کھوجنے لگی نجانے اسکے لفظوں میں اور آنکھوں کے رنگ میں کوئ مطابقت بھی ہے کہ نہیں،،،،،،کہیں کچھ پھیکا کسی مصنوعی مصالحے کا تڑکہ تو نہیں؟مگر وہاں سب کچھ یکساں تھا ایک دوسرے سے ملتا،ایک رنگ چمکتا،اسکے لبوں سے نظروں تک سب معانی سر اٹھائے کھڑے میری ٹکٹکی کا سامنا کرتے تھے۔میرے پیروں تلے نرم ملائم سبز گھاس مزید ملائم سی ہونے لگی،آس پاس خموش کھڑے پہاڑ شاید گنگنانے سے لگے اور وادی کے اوپر منڈلاتی بدلیاں جیسے پنجوں پر بیلے کا رقص کرنے لگیں۔ایک ایمان سا اسکے لہجے سے جھانکتا تھا اور میرا دنیا سے ستایا ہوا دل اسکے الفاظ پر لبیک کہنے سے ڈرتا تھا۔ اندیشوں کے جن یقین کامل نہ ہونے دیتے تھے۔پھر بھی میں نے اس پر یقین کیا۔
“بہت سخت منزلیں ہیں! تھک تو نہیں جاؤ گے ناں!”
،،،،میں نے چلتے چلتے پیر سے ایک پتے کو مسلا اور اس سے پوچھا تھا۔۔
“تھک جاؤں گا۔۔۔۔۔مگر پھر بھی محبت بنکر کر ہمیشہ تمھارےساتھ رہوں گا!!!”
یہ ایمان تھا ،گماں تھا کہ گیاں تھا، مگر زمان و مکاں سے جب میں لامکان ہوی تو وہ میرے ساتھ نہیں تھا مگر ۔۔۔۔۔ وہ ایک ایماں کا۔۔۔۔۔خوبصورت گماں کا ہاتھ ٬،،،پتھروں سے ستاروں تک اور پھر بہاروں تک میرا ہاتھ تھامے ہر منزل پر میرے ہمراہ رہا تھا۔

______________

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: سپنج

Note to self by Connor Franta________ کتاب تبصرہ از صوفیہ کاشف

ایک چوبیس سالہ بلاگر ،انسٹاگرامر Connor Franta ,جسکی پہلی کتاب

A work in Progress

بہترین سوانحی عمری اور یاداشت کے طور پر نیویارک ٹائمزبیسٹ سیلر رہی ہے۔یہ کتاب اسکے زاتی احساسات اور واقعات اور اپنی شخصیت کے اندرونی تہہ خانوں تک روشنی کی لہریں لیجانے اور انکی تاریکی کو اجالے میں بدلنے کے سفر کی روداد ہے۔ایک ایسا سفر جو ہر نوجوان کے سامنے ایک سوال بنکر کھڑا ہوتا ہے جسے حل کرنے کی جراءت کوی کوی کر پاتا ہے ،ایک ایسا گرم جھلساتا ہوا سورج جسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہر جوان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اکثریت بہانوں ،معزرتوں اور شرمندگیوں کے پتوں تلے چھپ کر زندگی گزار لینے پر قناعت کر جاتے ہیں۔اسی لیے یہ کتاب بالخصوص اٹھارہ سے تیس سال تک کے جوانوں کے لیے ہے جو اپنی شناخت سے لیکر اپنی پہچان تک میں الجھے زندگی کے سمندر میں ہاتھ میں آ جانے والی کسی جھاڑی کی خواہش میں ڈوبتے ابھر رہے ہوتے ہیں۔اسکے موضوعات انکے کچھ مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی جرات کرتے ہیں اور انہیں آئینہ کے سامنے لانے میں مددگار رہتے ہیں۔یہ لکھاری کے اپنی زات کو دریافت کرنے کا سفر ہے،کب کب کس بات پر وہ پھوٹ پھوٹ رویا اور کب کب کس جگہ اس نے کس طرح خود کو سنبھالا،ذندگی کے وہ چھوٹے چھوٹے پھنسا دینے والے مسلئے جن سے جوانی کے مضبوط دامن اکثر الجھ جاتے ہیں اور پھر اسے کوی تسلی دینے والا نہیں ملتا ۔کوی یہ نہیں کہتا کہ”دیکھنا،،،سب ٹھیک ہو جاے گا!”اور یہی سادہ سا فقرہ بعض اوقات جوانی کی بہت بڑی ضرورت بن جاتا ہے۔پڑھنے والا خود کو ہر شے سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہے ۔” کیا کریں اور کیا نہ کریں “کی مشکل میں سر تا پا الجھے ہوے جوانوں کے لیے یہ ایک بہترین دوست ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ انکے ساتھ بیٹھ کر انتہائی دوستانہ انداز میں اور آسان الفاظ میں چھوٹی چھوٹی باتیں سمجھا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کتاب تبصرہ(the girl on the train)

میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ کوی بہت شہرہ آفاق کتاب ہے جسمیں جوانوں کے سب مسائل کا حل ہے۔مگر یہ ایک اچھی کتاب ہے جسکا مطالعہ اگر بہت ضروری نہیں تو غیر ضروری بھی نہیں۔خصوصا جب انکی سمجھ میں بہت سی عام باتیں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی بیش بہا ترقی کے باوجود اکثر نہیں آ پاتیں۔اسکے باوجود کہ لکھاری کے کچھ زاتی مسائل ہمارے لیے عجیب ہو سکتے ہیں مگر انہیں نپٹنے اور حقیقت کا سامنا کرنا سکھانے میں مددگار بھی ہو سکتے ہیں۔

تیس سال سے اوپر کے افراد کے لیے یہ ایک اچھا ریمانڈر ہے ان باتوں کا جنکو ہم یاد رکھ رکھ کر بلآخر بھولنے لگتے ہیں۔وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جنہیں کبھی بڑی فرصت سے رٹا لگایا ہوتا ہے اب کسی سٹور کے اندھیرے کونے میں پھینک کر بھول چکے ہوتے ہیں۔یہ انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر مبنی ہلکی پھلکی کتاب ہے جسمیں تصاویر ،اشعار اور کہاوتوں کے استعمال کے ساتھ انہیں مزید دلربا بنا دیا گیا ہے۔ایسے ہی جیسے ہم کسی ڈائجسٹ کے کنارے لکھے اقتباسات اور رسالوں میں لگے چھوٹے چھوٹے اقوال زریں سے دل کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بھی ایک قلیل وقت میں دل بہلانے کا آسان نسخہ ہے جو کتاب کے اوراق پر آپکو تمام سوشل میڈیا اور انسٹاگرام کا آڈیو ویڈیو مزا مہیا کر دیتا ہے۔

۔میں نے یہ کتاب پہلی نظر پر ہی اٹھا لی تھی چونکہ یہ پہلی نظر میں ہی متاثرکن لگی تھی۔اسکی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے لیے پورا گھنٹا ڈھونڈنا ضروری نہیں،چھوٹے چھوٹے انشائیہ اور شاعری کے اوراق پر مشتمل یہ کتاب دس منٹ کی فراغت میں بھی تھوڑا سا دل بہلانے کے لیے کافی ہے اور اسی طرح یہ ان دس منٹوں میں کوی وحدانیت کی ،خدا اور اسکے معجزات کے وجود کی یا دنیا کے ثبات اور بے ثباتی پر مبنی کوئی ضخیم بحث نہیں کرتی بلکہ ہلکی پھلکی باتوں سے ہمیں وہ اسباق یاد دلاتی ہے جو دنیا کے شوروغل اور تیز رفتار زندگی میں ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔

میں نہی کہہ سکتی کہ یہ آپکی لائبریری کے لیے یہ ایک ضرور ی کتاب ہے مگر میں یہ ضرور کہتی ہوں کہ یہ میری لائبریری کے لئے ایک خوبصورت کتاب ہے جو کسی تھکے لمحے میں میرا دل بہلا سکتی ہے, ہلکیے پھلکے الفاظ سے ڈھیلے ڈھالے انداز میں کچھ مایوسی کا بوجھ بانٹ سکتی ہے اور اندھیرے کے سفر میں اک چھوٹی سی روزن مہیا کر سکتی ہے۔

___________________

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ مصنف

ساون_________اے_کے_آصف

برسنا سرد ساون کا
اور اس پر اسکا یاد آنا
بڑا مشکل ہے میرے واسطے
اب اس ظالم کو بھلانا

جو کہتا تھا میں تیرا ہوں
فقط تیرا ہی رہنا ہے
تیرے بن رہ نہیں سکتا
تجھے اب یہ بھی کہنا ہے

تو میری ہی رہے گی۔۔
اور میں تیرا رہوں گا اب
کوئی تیجا نہیں ہوگا
مکمل ہم پہ ہوگا سب

فقط خوشیاں ،بہاریں اور تیرے قہقہے ہونگے
کھنکتی چوڑیاں ہر سو پرندے چہکتے ہونگے

مکمل اب تیرا ہر پل میرے حسار میں ہوگا
بسر ہر ایک لمحہ اب صرف بہار میں ہوگا

۔
مگر ۔۔۔
وہ خواب تھا سب کچھ
۔

نہ خوشیاں تھیں، نہ قہقے تھے، نہ وہ حسین یادیں تھیں
فقط کہنے کی باتیں تھیں
مکمل نہ وہ میرا تھا ۔۔۔
نہ میں چوڑی سی کھنکی تھی
نہ چہکی تھی نہ مہکی تھی بس اس سے اتنا کہتی تھی
کہ ایسا کیا کیا میں نے ؟
کی تم اکھڑے سے رہتے ہو
نہ سیدھی بات کرتے ہو
نا اب تم مجھ پہ مرتے ہو
تو کہنے وہ لگا مجھ سے ۔۔۔۔
کی تم میں ہے ہی ایسا کیا ؟
کہ تم پر مر لیا جائے
مکمل ہوگیا ہوں میں
یہ جملہ بھی کہا جائے
۔
چلو جائو
یہ کتابی محبت اب یہاں پر کون کرتا
ہے ؟
بھلا یہ بھی محبت ہے کہ جاں تک دے دی جائے
جو سب سرسبز جھوٹے خواب ہیں، پورے کیے جائیں

میری جاں!
اب یہاں اس دور میں رانجھے نہیں ملتے
چلو جائو بھلا دو سب ۔۔۔کہ اب رانجھے نہیں ملتے

یہ کہہ کر وہ جو پلٹا تھا
تو اب تک وہ نہیں لووٹا ۔۔۔
میں تب ان تلخ باتوں پر بہت دن تک تو روئی تھی
کئی راتیں نا سوئی تھی
پر اب جو حال تکتی ہوں
تو کچھ میں بھی سنبھلتی ہوں
کہ باتیں ٹھیک کہتا تھا
یہ کتابی محبت اب یہاں پر کون کرتا ہے ؟
کہ سب وحشی درندے ہیں
جو حرس و حوس کو اب محبت نام دیتے ہیں
مگر میں اب یہ سمجھی ہوں
کہ تب تو کملی جھلی تھی
جو ان باتوں کو نہ سمجھی
میں تب سب ہار بیٹھی تھی
کہ کر میں پیار بیٹھی تھی
جو اس وحشی کو نا سمجھی

مگر اے بنت حوا اب تجھے اک بات کہتی ہوں
زرا محتاط رہنا تم
کہ یہ اکیسویں ہے
اب یہاں پنوں نہیں ملتے
صرف بازار لگتے ہیں
جہاں بیوپار ہوتے
سب اداکار ہوتے ہیں
میری لیلی یہاں پر اب کوئی مجنوں نہیں ملتے
فقط وحشی ہی ملتے ہیں
میری بھولی یہاں پر اب کوئی رانجھے نہیں
کہ اب رانجھے نہیں ملتے
___________
اے-کے-آصف

فوٹوگرافی:فرحین خالد

وڈیو دیکھیں: ایک بارش

Style Icon _______ picks of the month

The latest Michael Kors large leather and canvas tote from March collection with a gorgeous color combination and unique design, brings a two years warranty and a complimentary travel vanity pouch with it.

Price:2,510 AED

548:00$

L’Oréal presents a perfect face wash with three pure clay and Eucalyptus .It works in three wonderful ways by cleansing, purifying and mattifying. The Eucalyptus extract in it helps in tightening the skin and toning it.

Price:24.40 AED

6.55 US$

watch more:Nailstation

Lovely display of vibrant colours seaweed green, pink and yellow shades on light cotton scarf by Khaadi.

Price:55aed

14.97 US $

A Beautiful, colourful and inspirational journal for Paulo Coehlo lovers with a daily dose of his inspiration on every page.A good piece for your side table or on reading desk.
Available on boarder’s,

Price:85AED

16.95 US$

An amazing ultra rich and pampering body cream that works as a soothing relaxing aromatherapy. Great product by Bath & Body Works.

Price: 85 AED

23 US$

watch more: Sensual by Bath & Body Works

A trendy light khaki Jersey robe from Dorothy Perkins for all the elegance you need!

