Sensual with black current vanilla body cream :Bath & Body Works

Have you tried the sensual body cream  before going to bed ?Did you got the definit result of the aromatherapy ?

Yes ! Off course! No one can deny the unmistakable results of Sensual body cream with perfect aroma of black currant vanilla! If you haven’t try yet,go and grab one for You as I can bet it’s your first purchase but not last!

Why?

Many good reasons behind:

  •  The fragrance will make your senses reel with pleasure and take you waltzing into the gardens of eden feeling like a butterfly roaming among the enchanting scents of heavenly flowers.
  • Try it once to see how an application of sensual lotion turns your sleepless nights into a tight sleep of fanciful dreams..
  •  Your husband/partner will  love the aroma  for a beautiful night!The aroma is highly sensual and exotic to raise your tired sleppy romance.
  • breath and let him breath deeply  for best results
  • A must try to  rejoice and relax before going to bed.the soothing scent cools you down and made you completely stress free.

  • The formula is so moisturising that keep your skin smooth and scented all night long.It really quenches the skin without feeling so thick. 
  • a litle goes a long way and enough for long hours of night with a single use. .
  • highly recommended and one of my all time favourite purchase.

check:nail color by Nailstation

Directions

  • keep this on your side table for regular  use in night or batter to have a variety of Bath and Body Works  creams to use daily a different fragrance.
  • Massage your body gently before bed.

Price:

It’s a pricy product ,

  • costs 85 aed/ 15 $
  • you can get an advantage of sale offers to get it on lower prices almost 25 to 75 % ,though it hardly saves in the stock for such low prices.
  • :shop online

وقت

وقت کو وقت ملے اگر،

میری دہلیز پرکچھ خواب دھرے ہیں ،

وہ جو موسموں کی شدت سے ،

یا تو گھبرا گئے ہیں یا مرجھا گئے ہیں،

وہ جو خواب اس آس پر روز جیے

روز مرتے ہیں ،

کہ

وقت کا کوئی مکمل لمحہ،

کسی کن فیکون کے طلسم کی طرح

انہیں مکمل کر دے گا،

وقت کو وقت ملے اگر،

میری دہلیز پر بھکاری بنے خوابوں کو،

اک نظر دیکھ لے ،

اور پھر ان کے نصیب کا فیصلہ فیصلہ کرلے،

کہ لمحوں کی گرانی میں،

یہ خواب مر جائیں گے،

یا پھر کسی معجزے کے ہاتھوں،

جیں گے اور امر ہو جائیں گے۔

ثوبیہ امبر

یہ بھی پڑھیں:ہلکی ہلکی اداس ہوا

رکی هوئی صدی. اذ سدرت المنتہی

میں نے کہا “آو کہ تمهیں بتاوں کہ یادیں تو مجهے بهی نهیں چهوڑتیں

یوں لگتا ہے جیسے کوئی لمحہ من میں ہی رک گیا هے-

زندگی چل رہی هے  .وقت کی ڈور کهسکتی جارهی هے.

میرے قدم مجهے راستوں گهسیٹتے جارهے هیں..اور راستہ طویل تر هوتا جارها هے.

میں تو چلتا رها هوں..مگر میرا دل ..

دل کہیں رکهہ کے بهول آیا هوں.۔

میرا دماغ ..جسے سوچ خلائوں میں اڑائے پهرتی هے..جو هاتهہ ہی نهیں لگتا.

اور میری روح..لگتا هے میری روح کسی سو سال پرانے درخت کی جهاڑیوں میں پهنسی هوئی هے. .تڑپتی تو هے ساتهی…مگر رهائی نهیں پاتی..

میں اپنی روح کی طرف بارہا مڑ مڑ کر دیکهتا هوں .مگر اس تک قدم جا نہیں پاتے..سفر تو چل رها هے..جیسےجیسے میرے قدم راستوں میں بڑهتے هیں..اپنی روح سے بچهڑتا جارها هوں ..معلوم هوتا هے جیسے مرچکا هوں…اور سچ پوچهو تو دوست مر ہی چکا هوں”.

کہنے لگی . “کتابیں پڑهنا تو چهوڑدی ہیں..پھر بهی ایسی باتیں کرتے هو.اس قدر بے چین رهتے هو.

پہلے تو ایسے نہ تهے…یاد ہے کبهی زندگی سے بهرپورگفتگو ہوتی تهی..

کتنے ہی پرجوش رہا کرتے تهے.اور پر امید بهی..

اب تو سب کچهہ مل بهی چکا هے…اسکے باوجود اتنی بے چارگی..اس قدر تشنگی..ایسی بے بسی کیوں آخر..؟؟”

”  سب کی فهرست میں کیا کچهہ رکها هے بهلا؟جانناچاهتا تها

وهی جو تمهاری ضرورتوں میں کبهی شامل رہا هے….گهر.ملازمت..اورپیسہ.”

وہ مجهے اپنی ضروریات گنوارہی تهی..اور میری ہنسی چهوٹ گئی.

بس دوست..خواب محبت اور روشنی کو کس جرم کی سزا میں میری فهرست سے تم نے نکال پھینکا ہے

“شکوہ کیسے نہ کرتا

تمهاری ترجیحات تو فقط یہی چیزیں تهیں .جو میں نے تمهیں گنوائی ،باقی سب تو کتابوں میں رکهہ کے بهول چکےایسے  کے صفحہ نمبر تک یاد نهیں..

مانتی ہوں کتاب تو میں بهی اپنی پرانی شیلف کے خانے میں بہت سی کتابوں کےدرمیان رکهہ کے بهول چکی هوں.اب اگر ڈهونڈنا چاہوں بهی تو مل نہ پائے.

ویسے بهی  اتنا وقت ہی کہاں کہ پرانی شیلف کا بند خانہ کهولوں..یہ بهی ڈر هے کے کہیں پهر سے کتابوں میں گم هوجائوں گی اور اس بار کهوئی تو خود کو بهی مل نہ پائوں …گهر والے تو ڈهونڈتے هی ره جائیں گے.

خود سے تو کسی حد تک بچهڑ چکی هوں..مگر گهر والے  نهیں کهو نا چاهتے..کیوں کے میرے سوا کتنے گهر کے کام ادهورے رهتے هیں..

اسی لئے ۔۔۔۔۔۔۔..بس خود کو گهر کے کاموں میں گنوایا هے..

میں نے سوچا شاید خود کو بهلاتی هے..مگر کسی حد تک ……..سچ بهی تها..

تو تمهارا دل گهر کے کاموں میں لگ گیا هے.(.یا پهر میری طرح کتاب کے صفحہ نمبر نا معلوم میں اپنا آپ رکهہ کے بهلاچکی هو)وگرنہ تمهاری مصروفیات گهر تک تو محدود نہ تهیں..

کھوٹے سکے اذ صوفیہ کاشف:یہ بھی پڑھیں
میری بات پر جانے کیوں هنس دی.

کہنے لگی دل کهیں تنہائی میں ہی کهوگیا هے .