Price:149 AED

40.57 US$

Photography: Sofiakashif

By

Sofia kashif

Farheen Khalid

Exclusively for

SofiaLog.blog

Gazebo

One of the best Indian taste in town, Gazebo is located in many very famous locations, you can easily get one beside your corner.

Service:

  1. Upto the mark
  2. Efficient
  3. Polite
  4. Active

Dinning Hall:

  • private family chambers
  • Open places included
  • Well designed
  • Perfect decor

Menu:

A big variety of grill,curries,biraynies, vegans,chappaties,nan and Indian @Pakistani snacking like samosa & pappad with the best east desserts including gulab jaman,falooda,firni.

Taste:

  • Undeniably perfect
  • Delicious & Mouth watering
  • Ample servings
  • Perfectly presented

Charges:

130 for two with two course meal

Locations:

  • AbuDhabi
  • Dubai
  • Sharjah
  • Ras Al khaimah
  • Ajman
  • Alain

Website:website Gazebo

watch video:Tony Hadley’s Lifeline,live in concert

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

وہ میرے گاؤں میں ٹھہرا نہ اپنے گھر میں رہا
عجیب شخص تها میرے لیے سفر میں رہا

اسے ہی پوچھتے ہیں تم نے کیا کیا بابا
جو اپنے بچوں کی خاطر نگر نگر میں رہا

وہی تھا دھوپ کی شدت جو ہنس کے سہتارہا
تُو اپنا تخت لئے سایہ ء شجر میں رہا

ہماری آدھی گواہی تھی سو ہمی ملزم
وہ جرم کرکے بھی ارباب معتبر میں رہا

غمِ حیات نے سب کچھ بھلا دیا ، ورنہ
دل ایک عمر تیری یاد کے سحر میں رہا

کہیں کسی نے لٹا دی خلوص کی دولت
مگر ہوس کا پجاری ، زمین و زر میں رہا

میں جگنوؤں کے تعاقب میں دور آ نکلی
وہ ہجرتوں کا ستایا ہوا تھا گھر میں رہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

وڈیو دیکھیں:ہمالیہ کی خموش خوبصورت گردی

اس سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔صوفیہ کاشف

اس سے پہلے

کہ تلاطم خیز لہریں

ہماری ڈوبتی ابھرتی کشتی کو

گہرائیوں میں دفن کر دیں

اور ہمارے ریختہ ٹکڑے

لہروں پر نشان عبرت بنے

خوفزدہ لوگوں کو

اور پریشاں کریں

اس سے پہلے کہ طلب کی بادو باراں میں

گر پڑیں ہماری احتیاط کی چھتیں!

اس سے پہلے کہ باغوں کے جھولے

بنیادوں سے اکھڑ جائیں

عشق کا ابلتا ہوا قیامت خیز لاوہ

ہمارے گھروں اور زندگیوں کو

نیست و نابود کر دے!

چلو اک بار پھر سے

اپنے تپتے رنگ خوابوں سے

نظر چرائیں طلب کی سرخ نگاہوں سے

محبت کے زہر آلود کانٹے سے

ادھوری زندگی کا دامن چھڑائیں

چلمن سے بہتی گرم ندیوں کو

ہاتھ کی پشت سے پوچھیں!

اور پھر سے بیکار ہنگاموں میں

اشتہا انگیز کھانوں میں

رنگ و بو سے بھرے ایوانوں میں

خود کو گمشدہ کر لیں!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوفیہ کاشف

پتے اور شجر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از میمونہ صدف

اے میرے ہم وطنو!
کبھی دیکھا تم نے خزاں رسیدہ پتے کو
جب جب شجر سے جدا ہوا
پہلے تو ہوا سنگ بہت اڑا
پھر جب گرا
قدموں تلے روندا گیا
شجر تو قائم رہتا ہے
نئے پتوں کا گھر بنتا ہے
جو اسے سے جڑے
اپنا اور اس کا تن سجائے
رہتے ہیں
یہ دیس بھی تو شجر ٹھہرا
اس کو رہنا ہے قائم
غداری کچھ لمحے تو
ہوا میں اڑائے گی بہت
لیکن انجام کیا ہو گا
بالآخر زمیں بوس ہو گا
قدموں میں روندا جائے گا
دیس تو قائم رہے گا
نئے پتوں کا مسکن بن کر
کئی زندگیوں کو مہکائےگا

………………

میمونہ صدف ہاشمی

فوٹوگرافی:عرفان فاروق

دیوانے۔۔۔۔۔۔۔از صوفیہ کاشف

یہ دیوانے ہیں

کتاب کھولے دیوار پڑھتے ہیں

کھلی آنکھوں خواب بنتے ہیں

بند آنکھوں تلاشتے پھرتے ہیں

یہ دیوانے ہیں

ریت پر گھنٹوں بیٹھے

لہروں سے بات کہتے ہیں

ہواؤں سے سرگوشیاں

گھٹاؤں کے سنگ رات کرتے ہیں

یہ جنکی آنکھوں سے تعبیریں

موتی بنکر جھڑتی ہیں

یہ جنکی ہتھیلیوں سے منزل

!ریت بنکر پھسلتی ہے

یہ جنکی اذانوں پر کوی صلواۃ نہیں کہتا

یہ جنکے دعاؤں پر کوی ہاتھ نہیں دھرتا

!یہ دیوانے ہیں

اپنے ٹوٹے وجود لیے

در در بھٹکتے ہیں

اورگمنام ہستیوں کا

ہر پل ماتم کرتے ہیں

یہ امید کے شجر سے

خزاں بنکر جھڑ جاتے ہیں

یہ تعبیروں کے آسماں سے

پانی بنکر برس جاتے ہیں۔

کسی پھیلی جھولی میں حیات ساری ڈال دیں

آنکھوں کی چمک میں بس کر اپنا آپ وار دیں

انکے ہاتھ میں جادو

اور نگاہوں میں طلسم

الفاظ انکے منتر

آہیں انکی سرگم

دکھائی دے کر بھی گمشدہ سے

فنا کے تماشے ہیں

خوابوں میں بسنے والے

جینے نہ مرنے والے

ہاتھ اٹھاے اوپر

دھمال کرنے والے

یہ دیوانے ہیں۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوفیہ کاشف

ایک نظم،ان گنت سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

ستارہ گر ،
جو روشنی تھی پھوٹنی وہ کیا ہوئی
جو رنگ تھے بکھير نے کدھر گئے
عطاؤں کو رضا سمجھنے والا وقت کیا ہوا
محبتوں سے دل تہی ، یہ مفلسی ــــ
منافقوں سے دوستی ، نہیں، نہیں
وہ لفظ جوڑ جوڑ کے عقیدتوں سے محفلیں سجانے والے کیا ہوئے
متاعِ جاں، ستمگری پہ آگئے
یقیں گماں سے ہار کے کدھر گیا
جبِینِ شوق کیا ہوئی
وہ چشمِ منتظر کدھر گئی
وہ سرخوشی ہوا ہوئی
تماشہ دیکھنے کو لوگ آگئے
دِلاسہ دینے والے دھند ہوگئے
وہ آنکھ کیوں اجڑ گئی
وہ خواب کیوں بکھر گیا
وہ شاخ کس نے کاٹ دی
وہ رنگ اتارنے ,چڑھانے والے خاک ہوگئے
وہ ذات پات بھول بھال ایکدوسرے کو پڑھنے والے کیا ہوئے
وہ عِشق عِشق وِرد کرنے والے کیسے لٹ گئے
وہ مستقل محبتیں کمانےوالے کیا ہوئے
رفاقتیں نبھانے والےکیا ہوئے
قلندری سکھانے والا عشق کیسے کھو گیا
یہ ہِجر کیوں ٹھہر گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

ننھے حماد کے ساتھ کیجیے ایبٹ آباد کی سیر!😂

کھری محبت……..از رضوانہ نور

تم جو ہنس کے کہتے ہو
درد سے ہوں ناواقف
کرب اور اذیت سے دور دور کا ناتہ
خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتی سی پھرتی ہوں

خوشنما تصور ہے
اختلاف رستے سے
انحراف منزل سے
تم تو کر بھی سکتے ہو
خود سے اڑ بھی سکتے ہو
مرد جو ٹھہرتے ہو
میں تو کملی عورت ہوں
چاہ راس کب مجھکو
پاسِ عہدکب مجھکو
میں نزاکتوں والی
جاں یہ خاص کب مجھکو
عزتوں کا اک گھڑا
سر پہ یوں دھرا ہوا
باوجود خواہش کے
اب کے ہل نہیں سکتی
دو قدم بھی چاہوں تو
ساتھ
چل نہیں سکتی
تم کو تو بہت آساں
بےوفا مجھے کہنا

چل میں مان لیتی ہوں
کچھ خبر نہیں مجھکو
تیری چاہتوں کی بھی
کچھ فکر نہیں مجھکو

دل میں جھانک پاوُ تو
اتنا جان پاوُ گے
کسقدر عزیز تر
وہ چند ماہ ہیں مجھے
ماں کی کوکھ میں بنے
وہ نو ماہ ہیں مجھے
ان چند ماہ و سال سے
بے پناہ عزیز ہیں
ایک دن سمجھ لینا
چاہتوں کے سوداگر
ہار کر بھی جیتے ہیں
میں بھی ایسی لڑکی ہوں
کھرے رشتوں کے بدلے
کھوٹے گوارا نہیں کرتی
اجنبی کی چاہت میں
اپنوں کو ہارا نہیں کرتی
تم تو جو جو کہتے ہو
ٹھیک ٹھیک کہتے ہو

شاعرہ: رضوانہ نور

:وڈیو دیکھیں:چھ سالہ بچے کے ساتھ کریں ایبٹ آباد کی سیر!😍

فوٹو بشکریہ: فرحین خالد

مگر!…………از صوفیہ کاشف

اگر جو تری ہر یاد کے بدلے

ترے آنگن میں

پھول کھلنے لگتے

تو کیسے گھر کے سب دیوارو در،

ہر ذینہ،ہر آنگن ،

پھولوں سے بھر چکا ہوتا

پاؤں تک دھرنے کو وہاں

تجھے رستہ نہیں ملتا،

اور اگر جو میری آنکھ میں اترا

تری صورت سے جڑا ہر اک خواب

قدموں کے نیچے

کہکشاں دھرتا

تو کیسی رنگ برنگی کہکشائیں

چمکتی ہوی ،رقص کرتی ،سارے شہر میں امڈ چکی ہوتیں

زمین کا منظر تک

تری نگاہوں سے اوجھل کر چکی ہوتیں!

اگر جو میری ہر آہ

ترے گھر کی تجوری میں

ایک منور سکہ دھرنے لگتی

تو کھڑکیوں اور دروازوں کو توڑتا

گھر سے درہم و دینار کا

اک سیلاب زر بہہ نکلتا!

تو چھپانا بھی چاہتا تو چھپا نہیں پاتا!

مگر یہ محبت کی ستم ظریفی تھی

یا میری کمزور ہستی کی مفلسی

کہ نہ پھول کھلے نہ کہکشائیں سجیں

نہ سکے ہی جنم لیے!

میری محبت بھی جیسے

کسی فقیر کی قبا تھی

ہر طرف سے شکستہ

ہر رخ سے گدا تھی!

سو نہ دنیا کی نظر میں جچی

نہ تجھے ہی لبھا سکی!

محض کسی مزار پر گری

کسی برباد کی آہ تھی!

خاموش اور بے زبان

خالی اور بے نشاں!

اجازت دو! ۔۔۔۔از رابعہ بصری

تم مجھے جوڑنے آئے تھے
میرے کِرچی کِرچی وجود کےسبھی ٹکڑے
اپنے سنہری ہاتھوں سے چْن کے
میرے سبھی گھاوُ بھرنے کا دعوٰی کیا تھا
ہِجر کی ساری تھکن سمیٹنے کا وعدہ کیا تھا
جِس کی دکھن نے بدن کو راکھ کر ڈالا تھا
میرا گندم کی بالی کا سا کھِلتا ہوا رنگ و روپ
جو ماند سا ہوگیا
کاٹتی دھوپ نے میرے وجود کی ساری ہریالی
ساری شادابی چھِین لِی
محبتوں کے وہ سبھی ذائقے جو پور پور میں رچ گئے تھے
روٹھ بیٹھے تھے
تم نے خود سے کہا تھا
درد کے سبھی موسموں سے رہائی دلاوُگے
وفا کے سبز پیڑوں پہ برگ وبار کھِلادوگے
روح سیراب کردوگے
چاہ کی ریشمی ڈور تھاموگے
میرے آنگن میں رقص کرتے ہوئے
دوڑتے بھاگتے سارے غم , تھام لوگے
وفا کے سبز پیڑوں پربرگ وبار کِھلادوگے
تم سِتارے چنوگے
ہِجرت و ہِجر کے ذائقوں سے پرے
اس طرف لے چلوگے
جہاں کنجِ تاریک میں بانسری بج رہی ہو
معطر فضا ہو ,
تِتلیاں اڑ رہی ہوں

تم نے دعوٰی کیا تھا
میرے اداس لفظوں کو , کھنکھناتے لہجے میں ڈھالوگے
میری ڈھارس بنوگے
میرے دل میں اگے دکھ کے گھنے شجر کو
اپنے ہاتھوں سے کاٹوگے
سکھ کے سبھی بیج بودوگے
محبت سے تہی دھڑکن کو اپنی سرمئی خوشبو سے باندھوگے
میرے ماتھے کو نرمی سے چھووگے
اور کہدوگے
چلو اب سبز سِی وہ مخملیں چادر تو اوڑھو
چلو گردِ سفر جھاڑو
چلو سامان باندھو , افق کے پار چلتے ہیں

تو اے میرے حسنِ سخن ساز
ذرا یہ تو بتا
نظر کے زاویئے بدلے ہوئے کیوں؟
ہمارے بِیچ یہ دِیوار کیسی؟
یہ کِس نے کھینچ دِی ہے؟
تمھارے شبنمیِں لہجے میں بیزاری، ماتھے پہ سِلوٹ
اور تکلم یوں ، کہ جیسے لفظ بھی خیرات میں دینےلگے ہو
یہ کوئی مصلحت ہے
یا، کوئی مبہم اِشارہ ہے
تو کیا میں جان لوں
شجر سے سارے پتے جھڑ گئے ہیں
مناجاتیں ادھوری رہ گئی ہیں
وہ سب باتیں ضروری رہ گئی ہیں
میرے جلتے قدم ، بھِیگی نِگاہیں
میرے شانوں پہ رکھی زرد سی یہ شال
جانے کب سے یوں رکھے ہوئے ہے
اور جانے کتنے عشرے اور یوں ہی بِیتنے والے ہیں

اِجازت دو ، تمھاری سرد آنکھوں سے
ذرا نظریں بچا کے
تمھاری سرمئی خوشبو کی ساری گِرہیں کھول ڈالوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

soul Wispering

وڈیو دیکھیں: پاکستان کی خوبصورت لولوسار جھیل

گڑیا…………….از بنت الھدی

لوگ کہتے ہیں
ابھی تو ہو تم اک گڑیا سی
پر سوچ تمھاری
بلند و بالا پہاڑوں جیسی سلسلہ وار
سمندروں کی گہرائی جیسی
آخر کس گھاٹ کا رنگ لاگا ہے تجھ کو
کہ اتنی سی عمر میں اتنی پختہ ہو گئی
نہ تیرے بالوں میں چاندی اتری
اور نہ تیرے چہرے پہ وقت کی لکیریں
پھر بھی باتیں تیری ایسی
جیسے صدیوں کا تو چرخا کات کے بیٹھی ہو
میں بھی سن کے ہنس دیتی ہوں
اور خود کو کہتی ہوں
یہ کیا جانیں
اتنی سی عمر میں
کتنے رنگ ہیں میں نے دیکھے
منہ کو میٹھا
حلق کو کڑوا
سب ہی تو چکھا ہے میں نے
وزنی، ہلکی، موٹی، پتلی، سب زنجیریں, توڑ چکی
اور کچھ اب بھی باقی ہیں
ھنر نہیں نام کو چلتے دیکھا ہے
شوق نہیں صنف کا سکہ چلتا ہے
تم کیا جانو حال میرا
ہر روز, زہرِ مار کے قطرے
حلق کو چھلنی کرتے ہیں
پر پھر آنسو بہا کے سارا درد
دل سے زائل کرتی ہوں
ٹوٹے پھوٹے دل کے ٹکڑے
جھولی میں بھر کےپھر سے جوڑتی ہوں
خوابوں کی کرچیوں کو ہاتھوں میں دبوچتی ہوں
اس یقین پہ کہ کوئی تو ہاتھ آہی جاۓ گا
یہ سب لوگ کیا جانیں میری بلا سے
میں تو بس اتنا جانوں
کہ تھک ہار کے بیٹھا نہیں جاتا
ابھی تو بس آبلے لیے منزل تک چلنا ہے
طوق اٹھائے رستے میں آئی زنجیروں کو توڑنا ہے
کچھ بھی ہو بس چلنا ہے
کیونکہ میں جانتی ہوں
میں عورت ہوں
ہوں تو میں حق کسی اور کا
پر یہ میں نا مانوں
اور دیکھ لینا
ایک دن آۓ گا
جب میں چوٹی پہ اور تم ڈھلوان پہ
سر کو اٹھاۓ میری روشنی سے اپنی چندھیائی آنکھوں سے
مجھ کودیکھو گے
اور بس دیکھتے ہی رہ جاؤ گے
اور لوگو!
تب تک تم کو چاندنی بھی دکھ جاۓ گی
اور ساتھ میں وقت کی بے وقت لکیریں بھی

…………………….

بنت الھدی

Photo credits:Sim Khan

یہ بھی دیکھیں: خوبصورت پاکستان کی دلنشیں گزرگاہ

ارضی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی پی کے نام کا کنگن ہو!
کوئی چُوڑا ہو!
جسے بانجھ کلائیاں پہن سہاگن ہو جاویں
مرا روپا، جوبن ہار گِیَو!
سرکار سائیں!
سانول کا بچھوڑا مار گِیَو!
مرے سینے درد غموں کے تیر اتار گِیَو!
بیمار نصیبوں بیچ سَجَا منجدھار گِیَو!
منجدھار پڑے!
سرکار سائیں!
غمخوار سائیں!
اک بار سائیں!
سنو عرضی بس اک بار سائیں!
وہ پھر سے آج اُس در پر منت مانگنے پہنچ گئی تھی ایک اُجڑی ہوئی بیوہ منت اُس ایک نظر خیرات کی منت جو ایک دفعہ اُٹھ کر اُس کی جانب ایسی پلٹی کہ پھر کبھی اُس کے آنگن لوٹ کر نہ آئی مگر جاتے جاتے سُندری بائی کا سب چین سکون اور اس کا سورج کی طرح چڑھتا جوبن اپنے ساتھ لے گئی.اور ایک تاریک زرد شام اُس کی جھولی میں ڈال گئی.ابھی بھی وہ ایک پیاسے دیے میں اپنا انتظار اپنی آس امید ڈال کر اسے صاحبِ مزار کی قبر پر رکھ کر پلٹی ہی تھی کہ کجری بیگم جو ساز و رقص میں اُس کی شاگرد بھی تھی اور سُندری بائی کے بعد اجمیر والے کوٹھے کی اگلی بائی بھی آگے بڑھ آئی آج نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو لاکھ سمجھانے کے باوجود ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھی تھی جب بولی تو لہجے میں تلخی در آئی.
سُندری بائی کچھ ہوش کے ناخن لے سکھی کب تک یوں ریاضت کرتی رہے گی یوں دیے دھاگے جلاتی باندھتی رہے گی تو آگرہ کی سب بڑی طوائف ہے آج بھی لوگ تیرے ایک اشارے پر اپنا سب لُٹا بیٹھتے ہیں بھول مت ہم طوائفیں عورت تو ہوتی ہیں مگر جذبات و احساسات عورتوں والے نہیں رکھ سکتی یہ ہمارے پیشے کی عورتوں کا شیوہ نہیں ہے کہ عشق کے در کی چاکری کرے ہم تو کاغذ کے چند ٹکرو کی غلام ہیں اور تو یہ سب کس کے لیے کر رہی ہے اُس انسان کے لیے جو بس ایک نظر تجھ پر ڈال کر ایسا گیا کہ پلٹ کر خبر نہ لی. نہ کوئی سوداہوا نہ رقص.وہ ٹھہرا سید زادہ پاک آل پاک نبی کی اور تُو تو اجمیر کی ایک تنگ و تاریک گلی کے ایک بدبودار کوٹھے کی ایک ہندو طوائف بھول جا سُندری وہ نہیں آئے گا۔ اُتار دے یہ کالا چولا ہر کسی کو یہ کالی چادر پاک نہیں کرتی بڑے نصیب والے ہوتے ہیں جو اس سیاہ چادر کی پاکی تک پہنچ !پاتے ہیں.بس کر دے چھوڑ دے..!”
” توُ نے ٹھیک کہا کجری بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس سیاہی کی پاکی تک پہنچ پاتے ہیں اور میرا سفر اس پاکی کی طرف اُس دن شروع ہوا تھا جب وہ سیاہ پوش میرے کوٹھے پر آکر چند لمحے رُکا تھا تو نے ایک بات غلط کی کہ اس دن کوئی سوداہ نہیں ہوا. اُسی دن تو سودا ہوا تھا نظر سے نظر کا سودا سفید سے سیاہی کا سوداہم. تو اسے ایک نظر کا عشق کہتی ہے میں اسے روح سے روح کے ملن کی گھڑی کہتی ہو میری روح اُس کی روح میں کہی بہت پہلے کسی لامکاں کے سفر کے دوران تحلیل ہو چُکی ہے یہ تو ہزاروں لاکھوں نظروں کے بعد کی ایک نظر تھی اور کتنا حیران تھا وہ شاہ پیا بھی جیسے وہ بھی روح سے روح کے اس ملن کے لمحے میں قید ہو گیا ہو…..وہ آنکھیں بند کیے اُسی لمحے کی شیرینی کو محسوس کرنے لگی جیسے وہ ابھی بھی کسی مقدس یونانی دیوتا کی مانند اس کے سامنے کھڑا دنیا سے بے نیاز اسے دیکھ رہا ہو. وہ ابھی اسی احساس میں قید تھی کہ . اچانک ایک بے ہنگم شور کی وجہ سے اُس نے آنکھیں کھول دی سامنے ہی ایک اُجڑا بکھرا ہوا کوئی شخص دنیا سے بے نیاز اپنی دھن میں بولتا چیختا چلاتا آکر بیٹھ گیا.وہ بہت حیران سی اسے دیکھ رہی تھی اس کے ہاتھوں میں مختلف رنگوں کی شیشیاں تھی جو باری باری کھول کے وہ اپنے اوپر اُنڈیل رہا تھا.وہ کافی دیر اُسے دیکھتی رہی ایک عجیب اپنایت کا احساس ہو رہا تھا اسے اس سے.
یہ کون ہے کجری ؟؟؟ ارے یہ یہ فقیر سائیں ہے کہتے ہیں پہاڑوں سے اُتر کر آیا ہے یہ مجذوب ہے دیوانہ ہے…
وہ کچھ دیر تو سوچتی رہی مگر پھر اُٹھ کر اُس کے پاس جا کر بیٹھ گئی وہ اب سر جھکائے مست و مگن بیٹھا تھا اُس کا پورا چہرہ ست رنگی رنگوں سے رنگا تھا.
فقیر سائیں ایک رنگ کی شیشی مجھے بھی دان کر دیو میں بھی خود کو رنگ دو شاید اس رنگ کی رنگائی دیکھ کر وہ سیاہ پوش شاہ پیاہ آ جائے میرے آنگناں میں ایک دفعہ پھر سے.وہ مُسکرا دیا اور سر جھکائے ہی بولا …
ابھی بھی رنگوں کی متلاشی ہے تو کوئی سال پہلے آکر تو اپنے سارے رنگ تیرے آنگن میں چھوڑ آیا تھا کیا نہیں دیکھے تو نے, ہرا, نیلا, لال, پیلا سب تیرے در پر پڑے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ کالا رنگ جو تمام رنگوں کا بادشاہ ہے حق کا رنگ ہے. ارے کرماں والیے محب تو ہوتا ہی سیاہ پوش ہے یہ تو محبوب ہوتا ہے جو ست رنگی ہوتا ہے یہ اُس کا کام ہے کہ چاہے تو اپنے رنگ میں رنگ دے چاہے تو سیاہ چھوڑ کر عشق کو امر کر دے . یہ کہتے ساتھ ہی اُس نے ایک ایک کر کے تمام رنگوں کی شیشیاں اپنے ہاتھوں میں اُنڈیل دی اور سر اُٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور تمام رنگ اُس کے چہرے پر مل دیے یہ لے محبوب نے رنگ دیا آج تجھے اپنے رنگ میں یہ کہتے ساتھ ہی وہ اُٹھ کر دیوانہ وار باہر بھاگا اور وہ ایک دفعہ پھر حیرت کا مجسمہ بنی بیٹھی رہ گئی ..
وہ آنکھیں وہ نظر وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی.
یہ سیاہ چادر جو اُس نے اوڑھ رکھی تھی یہ اُس دن اکیلے اُس کے نصیب میں نہیں آئی تھی وہ آگ جس میں وہ جل رہی تھی اُس میں کوئی اور بھی کب سے جُھلس رہا تھا..
راہِ عشق میں اگر ایک کے حصّے میں جنون آتا ہے آگ آتی ہے تو دوسرا اُس کی آنچ سے راکھ ہو نہ ہو جُھلس ضرور جاتا ہے..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

. شفاء سجاد..