میں نے کہا ڈهونڈ لاوں؟

تو کیسے…کہاں سے

کہنے لگی   .تنہائی میں ملنا.

بتایا وہ تو ملتی ہی نهیں هے اسقدر مصروف رهتاہوں..کیا کروں دوست..

ملازمت بهی تو کرنی هے..گهر چلانا ہے

تهکا ہوا لوٹتا ہوں اور اماں کی وہی پرانی شکایتیں شروع..

نہ معلوم ماں کب خوش هوگی..حج کرکے آئی ہیں..بہن کی شادی میری ملازمت ..سب اچها چل رہا هے..مگر..

کہنے لگی ماں کیا کہتی ہے؟

بتایا کے کتنی ہی شکایات ہیں..

سر فهرست یہ کے شادی کیوں نہیں کرتا..

گهر کے لئے وقت نہیں..اپنا خیال نہیں رکهتا.

جب اپنا خیال رکهنے کی خواہش تهی تب….

کیا بتاؤں اب کے فرصت میں یادیں ڈسنے لگتی ہیں..گهر میں رہوں تو گهر کی دیواریں کهانے کو دوڑتی ہیں..جان بوجھ کر بهی خود کو مصروف رکها هے.پهر سے تنهائی میں گم هونا نہیں چاهتا..دل کهوچکا هوں

خود کو کهونا مهنگا پڑے گا..زندگی بهی تو کاٹنی هے

مدهم مسکرائی..پگلے..ماں بچوں کی خوشی چاہتی هے..اسکی خواہش نا جائز نہیں..کہا مان لو..پہلے انهیں تمہاری لاپرواہی نے پریشان کیا اب تمهاری تنهائی انکو کهاتی هے..

شروع سے ماں کی طرف دار تهی..اب بهی وهی کر رهی تهی..میں ہنس بهی نہ سکا…جانتی بهی تهی کے اپنی خواہشوں کا مارا هوں..ماں کی خواہش کا بوجهہ بڑا هے

تم بتاو دوست زندگی کیسی گزر رهی هے؟”خود سے اس تک آنے میں بڑی دقت تهی.

کهوگئی ایک بار پهر ..

زندگی میرے کمرے میں سانس لیتی هے.کتابوں کی شیلف میں قید زندگی هے

میرے سنگل بیڈ پر سوئی زندگی هے

گویا کے زندگی بدل گئی..تم نہ بدلیں.ہنسی اس پر آئی یا زندگی پر سمجهہ نہ سکا.

مدهم ہنسی..اور پهر چپ کا لمحہ..کہنے لگی..

!زندگی لاکهہ بدلے محبت رنگ نہیں بدلتی..

یاد آیا..مجهے زندگی اور خود کو محبت کہنے والی..

محبت اداس تو کردیتی هے.کیا کہتا

کچهہ تو دیتی هے نا. اسی میں خوش تهی

سب کچهہ تو چهین لیتی هے.مجهے اختلاف تها.

اپنا آپ تو سونپتی هے نا..تکرار ثابت تهی

کیا کروں دوست.مانا کے سب کچهہ هے مگر جو نہیں وہ محبت هے.مجهے اپنا دکھ رلانے لگا.جو اس سے وابستہ تها

دوست تمهارے احساس سوئے پڑے هیں. کوئی پرانی کتاب کهول کے دیکهو محبت وہیں ملے گی.فکر مند ہوگئی.

دوسری موت اذ حمیرا فضا :یہ بھی پڑھیں

بتایا جو ہے وقت کا محتاج هوں اور سکون کے لئے ترستا ہوا  جب باهر نکلوں تو سڑک پر گاڑیوں کا شور سکون اڑادیتا ہے..روڈ پر نکلتے ہی عجیب خوف گهیرے میں رکهتا هے۔ لاشعوری طور پہ روڈ ایکسیڈنٹ میں کچلا گیا هوں. سچ پوچهو تو میں

لاوارث لاش کی طرح بے شناخت پڑا ہوں..ہر گاڑی مجهے کچل کے گزرجاتی هے

بڑی مشکل سے خود کو مردہ خانے تک لایا ہوں..جہاں شناخت کے انتظار میں رکهی بدبو کرچکی هے ایسی بدبو جو کبهی زندگی

میں محسوس نہ ہوئی تهی..ایسی بدبو

اس خیال نے عجیب ناگوار احساس بهردیا.

خوشبو اور بدبو کا ملا جلا تاثر عجیب تها

بدبو ..جو میری لاش میں تهی

خوشبو ‘جو اس کے لہجے میں تهی

سحر جو اس کی آواز میں تها..جس نے صدا جکڑے رکها.

دیکهو دوست..ایک کام کرنا مجھے بے شناخت نہ مرنے دینا..مربهی جاوں تو شناخت کرنا..دیکهو کتبہ بهی لگانا..محبت کے نام کا

میری بات سن کر خوف زدہ ہوگئی..کہنے لگی محبت نہیں مرتی دوست .تم ایسی باتیں نہ کرو. دیکهو بم دهماکوں اور اغواہ کے کیس سے ڈر کر پہلے ہی باہر نکلنا چهوڑچکی هوں…ٹی وی اخبار تک سے ناطہ توڑ لیا هے

گهر کے کاموں میں خود کو الجهایا ہے

کیا بتاوں کہ کبهی چائے کے پانی میں آنسو مل جاتے هیں. چائے کڑوی زہر بن جاتی هے.گهر والے کہتے ہیں چینی کی جگہ زہر ملادیا..کیا بتاوں کے آنسو زہر کیوں بن جاتے ہیں

کبهی خواہشوں کو هنڈیا میں پکاوں ..بهونوں  تو عجب رنگ نکهرتے ہیں۔ بریانی کے چاولوں میں رنگ ملانے کی ضرورت نہیں رہتی..باورچی خانے میں خواہشوں کی خوشبو بکهرنے لگتی هے.

گهر والے کهانے میں ملی خواہشیں بهی کهاجاتے هیں..

بچی ایک محبت ہے جسے کتابوں میں چهپادیا هے.گهر میں کسی کو کتاب کا چسکہ نہیں .. جس لئے محبت تک رسائی ناممکن ہے

سجدہ سہو اذ صوفیہ کاشف یہ بھی پڑھیں! 
اسکے لہجہ کا سحر اداس تها
میں نے محبت کا بوجھ ڈال دیا…یے بتاو مل سکتی هو..؟بتاچکی هوں گهر تک زندگی سمٹ گئی هے ..پهر سمندر کنارے مشینی دور کی باتیں کرکے کیا ملنا هے

محبت پانی میں بہہ جائے گی.سمندر کی تہہ تک اترجائے گی۔۔ پهر نہ ملے گی…لہروں سے بهی ڈرتی ہوں…

جبهی دور سے تماشہ کرتی لہر کو دیکهہ کے بهاگتی تهی..

چلو پهر کہیں صحرا میں ملیں..دوست ویسے بهی مشینوں نے ریاضی کے حساب کی طرح الجهایا ہوا ہے..اور سمندر کی خوف ناکی تو مجهے بهی ڈراتی هے.