“گنجلک بیلیں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…ثروت نجیب

ہزاروں باتیں
دل کی مُنڈیروں پہ چڑھی
گھنی بیلوں کی مانند
بےتحاشا بڑھتی جا رہی ہیں
کشف کے کواڑوں پہ
اک چھتنار سا کر کے
میری آنکھوں کے دریچوں تک
اس قدر پھیلی ہوئی
کہ جہاں بھی اب
نگاہ ڈالوں
ہریاول ہی دکھتی ہے
رازداری کا کلوروفل
میرے قرنیوں سے آ چپکا ہے
جس کی دبیز تہہ نے
میری بادامی آنکھوں کو
دھانی کر دیا ہے
گھنی
گنجلک
الجھی ہوئیں
کہیں کہیں سے
مُڑی ہوئیں
میری ذات سے
جُڑی ہوئیں
ُانھی پرانی یادوں کے
سوالوں سے
اب تک بندھی
جن کے بیشتر جواب دہ
اب
اس دنیا میں ہی نہیں
تکرار کی سیلن
چاٹتی رہتی ہے
نئے نظریے
نم خوردہ
دیواروں سے
سوچوں کا
گَچ گِرتا رہتا ہے
جن کو میرے اندیشے
چُنتے چُنتے تھک جاتے ہیں
تخیل کی
نئی دھوپ کو
روکے ہوئے
نہ خزاں آتی ہے
نہ وہ خیال جھڑتے ہیں
جن کا جھڑنا اب ضروری ہے
اے باغبانِ وقت تمھی
ان ہزار پایہ بیلوں کی
چھانٹی کر دو نا
کہ اُگے گلاب اب کوئی
موتیے سی سوچ ہو
گلِ بہار سی فہم لیے
بنفشی شعر لکھوں میں اب
ادراک ہو لالہ و سوسن
وہ کنول کھلے
دماغ کے اِس حوض میں
جسے میں پیش کروں
نظم کے گُلدان میں یوں
عطر سے رچے فضا
خوشبو کی شیشی سے
غسل کرے یہ ہوا
باغ و بہار کا
سلسلہ رہے سدا
دل پہ بھاری
مہک سے عاری
بوسیدہ باتوں کی بیل کے
ان کاسنی گلوں پہ اب
تتلیاں نہیں آتیں

……………….

یہ بھی پڑھیں: کٹھ بڑھئ از ثروت نجیںب

“داستان نفس”

“داستان نفس”

رشتوں کے دھاگوں سے بُنی
کبھی ریشم کبھی کھدر سی
کبھی کھردرا کھردرا پٹ سن ہے
کبھی کوتاہ کبھی صدر سی
کبھی نیلگوں نیلگوں سوچ میں گم
کبھی میں’ ھم اور تم
کبھی فکروغم میں زردی مائل
کبھی خوف کا رنگ اسکے حائل
کبھی خوشیوں کی لالی لے کر
محبت کا منبع ‘ محبت کی سائل
مست قدرت کی ہریاول میں
کبھی آسودہ کبھی گھائل
سپیدہ سحر کی مانند
جسم و جان کی دونوں سلائیاں
تانا بانا بُنتے بُنتے
اک عرصہ بِتا دیتی ھیں
ہر برس کی
سرد اور چھاؤں میں
گنجان شھر یا گاؤں میں
متحرک ساعت کی سوئیوں جیسی
گھن چکر کے پاؤں میں
حیات بے ثُبات کی
کیا داستاں سناؤں میں
سالہاسال کی عرق ریزی
کھٹی میٹھی باتوں سے
گنجلک ذہن کا بھرا کاسہ
دیرینہ خواہشوں کا آسا
تار تار دل لیے
تجربات سے منقش
پند سے پیراستہ
یادوں کی حسین قبا
نئی نسل کو ہدیہ کرتے ہی
جیون کا ست رنگی گولا
کیسے ختم ھو جاتا ھے
پتہ ہی نہیں چلتا……

نظم نگار ….ثروت نجیب

Sensual with black current vanilla body cream :Bath & Body Works

Have you tried the sensual body cream  before going to bed ?Did you got the definit result of the aromatherapy ?

Yes ! Off course! No one can deny the unmistakable results of Sensual body cream with perfect aroma of black currant vanilla! If you haven’t try yet,go and grab one for You as I can bet it’s your first purchase but not last!

Why?

Many good reasons behind:

  •  The fragrance will make your senses reel with pleasure and take you waltzing into the gardens of eden feeling like a butterfly roaming among the enchanting scents of heavenly flowers.
  • Try it once to see how an application of sensual lotion turns your sleepless nights into a tight sleep of fanciful dreams..
  •  Your husband/partner will  love the aroma  for a beautiful night!The aroma is highly sensual and exotic to raise your tired sleppy romance.
  • breath and let him breath deeply  for best results
  • A must try to  rejoice and relax before going to bed.the soothing scent cools you down and made you completely stress free.

  • The formula is so moisturising that keep your skin smooth and scented all night long.It really quenches the skin without feeling so thick. 
  • a litle goes a long way and enough for long hours of night with a single use. .
  • highly recommended and one of my all time favourite purchase.

check:nail color by Nailstation

Directions

  • keep this on your side table for regular  use in night or batter to have a variety of Bath and Body Works  creams to use daily a different fragrance.
  • Massage your body gently before bed.

Price:

It’s a pricy product ,

  • costs 85 aed/ 15 $
  • you can get an advantage of sale offers to get it on lower prices almost 25 to 75 % ,though it hardly saves in the stock for such low prices.
  • :shop online

وقت

وقت کو وقت ملے اگر،

میری دہلیز پرکچھ خواب دھرے ہیں ،

وہ جو موسموں کی شدت سے ،

یا تو گھبرا گئے ہیں یا مرجھا گئے ہیں،

وہ جو خواب اس آس پر روز جیے

روز مرتے ہیں ،

کہ

وقت کا کوئی مکمل لمحہ،

کسی کن فیکون کے طلسم کی طرح

انہیں مکمل کر دے گا،

وقت کو وقت ملے اگر،

میری دہلیز پر بھکاری بنے خوابوں کو،

اک نظر دیکھ لے ،

اور پھر ان کے نصیب کا فیصلہ فیصلہ کرلے،

کہ لمحوں کی گرانی میں،

یہ خواب مر جائیں گے،

یا پھر کسی معجزے کے ہاتھوں،

جیں گے اور امر ہو جائیں گے۔

ثوبیہ امبر

یہ بھی پڑھیں:ہلکی ہلکی اداس ہوا

اسیرانِ    سراب  از فرحین خالد

 

خدا  نے اسے رُوپہلی   مٹی  سے گوندھا تھا . جسم   کے خم   کچھ ایسے تراشیدہ تھے کہ  جو پلک اٹھے پھسل پھسل جائے . بالوں کے آوارہ گھو نگر   ماتھے  پہ  جھولتے اور کان  کی لووں   کو   اٹھتے  بیٹھتے  چومتے  .اسکی   آنکھیں ،  میں   لکھتے لکھتے  رک گیا تھا .اسکی سیاہ  آنکھوں  میں   ایسے  اجالے تھے  کہ جس کسی پہ پڑتےزندگی کی   آ س  دے  جاتے .وہ  من موہنی  ایک  خانہ  بدوش تھی …بتاشہ !

میں بے چین  ہو کر   اپنی   رائٹنگ  ٹیبل  سے اٹھ    کھڑا  ہوا  اور کھڑکی  سے باہر ساحل  پہ ٹکراتی لہروں   کو دیکھتے  ہوئے  سوچ رہا  تھا  کہ دس  سال  بیت  گئے  جب   میں    کراچی کے ساحل  پہ لگے  میلے  میں یونہی    کھنچتا  چلا  گیا تھا . ایک خیمے  کے باہر  درج  تھا

” ہمت  ہے تو قسمت   آزما  لیں ”

یہ بھی پڑھیں:بوجھ

باہر  بیٹھے شخص  کو  میں نے سو روپے  ادا کیئے   اور   پردہ  اٹھا  کے اندر  داخل  ہوا  تو  وہ   سامنے ہی   بیٹھی تھی.  مجھے دیکھتے ہی   اسکی آنکھوں میں شناسائی کی  لپک   کوندی تھی  ،  جیسے میری  ہی منتظر  ہو  بولی ” نورستان  سے چترال کیلئے  چلی تھی  تو میں نے تمہیں  خواب  میں دیکھا  تھا ،کتنے  دن لے لیئے  تم نے آنے  میں ؟” اس کو نیم  خفا   پا  کے  میں مسکرایا  اور  سوچا  اگر  یہ   کھیل  ایسےہی   کھیلا  جانا  سے  تو   فبھا   ، بولا ” فاصلے  دلوں    میں  نہ  ہوں  تو معنی نہیں رکھتے ”  وہ جھوم  اٹھی تھی .  پاس رکھی    ایک ٹوکری  میں  سجے   پھولوں   کے  ہالوں  میں سے  ایک  دائرہ اٹھا لائی  اور  میرے سر پہ رکھتے ہوئے چاہت  سے  بولی “زما گرانہ ، چائے   پیش کروں  ؟  میں  صرف  آنکھوں  سے حامی بھر سکا .  بتاشہ  کے  ارد گرد بھی  وہی رنگینی تھی  جو اس کے  لباس اور مزاج کا حصہ تھی . لیس   کے پردے  کے پیچھے  لگے برقی قمقمے  جگمگا رہے تھے ، نیلی  چھت سے    ٹنگی  رنگین

اوڑ ھنیاں   بادبانی  کشتیوں    کا منظر  دے  رہی تھیں اور  ان کے   درمیان آویزاں   سنہری   ستارے  جھلملا رہے  تھے . اس نے  مجھے  ایک دیوان  پہ  بٹھایا ،تپاک  سے     پیالی دھری  اور  بے تکلفی  سے  میرے پہلو  سے آ لگی ،  کلائی  تھام کے بولی ” اس پہ  میرا نام گدا ہوا ہے  نا ؟   میں نے  پوچھا ، تمہارا  کیا نام  ہے ؟ وہ شوخی  سے  بولی ،” وہی جو تمہارا ہے !    مجھے  ہنسی آ گئی ، تو کیا تمہارا نام  بھی  کبیر  بلوچ  ہے ؟  اس نے چٹخارہ  سا  انکار  کیا  اور بولی ،خانم بتاشہ !  یہ  کہتے ہوئے  اس نے   میری کلائی پلٹی  تو  اس  پہ میرے نام کا مخفف  درج  تھا  ” کے بی ” وہ جانے کیا بول رہی تھی  مگر میں  یکدم     گھبرا گیا تھا ، ایک جھٹکے سے  کھڑا  ہوگیا  اور بولا .  ڈرامہ  ختم  ہوگیا ہے  یا  کچھ  نوٹنکی ا بھی باقی  ہے ؟  ہر گاہک  کے ساتھ نام بدلتی ہو  گی ..سو  روپے  میں  اچھا شغل لگا لیتی ہو !  میں نے محسوس  کیا  کہ   وہ   ان جملوں    کی اذیت  سے سفید پڑ  گئی تھی .  میں جانے  کیلئے     پلٹا   ہی تھا  کہ   اسنے مجھے کہنی   پکڑ  کے روکا  اور  کہا ، صاحب  ابھی   پیسہ  وصول  نہیں ہوا .  ایک کونے  میں رکھے کرسٹل بال کی طرف اشارہ  کرتے  ہوئے  لجاجت سے  بولی ،قسمت  کا حال  جانیں  گے  یا   گانا سنیں گے ؟ اسکی   جھلملاتی  آنکھوں  سے سرکتے  ستاروں  کو دیکھ کے  میں پگھل  گیا  اور نرمی سے   بولا ، بتاشہ  گانا بھی گا لیتی ہے   ؟ تو   وہ  چہک اٹھی . جونہی ایک پاؤں پہ گول گھومی  تو  مجھے لگا   دنیا نے   اپنے مدار  پہ گھومنا اسی   نازنین سے  سیکھا ہے . کب اس نے   چترالی  ستار  کی دھن   بکھیری، کیونکر اس نے مجھے  دیوان  پہ   مسکن کیا  ،   مجھے کچھ یاد نہیں . اگر  کچھ  یاد رہا  تو اس   کاہنہ   کی دلبری اور مسحور کن موسیقی .  جانے  کتنی دیر میں دم بخد  رہا  .وہ   تھم بھی گئی   تو طلسم  نہ ٹوٹا  . پاس آ کے بولی ، تم میرے ساتھ چلو گے ؟ میں نے  نشے  میں پوچھا ، ” کہاں ”  بولی ،” پہاڑوں کے اس پار !”

یہ بھی پڑھیں:دوسری موت 

میں ناران تک ہی گیا تھا  پوچھا  ، سیف الملوک ؟  اسنے نفی میں سر ہلایا  اور میری  تھوڑی  اپنی چٹکی  میں لے کے بولی ، اور بھی آگے  محبت   کے سفر   پہ ! مجھے یکدم اپنے پاپا کہنے والے دو بچے یاد آ گئے .سیدھا  اٹھ بیٹھا اور  سنجیدگی سے بولا ، میں کمٹڈ  ہوں ، دو بچے  ہیں .  اسنے   میری جانب  بغور دیکھا اور کہا،   تو ؟  اب میں واقعی  سٹپٹا  رہا تھا .. گھبراہٹ  سے سانس سی اکھڑ نے  لگی تھی. کہنے لگی ، میں محبت میں قناعت  کی قائل نہیں  وہ رشتے  جو بوجھ  بن کے  ہمیں آزردہ  کریں   ان سے  آزاد ہوجانا بہتر ہے . مجھ سے کچھ بن نہ پڑی  تو میں ہکلایا ، میں  ایک   بورنگ سا   آدمی  ہوں لگی بندھی کا عادی  . وہ کھلکھلا  کے ہنس  پڑی اور مجھ پہ ہی آ ٹکی .. نیم وا آنکھوں سے بولی ، واقعی ؟   تم کو نہیں  لگتا  کہ ہمارا ملنا قدرت  کا اشارہ  ہے ؟ جانتے ہو میں کوسوں   دور  سے تم کو اپنا  آپ سونپنے  آئی  ہوں ؟ میں  اسے ہلکے سے دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا ، بولا  بہت  دیر  ہو چکی  ہے. اس نے ملتجی ہو کر پوچھا ،کل آؤ گے ؟ میں نے  نفی میں سر ہلا دیا .  اس نے  میری کلائی  پہ گدے  ” کے بی ” کو چوما  اور  بولی

میں اب نہیں  لوٹوں گی ، لیکن   میری  یاد ستائے تو   چاند  کی چودھویں رات  اس  سمندر کو دیکھ لینا ، میں بل  کھاتی  اٹھان لیتی    لہروں  پہ سفر کرتی  ملوں گی ، یہ اپنے ساتھ بہا لیجانے کا فن تو جانتی ہیں  مگر تجاوز  نہیں کرتیں . خدا ئے   پا مان .

میں  سوچتا آیا    کہ لہریں  تجاوز کر جائیں  تو تباہی کے نقش  چھوڑ  جاتی ہیں .

آج دس برس  بعد بھی   میں    بیچ  ہاؤس  میں کھڑا   پاش  ہوتی  لہروں کو تک رہا تھا  ، کہ کاش  انکی آغوش  میسر  آ جائے .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عکاسی:صوفیہ کاشف

رکی هوئی صدی. اذ سدرت المنتہی

میں نے کہا “آو کہ تمهیں بتاوں کہ یادیں تو مجهے بهی نهیں چهوڑتیں

یوں لگتا ہے جیسے کوئی لمحہ من میں ہی رک گیا هے-

زندگی چل رہی هے .وقت کی ڈور کهسکتی جارهی هے.

میرے قدم مجهے راستوں گهسیٹتے جارهے هیں..اور راستہ طویل تر هوتا جارها هے.

میں تو چلتا رها هوں..مگر میرا دل ..

دل کہیں رکهہ کے بهول آیا هوں.۔

میرا دماغ ..جسے سوچ خلائوں میں اڑائے پهرتی هے..جو هاتهہ ہی نهیں لگتا.

اور میری روح..لگتا هے میری روح کسی سو سال پرانے درخت کی جهاڑیوں میں پهنسی هوئی هے. .تڑپتی تو هے ساتهی…مگر رهائی نهیں پاتی..

میں اپنی روح کی طرف بارہا مڑ مڑ کر دیکهتا هوں .مگر اس تک قدم جا نہیں پاتے..سفر تو چل رها هے..جیسےجیسے میرے قدم راستوں میں بڑهتے هیں..اپنی روح سے بچهڑتا جارها هوں ..معلوم هوتا هے جیسے مرچکا هوں…اور سچ پوچهو تو دوست مر ہی چکا هوں”.

کہنے لگی . “کتابیں پڑهنا تو چهوڑدی ہیں..پھر بهی ایسی باتیں کرتے هو.اس قدر بے چین رهتے هو.

پہلے تو ایسے نہ تهے…یاد ہے کبهی زندگی سے بهرپورگفتگو ہوتی تهی..

کتنے ہی پرجوش رہا کرتے تهے.اور پر امید بهی..

اب تو سب کچهہ مل بهی چکا هے…اسکے باوجود اتنی بے چارگی..اس قدر تشنگی..ایسی بے بسی کیوں آخر..؟؟”

” سب کی فهرست میں کیا کچهہ رکها هے بهلا؟جانناچاهتا تها

وهی جو تمهاری ضرورتوں میں کبهی شامل رہا هے….گهر.ملازمت..اورپیسہ.”

وہ مجهے اپنی ضروریات گنوارہی تهی..اور میری ہنسی چهوٹ گئی.

بس دوست..خواب محبت اور روشنی کو کس جرم کی سزا میں میری فهرست سے تم نے نکال پھینکا ہے

“شکوہ کیسے نہ کرتا

تمهاری ترجیحات تو فقط یہی چیزیں تهیں .جو میں نے تمهیں گنوائی ،باقی سب تو کتابوں میں رکهہ کے بهول چکےایسے کے صفحہ نمبر تک یاد نهیں..

مانتی ہوں کتاب تو میں بهی اپنی پرانی شیلف کے خانے میں بہت سی کتابوں کےدرمیان رکهہ کے بهول چکی هوں.اب اگر ڈهونڈنا چاہوں بهی تو مل نہ پائے.

ویسے بهی اتنا وقت ہی کہاں کہ پرانی شیلف کا بند خانہ کهولوں..یہ بهی ڈر هے کے کہیں پهر سے کتابوں میں گم هوجائوں گی اور اس بار کهوئی تو خود کو بهی مل نہ پائوں …گهر والے تو ڈهونڈتے هی ره جائیں گے.

خود سے تو کسی حد تک بچهڑ چکی هوں..مگر گهر والے نهیں کهو نا چاهتے..کیوں کے میرے سوا کتنے گهر کے کام ادهورے رهتے هیں..

اسی لئے ۔۔۔۔۔۔۔..بس خود کو گهر کے کاموں میں گنوایا هے..

میں نے سوچا شاید خود کو بهلاتی هے..مگر کسی حد تک ……..سچ بهی تها..

تو تمهارا دل گهر کے کاموں میں لگ گیا هے.(.یا پهر میری طرح کتاب کے صفحہ نمبر نا معلوم میں اپنا آپ رکهہ کے بهلاچکی هو)وگرنہ تمهاری مصروفیات گهر تک تو محدود نہ تهیں..

کھوٹے سکے اذ صوفیہ کاشف:یہ بھی پڑھیں
میری بات پر جانے کیوں هنس دی.

کہنے لگی دل کهیں تنہائی میں ہی کهوگیا هے .

میں نے کہا ڈهونڈ لاوں؟

تو کیسے…کہاں سے

کہنے لگی .تنہائی میں ملنا.

بتایا وہ تو ملتی ہی نهیں هے اسقدر مصروف رهتاہوں..کیا کروں دوست..

ملازمت بهی تو کرنی هے..گهر چلانا ہے

تهکا ہوا لوٹتا ہوں اور اماں کی وہی پرانی شکایتیں شروع..

نہ معلوم ماں کب خوش هوگی..حج کرکے آئی ہیں..بہن کی شادی میری ملازمت ..سب اچها چل رہا هے..مگر..

کہنے لگی ماں کیا کہتی ہے؟

بتایا کے کتنی ہی شکایات ہیں..

سر فهرست یہ کے شادی کیوں نہیں کرتا..

گهر کے لئے وقت نہیں..اپنا خیال نہیں رکهتا.

جب اپنا خیال رکهنے کی خواہش تهی تب….

کیا بتاؤں اب کے فرصت میں یادیں ڈسنے لگتی ہیں..گهر میں رہوں تو گهر کی دیواریں کهانے کو دوڑتی ہیں..جان بوجھ کر بهی خود کو مصروف رکها هے.پهر سے تنهائی میں گم هونا نہیں چاهتا..دل کهوچکا هوں

خود کو کهونا مهنگا پڑے گا..زندگی بهی تو کاٹنی هے

مدهم مسکرائی..پگلے..ماں بچوں کی خوشی چاہتی هے..اسکی خواہش نا جائز نہیں..کہا مان لو..پہلے انهیں تمہاری لاپرواہی نے پریشان کیا اب تمهاری تنهائی انکو کهاتی هے..

شروع سے ماں کی طرف دار تهی..اب بهی وهی کر رهی تهی..میں ہنس بهی نہ سکا…جانتی بهی تهی کے اپنی خواہشوں کا مارا هوں..ماں کی خواہش کا بوجهہ بڑا هے

تم بتاو دوست زندگی کیسی گزر رهی هے؟”خود سے اس تک آنے میں بڑی دقت تهی.

کهوگئی ایک بار پهر ..

زندگی میرے کمرے میں سانس لیتی هے.کتابوں کی شیلف میں قید زندگی هے

میرے سنگل بیڈ پر سوئی زندگی هے

گویا کے زندگی بدل گئی..تم نہ بدلیں.ہنسی اس پر آئی یا زندگی پر سمجهہ نہ سکا.

مدهم ہنسی..اور پهر چپ کا لمحہ..کہنے لگی..

!زندگی لاکهہ بدلے محبت رنگ نہیں بدلتی..

یاد آیا..مجهے زندگی اور خود کو محبت کہنے والی..

محبت اداس تو کردیتی هے.کیا کہتا

کچهہ تو دیتی هے نا. اسی میں خوش تهی

سب کچهہ تو چهین لیتی هے.مجهے اختلاف تها.

اپنا آپ تو سونپتی هے نا..تکرار ثابت تهی

کیا کروں دوست.مانا کے سب کچهہ هے مگر جو نہیں وہ محبت هے.مجهے اپنا دکھ رلانے لگا.جو اس سے وابستہ تها

دوست تمهارے احساس سوئے پڑے هیں. کوئی پرانی کتاب کهول کے دیکهو محبت وہیں ملے گی.فکر مند ہوگئی.

دوسری موت اذ حمیرا فضا :یہ بھی پڑھیں

بتایا جو ہے وقت کا محتاج هوں اور سکون کے لئے ترستا ہوا جب باهر نکلوں تو سڑک پر گاڑیوں کا شور سکون اڑادیتا ہے..روڈ پر نکلتے ہی عجیب خوف گهیرے میں رکهتا هے۔ لاشعوری طور پہ روڈ ایکسیڈنٹ میں کچلا گیا هوں. سچ پوچهو تو میں

لاوارث لاش کی طرح بے شناخت پڑا ہوں..ہر گاڑی مجهے کچل کے گزرجاتی هے

بڑی مشکل سے خود کو مردہ خانے تک لایا ہوں..جہاں شناخت کے انتظار میں رکهی بدبو کرچکی هے ایسی بدبو جو کبهی زندگی

میں محسوس نہ ہوئی تهی..ایسی بدبو

اس خیال نے عجیب ناگوار احساس بهردیا.

خوشبو اور بدبو کا ملا جلا تاثر عجیب تها

بدبو ..جو میری لاش میں تهی

خوشبو ‘جو اس کے لہجے میں تهی

سحر جو اس کی آواز میں تها..جس نے صدا جکڑے رکها.

دیکهو دوست..ایک کام کرنا مجھے بے شناخت نہ مرنے دینا..مربهی جاوں تو شناخت کرنا..دیکهو کتبہ بهی لگانا..محبت کے نام کا

میری بات سن کر خوف زدہ ہوگئی..کہنے لگی محبت نہیں مرتی دوست .تم ایسی باتیں نہ کرو. دیکهو بم دهماکوں اور اغواہ کے کیس سے ڈر کر پہلے ہی باہر نکلنا چهوڑچکی هوں…ٹی وی اخبار تک سے ناطہ توڑ لیا هے

گهر کے کاموں میں خود کو الجهایا ہے

کیا بتاوں کہ کبهی چائے کے پانی میں آنسو مل جاتے هیں. چائے کڑوی زہر بن جاتی هے.گهر والے کہتے ہیں چینی کی جگہ زہر ملادیا..کیا بتاوں کے آنسو زہر کیوں بن جاتے ہیں

کبهی خواہشوں کو هنڈیا میں پکاوں ..بهونوں تو عجب رنگ نکهرتے ہیں۔ بریانی کے چاولوں میں رنگ ملانے کی ضرورت نہیں رہتی..باورچی خانے میں خواہشوں کی خوشبو بکهرنے لگتی هے.

گهر والے کهانے میں ملی خواہشیں بهی کهاجاتے هیں..

بچی ایک محبت ہے جسے کتابوں میں چهپادیا هے.گهر میں کسی کو کتاب کا چسکہ نہیں .. جس لئے محبت تک رسائی ناممکن ہے

سجدہ سہو اذ صوفیہ کاشف یہ بھی پڑھیں!
اسکے لہجہ کا سحر اداس تها
میں نے محبت کا بوجھ ڈال دیا…یے بتاو مل سکتی هو..؟بتاچکی هوں گهر تک زندگی سمٹ گئی هے ..پهر سمندر کنارے مشینی دور کی باتیں کرکے کیا ملنا هے

محبت پانی میں بہہ جائے گی.سمندر کی تہہ تک اترجائے گی۔۔ پهر نہ ملے گی…لہروں سے بهی ڈرتی ہوں…

جبهی دور سے تماشہ کرتی لہر کو دیکهہ کے بهاگتی تهی..

چلو پهر کہیں صحرا میں ملیں..دوست ویسے بهی مشینوں نے ریاضی کے حساب کی طرح الجهایا ہوا ہے..اور سمندر کی خوف ناکی تو مجهے بهی ڈراتی هے.