تمهیں لاکهہ بتایا دوست کہ محبت کتاب میں قید ہے.کهولوں گی تو سپنے سوکهی پتیوں کی طرح بکهر جائیں گے.خواہشیں بے رنگ اور خواب پهڑپهڑاتے هوئے  پر نکال کر اڑجائیں گے..

میں نے کها دیکهو دوست..پتهر کے دیس میں ملتے ہیں..

کیوں کہ ڈرتا ہوں.تمهیں پهر سے کهودینے سے

دیکهو محبت کی بات کریں گے تو کبهی زندگی پر .وہاں جاکر محبت کو کتاب سے آزاد کریں گے..لہجے محبت کی روح بهر کے آباد هوجائیں گے.لوٹیں گے تو محبت کی چاشنی میں لہجے ڈوبے ہونگے..زندگی کے لئے آسانی لائیں گے..محبت بانٹیں گے تو مسائل کمزور ہونگے.

میری ضد پر راضی ہوئی..محبت کی خاطر پتهر کے دیس میں ملاقات کے لئے حامی بهرلی.—————–

پتهر کے دیس میں ملا تها

محبت کی بات کرتے ہوئے کہنے لگا…

سنو..!دوست..ہمارے مسائل محبت کو کهاگئے هیں

کس قدر کهوکهلے ہوگئے ہیں..میں تو سوچتا ہی ہوں..کیا تم نے کبهی سوچا اگر سو سال پہلے پیدا ہوتے..اور محبت ہوتی تو مسائل کتنے مختصر ہوتے..

میں نے کہا دیکهو …سوسال پہلے بهوک محبت کو کهاجاتی دو ویلے کهانے کی پریشانی ساتهہ لے کر جنگل بیابانوں میں پهرتے..

کہنے لگا بهوک کا مسئلہ تو آج بهی زندہ هے

میں نے بتایا دیکهو محبت همیشہ مسائل کے بیچ ہی جنم لیتی هے..

کہنے لگا کیا بهوک کا مسئلہ سو سال بعد بهی زندہ رهے گا ؟؟پهر تو دوست اور بهی شدت اختیار کرجائے گا یہ مسئلہ..دیکهو ..پہلے انسان کی بهوک دو ویلے تک محدود تهی…

اب گاڑیوں مشینوں بنگلوں کی طلب نے آلیا..دن بہ دن بهوک کی شکلیں بدلتی جائیں گی..جتنا روپیہ بڑهے گا بهوک اس سے ایک قدم آگے چلے گی..

وقت کے ساتهہ ساتهہ ضرورتوں اور خواہشوں کا سمندر پانی کے سمندر پر بچهتا جائے گا….اور سمندر کا پانی مزید کهارا هوتا جائے گا

دنیا کی آبادی بڑه رهی هے..پهر گهٹتی جائے گی..زمین سمٹتی جاتی هے..دیکهو  کتنی جلدی لوگ پیدا ہورہے ہیں…اس سے کہیں زیادہ جلدی مر رهے هیں..

محبت ابهی کتابوں میں ہے…پهر خوشبو بن کر ہواوں میں اڑجائے گی..اور آہستہ آہستہ لوگ محبت کے نام سے نا آشنا ہوجائیں گے..

احساس کو ہوس کی بهوک کهارہی هے..بهوک صرف روٹی نہیں..محبت بهی کهاجاتی هے..

میں چپ هوئی..وہ ڈر گیا..

کہنے لگا آو  کہیں بهاگ چلیں…محبت کو تو ہر هال میں بچانا هے..

چلو سمندر کی تہ میں اترجاتے هیں..

میں کیا کہتی…سمندر کی مچهلیاں کهاجائیں  گی..پتہ بهی ہے کے چهوٹی مچهلیوں کو بڑی مچهلیاں کهاجاتی هیں..

سوچ میں پڑگیا…چلو پهر خلاء میں اڑجائیں..
کہا بهی کہ گهٹن ہوگی..

کہنے لگا سو سال بعد محبت کرتے تو بهی خلاء میں ہی گهر بنانے کی خواہش ہوتی .سیاروں کی سیر کرتے..پهر اب کیوں نہیں..؟

دیکهو دوست..هم زمین کو چهوڑ کر کہیں نہیں بس سکتے..کیا سیارے پر ہمیں…بادل بارش..موسم مل سکے گا. کیا اناج پانی درخت هونگے؟

پهر محبت کا جو قحط پڑا تو زندہ رہنے کے لئے کیا ره جاتا هے.

اور ویسے بهی دوست..ہماری مستیاں زمین ماں نے برداشت کی ہیں..کوئی بهی سیارہ ہمارے گناهوں کا بوجهہ اپنے سینے پر نہیں سهارپائے گا..ایک ہی غلطی پر دربدر کیا جائے گا ہمیں..

>ل کہنے لگا : وهاں ہم دهماکہ تو کیا گولی تک نهیں چلاسکتے..یہاں تک کہ اکڑ کے چل بهی نهیں سکتے…

دیکهو !پهر بهی زمین سے تو امن ہی هوگا ناں!,,,,,,

بڑا دکھ ہوا ۔سمجهایا اسے کے دیکهو  ماں کو چهوڑنے کی بات نہ کرو..ماں کی گود هماری پہلی اور آخری پناه گاه هے..

اس کے دامن میں امان هے..وہ تو بس همنے هی خود کو کئی خواحشوں کی حسرت اور ضرورتوں کی کثرت میں اجهایا هے

> سب مل بهی جائے .جو نهیں ملتا وہ سکون هے

ٹهیک هے ساتهی..پر زمین تو هر جگہ سے ایک سی مگر انسان شکلیں زبانیں بولیاں ..کلچر تهزیب  رنگ و روپ کیوں الگ هے؟

سوال اچها تها.

میں نے کها سارے فطرت کے رنگ هیں.سب کچهہ الگ سهی مگر.احساس سب کے ایک هیں  زندگی ایک هے جیسے .محبت ایک هے

محبت کی بات پر مسکراتا تها

کهنے لگا هم ایک دوسرے سے نفرت کیوں کرنے لگ جاتے هیں؟

میں نے کها بهٹک گئے هیں کهنے لگا زندگی کے بارے میں کهو..

میں نے کها مجهے اور خود کو دیکهو. آسمان اور زمین کو دیکهو..

کهنے لگا نگاه اوپر نهیں اٹهتی..

راستوں کی ٹریفک میں اجهہ جاتا هوں..

زمین کو دیکهو تو چکنی مٹی کی خوشبو اپنی طرف کهینچتی هے..

سمندر میں دیکهوں تو مچهلیاں پکڑنے کا شوق ڈبوتا هے

خواحشیں اور ضرورتیں آپس میں اجهی هوئی هیں ..سلجهانے بیٹهوں تو رات گزرجائے..ایک رات صدی برابر حساب لیتی هے..بهت الجها هوں

یے تک بهلا بیٹهے کے کس مقصد کے تحت آئے تهے.

اور یے بهی کے پتهر کے دیس میں وقت رک جاتا هے

اور اب لگتا هے جیسے پتهر هوچکے هیں..

ساتهی ہم تو محبت کا عهد لیکر پتهر کے دیس میں آئے تهے..پهر کیا هوا؟یے همارے بال کیوں سفید هوگئے..

کیا صدی گزرگئی؟

ساتهی میری طرح حیران تها..اور میں پریشان..مگر یهاں تو وقت نهیں چلتا..هم بوڑهے کیسے هوئے؟

ہم واقعی صدی کے شروع میں یهاں آئے تهے..اور اب صدی اختتام کو هے..

زمین کی زندگی بهت تیز رفتاری سے آگے نکلتی جارهی هے.

ساتهی کیا اب زندگی کو محبت کی ضرورت نہ رهی هوگی..؟اس کا مسئلہ محبت تهی..

میں نے سوچا محبت خوشبو بن کر هوائوں میں بکهر گئی هوگی..اب تو کتاب سے علم بهی اٹهہ چکا هوگا.

وہ کهنے لگا میں نے کچهہ آوازیں سنی هیں..لوگ کهہ رهے تهے هم ایک صدی سے اسی پتهر پے بیٹهے تهے..اور یهیں پتهر هوگئے

کیا هم صرف سن سکتے هیں ساتهی…کسی سے بات نهیں کرسکتے.؟محبت سے بهی نهیں؟مجهے بهی محبت کا مسئلہ تها.

میں اسی صدمے میں تهی وہ بولا

ساتهی زندہ مردے بولتے هیں مگر ان کی بات کوئی نهیں سنتا.

دیکهو هم هل نهیں سکتے..چل نهیں سکتے..هم پتهر هیں…اور صدی ..

اسنے مجهے چهونا چاها تو پهر سے پتهر کا هوگیا اور صدی پهر سے جهٹکا کهاکر رک گئی..جب کوئی کسی کو چهونا چاهے تو وہ پتهر کیوں هوجاتا هے..کس سے کهتی..لفظ اور.احساس کی موت هوچکی تهی.

لوگ آتے هیں همیں دیکهتے هیں..بولتے هیں..

هم سنتے هیں..مگر بول نهیں سکتے..بولیں بهی تو کسی کو سنائی نہ دے

هم هل نهیں سکتے کیوں کے هم پتهر هیں…اور صدی بهی رکی هوئی هے.

مگر محبت سارا اسی کا مسئلہ ہے-

—–

Breakfast at La brioche,Dalma Mall, AbuDhabi

La brioche is always a beautiful place and my personal favourite for a French style breakfast, coffee or a party with friends.It is as serene in the Dalma mall for a breakfast as in Khalifa city, AbuDhabi, as all the stores or entertainment spots around weren’t opened yet.While long walk ways were quite and lazy on a  Friday morning we  rushed to La brioche, Dalma mall for  breakfast as I was getting late for my some official work.

Services:

  • Quick
  • Polite
  • Helpful

(We were in a rush so I request them to be quick in serving and to my surprise,they were actually!)

Sitting area:

  • Beautifully decorated
  • Intimate space
  • Instagram friendly
  • Outdoor seating
  • Spacious place
  • Comfy sofas

check review about giraffeyasmallAbudhabi

Menu:(breakfast)

  • French bakery
  • Eggs
  • Healthy eating
  • Omletts
  • Croissants
  • Granola

Menu we choose:

  1. Kids meal:(French toast+fresh juice)
  • Ample
  • Served with fresh juice
  • Perfect in taste
  • Soft
  • Beautiful presentation
  • Sumptuous

2.French Toast:(regular breakfast)

  • Very soft,
  • ample
  • served with strawberries and cream
  •  more than you actually need!
  • Perfectly toasted

Watch: Mugg&beans,khalifa city, AbuDhabi 3.shia seed delight:(healthy eating)

It’s a yummy fruitful healthy options: a Shia pudding is

  •  mixed with coconut and soya milk,
  •  loaded with berries,grapes and orange and
  • grated roasted pistachio gives a  seducing taste.
  • The presentation is as beautiful as the delish taste and health it offers.
  • for me I mostly prefer healthy eating as it keep my calories guilt on a controlled level.
  •  Verdict:
  • Beautiful place
  • Affordable prices
  • Ample servings

Check website:

http://www.labriocheuae.com/

Intuition body scrub by H&M

About beauty products,I am very anxious.i prefer quality over quantity.Thats the way I deal with pricy products,buy two than four but go for credibility and authenticity.This time which products I tried it was so good in results with a just little expence.

What is it?

A clarifying scrub that buffs and revitalises all skin type, made up of Apricot Seeds & Green tea Extract

How to use?

In the bath or shower, massage onto your skin with circular motions and rinse thoroughly.

check review:nailstation
 

Results:

The grainy thick scrub leaves your skin Outstandingly soft and moisturised with a refreshing fragrance of Apricot seeds on your body,and this effect is real not only acclaimed.Its perfect for an environment so full of air-conditioning, humidity and splendid sun.This scrub really worth your money.

 

Price:

Price:

Dhs:69           KD:5.900

OR:6.900.      BAD:6.900


Sale deal:

The sale season is offering this scrub with as low price as 15 aed.Sale is on in store and online till stock last,so go and grab your stock.such a little expence will give you an outstanding experience,I bet!

Website:

shoponline

Giraffe,Yas,AUH

Cuisine: international;

 a blend of best tastes around the globe

check the review:Leopold’s of London,AbuDhabi

Sitting and surrounding:

  • Comfy couches and chairs
  • A real kitchen effect with brown and cream colour scheme.
  • Open and private areas
  • Open dinning area in avenue
  • Surrounded and rushed
  • In the center of  Yas mall life

Review:Mugg@Bean


Kids Meal:

  • One main+  drink +dessert=45aed
  • You can order separately
  • Burgers are bigger than average size in kids meals
  • Fresh Juices with meal is another plus
  • Either they don’t have color pages for kids or they forgot to offer us
  • They offer  a little sitting area for toddlers as well.
  • One of best kids meal

Review:The Yellow Chilli by Sanjeev Kapoor

Main course:

  • Chicken Cesare salad(65aed)
  • Kati roll….(50aed)
  • Pomegranate tea (26aed)

Review: Shake Shack

Kati Roll
Chicken Caesar Salad

Verdict:

  • Kati roll is mouthwatering and delish,a dish of Indian taste.
  • Beautiful presentation
  • Caesar salad is good too
  • Iced tea jar was amazing
  • Prices are quite equal to chilli but the serving sizes are smaller.