تمهیں لاکهہ بتایا دوست کہ محبت کتاب میں قید ہے.کهولوں گی تو سپنے سوکهی پتیوں کی طرح بکهر جائیں گے.خواہشیں بے رنگ اور خواب پهڑپهڑاتے هوئے پر نکال کر اڑجائیں گے..

میں نے کها دیکهو دوست..پتهر کے دیس میں ملتے ہیں..

کیوں کہ ڈرتا ہوں.تمهیں پهر سے کهودینے سے

دیکهو محبت کی بات کریں گے تو کبهی زندگی پر .وہاں جاکر محبت کو کتاب سے آزاد کریں گے..لہجے محبت کی روح بهر کے آباد هوجائیں گے.لوٹیں گے تو محبت کی چاشنی میں لہجے ڈوبے ہونگے..زندگی کے لئے آسانی لائیں گے..محبت بانٹیں گے تو مسائل کمزور ہونگے.

میری ضد پر راضی ہوئی..محبت کی خاطر پتهر کے دیس میں ملاقات کے لئے حامی بهرلی.—————–

پتهر کے دیس میں ملا تها

محبت کی بات کرتے ہوئے کہنے لگا…

سنو..!دوست..ہمارے مسائل محبت کو کهاگئے هیں

کس قدر کهوکهلے ہوگئے ہیں..میں تو سوچتا ہی ہوں..کیا تم نے کبهی سوچا اگر سو سال پہلے پیدا ہوتے..اور محبت ہوتی تو مسائل کتنے مختصر ہوتے..

میں نے کہا دیکهو …سوسال پہلے بهوک محبت کو کهاجاتی دو ویلے کهانے کی پریشانی ساتهہ لے کر جنگل بیابانوں میں پهرتے..

کہنے لگا بهوک کا مسئلہ تو آج بهی زندہ هے

میں نے بتایا دیکهو محبت همیشہ مسائل کے بیچ ہی جنم لیتی هے..

کہنے لگا کیا بهوک کا مسئلہ سو سال بعد بهی زندہ رهے گا ؟؟پهر تو دوست اور بهی شدت اختیار کرجائے گا یہ مسئلہ..دیکهو ..پہلے انسان کی بهوک دو ویلے تک محدود تهی…

اب گاڑیوں مشینوں بنگلوں کی طلب نے آلیا..دن بہ دن بهوک کی شکلیں بدلتی جائیں گی..جتنا روپیہ بڑهے گا بهوک اس سے ایک قدم آگے چلے گی..

وقت کے ساتهہ ساتهہ ضرورتوں اور خواہشوں کا سمندر پانی کے سمندر پر بچهتا جائے گا….اور سمندر کا پانی مزید کهارا هوتا جائے گا

دنیا کی آبادی بڑه رهی هے..پهر گهٹتی جائے گی..زمین سمٹتی جاتی هے..دیکهو کتنی جلدی لوگ پیدا ہورہے ہیں…اس سے کہیں زیادہ جلدی مر رهے هیں..

محبت ابهی کتابوں میں ہے…پهر خوشبو بن کر ہواوں میں اڑجائے گی..اور آہستہ آہستہ لوگ محبت کے نام سے نا آشنا ہوجائیں گے..

احساس کو ہوس کی بهوک کهارہی هے..بهوک صرف روٹی نہیں..محبت بهی کهاجاتی هے..

میں چپ هوئی..وہ ڈر گیا..

کہنے لگا آو کہیں بهاگ چلیں…محبت کو تو ہر هال میں بچانا هے..

چلو سمندر کی تہ میں اترجاتے هیں..

میں کیا کہتی…سمندر کی مچهلیاں کهاجائیں گی..پتہ بهی ہے کے چهوٹی مچهلیوں کو بڑی مچهلیاں کهاجاتی هیں..

سوچ میں پڑگیا…چلو پهر خلاء میں اڑجائیں..
کہا بهی کہ گهٹن ہوگی..

کہنے لگا سو سال بعد محبت کرتے تو بهی خلاء میں ہی گهر بنانے کی خواہش ہوتی .سیاروں کی سیر کرتے..پهر اب کیوں نہیں..؟

دیکهو دوست..هم زمین کو چهوڑ کر کہیں نہیں بس سکتے..کیا سیارے پر ہمیں…بادل بارش..موسم مل سکے گا. کیا اناج پانی درخت هونگے؟

پهر محبت کا جو قحط پڑا تو زندہ رہنے کے لئے کیا ره جاتا هے.

اور ویسے بهی دوست..ہماری مستیاں زمین ماں نے برداشت کی ہیں..کوئی بهی سیارہ ہمارے گناهوں کا بوجهہ اپنے سینے پر نہیں سهارپائے گا..ایک ہی غلطی پر دربدر کیا جائے گا ہمیں..

>ل کہنے لگا : وهاں ہم دهماکہ تو کیا گولی تک نهیں چلاسکتے..یہاں تک کہ اکڑ کے چل بهی نهیں سکتے…

دیکهو !پهر بهی زمین سے تو امن ہی هوگا ناں!,,,,,,

بڑا دکھ ہوا ۔سمجهایا اسے کے دیکهو ماں کو چهوڑنے کی بات نہ کرو..ماں کی گود هماری پہلی اور آخری پناه گاه هے..

اس کے دامن میں امان هے..وہ تو بس همنے هی خود کو کئی خواحشوں کی حسرت اور ضرورتوں کی کثرت میں اجهایا هے

> سب مل بهی جائے .جو نهیں ملتا وہ سکون هے

ٹهیک هے ساتهی..پر زمین تو هر جگہ سے ایک سی مگر انسان شکلیں زبانیں بولیاں ..کلچر تهزیب رنگ و روپ کیوں الگ هے؟

سوال اچها تها.

میں نے کها سارے فطرت کے رنگ هیں.سب کچهہ الگ سهی مگر.احساس سب کے ایک هیں زندگی ایک هے جیسے .محبت ایک هے

محبت کی بات پر مسکراتا تها

کهنے لگا هم ایک دوسرے سے نفرت کیوں کرنے لگ جاتے هیں؟

میں نے کها بهٹک گئے هیں کهنے لگا زندگی کے بارے میں کهو..

میں نے کها مجهے اور خود کو دیکهو. آسمان اور زمین کو دیکهو..

کهنے لگا نگاه اوپر نهیں اٹهتی..

راستوں کی ٹریفک میں اجهہ جاتا هوں..

زمین کو دیکهو تو چکنی مٹی کی خوشبو اپنی طرف کهینچتی هے..

سمندر میں دیکهوں تو مچهلیاں پکڑنے کا شوق ڈبوتا هے

خواحشیں اور ضرورتیں آپس میں اجهی هوئی هیں ..سلجهانے بیٹهوں تو رات گزرجائے..ایک رات صدی برابر حساب لیتی هے..بهت الجها هوں

یے تک بهلا بیٹهے کے کس مقصد کے تحت آئے تهے.

اور یے بهی کے پتهر کے دیس میں وقت رک جاتا هے

اور اب لگتا هے جیسے پتهر هوچکے هیں..

ساتهی ہم تو محبت کا عهد لیکر پتهر کے دیس میں آئے تهے..پهر کیا هوا؟یے همارے بال کیوں سفید هوگئے..

کیا صدی گزرگئی؟

ساتهی میری طرح حیران تها..اور میں پریشان..مگر یهاں تو وقت نهیں چلتا..هم بوڑهے کیسے هوئے؟

ہم واقعی صدی کے شروع میں یهاں آئے تهے..اور اب صدی اختتام کو هے..

زمین کی زندگی بهت تیز رفتاری سے آگے نکلتی جارهی هے.

ساتهی کیا اب زندگی کو محبت کی ضرورت نہ رهی هوگی..؟اس کا مسئلہ محبت تهی..

میں نے سوچا محبت خوشبو بن کر هوائوں میں بکهر گئی هوگی..اب تو کتاب سے علم بهی اٹهہ چکا هوگا.

وہ کهنے لگا میں نے کچهہ آوازیں سنی هیں..لوگ کهہ رهے تهے هم ایک صدی سے اسی پتهر پے بیٹهے تهے..اور یهیں پتهر هوگئے

کیا هم صرف سن سکتے هیں ساتهی…کسی سے بات نهیں کرسکتے.؟محبت سے بهی نهیں؟مجهے بهی محبت کا مسئلہ تها.

میں اسی صدمے میں تهی وہ بولا

ساتهی زندہ مردے بولتے هیں مگر ان کی بات کوئی نهیں سنتا.

دیکهو هم هل نهیں سکتے..چل نهیں سکتے..هم پتهر هیں…اور صدی ..

اسنے مجهے چهونا چاها تو پهر سے پتهر کا هوگیا اور صدی پهر سے جهٹکا کهاکر رک گئی..جب کوئی کسی کو چهونا چاهے تو وہ پتهر کیوں هوجاتا هے..کس سے کهتی..لفظ اور.احساس کی موت هوچکی تهی.

لوگ آتے هیں همیں دیکهتے هیں..بولتے هیں..

هم سنتے هیں..مگر بول نهیں سکتے..بولیں بهی تو کسی کو سنائی نہ دے

هم هل نهیں سکتے کیوں کے هم پتهر هیں…اور صدی بهی رکی هوئی هے.

مگر محبت سارا اسی کا مسئلہ ہے-

—–

Breakfast at La brioche,Dalma Mall, AbuDhabi

La brioche is always a beautiful place and my personal favourite for a French style breakfast, coffee or a party with friends.It is as serene in the Dalma mall for a breakfast as in Khalifa city, AbuDhabi, as all the stores or entertainment spots around weren’t opened yet.While long walk ways were quite and lazy on a  Friday morning we  rushed to La brioche, Dalma mall for  breakfast as I was getting late for my some official work.

Services:

  • Quick
  • Polite
  • Helpful

(We were in a rush so I request them to be quick in serving and to my surprise,they were actually!)

Sitting area:

  • Beautifully decorated
  • Intimate space
  • Instagram friendly
  • Outdoor seating
  • Spacious place
  • Comfy sofas

check review about giraffeyasmallAbudhabi

Menu:(breakfast)

  • French bakery
  • Eggs
  • Healthy eating
  • Omletts
  • Croissants
  • Granola

Menu we choose:

  1. Kids meal:(French toast+fresh juice)
  • Ample
  • Served with fresh juice
  • Perfect in taste
  • Soft
  • Beautiful presentation
  • Sumptuous

2.French Toast:(regular breakfast)

  • Very soft,
  • ample
  • served with strawberries and cream
  •  more than you actually need!
  • Perfectly toasted

Watch: Mugg&beans,khalifa city, AbuDhabi 3.shia seed delight:(healthy eating)

It’s a yummy fruitful healthy options: a Shia pudding is

  •  mixed with coconut and soya milk,
  •  loaded with berries,grapes and orange and
  • grated roasted pistachio gives a  seducing taste.
  • The presentation is as beautiful as the delish taste and health it offers.
  • for me I mostly prefer healthy eating as it keep my calories guilt on a controlled level.
  •  Verdict:
  • Beautiful place
  • Affordable prices
  • Ample servings

Check website:

http://www.labriocheuae.com/

Intuition body scrub by H&M

About beauty products,I am very anxious.i prefer quality over quantity.Thats the way I deal with pricy products,buy two than four but go for credibility and authenticity.This time which products I tried it was so good in results with a just little expence.

What is it?

A clarifying scrub that buffs and revitalises all skin type, made up of Apricot Seeds & Green tea Extract

How to use?

In the bath or shower, massage onto your skin with circular motions and rinse thoroughly.

check review:nailstation
 

Results:

The grainy thick scrub leaves your skin Outstandingly soft and moisturised with a refreshing fragrance of Apricot seeds on your body,and this effect is real not only acclaimed.Its perfect for an environment so full of air-conditioning, humidity and splendid sun.This scrub really worth your money.

 

Price:

Price:

Dhs:69           KD:5.900

OR:6.900.      BAD:6.900


Sale deal:

The sale season is offering this scrub with as low price as 15 aed.Sale is on in store and online till stock last,so go and grab your stock.such a little expence will give you an outstanding experience,I bet!

Website:

shoponline

Giraffe,Yas,AUH

Cuisine: international;

 a blend of best tastes around the globe

check the review:Leopold’s of London,AbuDhabi

Sitting and surrounding:

  • Comfy couches and chairs
  • A real kitchen effect with brown and cream colour scheme.
  • Open and private areas
  • Open dinning area in avenue
  • Surrounded and rushed
  • In the center of  Yas mall life

Review:Mugg@Bean


Kids Meal:

  • One main+  drink +dessert=45aed
  • You can order separately
  • Burgers are bigger than average size in kids meals
  • Fresh Juices with meal is another plus
  • Either they don’t have color pages for kids or they forgot to offer us
  • They offer  a little sitting area for toddlers as well.
  • One of best kids meal

Review:The Yellow Chilli by Sanjeev Kapoor

Main course:

  • Chicken Cesare salad(65aed)
  • Kati roll….(50aed)
  • Pomegranate tea (26aed)

Review: Shake Shack

Kati Roll
Chicken Caesar Salad

Verdict:

  • Kati roll is mouthwatering and delish,a dish of Indian taste.
  • Beautiful presentation
  • Caesar salad is good too
  • Iced tea jar was amazing
  • Prices are quite equal to chilli but the serving sizes are smaller.