    Pomegranate tea

Services:

  • Good
  • Polite
  • Need a little more keenness

Locations:

  • Dubai

 

 

 

 

 

 

  1. Dubai international terminal 1, concourse D
  2. Dubai international terminal 3 concourse A
  3. Dubai international terminal 3, concourse B

 

  • AbuDhabi

 

 

 

 

 

 

  1. Yas Mall AbuDhabi

 

Website

 

 

 

 

 

 

https://www.giraffe.net


غزل     از رابعہ بصری

میں”تری بات بات میں کیوں ہے؟

زِندگی مشکلات میں کیوں ہے ؟

جِس کی آواز تک نہ چھو پائی

آج تک میری ذات میں کیوں ہے؟

میری آنکھوں میں کِتنا پانی ہے

اِتنا غم کائنات میں کیوں ہے؟
دِن تو چل اب گزر ہی جاتا ہے

بےسکونی سی رات میں کیوں ہے؟
جِھیل میں عکس چاندکا تھاناں

تیری تصویر ہات میں کیوں ہے؟
میری گھٹی میں تو وفا تھی خیر

تْو بهی تنہا حیات میں کیوں ہے؟
میری شہرت کو پائمال کیا!!

اور خود واقعات میں کیوں ہے؟

…………………

رابعہ بصری

میں بلبل ہزار داستان

میں بلبلِ ہزار داستاں

میرے پَر

مجبوری کے دھاگے سے بندھے ھیں

اور سوچیں

گھرہستی کے قفس کی قیدی

میں دانہ پانی کرتے کرتے

اکثر

روح کی سیرابی بھول جاتی ھوں

کتابیں

الماری کے چوبی خانے سے

 مجھ کو جھانکتی ھیں

میں ان پہ جمی گرد جھاڑنے

ان کے پاس جاؤں تو

ننھے بچے کی طرح

باھیں پھیلاتی ھیں

کہ شاید انکو گود میں اٹھانے کی باری آ ہی گئی

 لیکن

میں انھیں وقت کی کمی کا عذر کر کے

وعدے کی چوسنی تھماتے ہوئے

دلاسا دے کر

گزر تو جاتی ھوں

 پر ایک ہوک

 میرے دل سے بھی اٹھتی ھے

اوپری خانے میں

سرخ غلاف سے لپٹا

ضابطہِ حیات ہی

میرا منتظر ھے کب سے

سوچتا ھوگا

نجانے میں اسے پڑھے بنا

جسم و جاں کی جھنجھٹیں

کیسے سلجھاتی ھوں

یہ جو ہر دن خود سے بلا وجہ

الجھ سی جاتی ھوں

معّمہ ہی معّمہ

 ہر قدم درپیش ھوتا ھے

انتشاری ذات کی

پرانی خصلت کی طرح

چِپک  سی گئی ھے مجھ سے

میں سرگرداں

طمأنت

گمشدہ انگوٹھی کی طرح

دماغ سے اوجھل

سکون لپٹا ھے مصلےمیں

گر کھولوں تو قرار پاؤں

میں مصروفیت کے کھنڈر کو

کریدوں تو

ذات کے آثار پاؤں

 شب کے پچھلے پہر

نیند کو ڈائری پہ ترجیح دے کر

سو جاتی ھوں بے فکری سے

مگر

خوابوں میں قلم فریاد کرتا ھے

نئی کتابوں کا ہر صفحہ

مجھ کو یاد کرتا ھے

تہیہ کر کے اٹھتی ھوں

میں زندگی کو

بے مصرف

 کاموں کے جھنجھٹ سے نکالوں گی

مگر جب دن نکلتا ھے

 نسیان ذدہ بوڑھی عورت کی مانند

 میں خود کو بھول جاتی ھوں

صافی ہاتھ میں لے کر

جھاڑتی ھوں نویلی گرد

ہانڈی کے مصالحوں میں

رچ جاتا ھے شوق میرا

کفگیر کو مانجھتے مانجھتے

میرے ذِھن میں بس یہی چلتا ھے

 مہینے بھر کا راشن کیوں

بیس دنوں تک چلتا ھے

میرا بچہ

کہیں کمزور نہ ھو جائے

چلو

حلوہ بناتی ھوں

کچھ اچھا پکاتی ھوں

پشیمانی تو یہ ھے کہ

فراموش کر کے خود کو بھی

کوئی بھی خوش نہیں ھوتا

  میں

 نہ میرے مہرباں

 پیاسی روح

 نہ سیر حاصل جاں

 البیلی کتابیں

نہ قرنوں قدیم قرآں

سناؤں کس کو

 کون سا دکھڑا

میں بلبلِ ہزار داستاں
از ثروت نجیب

تم کیا جانو پریت

آج جانے کیسی رات ڈھلی تھی۔۔۔گھٹن ایسی تھی کہ قبر میں ہونے کا احتمال گزرے۔ آفس سے آکے میں آنگن میں پڑی چارپائی پہ ہی اوندھا پڑ گیا تھا اندر کمرے کے تندور کو کون سہتا۔ اماں نے یوں بے سدھ پڑے دیکھا تو سردائی بنا لائیں ۔ حلاوت سے بولیں ، تھک گیا میرا چندا؟  لو یہ پی لو میرا بچہ، پھر توانائی نہ آئے تو کہنا۔ اماں کو کیسے بتاتا کہ نوکری چُھٹ گئی تھی آج، وہ ایسے ہی وظیفے کر کر کے تھک چکیں تھیں۔ مجبوراً اٹھا، گلاس منہ کو لگایا تو وہ پاس پڑا گتا اٹھا لائیں اور مجھے ہوا جھلتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔ کتنی بار کہا ہے یہ آسمانی رنگ نہ پہنا کر، تیری کنجی آنکھیں وہی رنگ دھار لیتی ہیں ۔۔۔ دیکھا لگا لایا نا نظر ۔۔۔ ! میں ہنس پڑا۔ اماں ۔۔۔بس کر دیں دنیا کو مجھے نظر لگانے کے علاوہ اور بھی کام ہیں۔۔۔اور آپ یہ چچی بیگم کی طرح سوچنا بند کردیں! جیسی وہ خود وہمی ہیں آپ کو بھی بنا رہی ہیں۔ اماں کا ہاتھ جذبات میں تیزی سے چلنا شروع ہو گیا تھا۔ بولیں وہ وہم نہیں ہے آج مُنا پھر غائب ہو گیا تھا۔۔ ان کی خوف سے پھیلتی پتلیوں کو دیکھ کے میں بھی متوجہ ہوا، ان کے ہاتھ سے گتا لے کر ان ہی کو جھلنا شروع کر دیا اور وہ غیر محسوس طریقے سے بولتی چلی گئیں۔۔۔ خاکی، تم چاہے ان باتوں کو نہ مانو مگر آج منا بند کنڈی کے دروازے سے کیسے غائب ہوا اور کیسے لوٹا یہ ایک انہونی ہی رہے گی۔۔۔ پورا محلہ چھان مارا مگر منے کو تو جیسے زمین ہی نگل گئی تھی۔ پھر آپ ہی آپ باتھ روم کے کواڑ کے پیچھے سے روتا ہوا نکل آیا۔ میں اماں کے بھولپن سے محظوظ ہو رہا تھا بولا، گھنٹوں پانی بہاتا ہے وہ بیٹھ کے وہاں ۔۔ پہلے دیکھ لیا ہوتا تو یہ سنسنی نہ پھیلتی۔ چچی کو تو بریکنگ نیوز بننے کا خوامخواہ کا شوق ہے۔۔۔ امی نے میری طرف دیکھ کے کہا، نہیں پیارے ، وہ سچ کہتی ہے، اس گھر میں کچھ ہے۔ رات کو جس طرح چھت پہ کوئی سامان گھسیٹتا ہے وہ آواز تو تم نے بھی سنی ہے۔۔۔ پھر کل جو ہوا۔۔۔ اس سے تم کیسے انکار کر سکتے ہو۔۔۔ ؟ میں ذرا سا گڑبڑایا ۔۔۔بولا ، ہر چیز کا ایک لوجیکل ریزن ہوتا ہے ایسے ہی پراسرار نہ بنائیں معاملے کو، وہ تو میٹر میں آگ لگی تھی اسی کے شعلے تھے جو بھڑک اٹھے ۔۔۔ اماں بحث پہ اترتیں تو ٹاک شوز کو مات کر دیتیں بولیں۔۔۔ دو شعلے ؟ پورے گھر میں چکراتے پھرے ہیں ساری رات اور پھر آپ ہی آپ چھت کی جانب اڑ گئے میرا تو سورۃ البقرہ پڑھ پڑھ کے حلق خشک ہو چکا ہے۔۔۔ گھر میں عجیب سی فضا ہے۔ جیسے ہر طرف مایوسی نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: اسیران سراب

میں جان چھڑانے کے لیئے اُٹھ کھڑا ہوا اور کہا ، آج کھانا نہیں کھاؤں گا اماں، میرے لیئے روٹی نہ ڈالیئے گا۔۔۔ چھت کی طرف جانے کے لیئے بڑھا تو اماں نے کہا ۔۔۔ بیٹا اس کالی رات کو چھت پہ نہ جا۔۔۔ میں دو سیڑھیاں بیک وقت ٹاپتا ہوا بولا، سگنل نہیں آرہے اماں۔۔۔ شاذی سے بات کرکے آتا ہوں۔۔۔ اماں شاید حصار باندھ رہی ہوں گی میں نے دیکھا نہیں۔۔۔ 

چھت کا دروازہ کھول کے جو قدم  دھرا ہی تھا کہ عجیب سی  ناگوار بو نتھنوں سے ٹکرائی۔۔۔ میں نے اسے اگنور کیا اور منڈیر پہ ٹک کے شاذی کو فون ملایا۔ جو اس نے نہ اٹھایا مجھ سے ناراض جو تھی۔ میں بھی مَنا مَنا کے تھک گیا تھا۔سوچا کہ ابکے نہ اُٹھایا تو جائے جہنم میں ۔۔ میں بھی فالتو نہیں۔۔۔ پھر یاد آیا کہ صرف ” جاب لیس ” ہوں۔۔ اپنے ہی اوپر ہنسا۔۔۔ ایک ہوا کا جھونکا مجھ سے ٹکرایا تو مجھے اچھا محسوس ہوا ، مگر لگا کے یہ مجھ تک ہی محدود ہے کیونکہ درخت کے پتے نہیں ہل رہے تھےاسی اثنا میں شاذی نے بلآخر فون اُٹھا لیا تھا۔۔۔ بولی فرمایئے۔۔۔ میں بھی بلا تمھید ہی شروع ہوگیا کہ، بس کر دو شاذی اور کتنا ستاؤ گی؟ کتنے فون کیئے ہیں تم کو میں نے ؟ اس نے تنک کے کہا جبتک گھر الگ نہیں کروگے میں ایک لفظ آگے نہیں سننے والی ۔۔۔میں بھی اس ٹاپک سے عاجز آ چکا تھا تنفر سے بولا، شاذی تم سے تو بہتر ہے کہ میں کسی چڑیل سے بیاہ رچالوں، جو صرف مجھ میں بسیرا کرے کسی نئے گھر کی فرمائش نہ کرے۔ اچانک ایک مترنم ہنسی فضا میں بکھر گئی تو میں اپنی بات بھول کر اطراف میں دیکھنے لگا۔۔۔ گھپ اندھیرا تھا کچھ نظر نہ آیا۔۔ میں نے کان سے پھر فون لگایا مگر شاذی رکھ چکی تھی۔۔۔ میں نے گہری سانس لے کر سگریٹ جلائی تو ایک سیاہ ہیولے کو اپنے قریب پایا۔۔۔میرے ہاتھ سے لائٹر چھوٹ گیا۔۔ میں نے چلا کے کہا ، کون ہے وہاں ؟ کوئی جواب نہیں آیا میں نے موبائل کی ٹارچ آن کرنا چاہی تو گھبراہٹ میں ہاتھ سے فون پھسل کے زمین پہ بکھر گیا۔ اب صرف ہوا کی سرسراہٹ تھی اور بے نام موجودگی کا احساس۔ میں نے بڑھتی سانسوں کو قابو کر کے پھر پکارا۔۔۔ کون ہے؟ اسبار میری آواز میں خوف غالب تھا اور لہجہ گھٹا ہوا تھا۔ کوئی لہر سی تھی جو میرے آس پاس منڈلا رہی تھی اور میں آہستہ آہستہ بے بس ہوتا جا رہا تھا۔۔ میرے پیچھے ایک پتھر آ کے گرا تو میں اس اچانک وار سے بوکھلا گیا اور زمین پہ پڑی ٹوٹی الگنی میں الجھ کر گر گیا۔۔یکدم ایک تیز دھار چیز میرے پیر کی انگوٹھے میں چبھی اور وہی لہر میرے اندر سرایت کرگئی۔۔۔ میں شاید بے ہوش ہوچکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:رکی ہوی صدی

اس واقعے کو دو مہینے  بیت چکےتھے مگر میری بے کلی برقرار تھی۔ اماں سے کہہ دیا تھا کہ نوکری جلد دھونڈوں گا تاکہ انکا اطمینان قائم رہے۔مجھے  بھی پتہ تھا کہ مجھے دوسری نوکری باسانی مل جائے گی مگر طبیعت اتنی مضمحل رہتی کہ دل چاہتا کہ یونہی تنہا پڑا رہوں کسی کا منہ نہ دیکھوں۔