    Pomegranate tea

Services:

  • Good
  • Polite
  • Need a little more keenness

Locations:

  • Dubai

 

 

 

 

 

 

  1. Dubai international terminal 1, concourse D
  2. Dubai international terminal 3 concourse A
  3. Dubai international terminal 3, concourse B

 

  • AbuDhabi

 

 

 

 

 

 

  1. Yas Mall AbuDhabi

 

Website

 

 

 

 

 

 

https://www.giraffe.net


“آخر کب تک”

(دشتِ برچی کابل کے معصوم شہداء کے نام! )

لہو سے لتھڑے بکھرے اوراق ــــ
ظلم کی آنکھ مچولی میں
بازیچہِ اطفال ہوئے راکھ
مکتب سے آتی ہیں صدائیں سسکیوں کی ……
ہائے نصیبہِ خاک!
خاک تہہ خاک ــــ
ظالم ہیں کس قدر بےباک
ان کا خدا ہے نہ خدا پہ بھروسہ کوئی
اے میرے وطن کے گلریز
تیری گلریزی کی قسم!
ریزہ ریزہ تیرے گل رو چہروں کی پنکھڑیاں
پتی پتی گرتی ہیں سینے پہ میرے
انکھیں چنتی ہیں انھیں ــــ
اشک دیتے ہیں غُسل
میرے دل کے اندر ہے اک بے کراں ‘ قبرستاں
میرے احساس کا گور کن ‘ کھودتے کھودتے تھک چکا ہے مگر
جلانے پڑتے ہیں پھر مجھے تازہ قبروں پہ لوبان و اگر ـــــ
میں ہر ایک سانحے کے مرقد پہ جا کے
درد و غم سے پناہ مانگتی ہوں
جو امڈ آتا ہے نجانے کیوں؟
نجانے کیوں؟
کوئی درپے ہے امن کے ایسے
جس نے سابقہ جنگوں سے بھی سبق سیکھا نہیں جیسے ــــ
آخر درد کی یہ دیوار کہاں تک جائے گی؟
کس ماں کے دل میں ہے یہ خیالِ مبہم؟
دنیا اجاڑ کے دنیا نئی بسائے گی؟
وہ پدر کون ہیں جو سوچتے ہیں
گُلوں کو نوچ کے بہار کہاں آئے گی ؟
وہ کون ہیں جو چلاتے ہیں انسانیت پہ نشتر
وہ کون ہیں سُلا کے خاک میں چھین لیتے ہیں وجود سے بستر
وہ کون ہیں؟
ان کا کوئی نام نہیں ‘سوائے شر کے
اور شر ک انجام ‘
دوزخ کی جھلستی ہوئی آگ !!!!
جسے مظلوم کی گرم آہیں دہکاتی ہیں
دہکاتی رہیں گے ـــ
مگر آخر کب تک؟ ؟؟؟؟

_______________

ثروت نجیب

Advertisements

   “یادش بخیر “

نہیں خبر سکوں میرا
کس قریہِ جاں میں کھو گیا
رنجشیں ہی رنجشیں
ملامتیں ‘ پشیمانیاں
الجھنوں میں گِھرا یہ دل
حیرانیاں در حیرانیاں
شکست خورہ حال میں
بیتے ہوئے ہر اک پل کی
تھکی تھکی کہانیاں
ضبط کے باوجود
اشکوں کی روانیاں
ہرے ہرے زخم سبھی
درد کی جوانیاں
ہر اک کنج جان کی
بے طرح ویران ہے
دل الگ دشت سا
جگر مثلِ خزان ہے
انکھیں آباد اشکوں سے
دماغ الجھی دُکان ہے
روم روم افسردہ
ہر ایک نس پریشان ہے
میں نے ڈھونڈا ہر اک جا سکوں
ملے کوئی جسے کہوں!
میں کیا کروں؟
میں کیا کروں کہ لوٹ آئے
بچپن میرا ‘ وہ بیتے دن
جب شام ‘ ماہ تمام تھی
کہانیوں کے گرد گِھری
رات جگنوؤں کا دوام تھی
تتیلوں کے تعاقب میں
بہار پینگوں کے نام تھی
تابستانی سنہرے دنوں میں
جھولی املیوں سے تام تھی
ریت کے گھروندوں سے خواب
سوچ دل کی غلام تھی!!!
گڑیا سی ہنستی بولتی
رفتارِ زندگی خرام تھی
پتنگ سی ‘ رنگ برنگ سی !
فکر ‘ رنگین پنسلوں سی خام تھی
مجال ہے شکن پڑے
پیشانی نابلدِ کہرام تھی
غم ہے کس قبیل کا پکھیرو
بس خوشی سے دعا سلام تھی
گریہ تھا بے سر وپا مگر!
آنکھ کب اشکوں سے ہمکلام تھی؟
بھنورے کی پشت پہ سوار
زندگی دل آرام تھی
اک دن کتابوں کی اوٹ میں
جب کہانی اک الہام تھی
پیش کی تقدیر نے!
وہ گتھی جو گمنام تھی
ہم چڑیاں نشانے پر
غلیل وقت کی لگام تھی
سوار کاغذ کی بھیگی کشتی میں
اک الہڑ سی گلفام تھی
بہہ گئی بہاؤ میں ‘ زمانے کے تناؤ میں
نہ لوٹ کر آئے گی اب!
وہ خزاں کی ایک شام تھی ــــــ
گردش ایام کی الجھنوں کو کاتتی
سفید سر لیے آماں!
گم گشتہ چرخے کی کھوج میں نکل پڑی
اپنی گم شدگی کی جانب آپ !
ہولے ہولے خود بڑھی ـــــ
عجب قصہ ِ گمنام تھی!
دیوار سے ‘چھتنار سے
سہارتے ہوئے ہمیں!
سائباں سے مہرباں
ابدی سفر پہ یوں
نکل پڑے ‘کھڑے کھڑے ــــــ
وہ شب دکھ بھرا پیغام تھی
اب دوہری ہے پشت میری
آگہی کے بوجھل بار سے
ڈھونڈتی ہوں رابطے
سکون سے قرار سے
ان چھوئے ‘ فریفتہ
بچپنے کے پیار سے
میں ڈھل نہیں سکتی اُس دور میں
ڈھلے گا وہ عہد مجھ میں اب
جلاتی ہوں اک شمع
ِاس یقین اِس اعتبار سے ! !!!!

_____________

ثروت نجیب

ایک مرد کو کیسا شریکِ حیات ہونا چاہیئے ۔

آ ج ایک ینگ لڑکی کا اسٹیٹس نظر سے گزرا ۔
۔,
مرد کو کبھی کمزور نہیں ہونا چاہیئے ۔ پتہ ہے مجھے کیسے مرد پسند ہیں ۔ ایسے جو رعب والے ہوں ۔ تھوڑے سے سڑیل ، تھوڑے سے مغرور ، تھوڑے سے گھمنڈی ۔ پتہ ہے کیوں ؟؟ کیونکہ ایسے مرد ہر کسی کے سامنے بچھ نہیں جاتے ۔ دل ہتھیلی پر نکال کر نہیں رکھ دیتے ۔ ہر جگہ ہر کسی سے اظہارِ محبت نہیں کرتے ۔ ایسے مرد ہی دراصل عورتوں کے محافظ ہوتے ہیں ۔
؛؛

پڑھ کر معاً اپنی جوانی کے بہت سے خواب یاد آ گئے ۔ ایک ایسی لڑکی جس نے زندگی کو ابھی صرف گھر کی چار دیواری میں محدود دیکھا ہے ۔ مرد کے نام پر صرف شفیق باپ اور دوست نما بھائی کو جانتی ہے ۔ جو بال کھینچ کر یا بہن کا حصہ کھا کر خوب تنگ کرتا ہے ۔ مگر پھر شام کو بھیل پوری ، دہی بڑے اور آ ئس کریم زبردستی کھلاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:امن کا پرچار
عام طور پر لڑکیوں کا آ ئیڈیل باپ اور بھائی ہی ہوتے ہیں ۔ انہیں ابھی زندگی کو برتنے کا سلیقہ ہے نا ڈھنگ ۔ بڑی عجیب سی خواہش کر بیٹھی ہے ۔ یہ کمرشل ڈائجسٹس کی افسانہ نگار ریٹنگ کے لئیے عجیب وغریب خیالات نوخیز ذہنوں میں فیڈ کر دیتی ہیں ۔ کچے ذہن اسطرف مڑ جاتے ہیں ۔ اور جب خیالی دنیا کا اپالو حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو ڈریکولا سے مشابہ لگتا ہے اور گھر ٹوٹنے لگتے ہیں ۔ زندگی کی بہت سی بہاریں دیکھنے کے بعد خیالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں ۔ تب بہت رومینٹک لگتا تھا کھلنڈری لڑکیاں لمحے بھر کی الفت اور نظر کرم کو غنیم جانتی ہیں ۔ مگر زندگی ایسے نہیں گزرتی ۔ یا شائد گزرتی تو ہے مگر بہت سے قیمتی پل ، چھوٹی چھوٹی خوشیاں جو زندگی کے کینوس میں رنگ بھرنے کے اسٹروک لگاتی ہیں وہ نصیب نہیں ہوتیں ۔ اور دل کے بہت سے ارمان حسرت کی قبر میں جا سوتے ہیں ۔
اگر خدانخواستہ کسی اکھڑ کا ساتھ بندھ جائے تو زندگی میں سے شوخ و رنگین پل اُڑ جاتے ہیں ۔ اور سنو اچھی لڑکی زندگی انہی شرارتی ، گلابی پَلوں سے حسین اور ہلکی پھلکی ہوتی ہے ۔ تیوریاں چڑھے مرد سے کیا توقع ۔ وہ تو باہر اپنے کولیگز اور دوستوں میں قہقہوں کے جام لنڈھا آ یا ہے ۔ ساری توانائیاں وہاں خرچ کر آ یا ہے ۔ گھر میں ایک تھکا ہارا مرد داخل ہوا ہے ۔ جسے نخرے اٹھوانے کو اور کمائی کا احسان جتانے کو ایک ملازمہ چاہیئے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک زرخرید ڈری سہمی احسانات سے چور ملازمہ جو صاحب کا موڈ کھولنے کے چکر میں دائیں بائیں ہوئی جاتی ہے ۔ آ تشہ مزاج کے آ گے سیدھے کام بھی الٹے ہو ہو جاتے ہیں ۔ جوتا اٹھاتے پاؤں رپٹ گیا ۔ پانی کا گلاس کپکپا کر لڑھک گیا یا چائے پکڑاتے پیالی چھلک گئی اور شوہر نامدار کا پیمانہ بھی لبریز ہو کر جو چھلکا تو بیوی کے آ نسوؤں میں ٹپکا ۔

یہ بھی پڑھیں:سبوتاژ یوم خواتین
معاف کیجئے گا یہ نا مردانگی ہے اور ناہی مردانہ شان ۔ آ پکو زعم صرف اپنے مرد ہونے کی سوچ پر ہے ورنہ کمائی تو عورتیں بھی کر لاتی ہیں اور بعض اوقات مردوں سے ذیادہ کماتی ہیں ۔ مگر آ ج کا موضوع کمائی میں موازنہ نہیں ہے سو اسکو نہیں چھیڑتے ۔
مرد کو بیوی اور بچوں کا دوست ہونا چاہیئے ۔ بجائے اسکے کہ بیوی گھریلو راز اور چھوٹے موٹے دکھڑے رشتہ داروں اور محلے داروں میں بانٹتی پھرے ( کہ گھٹن اخراج چاہتی ہے ) اور کئی جھوٹے مفاد پرست اور سراہنے والے ہمدرد اپنے گرد اکھٹے کر لے جو بہت بڑی سردردی اور بسا اوقات بے راہ روی کا بھی شاخسانہ بن جاتے ہیں کہ آ ج کل کے دور میں ایسا ہونا ناممکنات میں نہیں ۔ شریکِ حیات کو اتنا پیار اور اعتماد دیجئے کہ بیوی اپنا ہر رشتہ آ پ میں دیکھے ۔ یہ مرد کی کمزوری نہیں مضبوطی کی نشانی ہے کہ وہ اپنے سے منسلک یر رشتے کو اعتماد اور عزت و توقیر میں ملبوس کرے ۔ رشتوں کے بیچ تصادم عورت کی نہیں مرد کی کمزوری ہے ۔
سارا رومانس ، ساری خوبصورتی اس میں ہے کہ مرد صبح گھر سے نکلے تو عموماً بیوی دروازے تک چھوڑنے جاتی ہے ایسے میں ایک الوداعی بوسہ ماتھے پر ثبت کر دے ۔ کوئی نرم گرم جملہ سماعت میں انڈیل دے یا نکلتے نکلتے گھوم کر ہلکا سا ہاتھ ہلا دے تو بیوی سارا دن اس قید سے نکل نہیں پاتی ۔ رومانس اس میں نہیں کہ مرد اکڑے ماش کے مزاج کے ساتھ گھر میں داخل ہو ۔ لرزتی کانپتی ہراساں بیوی بےوقوفی سے پلکیں جھپکاتی ،پلّو گراتی اسکے جوتے چپل چائے پانی حاضر کرے ۔ رومانس اس میں ہے کہ ہلکی سی تھکی مسکراہٹ آ پکے لبوں پر پاتے ہی بیوی بیگ ہاتھ سے لے لے ۔ مرد اپنے تبدیل شدہ جوتے دو انگلیوں کے آ نکڑے میں پکڑ کر شو ریک پر رکھ دے ہاتھ منہ دھو لے ۔ اتنے میں نکھری ستھری ، بااعتماد خوشبو میں بسی بسائی بیوی کچن میں چائے تیار کر لے اور ہلکی پھلکی گفتگو کے دوران رات کا مینیو ڈسکس کر لیا جائے ۔۔

یہ بھی پڑھیں:عہد وفا
کہیں سفر میں ٹھنڈ سے اکڑتی ہلکے سویئٹر میں ملبوس بیوی کو اپنا کوٹ یا جیکٹ اوڑھا دے ۔ کہیں حضر میں کمبل سیدھا کر دے ۔ سفر میں اشارے پر رکنا پڑ جائے تو پھوں پھاں اور تن فن کرنے کی بجائے دو گجرے لیکر بیوی کو پہنا دے۔ بیوی کی محبت اور اعزازِ محبت سے چور نگاہ سے گاڑی میں اور ارد گرد کی فضا مشکبار ہو جائے گی ۔اس سمے کتنے گداز پل سرمایہ بن جاتے ہیں کہ محبت تو نرمی میں ، نرم لہجوں میں نمو پاتی ہے ۔ آ نکھوں میں بہار بن کے لہراتی ہے ۔ مرد کی گھبھیر آ واز اور دلکش لب و لہجہ اسکی نرمی سے ہے ناکہ چیخ و پکار میں ۔ کرخت لہجہ اور رعونت چہرے کے نقوش بگاڑ دیتی ہے ۔ خشونت اور سوچیں قبل از وقت بڑھاپا طاری کر دیتے ہیں ۔
کتنا پُروقار لگتا ہے وہ مرد جو اپنی بیوی کے لئیے گاڑی کا دروازہ کھولتا ہے ۔ تحفظ اور فخر کا بے تحاشہ احساس عورت کو گردن اکڑانے پر مجبور کر دیتاہے ۔ دیکھنے والوں کی نگاہ بھی مارے عقیدت و احترام کے جھک جاتی ہے ۔ آ پ اپنی عزت کو عزت دیجئے دوسرے تبھی ایسا کرنے پر مجبور ہوں گے ۔ وہ عورت ہمیشہ خود کو بہادر اور با اعتماد سمجھتی ہے جس کو اپنے مرد کا اعتبار حاصل ہوتا ہے ۔
پرام دھکیلتا مرد برابر میں سہج سہج شوہر کی ڈھال میں چلتی بیوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے رومانس ۔ یا گروسری کے ایک ایک آ ئٹم کو سلیکٹ اور ریجیکٹ کرتا ہوا کپل ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ہے رومانس نا کہ جلدی جلدی کی رٹ لگاتا چیختا چلاتا مرد ۔ رومانس کو پَلوں میں تلاش کیجیئے اور قید کر کے سرمایہ بنا لیجئے ۔ یہ زندگی ہے اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ۔ سو خوشیاں کشید کرنے کا ہنر سیکھئے ۔
ان لڑکیوں کے لئیے خصوصیت سے یہ بات کہنا چاہتی ہوں جو مندرجہ بالا کوٹیشن کے اکھڑ مرد کو آ ئیڈیل سمجھتی ہیں سراسر غلطی پر ہیں ۔ مردوں کو اپنی عزت اور انا نسبتاً ذیادہ عزیز ہوتی ہے ۔ وہ بچھ بچھ نہیں جاتے ہاں اگر خواتین ہی ریشم کا لچھا ، ہوا مٹھائی ، موتی چور کا لڈو یا رس ملائی بننے پر مصر ہوں تو پھر مرد مٹھائی کے شوقین ہوتے ہی ہیں خاص طور پر بڑی عمر کے مرد ۔
آ خر میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ یہ وہ واحد قانوناً،مذہباً جائز رشتہ ہے ۔ جسے بناتے تو ہم اپنی مرضی سے ہیں مگر معاشرے میں انتہائی توقیر و عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ خوبصورت زندگی کی اساس اسی ایک رشتے سے جنم لیتی ہے اور آ گے بہت سے رشتوں میں ضرب پا جاتی ہے ۔ مرد حضرات سے التماس ہے کہ پلیز شوہر بنئے ہوّا نہیں ۔ اور دیکھئے اب گھر کو جنت اور بیوی کو حور بننے سے کون روک سکتا ہے ۔

زارا مظہر ۔۔۔۔۔۔

شجر بےسایہ

صحن تو اس نے بنا لیا تھا۔ اب بیج بونا رہ گیا تھا۔ صحن بناتے ہوئے اس کی نظریں اردگرد کے صحنوں پہ تھیں۔ جہاں بھانت بھانت کے درخت لگے تھے۔ کچھ صحنوں میں تو ننھی ننھی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں اور کسی صحن میں کئی ہرے بھرے درخت تھے تو کسی میں بس ایک یا دو مگر بہت سایہ دار۔ کسی کسی صحن میں درخت تو کئی تھے مگر وہ درخت کم درخت کا ڈھانچہ زیادہ لگتے تھے۔ بغیر کسی پتے کے ٹنڈ منڈ۔ اسے یقین تھا کہ وہ جو بیج لگائے گا اس سے نکلنے والے درخت بہت سرسبز ہوں گے۔ اسے بیج لگانے کی جلدی یوں بھی تھی کے اردگرد کے مالیوں کی نظریں ہر وقت اس کے صحن کی نگرانی پہ لگی ہوتیں کہ کب اس میں کونپل پھوٹے گی۔ وہ جتنی جلدی چاہ رہا تھا شاید قدرت اتنا ہی اس کے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔ وہ کوئی مالی تو تھا نہیں کہ وقت اور موسم کے سازگار ہونے پہ بوائی کرتا۔ صرف مالی نام رکھ دینے سے ہر کوئی مالی بن جاتا ہے کیا۔ اسے تو یہ بھی نہیں پتا تھا صحن کی سخت زمین کو کتنی آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔تو بس وہ سوچے سمجھے بغیر بوائی کیے جارہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پچاس لفظی کہانی3

آخر کار قدرت کو شاید اس پہ رحم آ ہی گیا اور اس کے صحن کے بیچوں بیچ ایک ننھی سی کونپل پھوٹ نکلی۔ وہ خوشی سے جھوم جھوم گیا۔ اس نے ٹھان لی کہ اس کا درخت ایسا شاندار ہوگا جیسا کسی کا بھی نہیں۔ سب سے بلند سب سے گھنا سب سے سرسبز اور وہ بھی آم کا درخت۔ اس نے سوچ لیا تھا اس کے صحن کا درخت صرف آم کا ہی ہوسکتا تھا پھلوں کے بادشاہ آم کا۔ کونپل نکلتے ہی جیسے اس کا کام ختم ہوگیا۔ اسے پتا تھا صحن خود اس کے لیے پانی اپنی تہوں سے فراہم کرے گا۔ شاید صحن کو بھی پتا تھا اسی لیے جب جل تھل مینہ برستا صحن سارا پانی اپنی تہوں میں جذب کرلیتا دیکھنے والے صحن کے تڑختے خشک فرش کو دیکھتے مگر انہیں کیا پتا کہ سب پانی تو صحن نے پودے کے لیے جمع رکھا ہے۔ ہاں کبھی کبھی فارغ وقت میں مالی کا دل چاہتا تو وہ اس ننھے سے پودے پہ تھوڑا سا چھڑکاو کر دیتا۔ اس وقت اسے فخر سے اپنا سینا خوب چوڑا محسوس ہوتا کہ وہ کتنا اچھا مالی ہے اپنے پودے کو اپنے ہاتھوں سے پانی دیتا ہے۔ اس کی گردن اکڑ جاتی اسے لگتا اردگرد والے سب مالی اسے ایسا شاندار مالی ہونے پہ حسد سے گھور رہے ہیں۔ وہ ننھا سا پودا آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آسرا -دیس دیس کی کہانیاں

ایک دن حسب معمول کئی دنوں بعد وہ اپنے پودے کو پانی دے رہا تھا تو اس نے غور کیا۔ اس کے پتے تو بالکل بھی آم کے درخت جیسے نہیں تھے۔ اس کی تیوریوں پہ بل پڑ گئے۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ وہ اندر سے قینچی اٹھا لایا کہ پتے تراش کے آم کے پتوں جیسے کر دے۔ ابھی وہ پتے تراشنے ہی والا تھا کہ برابر والے ایک صحن کا مالی آگیا۔ اس کے صحن میں ایک ہی درخت تھا مگر بہت گھنا اور سایہ دار۔ اسے پتے تراشتے دیکھ کر برابر والے مالی نے روکا بھی کہ ایسا کرو گے تو پودا ابھی ختم ہوجائے گا۔ ابھی تو اس کے پتے بہت چھوٹے ہیں انہیں بہت ساری دھوپ اور پانی کی ضرورت ہے۔ مگر اس نے دھیان نہیں دیا۔ بلکہ اسے یقین تھا کہ برابر والا مالی چاہتا ہی نہیں کہ اس کے صحن میں آم کا ہرا بھرا پودا لگے۔ اور پھر اس کا معمول بن گیا۔ ہفتوں ہفتوں بعد جب وقت ملتا بکتا جھکتا جاتا اور پودے کے پتے کبھی تراشنے کی کوشش کرتا کبھی نوچ نوچ کے پھینک دیتا۔ پودا اب درخت کی شکل اختیار کرتا جارہا تھا۔ مگر صرف شاخوں والا درخت، پتے تو اس نام نہاد مالی نے نوچ دیئے تھے۔ پھر ایک دن اس پہ ایک چھوٹا سا پھل بھی لگا۔ شاید امرود کا۔ مالی کو لگا یہ کسی کی بد نظر ہے، کبھی وہ صحن کو کوستا، کبھی پڑوسی مالیوں کو کبھی درخت کو مگر اسے یہ کون سمجھاتا کہ بیج تو اس کا تھا کسی اور کی کیا غلطی جو بیج ڈالا گیا درخت بھی وہی نکلنا تھا۔ اس نے غصے میں وہ ننھا سا امرود نوچ کے پھینک دیا۔ اور پھر اس کے بعد بھی کئی بار نوچا۔

یہ بھی پڑھیں:کھڑکی کے اس پاد

وقت گزرتا گیا۔ درخت کی ٹنڈ منڈ شاخیں اب پورے صحن میں پھیل گئی تھیں۔ مالی بوڑھا ہوگیا تھا۔اب اسے یہ فکر نہیں تھی کہ درخت پہ پتے اور پھل کیسے ہوں بس یہ فکر تھی کہ جیسے بھی ہوں مگر ہوں۔ جب کما کے لانے کی سکت نا رہی تو سوچا اب وقت آگیا ہے کہ اتنی محنت سے جو درخت لگایا اس کے پھل کھاوں۔ مگر وہاں پہ سوائے ٹنڈ منڈ شاخوں کے کچھ نہ تھا۔ تپتی دھوپ سے اس کا سر جلا جارہا تھا۔ ہمیشہ کا ٹھنڈا صحن آج تنور کی طرح جل رہا تھا۔ اپنے اندر سمویا سارا پانی وہ درخت کو دے چکا تھا۔ مالی تھکے تھکے انداز میں درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ درخت صحن کے بیچوں بیچ اپنی ٹنڈ منڈ شاخیں پھیلائے مضحکہ خیز تنفر سے تنا کھڑا رہ گیا۔

_______________
تحریر ابصار فاطمہ

وڈیو دیکھیں:اندھیری رات کے مسافر

تعبیر

اُداس شاموں میں دیر تک تم
کسی تعبیر کی آس میں یوں
اُداس پلکوں پہ آنسوؤں کا
بوجھ ڈالے نہ بیٹھے رہنا
کسی پرندے کی واپسی پہ
ہجر کو نہ کوسنا تم
مسکرا کر دیکھنا تم
ہر نگر کو
ہر گھڑی میں
کہ اُداس شامیں یوں لوٹ جائیں
کبھی نہ واپس پلٹ کر آئیں
خواب جو بھی بُنے ہوں تم نے
تمہارے در پہ
حقیقت کا رُوپ دَھارے
مؤدبانہ ، یوں کھڑے ہوں
کہ کہہ رہے ہوں
سلام تم پہ
کہ صبر کی منزلوں پہ
مُسکرا کر تم نے
روشن زندگی کو پا لیا ہے

شاعرہ : آبرؤِ نبیلہ اقبال