صبح جب آنکھ کھلی تو گھر میں ایک فساد بپا تھا۔ چچی بیگم اچانک طلاق کا مطالبہ کر بیٹھی تھیں اور چچا جان بھی غصے میں آگ بگولہ ہوئے واہی تباہی بک رہے تھے۔۔۔ اماں بیچ بچاؤ میں لگیں تھیں ۔ میں نے اُٹھ کے دروازہ مقفل کرلیا۔ دل اس دنیا سے اُچاٹ ہو چکا تھا۔ موبائل اٹھایا تو اس میں ایک میسج تھا۔۔ سینڈر کا نام نہیں تھا۔ کھولا تو درج تھا۔۔۔
 خاکی میں تم میں بستی ہوں !
میسج کا متن دیکھ کے مجھے تعجب ہوا کہ یہ کون ہو سکتا ہے۔۔۔ شاذی میری منکوحہ کو ایسی رومانٹک باتیں کہاں کرنا آتیں تھیں۔ شادی کے آٹھ مہینوں میں وہ اتنی ہی بار ناراض ہوکے میکے گئی تھی ۔تو پھر یہ کون تھا۔۔۔ میں سوچتے سوچتے پھر غنودگی میں چلا گیا تھا۔۔۔ کوئی دھیمے سُروں میں گا رہا تھا۔۔۔🎶🎶
 بن گئی چھایا، چھل بلیا کی۔۔۔۔ بانوری پیا کی۔۔۔
مجھے اس سندری کی شکل نہیں نظر آ رہی تھی۔۔ محسوس ہوا کہ میں چھت پہ ہوں اور وہ دراز زلفوں والی حسینہ ہواؤں میں رقصاں ہے۔۔

اس کے بدن پہ کپڑے نہیں ستاروں کےتہہ در تہہ ہالے تھے۔۔ جن میں سے بدن کی جھلملاتی چمک میری آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہی تھی۔۔۔ کبھی نظر بھر پایا تو دیکھا کہ اسکا رقص دیوتا کو پرنام کرنے جیسا ہے جہاں داسی اپنے ذات کو تلف کرکے اپنا آپ دان کرنا چاہتی ہے۔۔۔ وہ وجد میں تھی اور میں دم بخود تھا ۔۔۔ گھنگرو کی جھنکار سنائی دی تو میری نظر  پیروں پہ گئی ، دیکھتا ہوں کہ اس کے پاؤں زمین سے اونچے تھے اور وہ پیر بکرے کے کُھر سے مشابہ تھے یہ دیکھتے ہی میں خوفزدہ ہوگیا اور ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھا تو واقعی اپنے آپ کو چھت پہ پایا۔۔۔ جہاں اب  مکمل خاموشی کا راج تھا۔ زینہ اترتے ہوئے میں سوچتا رہا کہ مجھے آخر کچھ یاد کیوں نہیں رہتا۔۔جانے کب آیا ہوں گا ادھر۔۔۔ اماں نے دیکھتے ہی مجھے دم کیا تو ذہن کچھ واضح ہوا۔ بولیں ارے میرے شہزادے، تو کیوں دیوداس بنا پھرتا ہے؟ میری مانو تو جا کے لے آؤ اسے جس کے پیچھے روگ لگائے بیٹھے ہو۔ عین اسی وقت چھناکے سے برتن کی الماری کا شیشہ ٹوٹ گیا۔۔۔چچی اور اماں دونوں کھانے کے کمرے میں دوڑیں اور میں نے واپس اپنے خوابوں میں پناہ لی۔ 

وہی سندری نقشین (ہاتھ کے) پنکھے کی آڑھ لیئے جلوہ گر نظر آئی ۔۔۔وہ پوچھ رہی تھی۔۔۔ خاکی ، میں تمھاری ہوں نا ؟ میں نے کہا۔۔ مجھے تو اپنا پتہ نہیں۔۔ اس نے مایوسی سے سر جھکا لیا۔۔۔ وہ ٹکی رہی تو میں نے پوچھا کیا نام ہے تمھارا؟ وہ رازدارانہ انداز سے بولی  کسی کو بتاؤ گے تو نہیں ؟ میں نے نفی میں سر کو جنمبش دی تو وہ چہک کے بولی ۔۔۔ باقی  ۲۰۲ !!  میں اس عجیب سے نام پہ مسکرایا پوچھا کہاں کی ہو ؟ بولی یہاں سے ذرا ہی دور ہےنا اندلس۔۔۔ وہیں سے آئی ہوں ۔ میں نے بے یقینی سے آنکھیں پٹپٹائیں تو وہ ہنس پڑی۔۔۔۔بولی تم خاک سے ہو اور میں آگ سے ہوں ، تم دن کا نور ہو میں رات کا گھور اندھیرا ہوں ،   تم آس ہو میں یاس ہوں ، تم خرد ہو اور میں اتم جنون ہوں ۔ ہم ایک دوسرے سے یکسر جدا ہو کے بھی ایک ہیں۔۔۔ ایک  خدا کی ہستی سے جو ہوئے ۔ جانتے ہو۔۔۔ میں تم میں جیتی ہوں ، تمھاری سوچ میں شامل ، تمھاری اشتہا کا حصہ ، تمھاری رگوں میں تحلیل ہوں۔۔۔ میں۔۔ تم سے۔۔۔۔ وہ کہتے کہتے رک گئی تو مجھے لگا کہ کسی نے سُروں کی لہروں سے مجھے نکال پھینکا ہو۔ میں نے کہا ۔۔ بولو نا ۔۔۔ کیا کہہ رہی تھیں ؟ وہ قدرے توقف سے بولی مجھے تم سے عشق ہے ! ہم جنات اگر کسی سے نین ملا لیں تو جان دے دیتے ہیں۔۔ پر ساتھ نہیں چھوڑتے ۔۔۔تم۔۔۔۔ اب صرف میرے ہو! میرے بھگوان بھی اور میرے پتی بھی۔ میں اُٹھ بیٹھا تو وہ بھی پردے کی آڑھ سے نکل آئی ۔۔۔ اس کی صورت دیکھتے ہی مجھے غش آگیا۔

یہ بھی پڑھیں:بوجھ

آنکھ کھلی تو اماں تسبیح لیئے سرہانے بیٹھی تھیں مجھے جاگتا پا کے سو شکرانے ادا کرتے ہوئے بولیں 

مولا تیرا لاکھ لاکھ کرم ، تین دن کے بعد آج خدا نے میرے خاکی کو دوبارہ زندگی دی ہے۔۔ اللہ تم کو جیتا رکھے۔۔ میرا گلا سوکھ رہا تھا اماں نے جگ اٹھایا تو میں نے وہی لے کےُمنہ کو لگا لیا۔۔ اماں نے بتایا کہ شاذی روانہ ہوچکی ہے رات ڈھلتے ہی آجائے گی۔ میں نے خفیف سا اچھا کہا۔ بیٹا تمھیں کیا ہو گیا تھا؟ کیسی کیسی آوازیں آتی رہی ہیں اس کمرے میں ۔۔۔ میں نے حافظ صاحب کو بلا بھیجا ہے۔ ان کا یہ کہنا ہی تھا کہ اماں اپنی کرسی سمیت گھسٹ کے دروازے سے باہر جا گریں ۔۔۔ میں نے اماں کو آواز دینی چاہی مگر میرے کانوں کو بھی اپنی آواز سنائی نہ دی۔ میں بے سدھ تھا سو تلملا کے رہ گیا ۔ رات کے کسی پہر مجھے ہوش آیا تو باقی وہیں پائنتی پہ بیٹھی تھی اور مجھے کھانے کے لیئے کوئلے نما آلو بخارے پیش کر رہی تھی میں نے دوسری طرف منہ پھیر لیا۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ تھام کے کہا۔۔۔سوامی ، مجھ سے منہ نہ موڑنا !!! مگر مجھ میں نقاہت ہی اتنی تھی کہ بولا نہ گیا پھر بھی ہمت جٹا کے پوچھا ، اماں کہاں ہیں ؟ اس نے ایک قہقہہ لگایا اور کہا کہ بڑھیا مرہم پٹی کرا کے پڑی ہے باہر۔۔۔پھر بھڑک اٹھی ،  جو تمھارے اور میرے بیچ میں آئے گا اس کو میں نشت کر دوں گی۔ اس کے طیش کی یہ لہر شاید میں نے بھی مستعار لی اور تقریباً چلایا کہ تم نے میری ماں کو ہاتھ بھی کیسے لگایا !!! میں بستر سے اُٹھ کے کمرے کے باہر جانے لگا تو میرے پیر من من بھر کے ہو گئے۔۔۔ دروازہ اپنے آپ ہی چرچرا کے برابر ہوگیا ۔ اب میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں پلٹ کے اس کو فیس کرتا۔ وہ مجھے کہیں نظر نہیں آئی تو میں نے کرسی کا سہارا لیا اور بیٹھتے ہوئے کہا۔۔ کیا چاہتی ہو ؟ 

آواز آئی ، تم پہ بسیرا ۔۔ تم بھی تو یہی چاہتے ہونا ؟ میں نے نفی میں سر ہلایا تو وہ کسی حسین پری کا روپ دھار کے میرے قدموں میں آ بیٹھی۔۔۔ بولی تم کو  پتہ ہے ہم دونوں ایک جیسے ہیں ۔ ایک سا دل ہے ہمارا اور ایک جیسے شوق ۔ تم صرف مجھ میں شامل رہو پھر دیکھنا کیسے میں تم کو سرور بخشوں گی ، تمھاری طاقت بنوں گی ، تم سے کبھی کچھ نہ مانگوں گی ۔۔۔بس ۔۔۔ ان انسانوں سے دور رہو صرف میرے بن کے ۔۔۔۔ اس کی وارفتگی مجھے بیزار کر رہی تھی میں نے تحمل سے اس کو سمجھانا چاہا کہ ، باقی ۔۔۔ ہم الگ الگ راہوں کے مسافر ہیں۔۔۔ اور یہ راستے کہیں نہیں ملتے ۔ میں زیادہ سے زیادہ ابھی تیس سال اور جی لوں گا اور تم۔۔۔ کیا عمر ہے تمھاری  ؟ وہ سر جھکائے بیٹھی تھی  بولی ۸۳۵ سال ۔۔۔  میں نے گہری سانس لی اس کی آنکھوں میں جھانکا تو لگا کہ اپنی ہی آنکھوں میں دیکھ رہا ہوں۔ ان کی کشش سے اپنے آپ کو کھینچنا جان جوکھوں کا کام تھا جو بہرحال قوت ارادی کو یکجا کرکے کیا اور دو ٹوک انداز میں کہا ۔۔۔ مجھے ۔۔۔ تمھارا تسلط قبول نہیں !! چلی جاؤ واپس جہاں سے آئی ہو۔۔۔ میں تم سے محبت نہیں کرتا!!!!

یہ بھی پڑھیں:دوسری موت

 وہ تڑپ کے رہ گئی ، جذباتی ہو  کے میرے ہاتھ جوڑنے لگی۔۔۔یہ نہ کہو ۔۔۔ نہ کرو ایسا ۔۔ میں جان دے دوں گی مگر تم سے جدا نہیں ہوں گی۔ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔ اس کے بدلتے جذبات کیساتھ ساتھ کمرے کی فضا بھی بدل رہی تھی میں نے محسوس کیا کہ ایک جھکڑ سا کمرے میں چلنا شروع ہوگیا ہے اور کھڑکیاں دروازے بج رہے ہیں ۔اس نے جلدی جلدی کتنے روپ تبدیل کر ڈالے  جسے دیکھ کر میں بھی خوفزدہ ہوگیا۔ وہ  نرتکی کا روپ دھار کے بولی۔۔۔تم جانتے نہیں مجھ میں کتنی شکتی ہے۔ تم میرے ذریعے اس دنیا پہ حکومت کر سکتے ہو ۔ کیا چاہتا ہے ایک انسان۔۔۔  عزت ، دولت ، شہرت ؟؟ وہ سب میں تم کو دوں گی  بس اپنے شریر پہ حکمرانی مجھے دے دو۔۔ میرے بولنے سے پہلے ہی دروازہ کھلا اور حافظ صاحب اندر آگئے۔۔ باقی نے ایسی بھیانک چیخ ماری کہ اس کی تکلیف کی شدت سے میں بھی بے جان ہوگیا۔۔ 

ہوش آیا تو کمرے میں مکمل اندھیرا تھا حافظ صاحب کی تلاوت کی آواز گونج رہی تھی ۔ پھر وہ سخت لہجے میں تحکم سے بولے، آخری بار کہہ رہا ہوں اس کو چھوڑ دو ورنہ میں تم کو بھسم کر دوں گا۔۔ وہ مجھ میں ہی گونج رہی تھی ۔۔ اعتماد سے بولی  ، خاکی ایسا ہونے نہیں دے گا ۔۔۔ تم جو چاہو کر لو!!   حافظ صاحب اس کا نام پوچھ رہے تھے جو وہ بتانے سے انکار کر رہی تھی ،پھر  حافظ صاحب اس کو مسلمان ہونے کا کہہ رہے تھے اسپر وہ خاموش ہوگئی تھی ۔ میں نے وہی لمحہ پا کے اسکا نام لے دیا جس کے بعد وہ مجھ میں مکمل ساکت ہوگئی ۔۔۔ جو آخری آواز ابھری وہ باقی ہی کی تھی۔۔۔
دھواں بنا کے فضا میں اُڑا دیا مجھ کو

میں جل رہا تھا کسی نے بجھا دیا مجھ کو

فرحین خالد

بے بس

ہلکی ہلکی اداس ہوا

نیند تیری چراے گی

کوئل نے کوئ گیت بنایا

جب بلبل گانا گائےگی

تمھیں یاد ہماری آئے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب اندھیری رات میں

سفر نہ کوی ختم ہوا

جب دور کہیں آسماں پر

ستارہ کوی ٹوٹ گرا

چاند پہ بیٹھی بڑھیا جب

ہلکا سا مسکرایا گی

تمھیں یاد ہماری آئے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دور سے دیکھ کر مسکرانا

پاس سے یونہی گزر جانا

چند قدم پھر چل کر

مسکراتے لوٹ آنا

یونہی  کوی بھولی بسری

بات ذہن میں آئے گی

تمھیں یاد ہماری آئے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری یادوں سے گھبرا کر

بے معنی بات کوئ سوچو گے

ہر بات ختم گر مجھ پر ہوی

بہکے ذہن کو پھر سے روکو گے

تھک کر تم نے موند لی آنکھیں

تصویر میری ابھر آئے گی

تمھیں یاد ہماری آئے گی!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں:وقت